حیات امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ     صفحہ  ۱۰

_________________________________________________

وفات  امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ 

آج ہم ایسے انسان کی زندگی بیان کر ینگے جس نے تیرہ سو سال پہلے اس دنیا کو الوداع کہدیا تھا ، لیکن آج بھی وہ ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ تاریخ ہمیشہ ایسے انسان کو یاد رکھتی ہے جن کی زندگی کا مقصد قوم ومذھب کی خدمت کرنا ہوتا ہے، 
یہ حقیقت ہے کہ اس دنیا کی رنگینی میں رہنا کسی کو نہیں ہے،، یہاں پر عیش وآرام کی گنجائش نہیں ہے۔، اس دار فانی میں اگر کسی کی آمد پر خوشی ہے ،تو کسی کے جانے پر غم ، کوئ آپنے لال اور لخت جگر کی پیدائش پر بے انتہا مسرور ہے؛ تو کوئ اپنے لاڈلے کی موت پر بے ساختہ مغموم ہے، لیکن ایسے واقعات اور اس طرح کے حادثے  کس گھر، کسی محلہ ، کسی گاوں یا پھر کسی شھر کو ہی ویران کر سکتے ہیں ، پر جب ایک عالم دین یا پھر وارث انبیاء اس  گلشن فانی کو الوداع کہتا ہے ، تو کسی شہر یا کسی ملک کو ہی ویران نہیں کرتا بلکہ پورے کے پورے کرہ ارض کو یتیم کر کے چلا جاتا ہے ۔  آج ہم ایسے انسان کی کہانی سناءنگے جس کے جانے سے پوری دنیا یتم ہو گئی تھی
 امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ فکرو نظر کا حامل بنایا تھا۔  آپ کے زمانہ میں عالم اسلام کی سیاسی حالت بڑی  بدامنی اور ظلم و بربریت پر مبنی تھی  ۔  کوفہ کے سیاسی ماحول نے، کئی دفعہ آپ کے مشن کو اور آپ کے فکر کو دبانے کی کوشش کی مگر بڑے بڑے سیا ست داں ناکام رہے۔
امام صاحب نے  ، اموی، اور عباسی دونوں حکومتوں کا زمانہ پایا ہے۔ اموی حکومت میں سرحدی فتوحات کی کثرت ہوئی۔  اور عباسی حکومت میں علمی ترقیاں ہوئیں۔ لیکن مجموعی طورپر دونوں حکومتوں میں عوام ظلم و بربریت کا شکار ہوئیں۔ اپنی حکومت کی بقاء وتحفظ کیلئے عام انسانوں کی گردن اڑا دینا عام بات تھی۔  امام صاحب اپنی تجارت و سخاوت، امانت، علم و تقوی کی وجہ سے کوفہ، کے با اثر لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ اس لئے حکومت آپ کو اپنا حصہ بناکر عوام سے ہمدردی حاصل کرنا چاہتی تھی۔ چنانچہ آپ کو نرمی و گرمی ہر طرح سے مختلف عہدوں کی پیش کش کی گئی
اسی نیت سے ابو جعفر منصور نے امام صاحب کو بار بار عہد قضاء پیش کیا ، لیکن امام صاحب اس سے انکار کرتے رہے۔ابو جعفر منصور نے قسم کھائی کہ اگر انہوں نے عہد قضاء کو قبول نہ کیا تو میں تیس کوڑے لگوا ؤنگا ۔ امام صاحب نے بھی قسم کھالی کہ میں عہد قضاء قبول نہیں کرونگا 
اس سزا کے بعد ابو جعفر منصور نے حکم دیا کہ اب صرف آپ کو اتنا کرنا ہے کہ جس قسم کے احکام آپ کے پاس آئیں ان کے متعلق فتویٰ دینا ہے امام صاحب نے اس سے بھی انکار کردیا۔ پھر بات بڑھ گئی ۔ اور امام صاحب کو جیل بھیج نے کا حکم دیدیا اور سختی کا بھی حکم دیا۔ آپ جیل میں زیادہ دن نہیں رہے بعض لوگوں کی سفارش کی وجہ سے آپ کو جیل سے نکال کر ایک گھر میں رکھا اور لوگوں کو ملنے جلنے سے منع کردیا ۔ آپ بیمار ہوگئے، اس سورج ☀☀☀☀☀ کی روشنی ہلکی ہلکی دھیمی ہونے لگی، اور ۱۵۰ ہجری کو یہ سورج ہمیشہ ہمیش کیلئے غروب ہو گیا۔ انا للّٰلہ وانا اليه راجعون

جنازہ 

آپ کی جنازے کی نماز  تقریباً پچاس ہزار لوگوں نے ادا کی ہے۔                       

 مدفن
مسجد ابو حنیفہ   جو عراق میں واقع ہے۔