الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ،ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا ومن سیئات أعمالنا…
معزز حاضرینِ جمعہ!
نماز اسلام کا سب سے اہم رکن اور مومن کی معراج ہے۔ یہ وہ عظیم عبادت ہے جو بندے کو اپنے رب سے جوڑتی ہے، دلوں کو سکون عطا کرتی ہے اور انسان کو گناہوں سے بچاتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے نماز کو دین کا ستون قرار دیا ہے، کیونکہ جس کی نماز درست ہوگی اس کا دین بھی مضبوط ہوگا۔
نماز صرف چند رکعات ادا کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی، بندگی اور محبت کا اظہار ہے۔ جو شخص پابندی کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی زندگی میں برکت، سکون اور کامیابی عطا فرماتے ہیں۔ اور جو نماز سے دور ہو جاتا ہے، اس کی زندگی بے سکونی اور غفلت کا شکار ہو جاتی ہے۔ آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نماز کی اہمیت کو سمجھیں، خود بھی اس کی پابندی کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی اس عظیم عبادت کی طرف متوجہ کریں، کیونکہ دنیا اور آخرت کی کامیابی نماز ہی میں ہے۔
آج میں آپ کے سامنے اسلام کے اس فریضے پر بات کرنا چاہتا ہوں جس کے بغیر ایمان کی خوبصورتی ادھوری، دین کی عمارت کھوکھلی، اور مسلمان کی پہچان مشکوک ہو جاتی ہے—اور وہ ہے نماز
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، اور ایمان کے بعد سب سے پہلا حکم نماز کا ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالی نے جتنی تاکید کے ساتھ نماز کے حکم کو بیان کیا ہے،اتنی تاکید کے ساتھ کسی اور حکم کو نہیں بیان کیا ہے، اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اقیموا الصلوٰۃ" کے الفاظ سے 70 سے زائد مرتبہ نماز پڑھنے کا حکم فرمایا، " جس رب نے ہمیں پیدا کیا، اس کا سب سے بڑا حکم نماز ہے۔ جس نبی ﷺ کے ہم امتی ہیں، ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے۔ جس کلمے کو ہم نے پڑھا، اس کا پہلا عملی تقاضا نماز ہے۔ نماز ہر حل میں فرض ہے، سفر ہو یا حضر، بیماری میں ہو یا تندرستی میں، امن کی حالت میں ہو یا خوف میں، ہر حال میں نماز فرض ہے، یہاں تک کہ میدانِ جنگ میں بھی نماز کی رعایت نہیں دی گئی۔ لیکن اس کے باوجود اکثر مسلمان نماز جیسی اہم عبادت کو چھوڑ دیتے ہیں، اور آج ہماری مسجدیں ویران ہیں اور بازار آباد ہیں۔ ہم دنیا کے معمولی کاموں کے لئے وقت نکال لیتے ہیں، لیکن کائنات کے مالک کے سامنے پانچ منٹ کھڑا ہونا ہمارے لئے بوجھ بن جاتا ہے ۔
اللہ تعالی نے سارے حکم اور ساری عبادتیں وحی کے ذریعے سے زمین پر نازل کی ہیں ، لیکن جب باری آئی نماز کی، تو اللہ تعالی نے اپنے محبوب کو آسمان پر بلایا اور وہاں بلا کر نماز کا تحفہ عطا کیا, اس سے نماز کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، وَاۡمُرۡ اَهۡلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا ؕ لَا نَسْأَلُكَ رِزۡقًا ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُكَ ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلتَّقۡوٰى ۞
ترجمہ: اور آپ اپنے اہل خانہ کو نماز کا حکم دیں اور خود بھی نماز پر جمے رہیں، ہم آپ سے (آپ کے رزق کا سوال نہیں کرتے، ہم خود آپ کو رزق دیتے ہیں اور نیک انجام صرف تقویٰ کا ہے
یعنی خود بھی نماز پڑھنا ہے اور اپنے اہل و عیال کو بھی نماز کا حکم دینا ہے، صرف نماز کا حکم ہی نہیں دینا ہے بلکہ اس پر جمے رہنا ہے ، نماز پڑھو گے اور اس پر جمے رہو گے تو کیا فائدہ ہوگا، اللہ تعالی فرماتے ہیں، نحن نرزقک ، ہم آپ کو رزق دینگے ، آج ہر دوسرا شخص پریشان ہے، لبوں پر شکوے ہیں اور دلوں میں تنگیِ رزق کا خوف۔ کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا ہے تو کوئی کاروبار کی مندی کا۔ انسان رزق کی تلاش میں صبح سے شام تک مارا مارا پھرتا ہے، آج ہم رزق کے لیے در در کی خاک چھان رہے ہیں، لوگوں کے سامنے اپنی تن دستی کا رونا رو رہے ہیں بندوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں ، اور اپنی مجبوریوں کے قصے سناتے ہیں ۔ لیکن اس در پر نہیں آتے جہاں سے کسی بھی سوال کو خالی ہاتھ نہیں بھیجا جاتا، وہ ہے صبر اور نماز اگر ہم پانچ وقت اللہ کے دربار میں حاضر ہوں، اپنی پیشانی اس کے سامنے جھکائیں، اور اس سے اپنی ضرورتیں مانگیں، تو ہمیں کسی دنیاوی طاقت کے سامنے ہاتھ
نماز مسلمان کی پہچان ہے، نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کے بارے میں انتہائی سخت وعید فرمائی ہے جو سستی اور کاہلی کی وجہ سے باجماعت نماز چھوڑ کر گھروں میں پڑھ لیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے (ایک موقع پر) یہاں تک ارادہ فرمایا کہ: "کاش میں کسی کو حکم دوں کہ وہ نماز پڑھائے اور میں جا کر ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دوں جو (بغیر کسی عذر کے) مسجد نہیں آتے۔" سوچیے! جب گھر میں پڑھنے والوں کے لیے یہ وعید ہے، تو جو سرے سے نماز ہی نہیں پڑھتے، ان کا حشر کیا ہوگا؟۔ آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اینٹ اور گارے سے بلند و بالا عمارتیں تو کھڑی کر لیں، لیکن اپنی آخرت کے گھر کو ویران کر دیا۔ ہم نے شہرت، عزت اور مال و دولت جمع کرنے کی دوڑ میں اس قدر مگن ہیں کہ خالقِ کائنات کا "بلاوا" (اذان) ہمیں سنائی ہی نہیں دیتی ،۔۔
نماز کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جا سکتا ہے، کہ اللہ کے رسول نے فرمایا ، اگر کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا کوئی پریشانی اور دقت ہے تو بیٹھ کر نماز پڑھے لیکن نماز پڑھنی ہے، اگر بیٹھ کر بھی نماز نہیں پڑھ سکتا توتو لیٹ کر ارشادے سے نماز پڑھے لیکن نماز پڑھنی ہے، جب تک انسان کے جسم میں سانس باقی ہے اور ہوش و حواس قائم ہیں، نماز معاف نہیں ہے۔ یہ اللہ کا وہ حق ہے جسے نہ سفر میں معاف کیا گیا، نہ بیماری میں، اور نہ ہی میدانِ جنگ میں۔ لیکن صد افسوس! آج ہم تندرست و توانا ہو کر بھی نماز ایسے چھوڑ دیتے ہیں جیسے یہ ہم پر فرض ہی نہیں تھی۔ کیا ہم نے اللہ کو جواب نہیں دینا؟ کیا ہم ہمیشہ اس دنیا میں رہیں گے؟
قیامت سب سے پہلے نماز کا سوال کیا جائے گا، کہ بتاؤ تم نے نماز پڑھی ہے یا نہیں،، آپ نے سامان لانے کیلئے کسی کو بازار بھیجا ، اور اس کو دس طرح کے سامان لانے کیلئے کہا ، اور ایک سامان کے بارے میں یہ کہاکہ اس کو ضرور لانا ، جب سامان لیکر آئے گا تو سب سے پہلے اس سامان کے بارے میں پوچھو گے کیا وہ سامان لائے ہو ، کیونکہ تمہارے نزدیک اس کی اہمیت زیادہ ہے ، اسی طرح اللہ تعالی قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارےمیں سوال کرینگے بتاؤ تم نے نماز کی یا نہیں۔
اولاد کی تربیت
حضراتِ ذی وقار! اولاد اللہ کی دی ہوئی ایک عظیم امانت ہے، اور اس امانت کی صحیح تربیت کرنا ہر والدین کی ذمہ داری ہے۔ لیکن یاد رکھیے! تربیت صرف اچھے لباس، عمدہ خوراک اور اعلیٰ ڈگری کا نام نہیں ہے، بلکہ تربیت کا اصل مقصد اولاد کو اپنے خالق سے جوڑنا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے بچوں کی تربیت کے لیے ایک واضح اور حکیمانہ فارمولا عطا فرمایا ہے: جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز کا پیار سے حکم دو۔ یہ عمر عادت ڈالنے کی ہے۔ جب بچہ دس سال کا ہو جائے اور نماز میں سستی کرے، تو اس پر سختی کرو (ڈانٹو یا تادیبی کارروائی کرو) اور ان کے بستر الگ کر دو۔۔ غور کیجیے! اسلام نے بلوغت سے بھی پہلے نماز کی تربیت کا حکم کیوں دیا؟ تاکہ جب وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھے، تو نماز اس کی زندگی کا اٹوٹ انگ بن چکی ہو۔
آج ہم والدین کا حال یہ ہے کہ اگر بچہ موبائل توڑ دے، تو ہم گھر سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ اگر بچہ امتحان میں فیل ہو جائے، تو ہماری راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔ گر بچہ کوئی مالی نقصان کر دے، تو ہم اسے ڈانٹتے اور سزا دیتے ہیں۔ لیکن ذرا سوچیے! اگر وہی بچہ فجر کی نماز چھوڑ دے، اگر وہ قرآن سے دور ہو جائے، تو ہمارے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی۔ کیا ہماری نظر میں چند روپوں کے نقصان کی اہمیت اللہ کے حکم سے زیادہ ہے؟ ہم دنیاوی نقصان پر تو تڑپ اٹھتے ہیں، مگر بچے کے ایمان کے نقصان پر خاموش رہتے ہیں۔
ہم سب کی تمنا ہوتی ہے کہ ہماری اولاد: بڑھاپے کا سہارا بنے۔ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنے۔ ہماری فرمانبردار بنے۔مگر یاد رکھیے! جو بچہ اپنے خالق (اللہ) کا وفادار نہیں بنا، وہ اپنے والدین کا وفادار کیسے بن سکتا ہے؟ جو بچہ اللہ کے سامنے سر جھکانا نہیں سیکھ سکا، وہ آپ کے سامنے سرِ تسلیم کیسے خم کرے گا؟ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اولاد آپ کا ادب کرے، تو پہلے اسے اللہ کا ادب سکھائیں۔
کتنا افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے گاؤں کی اتنی بڑی ابادی ہے، ہزاروں میں لوگ موجود ہیں، لیکن نماز پڑھنے والے وہی گنے چنے 10 15 لوگ ہیں، مسجد کے لئے لڑنے والے، مسجد کے لئے اختلافات کرنے والے، مسجد کو بنانے والے، مسجد میں کام کرنے والے، ہزاروں لوگ ہیں، آج ہمارے علاقے میں یہی ہو رہا ہے، جب مسجد کو بنانے کی بات آتی ہے، تو ہماری مسجد ایسی ہونی چاہیے، یہ ہونا چاہیے وہ ہونا چاہیے، ٹیلس لگائی جائیں، نمازیوں کے لیے نیچے بہترین اور نرم فرش ہو، انویٹر کا انتظام ہو، ایسی کا انتظام ہو، یہ ہو وہ ہو بہت ہی عظیم الشان ہو، لیکن جب مسجد کو اباد کرنے والے صرف وہی 10 15 لوگ ہیں، کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا تھا،
اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے جو برسوں پہلے ایک شعر کہا تھا وہ ہمارے حال پر بالکل ٹھیک بیٹھتا ہے،
مسجد تو بنا لی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے دل اپنا پرانا پاپی تھا برسوں میں نمازی بن نہ سکا،
ہم نے اینٹ اور گارے سے خدا کا گھر تو سجا لیا، مگر اپنے سینوں کے اندر موجود ایمان کی قندیل کو بجھا دیا۔ ہم نے مسجد کو تو "پکا" کر لیا، مگر اپنی عبادتوں کو "کچا" رہنے دیا۔ اصل زینت عمارت نہیں، نمازی ہے، یاد رکھیے! کسی مسجد کی خوبصورتی اس کے گنبد و مینار سے نہیں، بلکہ اس کے نمازیوں سے ہوتی ہے۔
ایسی مسجدوں کا کیا فائدہ جہاں مسجدوں میں نماز پڑھنے والے نہیں ہیں جہاں مسجدوں کو آباد کرنے والے نہیں ہیں، جہاں سجدوں کی تپش نہ ہو اور جہاں خشوع و خضوع کا نور نہ ہو؟ اصل چیز تو اللہ کی عبادت ہے،میرے بھائیو! مسجدیں تعمیر کرنا بہت بڑی نیکی ہے، لیکن مسجدوں کو آباد کرنا اس سے بھی بڑی نیکی ہے جس طریقے سے ہم نے مسجدوں کو خوبصورت بنایا ہے، عظیم الشان بنایا ہے، پکی مسجدیں بنائی ہیں، اسی طریقے سے ہمیں اپنی نماز کو بھی خوبصورت بنانا ہے، اور اپنی نماز کو پکی بنانا ہے۔
میرے بھائیو!
اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری زندگی میں برکت آئے،
دل کو سکون ملے،
مشکلات آسان ہوں،
اور اللہ کی مدد شاملِ حال ہو—
تونماز کو اپنی زندگی میں واپس لاؤ۔
نماز کو عادت نہیں، ضرورت سمجھو۔
نماز کو بوجھ نہیں، نجات سمجھو۔
اللہ ہمیں نماز کی قدر کرنے، اس کی پابندی کرنے اور اسے اپنی زندگی کا مرکز بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
...............................
اللہ کا محبوب ﷺ، مرضِ وفات میں ہے۔جسم مبارک کمزور ہو چکا ہے،چلنے کی طاقت نہیں، بار بار بے ہوشی طاری ہو رہی ہے،آنکھیں بند ہوتی ہیں، سانس بھاری ہو جاتا ہے…لیکن ایسے نازک اور آخری لمحات میں بھی، میرے آقا ﷺ کی زبان پر جو سب سے پہلا سوال ہے، وہ کیا ہے؟ ❓ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کرتی ہیں: یا رسول اللہ! ابھی لوگوں نے نماز نہیں پڑھی، وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ سن کر نبی ﷺ نے فرمایا: میرے اوپر پانی ڈالو۔ غسل دیا گیا، لیکن جسم اتنا ناتواں تھا کہ چند قدم چلے، اور پھر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ کچھ دیر بعد ہوش آیا…اور پھر وہی سوال: ❓ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ حضرت عائشہؓ نے پھر عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! لوگ اب بھی آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ تیسری مرتبہ پھر غسل دیا گیا،چند قدم چلے،اور پھر بے ہوشی…تین مرتبہ بے ہوش ہوئے،اور تینوں مرتبہ زبان پر ایک ہی فکر، ایک ہی سوال:
🕌 نماز… نماز… نماز…
آخر جب جسم نے بالکل ساتھ چھوڑ دیا، تو میرے آقا ﷺ نے فرمایا: ➡️ ابو بکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ پھر بھی دل مطمئن نہ ہوا… حضرت علیؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھا،
اپنے چچا حضرت عباسؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھا، پاؤں میں چلنے کی طاقت نہیں، پاؤں زمین پر گھسٹ رہے ہیں… مگر آپ ﷺ نماز کے لیے تشریف لے گئے۔
سوچئے!اگر نماز اتنی اہم نہ ہوتی تو نبی ﷺ گھر میں بھی پڑھ سکتے تھے، یا جماعت چھوڑ سکتے تھے، یا بیماری کا عذر اختیار کر سکتے تھے… اور آج ہماری حالت کیا ہے؟ اگر: سر میں ہلکا سا درد ہو ، کمر میں معمولی تکلیف ہو، پیر میں ذرا سا درد ہو، یا ہلکا سا بخار آ جائے تو: ماں باپ کہنے لگتے ہیں“نماز کیسے پڑھے گا؟ بیمار ہے، اور بیمار خود کہتا ہے:میں تو بیمار ہوں، نماز کیسے پڑھوں؟
لیکن افسوس… یہی بیمار:کھانا کھا سکتا ہے، ڈاکٹر کے پاس جا سکتا ہے، دوستوں میں بیٹھ سکتا ہے، موبائل پر گھنٹوں اسکرین دیکھ سکتا ہے، 📵 مگر، 🕌 نماز نہیں پڑھ سکتا! جس تکلیف اور آزمائش میں اللہ کو سب سے زیادہ یاد کرنا چاہیے تھا، ہم اسی میں اللہ کے سب سے بڑے حکم "نماز" کو چھوڑ کر سو رہے ہوتے ہیں۔ اگر اللہ کے نبی ﷺ پاؤں گھسیٹتے ہوئے مسجد جا سکتے ہیں، تو ہماری معذوریوں کی کیا حقیقت ہے؟
آئیے عہد کریں! حالات جیسے بھی ہوں، نماز نہیں چھوٹے گی۔ کیونکہ نماز مومن کی معراج اور قبر و حشر کا پہلا سوال ہے۔

0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇