بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم
الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضللہ ومن یضلل فلا ھادی لہ ونشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان سیدنا ومولٰنا محمدا عبدہ ورسولہ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ،اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یُکَذِّبُ بِالدِّیۡنِ ؕ﴿۱﴾ فَوَیۡلٌ لِّلۡمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿۴﴾ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ صَلَاتِہِمۡ سَاہُوۡنَ ۙ﴿۵،،،۔
میں نے آپ حضرات کے سامنے قرآن کریم کی ایک چھوٹی سی سورت تلاوت کی ہے اس چھوٹی سی سورت کے اندر کئی باتوں کی ترغیب دی گئی ہے اور کئی باتوں پر وعید کی گئی ہے، ان میں سے ایک یہ ہیکہ کہ ایسے لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو لوگ اپنی نمازوں سے غافل ہیں، نماز پڑھنے سے کیا فائدہ ہوگا اور نماز نہ پڑھنے پر کیا نقصان ہوگا اس کے متعلق میں اپ حضرات کے سامنے کچھ باتیں بیان کرنے کی کوشش کروں گا اللہ تعالی سے دعا ہے مجھے صحیح صحیح کہنے اور ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،،
نماز کا مقصد ہے کہ ہماری 24 گھنٹے کی زندگی نماز والی صفت پر آجائے، جس طریقے سے ہم نماز اللہ کے حکم اور نبی کے طریقے پڑھتے ہیں، اس کے خلاف نہیں پڑھتے ، اسی طرح ہم باہر والی زندگی بھی اللہ کے حکم اور نبی کے طریقے پر گزارنے والے بن جائیں، نماز ایک اہم عبادت ہے حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال کیا جائے گا ، اگر ہماری نماز ٹھیک نکلے گی تو باقی اعمال بھی ٹھیک نکلیں گے اگر ہماری نماز ٹھیک نہیں ہوگی تو ہمارے باقی اعمال بھی ٹھیک نہیں ہوں گے، دین میں نماز کا مقام ایسا ہے جیسا کہ بدن میں سر کا مقام ہوتا ہے، اگر بدن میں سر نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا اگر ہاتھ نہ ہو پیر نہ ہو تو زندہ رہ سکتا ہے لیکن اگر سر نہ ہو تو زندہ ہی نہیں رہ سکتا، اسی طرح نماز کے بغیر ایمان کا باقی رہنا مشکل ہے،، حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص نماز کا اہتمام کرتا ہے اللہ تعالی پانچ طرح سے اس کے اعزاز و اکرام کرتے ہیں،1 اس سے زق کی تنگی کو ہٹادی جاتا ہے،2 دوسرے یہ کہ اس سے عذاب قبر ہٹا دیا جاتا ہے،عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو رونے لگتے یہاں تک کہ ان کی ڈاڑھی تر ہو جاتی، ان سے پوچھا گیا کہ آپ جنت اور جہنم کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر روتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر وہ اس منزل پر نجات پا گیا تو اس کے بعد کی منزلیں آسان ہوں گی، اور اگر یہاں اس نے نجات نہ پائی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے سخت ہیں“، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے کبھی قبر سے زیادہ ہولناک کوئی چیز نہیں دیکھی،،،،۔ 3 تیسرے یہ کہ قیامت کے دن اس کے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے، چوتھے یہ کہ وہ پل صراط سے بجلی کی طرح گزر جائے گا، پانچواں یہ کہ وہ حساب سے محفوظ رہے گا،
جو شخص نماز میں سستی کرتا ہے اس کو پندرہ طرح سے عذاب دیا جائے گا، چھ طرح سے دنیا میں، تین طرح سے موت کے وقت، تین طرح سے قبر میں ،اور تین طرح سے میدان محشر میں. دنیاکی چھ سزائیں یہ ہیں : (۱) اللہ عزوجل اس کی عمر سے برکت ختم کردے گا۔ (۲) اللہ عزوجل اس کے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹادے گا۔ (۳) اللہ عزوجل نیک کاموں سے اجر ہٹا دیگا ۔ (۴) اس کی کوئی دعا حق تعالیٰ آسمان تک بلند نہ ہونے دے گا۔ (۵) دنیا میں مخلوق اس سے نفرت کرے گی۔ اور (۶) نیک لوگوں کی دعا میں اس کاکوئی حصہ نہ ہوگا۔ موت کے وقت کی تین سزائیں یہ ہیں: (۱) ذلیل ہوکر مرے گا۔ (۲) بھوکا مرے گا۔ (۳) مرتے وقت اتنی سخت پیاس لگے گی کہ اگر سارے دریاؤں کا پانی بھی اسے پلادیا جائے تو پیاس نہ بجھے گی ۔ قبر میں تین سزائیں یہ ہوں گی : (۱) اللہ عزوجل اس پر اس کی قبر تنگ کر دے گا اورقبر اسے اس طرح دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں گی۔ (۲) اس کی قبر میں آگ بھڑکادی جائے گی جس کے انگاروں میں وہ دن رات اُلٹ پلٹ ہوتا رہے گا۔ (۳) اس پر ایک اژدھا مُسلَّط کر دیا جائے گا جس کا نام اَلشُّجاعُ الْاَقْرَع (يعنی گنجا سانپ) ہے، اس کی آنکھیں آگ کی اور ناخن لوہے کے ہوں گے، ہرناخن کی لمبائی ایک دن کی مسافت کے برابر ہوگی، وہ گرج دار بجلی کی مثل آواز میں کہے گا :” میں اَلشُّجَاعُ الْاَقْرَع ہوں ،مجھے میرے رب عزوجل نے حکم دیا ہے کہ میں تجھے فجر کی نمازضائع کرنے کے جرم میں صبح تا وقتِ ظہر اور نمازِ ظہر ادانہ کرنے پر ظہر تا عصر،نمازِ عصر ضائع کرنے پر عصر تا مغرب، نمازِ مغرب نہ پڑھنے پرمغرب تا عشاء اور نمازِ عشاء ضائع کرنے پر (عشاء سے)صبح تک مارتا رہوں ۔ اور جب بھی وہ ایک ضرب لگائے گا تو مردہ ستر (70 ) ہاتھ زمین میں دھنس جائے گا، تو وہ اپنے ناخن زمین میں داخل کر کے اس کو نکالے گا ،اور یہ عذاب اس پر قیامت تک مسلسل ہوتارہے گا ۔قیامت کے دن کی تین سزائیں یہ ہیں : (۱) اللہ عزوجل اس پر ایک فرشتہ مسلط کردے گا ، جو اسے منہ کے بل گھسيٹتے ہوئے جہنم کی طرف لے جائے گا۔ (۲) حساب کے وقت اللہ عزوجل اس کی طرف ناراضگی والی نظر سے ديکھے گا جس سے اس کے چہرے کا گوشت جھڑجائے گا۔ (۳) اللہ عزوجل اس کا حساب سختی سے لے گا جس سے زیادہ سخت وطویل کوئی عذاب نہ ہو گا،اللہ عزوجل اس کو دوزخ میں لے جانے کا حکم صادر فرمائے گا اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے،،,
عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّہُ ذَکَرَ الصَّلَاۃَ یَوْمًا فَقَالَ مَنْ حَافَظَ عَلَیْھَا کَانَتْ لَہ، نُوْرًا وَبُرْھَانًا وَ نَجَاۃَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ لَّمْ یُحَافِظْ عَلَیْھَا لَمْ تَکُنْ لَہ، نُوْرًا وَلَا بُرْھَانَا وَلَا نَجَاۃً وَکَانَ یَوْمَ القِیَامَۃِ مَعَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ اُبَیِّ بْنِ خَلَفٍ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص نماز کا اہتمام کرے گا تو نماز اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگی، حساب پیش ہونے کے وقت حجت ہوگی اور قیامت کے دن نجات کا سبب ہوگی ، اور جو شخص نماز کا اہتمام نہیں کرتا اس کے لیے قیامت کے دن نہ نور ہوگا،نہ کوئی حجت ہوگی، اور نہ ہی نجات کا ذریعہ ہوگا، اور اس کا حشر فرعون قارون اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا،
تشریح
" نماز کی محافظت" کا مطلب یہ ہے کہ نماز باقاعدگی اور پوری پابندی سے پڑھی جائے۔ کبھی نماز پڑھ لی کبھی چھوڑ دی ، ایسا نہیں بلکہ کبھی ناغہ نہ ہو، اسی طرح نماز کے تمام فرائض واجبات سنن اور مستحبات کی رعایت کرتے ہوئے نماز ادا کی جائے، اس طرح جب کوئی نماز پڑھے گا تو کہا جائے گا کہ اس نے نماز کی محافظت کی اور یہ مذکورہ ثواب کا حقدار ہوگا اور جو آدمی اس کے برعکس عمل اختیار کرے گا کہ نہ تو نماز باقاعدگی اور پابندی کے ساتھ پڑھے اور نہ نماز کے فرائض واجبات اور سنن و مستحبات کی رعایت کرے تو اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ ان چیزوں کو ترک کرنے کی وجہ سے مذکورہ عذاب کا مستحق ہوگا۔
لہٰذا غور کرنا چاہئے کہ نماز کی محافظت اور اس پر دوام اختیار کرنے کی کس قدر تاکید ہے اس لئے نماز میں کوتاہی کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کے عذاب کو اور اپنی بربادی کو دعوت دینا ہے۔ جو لوگ مال و دولت کی کثرت کی بنا پر نماز چھوڑتے ہیں ان کا حشر قارون کے ساتھ ہوگا، جو ملازمت کی وجہ سے نماز چھوڑتے ہیں ان کا حشر ہامان کے ساتھ ہوگا، اور جو لوگ تجارت کی وجہ سے نماز چھوڑتے ہیں ان کا حشر ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا، ہمیں یہ بھی خیال کرنا چاہئے کہ جب نماز کی محافظت نہ کرنے پر اس قدر و عید ہے کہ ایسے آدمی کا حشر فرعون ہامان قارون اور ابی بن خلف جیسے لعین و بد بخت کفار کے ساتھ ہونے کی خبر دی جا رہی ہے تو اس آدمی کا کیا حال ہوگا جو نماز ترک کرتا ہے اور کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوتا۔
فرعون کو تو ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ وہ کس درجے کا کافر تھا، یہاں تک کہ اس نے خدائی کا دعوی کیا تھا اور کہنے لگا تھا میں ہی خدا ہوں میں ہی اللہ ہوں دنیا کی تمام چیزیں میرے ہی حکم کے تابع ہیں، اور ہامان اس کے وزیر کا نام ہے، اور ابی بن خلف وہ مشہور مشرک ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اس کے دل میں مسلمانوں کی اسلام کی اور نبی کی اتنی زیادہ نفرت تھی کہ وہ اللہ کے رسول کو قتل کی دھمکی دیتا تھا، وہ کہتا تھا کہ میں نے ایک گھوڑا پالا ہے، میں اس کو بہت کچھ کھلاتا اور پلاتا ہوں اس پر سوار ہو کر میں آپ کو قتل کرو نگا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ انشاءاللہ میں ہی تجھ کو قتل کروں گا، جب دوسری مرتبہ یعنی جنگ احد میں مسلمانوں کا اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا توابی بن خالف اللہ کے رسول کو قتل کرنے کے لئے تلاش کر رہا تھا ، اور کہتا تھا کہ اگر آج وہ بچ گئے تو پھر میری خیر نہیں، چنانچہ وہ حملہ کرنے کے ارادے سے آپ کے قریب پہنچ گیا ، صحابہ نے ارادہ فرمایا کہ اس کو دور سے ہی نمٹا دیا جائے اور اللہ کے رسول کے پاس آنے نہ دیا جائے لیکن آپ نے منع فرمایا اور کہا کہ اس کو آنے دو ، جب وہ قریب آیا تو حضور نے ایک صحابی سے برچھا لے کر اس کو مارا اور وہ برچہ اس کی گردن پر لگا اور ہلکا سا خراش آگیا، اس کی وجہ سے وہ گھوڑے سے لڑھکتا ہوا گرا اور بھاگتا ہوا اپنے لشکر میں پہنچ گیا،اور چلانے لگا کہ خدا کی قسم مجھے محمد نے قتل کر دیا ،کفار نے اس کو اطمینان دلایا کہ معمولی سا خراش ہے کوئی فکر کی بات نہیں ہے جلد ہی ٹھیک ہو جائے گا، مگر وہ کہتا تھا کہ محمد نے مکہ میں کہا تھا کہ میں تجھے قتل کروں گا، اگر وہ مجھ پر تھوک بھی دیتے تو میں مر جاتا ، وہ بیل کی طرح چلانے لگا، ابو سفیان جو اس وقت تک کافروں کے سردار تھے انہوں نے اس کو شرم اور عار دلاتے ہوئے کہا کہ ذرا سی چوٹ اور تکلیف سے اتنا چلا نے کی کیا ضرورت ہے، ابی بن خلف نے کہا تجھے خبر بھی ہے یہ کس کی مار ہے یہ محمد کی مار ہے، مجھے اس سے اتنی زیادہ تکلیف ہو رہی ہے کہ اس کو بیان کرنا مشکل ہے، لا تو عزہ کی قسم اگر یہ تکلیف ساری حجاز والوں کو تقسیم کر دی جائے تو سب ہلاک ہو جائیں گے ، محمد نے جس دن مجھ سے کہا تھا کہ میں تجھے قتل کروں گا، میں اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ میں انہیں کے ہاتھوں سے مارا جاؤں گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا مکہ مکرمہ جانے سے ایک دن پہلے ہی ختم ہو گیا،
ہمارے جیسے مسلمانوں کے لئے نہایت غیرت اور عبرت کا مقام ہے، ایک کافر کو آپ کی باتوں پر اتنا یقین تھا کہ اپنے مارے جانے پر تھوڑا سا بھی شک و شبہ نہیں تھا، لیکن ہم لوگ حضور کو نبی ماننے کے باوجود،، ان کو صادق اور ایماندار ماننے کے باوجود، اور ان سے محبت کرنے کے دعوے کے باوجود، آپ کی باتوں پر ہمیں یقین اور بھروسہ نہیں ہے،
آخر میں اتنی بات اور سمجھ لیجئے کہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو آدمی محافظت کرے گا یعنی پورے خلوص اور تمام فرائض واجبات اور سنن و مستحبات کے ساتھ نماز ہمیشہ پابندی سے پڑھتا رہے گا تو قیامت کو وہ انبیاء کرام ، صدیقین، شہداء اور صلحاء کے ہمراہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نماز کی پابندی اور پورے ذوق و شوق کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇