The virtue of Laylat al-Qadr۔ شب قدر کی فضیلت

شب قدر کی فضیلت 

وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون ( ذاریٰت/ ۵۶) 

میں نے جنات اور انسان کو صرف اپنی عبادت کیلۓ پیدا کیا ہے،۔ 

جب انسان کو اس رنگ برنگی دنیا میں بھیجاگیاتووہ ظالم بھی تھا عادل بھی تھا، انسان کی تخلیق عجیب طریقے سے ہوئی ہے، خالق کائنات نے انسانوں کے اندر بہت ساری خصلتیں رکھی ہیں اگر انسان خدا کے انکارپر اتر آۓ تو، فرعون، شداد، ھامان، نمرود، اور شیطان سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے۔
اور اگر فرما برداری پر اتر آۓ تو فرشتوں سے بھی بازی لے جاتا ہے۔

شب قدر اور ہماری لاپرواہی

 دیکھتے ہی دیکھتے رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ بھی گذر گیا، اور ہم نے تیسرے عشرے میں قدم رکھ دیا، جو کہ آخری عشرہ ہے، اور ہماری سستی، غفلت، لاپرواہی کا وہی عالم ہے، جو پہلے تھا. حالانکہ اس عشرے کو خلاصی، نجات، اور چھٹکارے کا عشرہ قرار دیا گیا ہے. یعنی اس عشرے میں اللہ کو راضی کر کے اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانےاور اولیں جنت کے مستحق بننے کا عشرہ ہے
’’إِِنَّا أَ نْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ ا لْقَدْ رِ  وَمَا أَ دْ رٰکَ مَا لَیْلَۃُ ا لْقَدْ رِ   لَیْلَۃُ ا لْقَدْ رِ خَیْرٌمِّنْ أَ لْفِ شَہْرٍ  تَنَزَّلُ ا لْمَلآءِکَۃُ وَا لرُّ وْحُ فِیْہَا بِإِ ذْنِ رَبِّھِمْ  مِنْ کُلِّ أَمْرٍ سَلاَمٌ  ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ 
بے شک ہم نے قرآن پاک شب قدر میں اتارا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ شب قدر کیسی ہے؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے!اترتے ہیں اس میں فرشتے اور روح، اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر،یہ رات سراسر سلامتی کی ہو تی ہے اور طلوع فجر تک رہتی ہے۔(بیان القرآن،۱۲؍۱۱۱)​

تشریح وتوضیح:اس سورت شریفہ میں سوال وجواب کے انداز میں ’’شبِ قدر ‘‘کی عظمت سے انسان کو واقف کرایا گیا ہے کہ: ایک ہزار مہینے یا ۸۳ تراسی برس کی عبادت بھی اس ایک رات کی عبادت کی برابری نہیں کر سکتی۔​
(۱) شب قدر کے معنی تقدیر کی رات کے ہیں،اور بقول قتادہ اس رات میں ہر آدمی کا رزق وروزی مقرر کیا جاتا ہے،عمر لکھی جاتی ہے،ہر طرح کے فیصلے لکھ کر ذمہ دار فرشتوں کے حوالے کر دئیے جاتے ہیں،’’لِأَنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ یُقَدِّرُ فِیْہَا مَایَشَاءُ مِنْ أَ مْرِہٖ‘‘اس لئے اسکو شبِ قدر کہتے ہیں۔ (القرطبی ۲۰؍۱۳۰)​

فضائل شبِ قدر:​

(۱) اسی رات میں فرشتوں کی پیدائش ہو ئی۔(مظاہر حق جدید۲؍۶۸۰)​
(۲) اسی رات جنت میں درخت لگائے گئے (ایضا)​
(۳) اسی رات حضرت آدم کا مادہ جمع ہو نا شروع ہوا (ایضا)​
(۴) اسی رات بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہو ئی ۔(در منثور)​
(۵) اسی رات حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے (در منثور)​
(۶) اس رات میں بندوں کی توبہ قبول ہو تی ہے (در منثور)​
(۷) اس رات میں آسمان کے دروازے کھلے رہتے ہیں ۔​
(۱۰) عبداللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ: اس رات میں رزق ،بارش، زندگی، یہاں تک کہ اس سال​ حج کرنے والوں کی تعداد ،لوح محفوظ سے نقل کر کے، فائلیں فرشتوں کے حوالہ کر دی جا تی​
ہیں۔’’یُکْتَبُ حَاجُّ بَیْتِ اللّٰہِ‘‘ ( ألقرطبی۲۰؍۱۳۰)​
(۱۱) اس رات میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر پوراقرآن کریم نازل ہوا ۔(مظا ہر حق)​
(۱۲) اس رات میں آسمان سے بکثرت فرشتے اترتے ہیں جو مؤمنوں کو سلام کرتے ہیں،مصافحہ کرتے ​ہیں،ان کے لئے دعاء خیر کرتے ہیں اور ان کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں۔’’لا یلقون فیھا مؤمنا مؤمنۃ إلا سلمو علیہ‘‘ (تفسیرأبی السعود۸؍۴۱)​
(۱۳) حضرت ابوہریرۃؓ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ: جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب​
کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے نیز شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے​عبادت کرے ،تواس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔ ​
(۱۴)حضرت انسؓ فرماتے ہیں :کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کا مہینہ آیا تو حضورﷺ نے فرمایا کہ: تمہارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے​افضل ہے، جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا ،گویا ساری ہی خیر سے محروم رہ گیا’’مَنْ حُرِمَہَافَقَدْحُرِمَ الْخَیْرَکُلّہٗ‘‘ إبن ماجہ،کتاب الصیام،رقم الحدیث ۱۶۴۴)​
(۱۵) حدیث شریف میں وارد ہے کہ اس رات میں طلوع فجر تک شیطان نہیں نکلتااور نہ کسی کو فتنہ وفساد​
میں مبتلا کر سکتا ہے،’’لاَ یَسْتَطِیْعُ أَ نْ یُّصِیْبَ فِیْہَا أَ حَداً بِخَبْلٍ وَلاَ بِشَیْءٍ مِّنَ الْفَسَادِ‘‘ دیگر راتوں میں رحمتیں اور برکتیں ،آفات اور مصیبتیں دونوں نازل ہوتی رہتی ہیں،مگر شب قدر میں سعادتیں ،رحمتیں اور انعامات ربانی کا ہی نزول ہوتا ہے۔’’لاَ یُقَدَّ رُ فِیْہَا اِلاَّ السَّعَادَ ۃُ وَالنِّعَمُ‘‘ (صاوی ۴؍۳۳۶)​

شبِ قدر کے بارے میں تجربات و قیاسات:​

متعین طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ رات کونسی تاریخ میں ہے ،البتہ رمضان المبارک کے اخیر عشرہ  اور طاق راتوں میں ہونے کا رجحان زیادہ ہے ، جیسے، ۲۱  /   ۲۳  / ۲۵  / ۲۷  /  ۲۹
بعض حضرات ستائیسویں رات کو شبِ قدر مانتے ہین جوکہ حدیث کے خلاف ہے۔ اور یہ غلط ہے۔ کیونکہ حدیث میں کسی رات کو شبِ قدر کے ساتھ خاص نہیں کیا گیاہے، لہاذا ہمیں بھی شبِ قدر کے ساتھ کسی رات کو خاص نہیں کرنا چاہیۓ

شبِ قدر کی علامات :​

(۱) حضرت انس ؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ :وہ رات نورانی اور چمکدار ہوتی​ ہے،نہ زیادہ گرم ،نہ زیادہ ٹھنڈی۔​
(۲) اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارے جاتے (رات میں آسمان پر​انگارہ اور شعلہ سا جو بھاگتا ہوا نظر آتا ہے وہ اس رات میں نہیں ہوتا )۔​
(۳) شب قدر کی صبح کو نکلنے والا سورج چاند کے مانند، شعاؤں وکرنوں کے بغیر طلوع ہوتا ہے ۔​

نصیحت

ان راتوں میں جس قدر ہو سکے نفل نماز ،تلاوت قرآن یا ذکر و تسبیح میں مشغول رہیں ۔ان راتوں کو جلسوں، تقریروں میں صرف کر نا بڑی محرومی میں داخل ہے ۔تقریریں توہر رات میں ہو سکتی ہیں ،لیکن عبادت کا یہ وقت پھر ہاتھ نہیں آئے گا ۔​
پیغام:  پہلی امتوں کی عمریں لمبی لمبی ہوتی تھی ،اب دنیا بوڑھی ہوچکی ہے لوگوں کی عمریں بھی کم سے کم تر ہو تی جارہی ہیں،اوسط عمر ۵۵؍۶۰ سال بھی کسی کو ملے تو کیا،عمرکے پہلے بیس سال تولہولعب،کھیل کود کی نظر ہو جاتے ہیں،بیس سے چالیس تک زمانہ مظبوطی اور قوت کا ہو تا ہے اور یہ زمانہ دراصل کچھ کرنے کا ہے،اسی زمانہ کی عبادت خدا کو محبوب بھی ہے مگر جوانی، دیوانی ہو تی ہے، اس زمانہ میں آدمی نفس وشیطان، اور ہویٰ وہوس کا بندہ بنا رہتا ہے ،الا یہ کہ کسی پر فضل ربانی ہو،صحبت صا لحین میسر ہو۔​
رہا چالیس سال کے بعد کا زمانہ، تو وہ ہوش کا زمانہ شمار ہو تاہے،آدمی ذخیرۂ آخرت کرنا چاہتاہے،مگر اب قویٰ کمزور،کرنا بھی چاہے تو،اَعذاروامراض، کمزوریاں وبیماریاں اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں،اسی کمی کو پورا کرنے کے لئے لاڈلے حبیب ،جناب محمد الرسول اللهﷺکی امت کو ’’شبِ قدر ‘‘سے نوازا گیا ہے کہ ایک رات کی عبادت بھی کسی خوش نصیب ،قسمت کے والے کو مل گئی تو کم ازکم تراسی سال کی عبادت کا ثواب تو مل ہی گیا۔​
اس لئے امت مسلمہ کا فرض ہے کہ اس رات کے حاصل کرنے میں بھر پور کوشش کریں،یہ عطیۂ خدا وندی ہے اس کی قدر کریں،انعام ربانی ہے اس کو خوب خوب وصول کریں،اس تحفہ سے محرومی گویا ساری ہی خیر سے محرومی ہے۔
رمضان المبارک کی،اخیر عشرہ ،اکائی راتیں ،۲۷ویں شب وغیرہ کو غنیمت جان کر ہاتھ سے نہ جانے دے ،دعاء ہے کہ باری تعالیٰ اپنے حبیب اور لطفِ عمیم کے طفیل امتِ محمدیہ کے کسی بھی فرد کو اس رات سے محروم نہ فرمائے، ’’آمِیْن یَا رَبَّ ا لْعَالَمِیْن بِحَقِّ سَیَّدِ ا لْمُرْسَلِیْنَ‘     
                                   The virtue of Laylat al-Qadr                                
The virtue of Laylat al-Qadr
Add caption

Post a Comment

0 Comments