امام ابو حنیفہ ؒ کے حالات imam abu hanifa ke halat

حیات امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ     صفحہ  ۸

________________________________________________

امام ابو حنیفہؒ کی معاشی سر گرمیاں

پیش نظر مضمون میں، امام صاحب کی معاشی سر گرمیوں کا جائزہ لیکر آپ کے تجارتی اصول اور معاشی زندگی میں آپ کے کار ناموں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا
امامِ اعظم ابو حنیفہ ؒ ایک صاحب ثروت گھرانےکے چشم و چراغ تھے۔ آپ کے یہاں مال و دولت کی فروانی تھی، فقر و فاقہ اور تنگ دستی سے نا آشنا تھے، آپ کے اباءو اجداد، ریشم کے کپڑوں کےتاجر تھے۔، امام صاحب نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آبائی کاروبار کو خوب ترقی دی۔ الله تعالٰی نے جس طرح آپ کو، علم تقوی، اور فضل و کمال میں یکتا بنایا تھا۔ اسی طرح آپ کو معاشی زندگی میں بھی یکتابنا یا تھا۔ آپ کو ہم عصرو پر فوقیت دی تھی۔ آپ نہ صرف تاجر تھے، بلکہ تجارتی اصولوں سے بھی اچھی طرح واقف تھے۔ اسی بنیاد پر آپ نے تجارت میں خوب ترقی کی
امام صاحب کی تجارت وسیع پیمانہ پر تھی، کوفہ میں ایک بہت بڑا اور مشہور کار خانہ تھا، اور اسی کے ساتھ کوفہ میں ایک بہت بڑی دکان بھی تھی۔ اور دوسرے شہروں سے یہاں کپڑا منگوایا جاتا تھا۔ اور دوسرے شہروں میں خاص طورپر، نیشا پور ، بغداد ، اور بصرہ ، وغیرہ ، ان جگہوں میں امام صاحب کے ایجنڈ تھے جو مال کو فروخت کرتے تھے۔ اور وہاں کے مشہور کپڑوں کو کوفہ روانہ کرتے تھے۔

خز کا مفہوم


خز ایک قسم کا کپڑا ہے۔ جس کا رواج اسلام کے ابتدائی صدیوں میں بکثرت پایا جاتا تھا، اس کے تانے میں ریشم اور بانے میں مختلف سوت استعمال کیا جاتا ہے۔ اور جو کپڑا اس طرح کا ہو اس کا استعمال جائز ہے۔
امام صاحب کا آبائی کاروبار خز کی تجارت کا ہی تھا

امام صاحب کی دکان


کوفہ میں حضرت عمر بن حدیثؓ کا بہت بڑا محل تھا جو انہوں نے کوفہ آنے کے بعد بنایا تھا۔ اس عالی شان محل میں، امام صاحب کی شاپنگ مال تھی، اور یہ دکان بہت مشہور تھی، یہاں ہر طرح کا کپڑا ملتا تھا، اگر کوئی کپڑا کہی نہیں ملتا تو لوگ امام صاحب کی دکان کا مشورہ دیتے، اور امام صاحب کی دکان میں وہ کپڑا مل جاتا

غلاموں کے ذریعے مال کی پھیری


امام صاحب کے یہاں مال کی فروخت گی کی، کئی صورتیں تھیں۔ انہیں میں سے ایک طریقہ غلام کا تھا یعنی دور دراز شہر میں بھیج کر، غلاموں کے ذریعے مال کو فروخت کروایا کرتے تھے۔ ایک ایک غلام کبھی کبھی تیس ہزار، تیس ہزار نفع حاصل کرکے لا تا تھا۔ اس طرح امام صاحب کی تجارت پھیلتی گئی

تجارت میں پرہیزگاری


امام صاحب کے نزدیک صرف مال کو حاصل کرنا مقصود نہیں تھا، بلکہ مال حاصل کرنے میں انتہائی احتیاط برتی جاتی تھی۔ اور ہر قسم کے شبہ سے پر ہیز کیا جاتا تھا۔

واقعہ


ایک غلام تیس ہزار نفع حاصل کرکے امام صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا، جب امام صاحب نے اس سے تفصیل معلوم کی تو اس نے ایک صورت ایسی بیان کی جس سے امام صاحب کو نا گواری ہوئ، تو اس پر ڈانٹ لگائ  ، اور معلوم کیا کہ تم نے ساراپیسہ ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا، اس نے جواب دیا  ،، ہاں  ، تو امام صاحب نے ان، تیس ہزار روپے کو فقراء و مساکین میں تقسیم کردیا۔  یہ تھا آپ کی پر ہیز گاری کا عالم

Post a Comment

0 Comments