محترم سامعین و حاضرین!
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کرنے کے بعد، انسانیت پر سب سے پہلا اور سب سے بڑا احسان یہ فرمایا کہ اسے "علم" کے نور سے نوازا۔ کائنات کی ہر شے کا وجود اپنی جگہ، لیکن انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ اسی "علم" کی بدولت ملا۔ علم محض معلومات کا نام نہیں، بلکہ علم وہ بصیرت ہے جو حق اور باطل، اندھیرے اور اجالے، اور خالق اور مخلوق کے درمیان فرق کرنا سکھاتی ہے۔
اسلام میں علم کی حیثیت کسی ایک شعبے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا آفاقی نظام ہے جو انسان کو زمین سے اٹھا کر آسمانوں کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ قرآنِ حکیم کا پہلا لفظ "اِقْرَأْ" (پڑھ) صرف ایک حکم نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مستقل لائحہ عمل ہے کہ کامیابی کا راستہ صرف اور صرف علم کی شاہراہ سے گزرتا ہے۔ ایک جاہل معاشرہ اندھیری رات میں بھٹکنے والے مسافر کی مانند ہے، جبکہ صاحبِ علم معاشرہ چراغِ ہدایت لیے سیدھی راہ پر گامزن رہتا ہے۔
انسان کی اصل پہچان اس کا علم ہے۔ جس قوم نے علم کو اپنایا، اس نے دنیا میں عزت، ترقی اور سربلندی حاصل کی، اور جس نے علم سے منہ موڑا، وہ پستی اور زوال کا شکار ہو گئی.
آج کی اس محفل میں ہم اسی "نورِ علم" کی اہمیت، اس کے حصول کے تقاضوں، اور دنیا و آخرت میں اس کے درجات کے حوالے سے گفتگو کریں گے، تاکہ ہم اپنی زندگیوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی ضوفشانیوں سے منور کر سکیں۔
قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الَّـذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّـذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْن کہہ دو کیا علم والے اور بغیر علم والے برابر ہو سکتے ہیں ۔
اللہ تعالی نے اس دنیا میں بے شمار مخلوقات پیدا کی ہیں ، اتنی مخلوقات پیدا کی ہیں کہ ان کی صحیح تعداد اللہ تعالی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، لیکن ان میں سے تین مخلوق بہت زیادہ مشہور ہیں،جن کا تذکرہ قران و حدیث میں بار بار آتا ہے، نمبر ایک فرشتے، نمبر دو جنات، اور نمبر تین انسان،
اللہ تعالی نے فرشتوں کو نور سے بنایا ہے،اور جنات کو آگ سے پیدا کیا ہے، اور انسانوں کو سڑی ہوئی مٹی سے بنایا ہے، جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، ان تینوں مخلوق میں سے سب سے زیادہ طاقتور سب سے زیادہ مضبوط،سب سے زیادہ پرہیزگار اور سب سے زیادہ متقی فرشتے ہیں،اور ان کے بعد سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے زیادہ مضبوط جنات ہیں،اور ان دونوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ کمزور اور ضعیف،اور اللہ تعالی کا ناشکرا انسان ہے، لیکن اس کے باوجود انسان کو بنانے ہی اللہ تعالی نے تمام مخلوقات کا سردار بنا دیا اور تمام مخلوق میں افضل بنا دیا ، سوال یہ ہے اس مٹی کے پتلے میں ایسی کون سی خاص بات ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے تمام مخلوقات کا سردار بنایا، اور انسان کو اتنا بڑا اور اونچا مقام عطا فرمایا،
سوال یہ ہے اس مٹی کے پتلے میں ایسی کون سی خاص بات ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے تمام مخلوقات کا سردار بنایا اور انسان کو اتنا بڑا اور اونچا مقام عطا فرمایا،
اس کا جواب اللہ تعالی نے قران مجید میں دیا ہے، میں بہت مختصر لفظوں میں اس پورے واقعے کی طرف اشارہ کر رہا ہوں، جس کی بنیاد پر انسان کو اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے، جب اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ السلام کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا، تو اللہ تعالی نے یہ بات فرشتوں کے سامنے رکھی کہ اے فرشتو میں دنیا کے اندر ایک اور مخلوق پیدا کرنے جا رہا ہوں، انی جاعل فی الارض تو فرشتوں نے اللہ تعالی سے سوال کیا کہ اے میرے پروردگار وہ مخلوق آئے گی تو مخلوق کیا کرے گی، اس مخلوق کو پیدا کرنے کا کیا مقصد ہے، تو اللہ تعالی نے فرشتوں کو جواب دیا وہ مخلوق سارے کام کرے گی، اچھے کام بھی کرے گی، اور برے کام بھی کرے گی، وہ میرے احکام کی فرمانبرداری بھی کریں گے اور میرے احکام کی نافرمانی بھی کریں گے، وہ دنیا کے اندر انصاف بھی قائم کریں گے، اور دنیا میں خون خرابہ بھی کریں گے، جب فرشتوں کے سامنے یہ سارا تفصیلی جواب ایا، تو فرشتے کہنے لگے ، قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-30) اے الہ العالمین ایسی مخلوق کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے جو مخلوق تیرے احکام کی نافرمانی کرے، زمین میں فساد پھیلائے اور خون خرابہ کریں،
اور جہاں تک تیری تسبیح اور تیری پاکی بیان کرنے کی بات ہے -وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ تو ہم تیری تسبیحیں بیان کرتے ہیں ہم تیری حمد و ثنا کرتے ہیں ہم تیری تعریف کرتے ہیں، تو کسی اور مخلوق کو پیدا کرنے کا مقصد ہمیں سمجھ میں نہیں اتا، تو اللہ تعالی نے فرشتوں کو جواب دیا، قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ میں وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے، اس کے بعد بات ختم ہوگئی،
اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرما دیا، اور ان کے اندر روح ڈال دی گئی ، پھر اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا میں پائی جانے والی تمام چیزوں کے نام اور اس کے کام سمجھا دیے،، عربی زبان میں اس علم کو علم الاسما کہا جاتا ہے، ہماری اور تمہاری زبان میں سائنس کہا جاتا ہے، یوں سمجھیے کیا اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو سائنس سے کا علم دے دیا، ہر چیز کا نام بھی بتا دیا، اور ساتھ میں یہ بھی بتا دیا کہ یہ چیز کس مقصد کے لیے ہے، اس کا کیا کام ہے، اس کے فائدے کیا ہیں اس کے نقصان کیا ہیں اور اس کے فیوچر کیا ہیں، جب حضرت آدم علیہ السلام تمام چیزوں کو سیکھ گئے اور اس کو جان گئے، تو اللہ تعالی نے تمام فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے بلایا،، اور فرشتوں سے کہا کہ تم ان تمام چیزوں کے نام بتاؤ، فرشتوں کو ان چیزوں کا علم نہیں تھا، فرشتوں کو کچھ معلوم نہیں تھا، سارے فرشتوں نے عاجزی کا اظہار کیا، اور کہا قَالُوا۟ سُبْحَـٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ ، یا اللہ تیری ذات پاک ہے، ہمیں ان چیزوں کا علم نہیں ہے، میں شک تو جاننے والا اور حکمت والا ہے،
جب فرشتوں نے عاجزی کا اظہار کیا تو اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ السلام سے فرمایا کہ تم ان چیزوں کے نام بتاؤ، ان تمام چیزوں کی خاصیت،اور کام بھی بتاؤ، تو حضرت آدم علیہ السلام نے فٹافٹ تمام چیزوں کے نام اور ان کے کام بھی بتا دیے، تو یہ دیکھ کر فرشتے حیران رہ گئے، پھر اللہ تعالی نے حجت تام کرتے ہوئے کہا قال الم اقل لكم اني اعلم من الله مالا تعلمون یہ فرشتوں میں تم سے پہلے ہی کہہ چکا تھا جو باتیں میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے، تم اطاعت کرتے ہو، تم ی عبادت بھی کرتے ہو، تمہاری اطاعت بھی قبول ہے، تمہاری عبادت بھی قبول ہے، لیکن یاد رکھو جس دنیا کو مجھے چلانا ہے،اور جس دنیا کا مجھے خلیفہ اور سردار بنانا ہے، وہ خلیفہ اور سردار بغیر علم کے کام نہیں کر سکتا،
اگر انسان کو تمام مخلوق سے افضل بنایا ہے، تمام مخلوق کا سردار بنایا ہے، اور تمام مخلوق میں بہتر بنایا ہے تو علم کی وجہ سے بنایا ہے، کیونکہ کہ انسان کے پاس وہ علم ہے جو اور مخلوقات کے پاس نہیں ہے ،
انسان کو زندہ رہنے کے لئے تین چیزیں ضروری ہیں، کھانا، پانی، اور ہوا ، اگر یہ تین چیزیں انسان کو نہ ملے تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا ، اسی طرح انسان کی زندگی کے لیے علم ضروری ہے،۔ جس طرح ہوا کی کمی انسان کا دم گھونٹ دیتی ہے، اسی طرح علم کی کمی انسان کی شخصیت اور کردار کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ اگر علم نہیں ہے تو زندگی ادھوری ہے ، کیونکہ علم کے بغیر انسان صحیح زندگی نہیں گزار سکتا، علم کے بغیر خدا کو نہیں پہچان سکتا، علم کے بغیر اپنے پیدا ہونے کے مقصد کو نہیں پہچان سکتا، دنیا میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے علم کو سب سے اعلی اور ارفع مقام دیا اس کے دروازے کو ہر ایک کیلئے کے کھول دیا ہے ،کسی خاص طبقہ اور برادری تک اسکو محدود نہیں کیا ہے بلکہ ہر ایک کو علم حاصل کرنے کا حق دیا ہے ، امیر ہو یا غریب ، فقیر ہو یا مسکین، چھوٹا ہو یا بڑا ،بچہ یا بوڑھا ، مرد ہو یا عورت ہر ایک کو علم حاصل کرنے کا حق دیا ۔
جب نبی کریم ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے… تو پورا عرب ضلالت وگمراہی ، ظلم، و جہالت اور برائیوں میں ڈوبا ہوا تھا… ہر ترف ظلم و ستم پہاڑ توڑے جا رہے تھے، نفرتوں عداوت کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ اور معصوم بچیوں کو زندہ درگور کیا جارہا تھا،۔ بے حیائی اور بے شرمی کی انتہا یہ تھی کہ باپ کے مرنے کے بعد بڑا بیٹا ماں سے شادی کر لیتا اور سارے بھائ بہنوں کی وراثت پر قابض ہو جاتا ۔ بعض خاندان اور قبیلے بیٹی کی پیدائش کو منحسوس سمجھتے اور پیدا ہوتے ہی اسے زندہ در گور کر دیتے ۔ کسی کو داماد بنانا وہ اپنے لئے بے عزتی سمجھتے تھے ۔ غرض ہر قسم کی برائ ان لوگوں میں پائی جاتی تھی۔
ایسے وقت میں جو سب سے پہلے وحی آئی ،جو سب سے پہلا حکم آیا اقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ۔۔ خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ۔۔ ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ۔۔ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ۔۔ عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ۔
پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔. جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔۔ اے نبی پڑھئے اور تیرا رب ہی سب سے زیادہ کرم والا ہے، جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا، جس نے انسان کو وه سکھایا جسے وه نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
یہ قران کریم کی پانچ ایتیں ہیں،قران کریم کے پانچ ایتیں سب سے پہلے نازل کی گئی ہیں،اس سے پہلے کوئی بھی ایت نازل نہیں کی گئی ہے،اور ان پانچ ایتوں کا تعلق علم سے ہے،ان ایتوں کے ذریعے سے علم حاصل کرنے کے حکم دیا جا رہا ہے،، اللہ تعالی نے یہ حکم نازل نہیں کیا کہ لوگوں صرف ایک اللہ کی عبادت کرو،
❌ یہ نہیں فرمایا: شراب چھوڑ دو
❌ یہ نہیں فرمایا: ظلم چھوڑ دو
❌ یہ نہیں فرما، لوگوں پر ظلم مت کرو ،
یہ نہیں فرمایا کہ اپنی ماں کے ساتھ نکاح مت کرو، لڑکیوں کو زندہ دفن مت کرو،
اگر اللہ چاہتا یہ سارے حکم نازل کر سکتا تھا، لیکن یہ حکم نازل نہیں کیا، بلکہ علم حاصل کرنے کا حکم نازل فرمایا، کیونکہ اصل بیماری جہالت تھی ، اور اس کا علاج صرف اور صرف علم ہے ۔
علم ایک روشنی ہے ، جب انسان علم حاصل کرے گا تو اس کے پاس روشنی ہوگی، اور جب روشنی ہوگی
✔️ اسے صحیح اور غلط نظر ائے گا،
✔️ اسے حلال اور حرام کی پہچان ہوتی گی
✔️ اسے اچھائی اور برائی کا فرق سمجھ آئیگا
اور جب یہ فرق واضح ہو جاتا ہے…
تو انسان خود ہی برائی چھوڑ دیتا ہے…
جو کل بیٹیوں کو دفن کرتے تھے…
وہی بیٹیوں کو رحمت سمجھنے لگے…
وہی لوگ…
جو شراب میں ڈوبے تھے…
وہی سجدوں میں رونے لگے…
وہی لوگ…
جو ایک دوسرے کے دشمن تھے…
وہی بھائی بن گئے…
یہ سب کیسے ہوا… صرف علم کی وجہ سے، اسی لیے اللہ تعالی نے جو سب سے پہلے حکم نازل کیا وہ علم حاصل کرنے کا حکم نازل کیا ہے،
اس دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ علم ہے، کوئی بھی قوم اس وقت تک بلندیوں کو نہیں چھو سکتی جب تک وہ علم کے نور سے منور نہ ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قوم جتنی زیادہ تعلیم سے دور ہوگی وہ اتنی ہی پستی، گمراہی اور ذلت کا شکار ہوگی۔ اور جو قوم جتنی زیادہ تعلیم سے قریب ہوگی، و قوم اتنی ہی زیادہ کامیاب، عزت دار ،اور ترقی یافتہ ہوگی، اور معاشرے کے اندر اتنا ہی زیادہ سدھار پیدا ہوگا۔ ہم اپنے معاشرے کو ٹھیک کرنے کی فکر کرتے ہیں، اپنی سوسائٹی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اور اپنے بچوں کو کامیاب بنانے کی فکر کرتے ہیں ، لیکن اگر تعلیم کی فکر نہ ہو تو ہمارا معاشرہ، ہمارا گھر اور ہمارے کبھی بھی بہتر نہیں ہو سکتے ،
آج ہمارے معاشرے کو ہر قسم کی تعلیم کی ضرورت ہے، اور ہماری قوم کو ہر طرح کے افراد درکار ہیں۔ عصری تعلیم اور دینی تعلیم دونوں ہی ہمارے لیے یکساں ضروری ہیں۔ اگر ہمارے بچے سائنسی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو انہیں قرآن کا علم بھی ہونا چاہیے۔ اگر ہمارا بچہ ڈاکٹر یا انجینیئر ہے تو اسے حدیث کا علم بھی ہونا چاہیے، نماز پڑھنے کا درست طریقہ معلوم ہونا چاہیے،اگر ہمارا بچہ بزنس مین ہے تو اس کو حلال و حرام کی پہچان بھی ہونی چاہیے۔
صحابہ کرامؓ کی زندگیوں کو دیکھیں تو ہمیں ایک بہترین نمونہ ملتا ہے۔ ان میں سے کچھ ایسے تھے جو مسجدوں میں بیٹھ کر قرآن و حدیث کی تعلیم دیتے، لوگوں کو حلال و حرام کی پہچان سکھاتے اور فتوے جاری کرتے تھے۔ اور انہی صحابہ میں کچھ ایسے بھی تھے جو حکیم اور طبیب تھے، جبکہ بعض سیاست اور قیادت کے میدان میں نمایاں تھے، جنہیں نبی کریم ﷺ نے مختلف علاقوں کا گورنر اور لیڈر مقرر فرمایا تھا۔ اسی طرح بعض صحابہ کامیاب تاجر بھی تھے۔
یاد رکھیں! معاشرہ ایک پہیے پر نہیں چلتا، بلکہ اس کے لیے ہر شعبے کے افراد کی ضرورت ہوتی ہے ، اگر ہمارے معاشرے سے ڈاکٹر، انجینئر اور پروفیسر تیار ہوں، تو ساتھ ساتھ حافظ، عالم اور مفتی بھی تیار ہونے چاہئیں۔ جب دینی اور عصری علوم کا یہ حسین امتزاج ہمارے گھروں میں ملے گا، تبھی ہمارا معاشرہ ترقی کرے گا اور ہماری نسلیں حقیقی معنوں میں کامیاب و کامران ہوں گی ،
معاشرے کی تعمیر میں ایک عالم کا کردار اتنا ہی اہم ہے جتنا ایک ڈاکٹر کا۔ جس دن ہم نے اپنے بچوں کو دین اور دنیا کا یہ حسین سنگم سکھا دیا، سمجھ لیجیے کہ ہم نے ایک بہترین معاشرے کی بنیاد رکھ دی۔ آئیے! آج سے ہی اپنے گھروں میں علم کی شمع روشن کریں، کیونکہ علم ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں ذلت کی تاریکیوں سے نکال کر عزت کے افق پر لے جائے گا۔
آج ہمارے جن بچوں کے ہاتھوں میں کتاب کاپی اور قلم ہونا چاہئے تھا مگر افسوس آج ان کے ہاتھوں میں بڑے بڑے موبائل ہیں۔ آج جن بچوں کو کو کتابیں پڑھنے اور مطالعہ کرنے میں وقت لگانا چاہئے تھا لیکن آج وہ بچے فلمیں دیکھنے، گانے سننے اور گیم کھیلنے میں اپنا وقت لگا رہے ہیں، جن بچوں کو گھر میں رہ کر ماں باپ کی مدد کرنی چاہئے تھی ، اور اچھی تربیت حاصل کرنی چاہئے تھی، لیکن آج وہی بچے چوک پر، چوراہے پر، جوؤ کے اڈوں پر، شراب کے اڈوں کے آس پاس مست نظر آتے ہیں ، ابھی زندگی کی شروعات ہے اور نشہ آور چیزوں کے عادی بن چکے ہیں۔
یہ ماں باپ کہ ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دیں، اچھی تربیت دیں۔ اور اچھا ماحول دیں ، اگر ہمارے بچوں کی بنیاد ٹھیک ہوگی تو اس پر بن نے والی عمارت بھی اچھی ہو گی اگر ہمارے بچوں کی بنیادے خراب ہوگی تو اس پر بن نے والی عمارت بھی خراب ہو گیا، اگر ہمارے بچے شروع سے ہی کھیلنے کودنے اور ناچ گانوں میں لگے رہے، اگر ہمارے بچے چوک پر، چوراہے پر، جوؤ کے اڈوں پر،اور شراب کے اڈوں کے آس پاس مست نظر آتے ہیں ، تو ہمارے بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے ، اس لئے ہمیں اپنے بچوں کیلئے شروع ہی سے تعلیم و تربیت کا انتظام کرنا ہے، اور ان کی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہے۔ تب جاکر ہمارے بچے عزت دار اور ترقی یافتہ بنیگیں
اگر اپنے معاشرے کو ٹھیک کرنا ہے، اپنے گھر کو پرسکون بنانا ہے، اور اپنے بچوں کو عزت دار اور ترقی یافتہ بنانا چاہتے ہو تو اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ معاشرے میں بہترین زندگی گزارے، اور بڑھاپے میں ہمار سہارا بنے تو اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دیجئے ، اچھی تربیت دیجئے ،اور اور اچھی صحبت دیجئے
تین باتیں یاد رکھیے،
یہ تین باتیں ہیں جن کو اپنا کر ہم اپنے معاشرے کو اپنے گھر کو اور اپنی اولاد کو کامیاب بنا سکتے ہیں،
سب سے اہم اور پہلی چیز ہے،اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کوتعلیم سے جوڑنا،
نمبر دو تعلیم کے ساتھ اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرنا،
نمبر تین اپنے گھر کی عورتوں کو پردے میں رکھنا ،
جس معاشرے میں ، یا جس گھر میں ، یہ تین اصول پائیں جائیں گے،، یقین جانئے وہ معاشرہ یا وہ گھر آج نہیں تو کل کر نہیں تو پرسوں، ترقی ضرور کرے گا
وآخر دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ اور عمل ہمیں یہ پیغام دیتا ہے ہم مسلمانوں کو یہ درس دیتا ہے کہ ہمیں بھوکا رہنا پڑے رہ لیں ۔ دنیا کے اسباب راحت کم میسر ہو ٹھیک ہے ۔ ہماری کروٹیں فاقوں سے بے سکون ہوں چلے گا لیکن ہم ہر قیمت پر اپنی اولاد کو علم کے زیور سے آراستہ کریں ان کی تعلیم و تربیت کا بہتر سے بہتر اور اعلی انتظام کریں ۔ اور ہم اپنی اولاد کے ساتھ ساتھ کسی بھی بچے کو تعلیم سے بے بہرہ نہ رہنے دیں ۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری اور فرض منصبی ہے اس سے غفلت اور بے توجھی جرم اور گناہ ہے ۔ افسوس ہوتا ہے کہ قوم کے کتنے نونہال ہیں جن کی آنکھوں سے بلا کی ذھاتیں ٹپکتی ہیں تعلیم و تربیت کا صحیح انتظام نہ ہونے کی وجہ سے،مالی دشواری کی وجہ سے اور ان کی دیکھ ریکھ اور توجہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ بچے ہوٹلوں میں پلیٹیں صاف کر رہے وہ بچپن ہی میں بندھوا مزدور بنے ہوئے ہیں ۔ کیا ہم سمجھتے کہ کیا ہم اپنی غفلتوں کی وجہ سے عند اللہ ماخوذ نہیں ہوں گے یقینا ہوں گے اللہ تعالی ہمارا ضرور محاسبہ اور مواخذہ کریں گے ۔ خدا کرے ہم سب کو اس کا احساس ہو جائے ۔۔۔
غرض قوموں کی تعمیر و ترقی اور عروج و بلندی میں سب سے زیادہ تعلیم ہی کا رول اور کردار ہے ۔ مذھب اسلام جو پوری دنیا پھیلا اور مذھب اسلام کو جو وسعت ہوئ اس میں سب سے زیادہ رول اور کردار تعلیم کا ہے صحابہ کرام علم میں گہرے تھے ان کی معلومات بہت ٹھوس تھی ۔ علم و معرفت کی بھٹی میں انہوں نے اپنے کو تپایا اور پھر جہاں بھی داعی اور مبلغ بن کر گئے پورے ملک میں انقلاب برپا کردیا اور سارے لوگوں کی کایا پلٹ دی۔ آج مسلمانوں کو پھر علم کے ہتہیار سے اپنے کو آراستہ کرنا ہوگا ۔ علم کے میدان میں دیگر قوموں سے سبقت ریس و مسابقہ کرنا ہوگا ۔ اور پوری نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہوگا ۔ اس کے لئے معیاری دینی و عصری ادارے قائم کرنے ہوں گے ۔ مال و دولت کی اور اپنی صلاحیتوں کی قربانی دینی ہوگی ۔ پھر کسی سر سید اور قاسم نانوتوی کو کھڑا ہونا ہوگا۔

0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇