تقدیر کا بیان قرآن و حدیث کی روشنی میں Taqder ka bayan

 صفحہ نمبر  1

تقدیر کا بیان قرآن و حدیث کی روشنی میں 


زمانہ قدیم سے، اہلِ باطل کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب بھی ان پر کوئی مصیبت آتی ہے، تو اس کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹہراتے ہیں۔اور جب کوئی نعمت مسلمانوں کو ہاتھ لگتی ہے۔ تو کہتےہیں کہ ہم بھی اس کے حصہ دار ہیں۔ تو کیا مسلمان یہ سوچ کر چھوڑ دے کہ جو ہمارے مقدر میں لکھا ہوا ہے وہ ملکر رہے گا؟
اس سوال کا جواب دیا جائے گا مگر سب سے پہلے تقدیر کو سمجھتے ہیں.

تقدیر کیا ہے؟

عن علئ قال، قال رسول الله ﷺ  لا یؤمن عبدٌ حتیٰ یؤمن بار بعٍ يشهد الا اله إلا الله وانَّیٰ رسول اللہ بعثنی بالحق، ويؤمن بالموت ،والبعث بعدالموت، ويؤمن با لقدر  (  ترمذی ) 

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انسان مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک ان چار باتوں پر ایمان نہ لاۓ !  (۱) الله ایک ہے ۔ اور الله نے رسول اللہ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا  (۲)   موت پر  (۳) موت کے بعد زندگی پر   (۴) تقدیر پر
اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہیکہ تقدیر ان میں سے ہے جس پر ایمان لانا ضروری ہے۔

انَّ کُلّ شئ خلقنه بقدر  (  قمر  /  آیت  ۴۹

ہم نے ہر چیز کو اندازہ سے پیدا کیا ہے۔
تقدیر کے لغوی معنی ہیں اندازہ کرنا۔ شرعاً اس کا مفہوم، یہ ہیکہ دنیا کے اندر ہر لمحہ، ہر سیکنڈ، اور ہر گھڑی⏰ جو کچھ ہو رہا ہے وہ الله کے چاہنے سے ہو رہا ہے
اللہ تعالی نے دنیا کی پیدائش سے پچاس ٥۰ ہزار سال پہلے ہر مخلوق کے اعمال کو اپنے علم کے مطابق لکھ دیا تھا.کہ یہ کام فلاں کریگا اور یہ کام فلاں کریگا. ان کا آغاز یہ ہوگا اور انجام یہ ہوگا 
جانداروں سے جو کام سرزد ہوتے ہیں اور انکے دلوں میں جو ارادے پیدا ہوتے ہیں وہ بھی خداکے پیدا کردا ہیں


کیا انسان مجبورِمحض ہے۔؟اور وہ کوئی بھی کام اپنے ارادے سے نہیں کرسکتا؟ 

تقدیر کی دوقسمیں ہیں  

(۱)  تقدیرِ مبرم

(۲)  تقدیرِ معلق


پہلی قسم(تقدیرِ مبرم)  یہ الله تعالٰی کی جانب سے، آخری فیصلہ ہو تا ہے، جو لوحِ محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔اسمیں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، انسان کو اسمیں کوئی اختیار نہیں ہے جیسے ہوا کا چلنا، بارش کا برسنا، زلزلہ، طوفان، زندگی، موت، نیک ہونا، اور بدبخت ہونا وغیرہ
دوسری قسم (تقدیرِ معلق )اسکوانسان کے اعمال پر معلق رکھا گیا ہے جنہیں انسان اپنے ہاتھ پیر اور دیگر اعضاءکے ذریعے کرتا ہے اور دل میں ان کے کرنے یانا کرنے کا میلان پیدا ہوتا ہے، ان افعال میں انسان کو کرنے یا نہ کرنے، کا اختیار ہوتا ہے
خلاصہ کلام یہ ہیکہ نیک اعمال اور دعا کے ذریعے اس میں تبدیلی ہوجاتی ہے۔ جیساکہ قرآن کریم کی اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے

یمحُواللہ ماَ یشاءُ ویُثبت وعندہ اُمّ الکتاب  ( رعد، آيت ٣٩

الله تعالٰی جس (لکھے ہوئے) کو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور جس (لکھے ہوئے) کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے، اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے(لوحِ محفوظ )
اور میں حدیث میں ہے۔

لاَیُرَد٘القضَاءَ الاَال٘دُ٘عاءَ   دعا ہی تقدیر کو بدل سکتی ہے   (ترمذی،  ، کتاب القدر  ، رقم  ، ۲۱۳۹

نوٹ

یہ پورا مضمون نہیں ہے اس پر ابھی کام چل رہا ہے۔ جلدی ہی ہم اگلا صفحہ آپ کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کریں گے

Post a Comment

0 Comments