صفحہ 2
والله خلقکُمْ وما تَعْلَمُونَ
اور اللہ نے تم کو ،اور تمہارے اعمال، کو پیدا کیا ہے ۔
اس آیت سے بعض لوگ استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسان مجبورِمحض ہے یعنی انسان اپنے ارادہ سے کچھ نہیں کرسکتا ، وہ جو بھی کرتا ہے من جانب اللہ کرتا ہے۔
لیکن انسان تمام افعال میں مجبورِمحض نہیں ہے۔۔جیسے موت، حیات، پیدائش، نیک ہونا، بدبخت ہونا، آندھی، طوفان، زلزلہ، اور سیلاب وغیرہ، ۔ ان تمام افعال کے اندر انسان کو کوئی اختیار نہیں ہے، اور وہ مجبورِمحض ہے۔
اور وہ افعال جس کو انسان کے اعضاء کرتے ہیں ، جیسے نماز، روزہ، زکوۃ، حج، چوری، ڈکیتی🔫 شراب، پینا، جوا کھیلنا،♣♥♠اورچغلی کرنا وغیرہ ، یہ ایسے افعال ہیں جسمیں انسان کو کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اور انسان ان افعال میں مجبورِمحض نہیں ہے۔
کنتم خیر امت اخرجت لناس تأ مرون بالمعروف، وتنھون عن المنکر، وتؤمنون بالله
الله نے،نیکیوں کا حکم دیا ہے اور برائی سے روکا ہے۔
انسان کے چلنے اور پتھر کے سرکنے میں فرق ہے۔ انسان چلتے چلتے رک سکتا ہے۔ لیکن پتھر نہیں
اگر انسان مجبورِمحض ہوتا ! تو الله تعالٰی انبیاء علیہم السلام کو نہیں بھیجتے، اور اسی طرح چوری کرنے والے کی، شراب پینے والے کی، زنا کرنے والے کی اور بہت سارے گناہ ہیں ، ان کی سزامتعین نہیں ہوتی، کیونکہ وہ کسی بھی افعال کے کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ حالانکہ ان سب کی سزا متعین ہے
الله تعالٰی نے بکری🐐🐑 کو حلال کیا ہے، اور سور کو حرام کیا ہے، اب اگر سور کھا لے تو الله پر کیا الزام ہے۔ جس طرح کھانے کا اختیار حاصل ہے، اسی طرح بچ نے کا بھی اختیار حاصل ہے
عن ابنِ عباسٍ (رض) قال سمیتُ رسول اللہ ﷺصِنفَانِ مِنْ اُمّتی لیسَ لَہُمافی الاسلامِ نَصیبُٗ اَلْمُرجِیَّتُ وَالقَدرِیة ُ
حضرت ابنِ عباس (رض )روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ میری امت میں دوقسم کے لوگوں کو اسلام میں کچھ نصیب نہیں ہوگا۔ مرجیہ ، اور قدریہ
اس حدیث سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان مجبورِمحض نہیں ہے
اس حدیث سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان مجبورِمحض نہیں ہے
مرجیہ
ان کا عقیدہ یہ ہیکہ سب کچھ اللہ، ہی کرتا ہے۔ گناہ ہو یا نیکی اور انسان پتھر کی طرح مجبور ہے۔
قدریہ
ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی انسان کرتا ہے وہ خود ہی کرتا الله کا کوئی دخل نہیں ہے،
پچھلے صفحہ پر یہ سوال کیا گیا تھا کہ۔ اہل باطل کا ہمیشہ سے یہ طریقہ رہا ہے کہ، جب بھی ان پر کوئی آفت آتی ہے تو اس کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹہراتے ہیں اور جب کوئی نعمت ہاتھ لگتی ہے تو کہتے، ہیں ہم بھی حصہ دار ہیں۔ تو کیا مسلمان یہ سمجھ کر چھوڑ دے کہ جو ہماری تقدیر میں ہے وہ ملکر رہے گا، اس کا جواب ہے، نہیں۔ بلکہ ہمیں وسعت کے مطابق کوشش کرنی چاہئے کیونکہ تقدیر میں کیا ہے ہم نہیں جانتے۔اور الله تعالٰی کا ارشاد ہے۔وَلاَ تنسَ نَصِيبكَ مِن الدنياَ ۔ اور دنیا سے اپنا حصہ مت بھولو
اس آیت سے بھی یہ بات معلوم ہوئی کہ صرف تقدیر پر ہی بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے بلکہ کوشش کرنی چاہئے

0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇