- ________________________________________
حیات امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ صفحہ ۲
مذہبِ اسلام ایک آفاقی اور قیامت تک باقی رہنے والا دین ہے۔ اور الله تعالٰی نے تمام انسانوں کیلئے اس دین کو پسند فرمایا ہے۔ اِنَّ الدِّيْنَ عنداللہ الاسلام (آل عمران ۱۹ ) بیشک الله تعالٰی کے نزدیک دین، اسلام ہی ہے۔
چونکہ دنیا دارالاسباب ہے اس لیئے الله تعالٰی نے اس دین کی حفاظت کیلئے بھی اسباب پیدا فرمائے ہیں۔ اگر اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے، آئے گی کہ الله تعالٰی ہر دور میں اپنے دین کی حفاظت کیلئے، رجال الله اور علماء ربانیین کو پیدا فرماتے رہے ہیں۔ جنہوں نے دین کی حفاظت اور علم دین کی اشاعت میں عظیم قربانیاں پیش کی ہیں۔ انہیں میں سے ایک نام امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ہے۔
الله تعالٰی نے امام صاحب کو دینِ اسلام کی حفاظت، اور اشاعت دین کیلئے منتخب فرمالیا تھا۔ الله تعالٰی نے امام صاحب کی خدمات کو ایسا قبولِ عام فرمایا کہ، دورِ عباسی سے لیکرآج تک فقہ حنفی ، سکہ رائج الوقت کی طرح پورے عالم اسلام پر چھایا ہوا ہے،خصوصاََ کثیر مسلم والے ممالک میں جیسے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، ترکی، وغیرہ میں
امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اسلام کا وہ چمکتا ہوا ستارہ ہیں جس کی روشنی قیا مت تک باقی رہے گی، اور قیامت تک آنے والے انسان اس سے فائدہ حاصل کرتے رہیں گے، انہوں نے تدوینِ فقہِ
اسلامی کی صورت میں قانونِاسالامی کا وہ عظیم تحفہ امت کو دیا ہے، جسکی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی
علمِ حدیث میں آپ کی فنکارانہ مہارت کا حال یہ ہےکہ آپ محدثین کے سر خیل، شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے علمِ حدیث میں مختصر ہی سہی، لیکن وہ عظیم کار نامہ انجام دیا ہے، کہ آج بھی محدثین آپ کے نقش قدم پر چلتے ہیں
یقیناً آپ امام اعظم کے مستحق تھے اور امت نےآپ کو اس اعزاز سے نوازا، اور یہ لقب آپ کے نام کا اسطرح جز بن گیا جب بھی امام اعظم بولا جاتا ہے۔ تو علم و تحقیق کی دریا کا پیاسا آپ کو ہی مراد لیتا ہے۔
یہ کتاب امام اعظم رحمہ الله کی روشن زندگی اور اپ کی عظیم خدمات پر ایک سرسری جائزہ ہے۔ اس مضمون کے تین ابواب ہیں (۱) پہلا باب حیات و افکار پر مشتمل ہے، (۲) دوسرا باب علمی خدمات پر محیط ہے۔ (۳) تیسرا باب امام ابو حنیفہ اہلِ علم کی نظر میں
اس مضمون کی اشاعت و تبلیغ میں جن لوگوں نے ہماری مدد اور حوصلہ افزائی کی ہے۔ میں ان تمام حضرات کا شکر کزار ہوں اور دعا کرتا ہوں اللہ، ان کو بہتر بدلہ دے
۔بالخصوص جن حضرات کا شکریہ ادا کرنا اخلاقی فریضہ تصور کرتا ہوں و، وہ ہمارے والدین ہیں، جن کی تمناؤں اور آرزئوں سے اس قابل ہواہوں
امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اسلام کا وہ چمکتا ہوا ستارہ ہیں جس کی روشنی قیا مت تک باقی رہے گی، اور قیامت تک آنے والے انسان اس سے فائدہ حاصل کرتے رہیں گے، انہوں نے تدوینِ فقہِ
علمِ حدیث میں آپ کی فنکارانہ مہارت کا حال یہ ہےکہ آپ محدثین کے سر خیل، شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے علمِ حدیث میں مختصر ہی سہی، لیکن وہ عظیم کار نامہ انجام دیا ہے، کہ آج بھی محدثین آپ کے نقش قدم پر چلتے ہیں
یقیناً آپ امام اعظم کے مستحق تھے اور امت نےآپ کو اس اعزاز سے نوازا، اور یہ لقب آپ کے نام کا اسطرح جز بن گیا جب بھی امام اعظم بولا جاتا ہے۔ تو علم و تحقیق کی دریا کا پیاسا آپ کو ہی مراد لیتا ہے۔
یہ کتاب امام اعظم رحمہ الله کی روشن زندگی اور اپ کی عظیم خدمات پر ایک سرسری جائزہ ہے۔ اس مضمون کے تین ابواب ہیں (۱) پہلا باب حیات و افکار پر مشتمل ہے، (۲) دوسرا باب علمی خدمات پر محیط ہے۔ (۳) تیسرا باب امام ابو حنیفہ اہلِ علم کی نظر میں
اس مضمون کی اشاعت و تبلیغ میں جن لوگوں نے ہماری مدد اور حوصلہ افزائی کی ہے۔ میں ان تمام حضرات کا شکر کزار ہوں اور دعا کرتا ہوں اللہ، ان کو بہتر بدلہ دے
۔بالخصوص جن حضرات کا شکریہ ادا کرنا اخلاقی فریضہ تصور کرتا ہوں و، وہ ہمارے والدین ہیں، جن کی تمناؤں اور آرزئوں سے اس قابل ہواہوں

0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇