حیات امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ صفحہ ۶
_________________________________________________
واقعات
تین طلاق کا پیچیدہ مسئلہ
ایک مرتبہ امام صاحب کی مجلس میں ایک شخص آیا اور کہا ایک آدمی نے تین قسم کھائیں ہیں اور نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی ہے ۔ آپ ہی اس کا حل نکال سکتے ہیں۔ امام صاحب نے قسم کے بارے میں معلوم کیا۔ تو صاحب واقعہ نے کہااس نے تین قسم کھائی ہیں ۱ اگر میں کوئی نماز قضا کروں تو میری بیوی کو تین طلاق ۲ میں آج بیوئی سے وطی نہ کروں تو تین طلاق ۳ اگر میں غسل جنابت 🚿🚿🚿 کروں تو تین طلاق
علماء اس مسئلہ سے عاجز آچکے تھے۔ مگر امام صاحب نے اس مسئلہ کو فوراً حل کردیا۔
امام صاحب نے فرمایاکہ، صاحبِ قسم عصر کی نماز پڑھے، پھر وطی کرلے، اور سورج، غروب ہونے کے بعد غسل کرلے۔ اس طرح طلاق بھی واقع نہیں ہوگی، اور حانث بھی نہیں ہوگا
مسئلہ یہ ہیکہ شریعت میں سورج کے غروب ہونے کے بعد تاریخ بدل جاتی ہے تو اس اعتبار سے سورج غروب ہونے، کے بعد دن بدل جاتا ہے
تو اس نے جو غغسل کیا ہے،دوسرے دن میں کیا ہے اس وجہ سے طلاق واقع بھی نہیں ہوئی اور حانث بھی نہیں ہوا
حسن تدبیر کی بہترین مثال
ابو بکر محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ہیکہ لو لوئی کے قبیلہ کے کچھ لوگ کوفہ آۓ ان میں سے ایک کی بیوئی بہت خوبصورت تھی۔ ایک کوفی شخص اس سے چمٹ گیا اور دعویٰ کردیا کہ یہ میری بیوئی ہے، اور عورت نے بھی کہدیا کہ میں اس کی بیوئی ہوں۔ دوسری طرف لو لوئی کہتا ہیکہ یہ میری بیوی ہے۔ لیکن، گواہ کسی کے پاس نہیں ہے۔
امام صاحب کے سامنے مسئلہ پیش ہوا۔ امام صاحب نے کچھ عورتوں کو لو لوئی کے خیمہ میں بھیجا، جب وہ عورتیں قریب گئیں تو کتے نے حملہ کردیا ۔ پھر امام صاحب نے اسی عورت کو لو لوئی کے خیمہ میں بھیجا تو کتا اس کے چاروں طرف دم ہلانے لگا ۔ امام صاحب نے فرمایا کہ حق ظاہر ہوگیا۔ اور عورت نے بھی اعتراف کر لیا
اس طرح امام صاحب نے مشکل مسئلہ کو آسانی سے حل کردیا
ذہانت کی حیرت انگیز مثال
امام صاحب ایک جگہ تشریف فرما تھے ، کہ ایک آدمی کا آپ کے سامنے سے گزر ہوا توامام صاحب نے فرمایا کہ میرا خیال یہ ہیکہ یہ مسافر ہے۔ وہ شخص تھوڑی دور چلا تو امام صاحب نے فرمایا کہ اس کے آستین میں کوئی میٹھی چیز ہے۔ وہ تھوڑی دور اور چلا تو امام صاحب نے فرمایا کہ وہ بچوں، کو تعلیم دیتا ہے۔ امام صاحب کے کچھ شاگرد ان کے پیچھے گئے، تو معلوم چلا کہ واقعی میں ایسا ہے۔
شاگردوں نے امام صاحب سے معلوم کیا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوگیا تھا۔ تو امام صاحب نے فرمایا وہ شخص دائیں بائیں دیکھ رہا تھا ، جس طرح مسافر دیکھتا ہے۔ مکھیاں اس کے آستین میں آ رہیں تھی، تو میں نے سمجھا کہ کوئی میٹھی چیز ہے اس کے آستین میں۔ اور وہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو دیکھ رہا تھا، تو میں نے سمجھا کہ وہ معلم ہے۔
مستفاد
حیات امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ
![]() |

1 Comments
کیا بات ہے
ReplyDeleteآپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇