حیات امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ صفحہ ۵
_______________________________________________
واقعات
امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو الله تعالٰی نے بے پناہ فراست و ذکاوت سے نوازا تھا۔ امام صاحب مشکل سے، مشکل مسئلہ کو اتنی آسانی سے حل فرمادیتے تھے۔ کہ بڑے بڑے عالم بھی حیران رہ جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے جبال العلماء، فقہ اور حدیث کے آفتاب و مہتاب نے، آپ کی ذہانت، حاضر جوابی اورفراست و ، ذکاوت کا اعتراف کیا ہے۔ اور نہ صرف آپ کے معتقدین، بلکہ متعصبین نے بھی اس حقیقت کا اظہار کیا ہے
عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ میں نے فہم و فراست میں امام ابو حنیفہ ؒ سےبڑھ کر کسی کو نہیں پایا گیا
ہارون رشید نے جب امام صاحب کے، بارے میں سنا تھا تو فرما یا کہ ابوحنیفہ اپنے دل کی آنکھوں سے وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جو ہم اپنے سر کے آنکھوں سے نہیں دیکھ پاتے
تاریخ کی کتابوں میں امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کی ذہانت و ذکاوت اور فہم و فراست کے حیران کن واقعات مذکور ہیں اور ان واقعات میں امام صاحب کے علم کا سمندر نظر آتا ہے۔
امام صاحب کا حکیمانہ فیصلہ
کوفہ کے ایک شخص نے اپنے دوبیٹیوں کی ایک ساتھ بڑے دھوم دھام سے شادی کی اور دعوت میں تمام اکابر موجود تھے اور اماماعظم بھی شریک دعوت تھےلوگ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔اچانک ایک صاحب گھر سے نکلے اور کہا غضب ہوگیا شبِ زفاف کی رات عورتوں کی غلطی سے بیویاں بدل گئ جس عورت نے جس کے ساتھ رات گزاری وہ اس کا شوہر نہیں تھا
سفیان ثوری ؒ نے کہا ، امیر معاویہ ؓ کے زمانہ ایسا واقعہ پیش آیا تھا اس سے نکاح پر کچھ فرق نہیں پڑتا البتہ دونوں کو مہر لازم ہوگا ۔ مسعر بن کدام امام صاحب کی طرف متوجہ ہوۓ اور فرمایا آپ کی کیا رائے ہے۔ امام صاحب نے دونوں کو بلا کر معلوم کیا کہ ، تم نے جس عورت کے ساتھ رات گزاری ہے اگر وہی تمہارے نکاح میں رہے تو ۔تمہیں پسند ہےن؟ دونوں نے کہا ہمیں پسند ہے، پھر امام صاحب نے فرمایا جس سے تمہارا نکاح ہوا تھا اس کو طلاق دیدو ۔ اور جس کے ساتھ رات گزاری ہے، اس سے نکاح کر لو
حضرت سفیان ثوری ؒ نے جو جواب دیا تھا مسئلہ کی لحاظ سے وہ بھی ٹھیک تھا کہ وطی با لشبہ کی وجہ سے نکاح، نہیں ٹوٹ تا، مگر عددت گزارنی پڑتی ہے
اب عددت کے درمیان دونوں مرد کو یہ خیال ہوتا کہ میری بیوی دوسرے کے پاس رات گزار چکی ہے، اور الفت و محبت کم ہوجاتی۔ اسی وجہ سے امام صاحب نے ایسا فیصلہ کیا تھا
ایک عجیب و غریب تدبیر
لیث بن سعد فرماتے ہیں کہ میں امام صاحب کو دیکھنے کیلۓ گیا میں نے اچانک دیکھاکہ لوگ ایک شخص کے پاس بھیڑ لگاۓ ہوۓہیں. ایک آدمی نے امام صاحب سے کہا میں ایک مالدار آدمی ہوں , اور میرا ایک لڑکا ہے میں اس کی شادی کرتا ہوں اور بہت سارا مال خرچ کرتاہوں اور وہ اپنی بیوی کو طلاق دیدیتا ہے اور اس طرح میرا مال برباد ہوجاتا ہے اس کی کوئ تدبیر ہے۔ امام صاحب نے فرمایا اس کو غلاموں کے بازار میں لےجاؤ جب وہ کسی باندی کو پسند کرلے تو اس کو خرید لو اور اپنے بیٹے کی اس سے شادی کرادو . اگر وہ طلاق دیتا ہے تو باندی تمہارے ملک میں ہی رہے گی .اور اگروہ آزاد کرتا ہے تو وہ آزاد نہی ہوگی اس طرح تمہارا مال برباد ہونے سے بچ جاۓگا
مستفاد
حیات امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ

0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇