دارالعلوم دیوبند کو عالمی قیادت کا مرتبہ کیسے ملا؟

دارالعلوم دیوبند کو عالمی قیادت کا مرتبہ کیسے ملا   ؟ 

     آج کی ہماری اس دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں، اسلامی ادارے ہیں۔ جہاں تقریباً پچاس ہزار کی تعداد میں، طلبہ علم دین حاصل کرتے ہیں، اور وہاں کےاساتذہ اتنے صلاحیت مند ہیں کہ ان کی نظیری نہیں ملتی۔ انہیں اسلامی اداروں میں سے ایک دارالعلوم دیوبند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دارالعلوم کو جو مقبولیت عطا کی ہے وہ دوسرے اداروں کو نہیں۔ اور دنیا نے جو شہرت اس ادارے کو دی ہے، وہ کسی اور ادارے کو نہیں دی۔

                             تشبیہات

      دارالعلوم دیوبند کی مثال دریا کے اس پانی کی ہے جو آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے، اور کناروں کو کاٹ کر اپنا دہانہ وسیع کرتا رہتا ہے۔ ہمالیہ کی برفانی چوٹیاں آہستہ آہستہ پگھلتی ہیں لیکن گنگا اور جمنا کو خشک ہونے نہیں دیتی۔ اور آسمان کا پانی ایک دو گھنٹے میں بڑی بڑی بنجر زمینوں کو لہلہا دیتا ہے، اور ان کو سیلاب کی شکل دے دیتا ہے۔لیکن چند دن میں ہی ہر طرف خاک اڑنے لگتی ہے۔ 

     شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم ارشاد  فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی میرے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کے درجات کو بلند فرمائے ، میں ان کے الفاظ نقل کرتا ہوں ، وہ فرمایا کرتے تھے :

     دارالعلوم دیوبند کو عالمی قیادت کا مرتبہ دینے والی صرف ایک چیز ہے۔

     اور وہ چیز دین کی صحیح تعبیر ، دین کی صحیح تصویر ، دین کے اوپر اعتدال، اوراس پر عمل ہے۔جو اللہ تبارک وتعالٰی نے اس خاک کے بوریہ نشینوں کو عطا فرمایاہے، یہی وہ چیز تھی جس نے دارالعلوم دیوبند کو عالمی قیادت کا مرتبہ عطا کیاہے

     یہ چیزیں بڑے سے بڑے علماء محققین میں نظر نہیں آتی ، میرے والد ماجد فرمایا کرتے تھے کہ میں نے عرب ممالک میں بڑے بڑے محقق علماء بھی دیکھے ، تحقیق و تدقیق کے شناور بھی دیکھے ، فصاحت و بلاغت کے شہسوار بھی دیکھے ، لیکن وہ البیلا رنگ جو میں نے اپنے دیوبند کے اکابر کے اندر پایا ساری دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آیا ، اور فرماتے تھے کہ ، دین و سنت کی تعبیر انہوں نے صرف اپنے قول ہی سے نہیں پیش کی، بلکہ اپنے فعل سے،طرز عمل سے، اوراپنی زندگی کی اداؤں سے جو دنیا کے سامنے نظیر پیش کی ہے، وہ نظیر دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتی ، اللہ تبارک وتعالٰی نے " ماأنا علیہ وأصحابی " کی مجسم تفسیر میرے ان اکابر کو بنایا تھا ، اور کبھی کبھی یہ بھی فرماتے تھے :

اُوْلٰئِکَ آبَائِیْ فَجِئْنٰی بِمِثْلِھِم

اِذَا جَمَعْتَنَا یَا جَرِیْرُ الْمُجَامِعُ

( خطبات دورۂ ہند ، شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ص : ۹۰ ) 

                                       

Darul uloom dewband

          

Post a Comment

2 Comments

  1. دارالعلوم نے ہمیشہ انسانو کو صحیح راہ دکھائ ہے

    ReplyDelete

آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇