گرتی سیاست

     ہندوستان میں مسلمانوں کی گرتی سیاست ، 

   ہندوستان تیزی سے ترقی کے راستے پر گامزن ہے، اور مسلمان ڈوبتے ہوئے سورج کی طرح تنزلی کی طرف جا رہا ہے، 

ہندوستان میں مسلمان، ملک کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہے، اور آبادی کے اعتبار سے انڈیا میں مسلمانوں کی تعداد دنیا میں تیسرے نمبرپرہے۔ جمہوری ہندوستان میں آئین کی رو سے انہیں مساوی حقوق اور مواقع حاصل ہیں، لیکن ہندوستان کی ریاست، حکومت، اور ملک کے مسلمانوں کے درمیان آزاد ہندوستان میں جو اعتماد کا رشتہ قائم ہونا چاہیئے تھا وہ قائم نہیں ہو سکا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک سرکردہ رکن اور ترجمان سید محمد قاسم رسول الیاس کہتے ہیں کہ بے اعتمادی کا یہ عالم تو آزادی کے بعد سے ہی قائم ہے۔مسلمانوں کو حکومتوں سے جو جائز توقعات ہوتی تھیں وہ کبھی پوری نہیں ہوئیں جس کے نتیجے میں بے اعتمادی بڑھی ہے ۔ ملک کی تمام سیکیولر جماعتوں نے مسلمانوں کو مایوس کیا ہے۔ مسلمان یہ محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں اب سیاسی طاقت حاصل اصل کرنی چاہیئے۔ ہندوستان تیزی سے ترقی کے راستے پر گامزن ہے، اور مسلمان ڈوبتے ہوئے سورج کی طرح تنزلی کی طرف جا رہا ہے، وہ سیاست کا میدان ہو یا تعلیم کا، روزگار کا ہو یا بے روزگاری کا ،مسلمان ہر میدان میں تنزلی کی طرف جا رہا ہے،

ہم جہار کھنڈ کے سیاست کی بات کر تے ہیں ، ابھی ودھان سبھا کا چناؤ ہوا تھا،جس میں صرف چار مسلم امیدوار جیت کر آئے ہیں، 2 کانگرس سے اور 2 جے ایم ایم سے، جارکھنڈ میں 15 پرسنٹ مسلمان ہیں،اور 81 ودھان سبا کی سیٹیں ہیں ،تو اس اعتبار سے مسلم امیدوار 12 ہونے چاہئے ، لیکن صرف 4 ہیں، اس میں کچھ کمی دوسری پارٹیوں کی ہے جو مسلمانوں کو سیاست میں آنے نہیں دیتی ہے، اور سب سے بڑی کمی خود مسلمانوں کی ہے کہ مسلمان خود اپنا سیاسی لیڈر انتخاب نہیں کرنا چاہتے ہیں،اور وہ دوسروں پر بھروسہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں،ایسے مسلمانوں کو اس حقیقت سے منہ نہیں موڑنا چاہئے کہ مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور مسلمانوں سے بڑے بڑے وعدے کیئے جاتے ہیں،مگر وقت آنے پر سب بھلا دیا جاتا ہے، 

دوسروں کے سامنے رونے، گڑگڑانے، اور بھیک مانگنے سے کچھ بھی نہیں ملنے والا ہے،لہذا اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کیجئے،اور اپنی سیاست کو مضبوط کیجئے یہی ایک طریقہ ہے ترقی کرنے کا، 

       




Post a Comment

0 Comments