نئے سال کی آمد پر ہمارا طرزِ عمل
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ گھٹ رہی ہے، ہم موت کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں، مگر اس کے باوجود ہم غفلت میں خوشیاں منانے میں مصروف ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک سال کا اضافہ ہو گیا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے؛ جو عمر ہمیں ملی تھی، اس میں سے ایک سال کم ہو چکا ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہم سالگرہ بھی غیروں کے طریقے پر مناتے ہیں، کیک کاٹے جاتے ہیں، برتھ ڈے منائے جاتے ہیں اور نہ جانے کون کون سی خرافات انجام دی جاتی ہیں۔ یہی حال نئے سال کی آمد پر بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔
نئے سال کے جشن کی حقیقت
پہلی جنوری سے کئی دن پہلے ہی مبارکبادی پیغامات، کارڈز اور زبانی طور پر “ہیپی نیو ایئر” کے نعرے عام ہو جاتے ہیں۔ 31 دسمبر کی رات پورا ملک رنگ برنگی لائٹوں اور قمقموں سے سجا دیا جاتا ہے۔ بارہ بجنے کا بے چینی سے انتظار کیا جاتا ہے، اور جونہی گھڑی بارہ بجاتی ہے، مبارکبادوں کا شور، آتش بازی، کیک کاٹنے اور جشن کا آغاز ہو جاتا ہے۔
نائٹ کلبوں اور تفریحی مراکز میں خصوصی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، جہاں صرف جوڑوں کو داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا کلچر فروغ پا رہا ہے۔ مہینوں پہلے سے بکنگ کرائی جاتی ہے، اور وہاں شراب، شباب اور رقص و سرود کا بھرپور انتظام ہوتا ہے؛ کیوں کہ ان کے نزدیک تفریح صرف دو چیزوں سے وابستہ ہے: شراب اور عورت۔
نوجوان نسل کے لیے خطرناک نتائج
ایسے پروگراموں میں شرکت کی وجہ سے نوجوان لڑکیاں دین سے دور ہوتی چلی جاتی ہیں اور درندہ صفت لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ نام نہاد محبت کے دام میں گرفتار ہو کر ایمان تک سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بعض فرقہ پرست تنظیمیں اس سلسلے میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کام کر رہی ہیں، اور نئے سال کے یہ پروگرام ان کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتے ہیں۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج بہت سے مسلمان بھی غیر مسلموں کی طرح نئے سال کے منتظر رہتے ہیں۔ دسمبر کے مہینے کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا ہے، اور اپنی اسلامی اقدار و روایات کو کمتر سمجھ کر مغربی تہذیب کی نقالی شروع کر دی جاتی ہے۔
یکم جنوری کی پکنک اور اس کے مفاسد
پہلی جنوری کو لوگ گاؤں اور شہروں سے نکل کر پارکوں، جنگلوں اور سیاحتی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ مشترکہ دعوتوں کا اہتمام ہوتا ہے، جن میں کھانے پینے کے ساتھ شراب نوشی، آتش بازی اور رقص و سرود کی محفلیں قائم کی جاتی ہیں۔ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں مردوں کے ساتھ نوجوان لڑکیاں بھی شریک ہوتی ہیں۔ ایسی پکنک دراصل موج مستی کا دوسرا نام ہے، جن میں پائے جانے والے اکثر امور اسلامی تعلیمات کے صریح خلاف ہیں۔
آتش بازی: ایک ہولناک منظر
نئے سال کی آمد پر آتش بازی کا منظر نہایت خوفناک ہوتا ہے۔ گھروں، گلیوں، چوراہوں اور عام گذرگاہوں پر اس قدر آتش بازی کی جاتی ہے کہ جگہ جگہ حادثات رونما ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو بھی اس میں شریک دیکھ کر دل دکھتا ہے کہ دینِ محمدی ﷺ کے نام لیوا کفار کی نقالی میں شانہ بشانہ نظر آ رہے ہیں۔
نئے سال کی آمد: محاسبے کا موقع
ماضی کا احتساب
حقیقت یہ ہے کہ نیا سال ہمیں خوشی نہیں بلکہ محاسبے کی دعوت دیتا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہماری زندگی کا ایک سال کم ہو گیا، اس عرصے میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟
عبادات، معاملات، اخلاق، حلال و حرام، حقوق اللہ اور حقوق العباد—ہر میدان میں ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہاں کہاں ہم سے کوتاہی ہوئی۔ انسان دوسروں کی نظروں سے اپنی غلطیوں کو چھپا سکتا ہے، مگر اپنے ضمیر سے نہیں بچ سکتا۔
حقیقی انسان کی کیفیت
ایک سنجیدہ اور باشعور انسان کے لیے ہر نیا سال خوشی کے بجائے بے چینی کا پیغام لاتا ہے؛ کیوں کہ اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی عمر برف کی طرح پگھل رہی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ خوشی کس بات کی؟ اس کے پاس وقت کم اور کام بہت زیادہ ہے۔ زندگی کا سورج غروب ہونے سے پہلے کچھ کر لینے کی تمنا اسے بے قرار کر دیتی ہے۔
نتیجہ
ہمارے لیے نیا سال وقتی لذت یا ظاہری خوشی کا موقع نہیں، بلکہ گزرتے ہوئے وقت کی قدر کرنے، آنے والے لمحات کو درست سمت میں استعمال کرنے، اپنے عزم و ارادے کو تازہ کرنے اور اصلاحِ حال کا موقع ہے۔
دعا
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں غیروں کی مشابہت سے محفوظ رکھے، اور آقائے نامدار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سنتِ مبارکہ کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
تیسرا مضمون ، ہماری زندگی کی مثال دھوپ میں رکھی ہوئی اس برف کی طرح ہے جو ہر لمحہ پگھل رہی ہے۔ سال کا بدلنا خوشی نہیں، بلکہ اس برف کے ایک بڑے حصے کا ختم ہو جانا ہے۔ اب یہ آپ پر ہے کہ اس پگھلتی برف سے دوسروں کے لیے نفع بخش شربت بناتے ہیں یا اسے یونہی خاک میں ملنے دیتے ہیں۔ حاصلِ کلام: وقت کو ضائع نہ کریں، اس سے پہلے کہ برف ختم ہو جائے۔
نئے سال کی رات ہونے والی فحاشی، موسیقی اور بے حیائی کی محفلیں ایسی ہی ہیں جیسے کسی سنہرے اور خوبصورت پیالے میں زہر بھر کر پیش کر دیا جائے۔ باہر سے پیالہ کتنا ہی دلکش کیوں نہ ہو، اس کے اندر موجود "گناہ" ہماری روح کے لیے قاتل ہے۔ حاصلِ کلام: ظاہری چمک دمک سے دھوکا نہ کھائیں، اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔
گناہوں کی محفلوں کی طرف بھاگنے والے ان پتنگوں کی طرح ہیں جو شمع کی عارضی روشنی دیکھ کر اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ انہیں نہیں معلوم کہ جس روشنی کو وہ "لذت" سمجھ رہے ہیں، وہی ان کے پروں کو جلا کر انہیں راکھ کر دے گی۔ حاصلِ کلام: دنیا کی عارضی لذت، آخرت کے دائمی نقصان کا سودا ہے۔
غیروں کے نقشِ قدم پر چل کر نئے سال کا جشن منانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنا وجود چھوڑ کر کسی دوسرے کے سائے کے پیچھے بھاگنا شروع کر دے۔ سایہ کبھی حقیقت نہیں بن سکتا۔ ہم مسلمان "اصل" ہیں، ہمارے پاس اسلام کا سورج ہے، ہمیں کسی کے سائے کی ضرورت نہیں۔ حاصلِ کلام: اپنی اسلامی شناخت (Identity) پر فخر کریں، دوسروں کی نقل نہ کریں۔
آج کے دور میں بے حیائی کا طوفان ہر طرف سے اٹھ رہا ہے۔ اس طوفان میں اسلام کی مثال اس مضبوط لنگر (Anchor) کی طرح ہے جو زندگی کی کشتی کو ڈوبنے سے بچا لیتا ہے۔ اگر آپ دین سے جڑے ہیں، تو کوئی لہر آپ کا اخلاق نہیں بگاڑ سکتی۔ حاصلِ کلام: طوفانوں سے بچنا ہے تو اپنی کشتی کا لنگر "اسلام" کو
بنا لیں۔
چوتھا مضمون
کیا کبھی تاریخ کے اوراق میں یہ ملتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے سال کی آمد پر چراغاں کیا ہو، کیک کاٹا ہو، یا امت کو مبارک باد دینے کی ترغیب دی ہو؟ کیا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، جن کے دل تقویٰ سے لبریز اور جن کی زندگیاں سنت کی عملی تفسیر تھیں، ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارک باد دیتے تھے؟ کیا تابعین و تبع تابعین، جن کے سجدوں سے زمین لرزتی تھی اور جن کی راتیں آنسوؤں سے تر رہتی تھیں، کبھی *31 دسمبر* کی رات بارہ بجنے کا انتظار کرتے تھے؟ اور کیا ان عظیم مسلمان حکمرانوں نے، جن کے عہد میں اسلام ایران، عراق، مصر، شام اور مشرقِ وسطیٰ کے وسیع علاقوں میں پھیلا، کبھی نئے سال کے نام پر جشن و سرور کی محفلیں سجائیں؟ ان تمام سوالات کا جواب ہر صاحبِ عقل اور صاحبِ دل انسان نفی میں دے گا، پھر یہ کیسا المیہ ہے کہ آج کا مسلمان وہ کام کر رہا ہے جس کا اسلام کی روشن تاریخ میں کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ رسم کہاں سے آئی، کس نے ایجاد کی، کون سی قوم اسے مناتی ہے اور کیوں مناتی ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نازک موڑ پر ایک باشعور مسلمان کو کون سا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہب کے تہوار کسی نہ کسی عقیدے، واقعے یا نظریے سے جڑے ہوتے ہیں، اور ان کا مقصد بظاہر خوشی، مسرت یا کسی یاد کو تازہ کرنا ہوتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ خواہشاتِ نفس، دنیا پرستی اور اخلاقی انحطاط نے ان خوشیوں میں ایسی بدعات، خرافات اور بے حیائیاں شامل کر دیں کہ اصل مقصد ہی کہیں گم ہو کر رہ گیا، انہی مصنوعی اور خود ساختہ تہواروں میں سے ایک نئے سال کا جشن ہے، جو درحقیقت عیسائی تہذیب اور ان کے مذہبی پس منظر سے جڑا ہوا ہے، جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے خود ساختہ تصور کو بنیاد بنا کر *25 دسمبر* کو *کرسمس* منایا جاتا ہے اور اسی جشن کی حرارت *31 دسمبر* کی رات تک برقرار رہتی ہے، جب پورے شہر کو رنگین قمقموں سے سجا کر، آتش بازی، ناچ گانے، شراب و شباب اور فحاشی کے طوفان میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ایک نیا سال آگیا ہے، اور *افسوس* کی انتہا یہ ہے کہ آج مسلمان بھی اسی شور و ہنگامہ، اسی بے مقصد خوشی اور اسی غفلت میں شامل ہوتے جا رہے ہیں، اپنی اقدار، اپنی تہذیب اور اپنی دینی شناخت کو حقیر سمجھ کر اس تاریخ کو گلے لگا رہے ہیں جو نہ ان کی ہے اور نہ ان کے عقیدے سے کوئی تعلق رکھتی ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو اپنا جداگانہ نظامِ تاریخ عطا کیا، جو ہجرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عظیم الشان واقعے سے وابستہ ہے، جس کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ آج اکثر مسلمانوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کا نیا سال کب شروع ہوتا ہے، وہ یکم محرم کے گزر جانے سے بے خبر رہتے ہیں مگر *31 دسمبر* کی رات جاگنے کو ترقی، جدیدیت اور خوشی سمجھتے ہیں، حالانکہ عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ انسان اس لمحے ٹھہر کر سوچے کہ ایک نیا سال نہیں آیا بلکہ اس کی زندگی کا ایک قیمتی سال کم ہو گیا ہے، عمر گھٹ گئی ہے، موت قریب آ گئی ہے، زندگی جو اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایک انمول امانت ہے وہ خاموشی سے پھسلتی جا رہی ہے، پھر یہ کیسی خوشی ہے جس میں انسان اپنی عمر کے کم ہونے پر جشن مناتا ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ ہر گزرتا ہوا سال انسان کو یہ پیغام دے کر رخصت ہوتا ہے کہ میں تمہیں تمہاری بے ثباتی کا سبق سکھانے آیا تھا، اب اگلا مہمان تمہیں قبر کے اور قریب لے جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ہمیں وقتی خوشیوں، نمائشی دنوں اور مصنوعی تہواروں کے بجائے زندگی کے حقیقی مقاصد کی طرف بلاتا ہے، وہ *مدرز ڈے*، *فادرز ڈے*، *ویلنٹائن ڈے* اور اس جیسے دیگر دنوں کی ضرورت اس لیے محسوس نہیں کرتا کہ اسلام نے ماں باپ، اولاد، اساتذہ اور تمام رشتوں کے حقوق پورے سال کے لیے مقرر کر دیے ہیں، یہاں رشتے ایک دن کے محتاج نہیں بلکہ ہر لمحے کی ذمہ داری ہیں، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غیر قوموں کی اندھی تقلید سے سختی سے منع فرمایا اور صاف اعلان کر دیا کہ *مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ*، اب ایسے میں سوال یہ ہے کہ مسلمان نئے سال کے موقع پر کیا کرے؟ نہ تو کوئی جشن، نہ کوئی مبارک باد، نہ کوئی مخصوص رسم، البتہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ نئے مہینے یا نئے سال کے آغاز پر وہ اللہ سے امن، ایمان، سلامتی اور رضامندی کی دعا کیا کرتے تھے، اور یہی وہ لمحہ ہے جو ہمیں دو عظیم کاموں کی طرف بلاتا ہے: *ایک ماضی کا محاسبہ* اور *دوسرا مستقبل کی سنجیدہ منصوبہ بندی*۔ نیا سال ہمیں جھنجھوڑ کر پوچھتا ہے کہ جو سال گزر گیا اس میں تم نے کیا کمایا، کتنی نمازیں چھوٹیں، کتنے حقوق پامال ہوئے، کتنے آنسو گناہوں پر بہائے گئے اور کتنی بار دل نے توبہ کا ارادہ کیا مگر ٹال دیا، یہ وہ لمحہ ہے جب انسان خود سے نظریں نہیں چرا سکتا، اسی لیے ارشاد نبوی ہے کہ حساب ہونے سے پہلے اپنا حساب کرو، اور پھر جب یہ احتساب ہو جائے تو آنے والے دنوں کے لیے ایک ایسا لائحۂ عمل بنے جس میں گناہوں سے بچنے، نیکیوں میں سبقت لے جانے اور اللہ کو راضی کرنے کی سچی تڑپ ہو، کیونکہ سچی بات یہ ہے کہ ہر نیا سال ایک حساس دل رکھنے والے مسلمان کو خوش نہیں بلکہ بے چین کر دیتا ہے، اسے ہنسی نہیں بلکہ آنسو دیتا ہے، اسے یاد دلاتا ہے کہ وقت کم ہے اور کام بہت زیادہ، زندگی کی شام قریب ہے اور تیاری ابھی ادھوری ہے، اس لیے ہمارے لیے نیا سال ناچ گانے یا شور شرابے کا موقع نہیں بلکہ اپنے رب کی طرف پلٹ آنے، اپنے وقت کی قدر کرنے اور ہجری تقویم و اسلامی تشخص کو زندہ رکھنے کا پیغام ہے، کیونکہ مسلمان کی پہچان جنوری نہیں بلکہ محرم ہے، اس کی تاریخ بادشاہوں کے تاج نہیں بلکہ ہجرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایثار سے جڑی ہے، اور اگر ہم نے اپنی اس پہچان کو کھو دیا تو پھر جشن منانے کے باوجود ہم سب سے زیادہ محروم لوگ ہوں گے۔
*~عمار اعظمی~*


0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇