قَالَ: كُنْ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا أَوْ مُحِبًّا أَوْ مُتَّبَعًا , وَلَا تَكُنِ الْخَامِسَ فَتَهْلِكَ.
ترجمہ: عالم بنو یا طالبعلم بنو یا ان سے محبت کرنے والے بنو یا ان کی اتباع کرنے والے بنو، اور پانچویں نہ بننا، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔
علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں، دین کے محافظ ہیں،
اگر یہ حافظ نہیں ہوتے، یہ عالم نہ ہوتے، تو تمہاری نسلیں کافر اور مشرک ہو جائیں گی ، انہیں نماز پڑھانے والا کوئی نہیں ملے گا، انہیں قران پڑھانے والا کوئی نہیں ملے گا، نکاح پڑھانے والا کوئی نہیں ملے گا , ان کے نماز جنازہ پڑھانے والا کوئی نہیں ملے گا،، دین کی حفاظت کرنے والے یہ علماء کرام ہیں، اگر علماء کرام ہیں، تو تمہارے بچے مسلمان ہیں ایمان والے ہیں، اگر علماء کرام نہیں ہیں تو تمہارے بچے ہیں کافر اور مشرک ہو جائیں گے انہیں کوئی سیدھا راستہ بتانے والا نہیں ملے گا،
اس لیے اپنے بچوں کی ایمان کی حفاظت کے لیے، اپنی نجات اور اخرت کو بچانے کے لیے، علماء کرام کی حفاظت کرنا ضروری ہے، اس لیے والا مہ کرام کی عزت کیجیے ، اور اپنی طاقت کے بقدر ان کی خدمت کیجیے
کتابوں میں جو افصل ہے اسے قران کہتے ہیں، اتارا اسے جس نے ہے اسے رحمان کہتے ہیں،
آج 27 ویں رات ہیں ،یہ ایک طاق رات ہے طاق راتوں میں دعائیں قبول ہوتی ہیں، اور آج قرآن بھی مکمل ہوا ہے اس اعتبار سے یہ محفل اور بھی زیادہ مبارک ہو گئی ہے، اس لئے سبھی حضرات سے گزارش ہے تھوڑی دیر متوجہ ہو کر کے بیٹھیں اور ارادہ کریں کہ انشاءاللہ دعا کے بعد ہی جائیں گے،،،۔ اللہ تبارک و تعالی کا لاکھ لاکھ احسان و کرم اور اس کا احسان ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے ہم سب کو رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں ہم سب کو زندہ رکھا اور روزے رکھنے اور تراویح پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی۔رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے کے26 دن مکمل ہو چکے ہیں اور آج 27 ویں شب ہے، اللہ تبارک و تعالی ہمارے روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے کو قبول فرمائے،۔
آج کی رات ہمارے لئے بہت ہی خوشی اور مسرت کی رات ہے کیونکہ آج قرآن کریم مکمل ہوا ہے، قرآن کو پڑھنا آسان ہے اور قرآن کو یاد کرنا بھی آسان ہے لیکن قرآن کریم کو تراویح میں پڑھنا بہت ہی مشکل ہے، اللہ تبارک و تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِؕ- اگر قرآن مجید کو پہاڑ پر نازل کیا جاتا تو پہاڑ اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہو جاتا،، اسی لئے قران مجید کو تراویح میں پڑھنا بہت ہی مشکل کام ہے کیونکہ تراویح پڑھانے والے کو یہ یاد رکھنا پڑتا ہے کہ اس کو کہاں سے شروع کرنا ہے، کہاں پر ٹھہرنا ہے، کہاں پر اس کو مکمل کرنا ہے، اور کہاں پر رکوع کرنا ہے، اس کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے، اور سننے والے پیچھے کھڑے رہتے ہیں کبھی وہ بعد میں کھڑے ہوتے ہیں کبھی کبھار بات کرنے لگ جاتے ہیں اور کبھی پانی پینے چلے جاتے ہیں اور کبھی چکر لگا کر کے آجاتے ہیں لیکن قران کریم سنانے والے کو تمام چیزوں پر توجہ رکھنی پڑتی ہے اسی لئے یہ بہت ہی مشکل کام ہے،،، قرآن کریم میں غلطی کا آجانا یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے، انسان سے غلطی ہوتی ہے اور انسان بھولتا بھی ہے کیونکہ کائنات کے سب سے پہلے انسان حضرت ادم علیہ السلام ہیں بھی غلطی ہوئی ہے ،
قرآن مجید ہمارے لئے ایک نعمت ہے، اور اس کا سینے میں محفوظ ہوجانا یہ اور بھی بڑی نعمت ہے ، دنیا کی سب سے پاکیزہ اور مقدس کتاب قرآن کریم ہے، ہمیں چڑھتے سورج کی طرح یقین ہے کہ اس کا ایک ایک حرف سچا اور صادق ہے قرآن کریم رب ذوالجلال کی طرف سے عطا کردہ وہ حسین تحفہ ہے جس نے صرف 23 سال کے اندر پوری دنیا کے اندر ایک ایسا انقلاب برپا کر دیا تھا جس کی دوسری مثال نہیں ملتی ہے ،
یہی وہ قرآن ہے جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت و رحمت کا ذریعہ ہے۔
یہی وہ قران ہے جس نے ضلالت و گمراہی کی دلدل میں پھنسے ہوئے انسانوں کو باہر نکالا۔
یہی وہ قرآن ہے جس کے بدولت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایمان نصیب ہوا۔
کل قیامت کے دن حافظ قرآن سے کہا جائے گا اقرَأ وارقَ ورتِّل كما كُنتَ ترتِّلُ في الدُّنيا فإنَّ منزلتَكَ عندَ آخرِ آيةٍ تقرؤُها، قرآن پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پر چڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کے پڑھ جیسا کہ تو دنیا میں ٹھہرے ٹھہر کر کے پڑھتا تھا بس تیرا مقام اور آخری ٹھکانہ وہی ہے جہاں آخری آیت پر پہنچے
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کائنات کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام کا سلسلہ شروع فرمایا۔ جب نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ نے دین کی حفاظت اور امت کی رہبری کی عظیم ذمہ داری علماءِ حق کے کندھوں پر ڈال دی۔ یہ وہ مقدس طبقہ ہے جو اندھیروں میں روشنی کا مینار ہے اور بھٹکی ہوئی انسانیت کا سہارا ہے۔
فرمانِ نبوی ﷺ: اسی عظمت کو بیان کرتے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ نے ایک نصیحت فرمائی:
"كُنْ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا أَوْ مُحِبًّا أَوْ مُتَّبَعًا، وَلَا تَكُنِ الْخَامِسَ فَتَهْلِكَ"
(ترجمہ: عالم بنو، یا طالبِ علم بنو، یا ان سے محبت کرنے والے بنو، یا ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے بنو؛ اور پانچویں (یعنی ان سے دور رہنے والے) نہ بننا، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔)
علماء کی ضرورت اور اہمیت:
لوگو! یاد رکھو کہ علماءِ کرام محض انسان نہیں، بلکہ وارثینِ انبیاء اور دین کے قلعے ہیں۔ اگر یہ حفاظ اور علماء نہ ہوتے، تو آج ہماری مسجدوں میں نہ کوئی نماز پڑھانے والا ہوتا، نہ کوئی نکاح پڑھانے والا ہوتا اور نہ ہی کوئی جنازہ اٹھانے والا ہوتا۔
،۔ اگر آج ہماری نسلیں مسلمان ہیں، انہیں سجدہ کرنا آتا ہے اور وہ اللہ و رسول ﷺ کا نام لیتی ہیں، تو یہ ان علماء کی شب و روز کی محنت کا صدقہ ہے۔ اگر یہ طبقہ نہ رہا، تو خدانخواستہ ہماری نسلیں کفر و شرک کی وادیوں میں بھٹک جائیں گی اور انہیں سیدھا راستہ دکھانے والا کوئی نہیں ملے گا۔ ان کا ہونا تمہارے بچوں کے ایمان کی ضمانت ہے۔
ہماری ذمہ داری:
اپنے بچوں کے ایمان کی حفاظت کے لیے اور اپنی آخرت کی نجات کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ ہم علماءِ حق کی قدر کریں۔ ان کی عزت و توقیر ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ علماء کی عزت کو مقدم رکھیے۔ ان کے مقام کا احترام کیجیے۔ اور اپنی طاقت کے بقدر ان کی خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیے۔ کیونکہ جس قوم نے اپنے مقتداؤں کی بے عزتی کی، وہ ذلیل و خوار ہو گئی، اور جس نے ان کا ہاتھ تھاما، وہ کامران ہو گئی۔
عالموں سے محبت کرنا یہ ثواب کا ذریعہ ہے، اور اپنی زندگی میں برکت کا ذریعہ ہے، جو لوگ عالموں سے محبت کرتے ہیں وہ لوگ اس چیز کا تجربہ کرتے ہیں ایسے بہت سارے واقعات لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ عالموں سے محبت کرنے کا ان کو کتنا فائدہ ہوا ہے،
---------------------------------------------
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ قرآن شریف کی خبر گیری کیا کرو ، قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ، قرآن پاک جلد نکل جانے والا ہے سینوں سے بنسبت اونٹ کے اپنی رسیوں سے،
اگر انسان جانور کی حفاظت سے غافل ہو جائے اور وہ اپنے کھوٹے سے نکل جائیں تو کدھر بھی بھاگ جائے گا اس کا کہنا مشکل ہے، اسی طرح اگر کلام پاک کی حفاظت نہ کی جائے اس کو بار بار نہ پڑھا جائے تو انسان بھی اس کو بھول جائے گا، قرآن شریف کو پڑھ کر بھلا دینے میں بڑی سخت وعید یں آئی ہیں ، حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص قرآن شریف پڑھ کر بھلا دیں تو کل قیامت کے دن اس کو کوڑ ھی بنا کر کے اٹھایا جائے گا،،، ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ اس کو اندھا بنا کر کے اٹھایا جائے گا، اللہ تعالی سے کہے گا یا اللہ میں تو آنکھوں والا تھا مجھے سب چیز نظر آتا تھا لیکن آج مجھے اندھا کیوں بنا دیا گیا ہے، تو اس سے کہا جائے گا کہ تم نے ہماری آیتوں کو بھلا دیا تو آج ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا ہے،
قران کریم کے مکمل ہونے پر دعا میں شامل ہونا،
الحمدللہ ہماری مسجد میں دو دن کے بعد قران کریم مکمل ہونے ہونے والا ہے، یہ مبارک گھڑی ہے جس کے انتظار ہم ایک مہینے سے کر رہے تھے،
جن لوگوں نے پورے مہینے تراویح کی نماز پڑھی ہے وہ لوگ مبارکباد کے قابل ہیں، لیکن جو لوگ کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں پڑھ سکے، تو ان کے لیے بھی اللہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے، اگر ہم نے پورا قران نہیں سنا ہے تو کم سے کم ایک پارہ سن کر ہی قران کریم کا ثواب حاصل کیجیے،
اور دعا میں شامل ہو کر کے پورا انعام حاصل کیجیے
تشبیہ
ایک بہت بڑے سخی بادشاہ نے پورے شہر کی دعوت کی اور اعلان کیا کہ "جو لوگ مہینہ بھر میرے دربار کی خدمت کریں گے، آخری دن میں ان سب کی جھولیاں سونے چاندی سے بھر دوں گا۔"
پورے مہینے کچھ لوگ خدمت کرتے رہے، لیکن کچھ لوگ دور کھڑے دیکھتے رہے۔ اب انعام بٹنے کی گھڑی آگئی ہے۔ بادشاہ اتنا سخی ہے کہ وہ اعلان کر رہا ہے:
"جس نے مہینہ بھر خدمت کی اسے تو انعام ملے گا ہی، لیکن جو آج انعام کے وقت میرے دربار میں آکر صرف ہاتھ پھیلا دے گا، میں اسے بھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاؤں گا!"

0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇