روزے کا مقصد

    بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم

  

     اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں زندگی میں ایک بار پھر رمضان المبارک کا عظیم الشان مہینہ عطا فرمایا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کی ہر گھڑی رحمت ہے، جس کی ہر رات مغفرت ہے اور جس کا ہر لمحہ جہنم سے آزادی کا پروانہ ہے۔یہ روح کی پاکیزگی کا، گناہوں کی دھلائی کا ، اور اللہ سے ٹوٹے ہوئے تعلق کو دوبارہ جوڑنے کا مہینہ ہے ۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں:آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔

جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔

سرکش شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے۔

اس مہینے کی ہر رات اللہ تعالیٰ بے شمار انسانوں کو جہنم کی آگ سے آزادی کا پروانہ عطا فرماتا ہے۔ اس کی برکت کا یہ عالم ہے کہ ایک نفل کا ثواب فرض کے برابر اور ایک فرض کا ثواب 70 سے 700 گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔

    لیکن یاد رکھیے! جہاں یہ مہینہ رحمتوں کا خزانہ ہے، وہاں اس میں سستی کرنے والوں کے لیے ایک بہت بڑی وارننگ (Warning) بھی ہے۔

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام مخلوقات میں انسان کو اشرف واکرم بنایا، اور معزز بنایا ہے، اللّٰہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کی  میں نیکی اور بدی، خیر اور شر، اطاعت اور سرکشی،  خوبی  اور خامی دونوں ہی قسم کی صلاحیتیں انسان کے اندر رکھی ہیں، یہی وجہ ہے کہ انسان نیک اعمال بھی کرتا ہے، اور برے کام بھی کرتا ہے، انسان کے اندر جہاں فرشتوں جیسی نورانی صفت موجود ہے، وہیں نفسِ امارہ کی شیطانی صفت بھی موجود ہے،  

     اصل کمال اور انسانیت کی معراج یہ نہیں کہ انسان گناہ کی قدرت ہی نہ رکھتا ہو، بلکہ کمال یہ ہے کہ معصیت کے تمام تر مواقع اور قدرت کے باوجود، وہ اپنے نفس کو لگام دے، سیئات سے کنارہ کش ہو اور اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو طاعات و حسنات کے نور سے منور کر لے۔

   یہی وہ بلند ترین اخلاقی مقام ہے جسے قرآنِ کریم کی اصطلاح میں "تقویٰ" کہا جاتا ہے۔ تقویٰ دراصل اس اندرونی قوت کا نام ہے جو انسان کو اللہ کی نافرمانی سے بچا کر اس کی رضا کی راہ پر گامزن کر دیتی ہے۔ اور یہی وہ "مقصدِ اصلی" ہے جس کی آبیاری کے لیے اللہ رب العزت نے رمضان کے روزے فرض کیے، تاکہ انسان بھوک اور پیاس کی مشق کے ذریعے اپنے ارادے کو اتنا مضبوط کر لے کہ وہ برائی کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے۔

     جیسا کہ اللہ تعالی نے قران مجید میں ارشاد فرمایا ہے

’’یٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ أَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ۔‘‘                                         

      یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ پارہ 2 ۔ آیت 283 ۔ 

    اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ ۔۔ 

   قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہیکہ روزہ رکھنے کا مصد متقی بننا ہے۔

    روزہ رکھنے کے بعد یہ بات بہت لازم ہے کہ روزے دار اپنے روزے کو اُن تمام خرابیوں سے بچانے کی پوری فکر کرے جو روزہ کے تمام ثمرات ، اثرات اور فوائد کو ختم کر دیتی ہیں ۔ قرآن کریم میں روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ روزہ لازم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو۔ تقویٰ وہ کیفیت ہے جس کے نتیجے میں مومن تمام فرائض کو انجام دیتا ہے اور تمام اُن کاموں سے بچنے لگتا ہے جو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ نے حرام کئے ہیں یعنی تمام حرام کردہ اشیاء سے بچنے کا نام تقویٰ ہے ۔

    اب اگر روزے دار میں وہ تقویٰ پیدا نہ ہو تو یہ علامت ہے کہ روزے کو اس طرح نہیں رکھا گیا جو اُس کا اصل مطلوب تھا ۔ اس لئے روزہ دار کو اس کی سخت فکر کرنی چاہئے کہ اس کا روزہ تقویٰ پیدا کرنے کا ذریعہ بنے ، ایسا نہ ہو کہ روزہ رکھا مگر فوائد سے خالی!

   حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں کہ اُن کو روزہ رکھنے سے صرف فاقہ ہاتھ آتا ہے اور کچھ نہیں ۔

   اور ایک حدیث میں یوں ارشاد فرمایا جس شخص نے غلط بات منہ سے نکالنے اور غلط کام کرنے سے اپنے آپ کو نہ روکا ، اس کے روزے کی اللہ کو کوئی ضرورت نہیں ۔ یعنی اگر کوئی کھانا پینا تو بند کرکے اپنے آپ کو روز دار قرار دے مگر اس نے اپنی نگاہوں کو قابو نہ کیا ، اپنی زبان کو روکے نہ رکھا ، حرام کمائی سے پرہیز نہ کیا اور وہ دوسرے قسم قسم کے گناہوں میں مبتلا رہا اُس کا روزہ صرف کھانا پینا بند کرنے تک محدود رہا اور یہ روزہ حقیقی تقویٰ پیدا نہیں کرسکتا ۔ 

       روزہ رکھنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ اب روزہ رکھنے کے بعد کن باتوں کی رعایت کرنا ضروری ہے اور وہ کیا احتیاط ہے جس کی وجہ سے روزہ بہتر سے بہتر بنایا جائے، اور روزے کے مقصد کو حاصل کیا جائے نیچے کچھ طریقے بیان کئے جارہے ہیں جن سے بچ کر روزے کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اور اس کے مقصد کو بھی حاصل کیا جاسکتا ہے

        (1) اپنی نگاہوں کی حفاظت : عریانیت کے اس پھیلتے ہوئے ماحول میں روزہ کو تباہ کرنے والی چیز بناؤ سنگھار اور قسم قسم کے فیشن کے ساتھ سامنے آنے والی عورتیں ہیں، اس لئے اپنی نظروں کو اُن سے بچانے کی ہر ممکن تدبیر اختیار کرنا ضروری ہے ۔ 

     (2) پیٹ کی حفاظت : آج حلال و حرام کی تمیز پوری طرح مٹ رہی ہے اور ہر شخص اس میں سرگرم ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ آئے ۔ اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ حلال آئے یا حرام ۔ خصوصاً ملازمتوں اور تجارتوں میں حرام سے بچنے کا مزاج ختم ہورہا ہے ۔ اس لئے روزہ دار حرام کمانے اور پھر حرام سے سحری و افطار کرنے سے پرہیز نہ کرے تو روزہ کے اثرات پیدا ہونا ناممکن ہیں۔ 

        (3) کانوں کی حفاظت : آج کے دور میں ایک طرف غیبت سننے کا ماحول چاروں طرف ہے اور ساتھ ہی موسیقی اور نغمے بھی عام ہیں حتیٰ کہ موبائل فون بھی میوزک سننے کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ اس لئے اپنے کانوں کو کم از کم ان دو چیزوں سے بچانا ضروری ہے ۔ ایک غیبت اور دوسرے میوزک۔

      (4) زبان کی حفاظت: زبان اور اس میں بولنے کی طاقت یہ دونوں اللہ کے عظیم احسان ہیں مگر اس زبان کو غیبت ، بدگوئی ، چغلی ، گالی گلوچ ، لعن طعن ، فضول گوئی ، بکواس ، لغو بیانی ، عیب چینی ، عزت ریزی ، مخالفت ، طعنہ زنی اور اس طرح کے گناہوں میں انسان مبتلا رہتا ہے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھے دو چیزوں کی ضمانت دے کہ ان کا غلط استعمال نہ کرے تو میں اسے جنت کے اندر داخل ہونے کی ضمانت دیتا ہوتا۔ وہ دو چیزیں ایک زبان اور دوسری شرم گاہ ۔

اس لئے روزے دار اپنے روزے کو بچانے کے لیے اپنی زبان کو پوری طرح قابو میں رکھے ۔ اس میں نامحرم کے ساتھ بات چیت بھی شامل ہے کہ اس سے پرہیز لازم ہے ورنہ روزے کے اثرات بالکل بھسم ہو جاتے ہیں اور آج بہ کثرت یہی ہوتا ہے۔

        (5) ہاتھ کی حفاظت : ہاتھوں سے دوسرے کو تکلیف پہنچانے ، ناجائز کام کرنا ، رشوت کا پیسہ لینا ، غلط اندراج کرنا ، ناجائز کاغذات پر دستخط کرنا ، نامحرم کو غلط جذبہ سے تحفے دینا اس طرح نامحرم سے مصافحہ کرنا ۔ ان تمام گناہوں سے اپنے ہاتھوں کو بچانا ضروری ہے ۔ خصوصاً چوری ، ہیرا پھیری اور نامحرم سے ہاتھ ملانا روزے کی حالت میں روزہ کو تباہ کرتا ہے ۔ 

     (6) دل و دماغ کی حفاظت:انسان کا دل جذبات ، احساسات ، تمنّاؤں اور خواہشات کا مرکز ہے اور انسان کا دماغ سوچ بچار اور اچھے برے کے لئے غور کرنے ، سوچنے اور اس کے لئے اقدام کرنے کی تدابیر کا خزانہ ہے ۔

     روزہ رکھنے والا اپنے دل کو اور اپنے دماغ کو تمام طرح طرح کے جذبات ، احساسات ،خواہشات ، میلانات ، خیانت ، تصورات اور تفکرات سے پاک رکھے جو اسلام نے حرام قرار دئے ہیں اور ظاہر ہے تمام جرائم کی ابتداء دل و دماغ کی سوچ سے ہی ہوتی ہے ۔ اس لئے تطہیر قلب ودماغ بھی لازم ہے تاکہ روزہ حقیقتاً روزہ بن سکے ۔

       آپ اپنے بیان میں یہ اضافہ کر سکتے ہیں کہ:

"روزہ صرف پیٹ کا نہیں ہوتا، بلکہ آنکھ کا روزہ یہ ہے کہ برائی نہ دیکھے، کان کا روزہ یہ ہے کہ غیبت نہ سنے، اور زبان کا روزہ یہ ہے کہ اس سے کسی کا دل نہ دکھے۔ جب یہ تمام اعضاء گناہوں سے رک جائیں گے، تبھی وہ 'تقویٰ' حاصل ہوگا جس کا ذکر اللہ نے قرآن میں کیا ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

     

      اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں زندگی میں ایک بار پھر رمضان المبارک کا عظیم الشان مہینہ عطا فرمایا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کی ہر گھڑی رحمت ہے، جس کی ہر رات مغفرت ہے اور جس کا ہر لمحہ جہنم سے آزادی کا پروانہ ہے۔یہ روح کی پاکیزگی کا، گناہوں کی دھلائی کا ، اور اللہ سے ٹوٹے ہوئے تعلق کو دوبارہ جوڑنے کا مہینہ ہے ۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں:آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔

جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔

سرکش شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے۔

اس مہینے کی ہر رات اللہ تعالیٰ بے شمار انسانوں کو جہنم کی آگ سے آزادی کا پروانہ عطا فرماتا ہے۔ اس کی برکت کا یہ عالم ہے کہ ایک نفل کا ثواب فرض کے برابر اور ایک فرض کا ثواب 70 سے 700 گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔

    لیکن یاد رکھیے! جہاں یہ مہینہ رحمتوں کا خزانہ ہے، وہاں اس میں سستی کرنے والوں کے لیے ایک بہت بڑی وارننگ (Warning) بھی ہے۔
   

   🕌  منبرِ رسول ﷺ اور تین "آمین
ایک دن میرے اور آپ کے آقا، جنابِ محمد رسول اللہ ﷺ مسجدِ نبوی کے منبر پر تشریف لا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا اور فرمایا: "آمین"۔ پھر دوسری سیڑھی پر قدم رکھا اور فرمایا: "آمین"۔ پھر تیسری سیڑھی پر قدم رکھا اور فرمایا: "آمین"۔
صحابہ کرامؓ حیران رہ گئے! عرض کیا: "یا رسول اللہ! آج آپ نے وہ عمل کیا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "اے میرے صحابہ! ابھی ابھی میرے پاس جبرائیل امینؑ آئے تھے، انہوں نے تین بد دعائیں کیں اور میں نے ان پر آمین کہا۔"

1️⃣ پہلی بددعا: رمضان کی ناقدری کرنے والے کیلئے 
جبرائیلؑ نے پہلی بددعا یہ کی کہ: "ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنی بخشش نہ کروا سکا!"
آپ ﷺ نے فرمایا: آمین!
میرے بھائیو! ذرا کلیجہ تھام کر سوچیے! دعا کرنے والے فرشتوں کے سردار ہیں، اور آمین کہنے والے کائنات کے سردار ﷺ ہیں۔ جس کی ہلاکت کی بد دعا جبرائیلؑ کریں اور جس کی بربادی پر محمد ﷺ "آمین" کہیں، اسے کائنات میں کون بچا سکتا ہے؟
    اگر ہم اس مبارک مہینے میں بھی نماز نہیں پڑھتے ہیں، روزہ نہیں رکھتے ہیں،  تراویح کی نماز نہیں پڑھتے ہیں،  قران کریم کی تلاوت نہیں کرتے ہیں،  ذکر و اذکار نہیں کرتے ہیں ، اور گناہوں کو نہیں چھوڑتے ہیں تو پھر ہمارے لئے کون سا ایسا مبارک مہینہ ہوگا جس میں ہم نمازوں کی پابندی کریں گے، جسمیں ہم قران کریم کی تلاوت کریں گے ، ذکر و اذکار کریں گے اور گناہوں کو چھوڑیں گے ،
   افسوس… صد افسوس!
رمضان کی رحمتیں برس رہی ہیں،
مغفرت کے دروازے کھلے ہیں،
جہنم کے دروازے بند ہیں،
شیاطین جکڑے ہوئے ہیں —
لیکن ہماری مسجدیں خالی ہیں۔
تراویح میں صفیں ادھوری ہیں۔
قرآن سننے والے کم ہیں،
قرآن پڑھنے والے کم ہیں،
اور دلوں میں تڑپ کم ہے۔
  آئیے! ابھی فیصلہ کریں۔
نمازوں کی پابندی کریں گے۔
تراویح کو اپنا شرف سمجھیں گے۔
قرآن سے رشتہ جوڑیں گے۔
گناہوں کو چھوڑنے کا پکا ارادہ کریں گے

   

    *دوسری بددعا*
والدین کے حقوق ضائع کرنے والا
پھر جبرائیلؑ نے عرض کیا:

"ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے اپنے والدین کو یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور ان کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کر سکا!"
آپ ﷺ نے فرمایا: آمین!

رمضان کا مہینہ ایثار اور محبت کا مہینہ ہے۔ اگر آپ روزے رکھ رہے ہیں، تلاوت کر رہے ہیں، لیکن آپ کے بوڑھے ماں باپ آپ کے رویے سے دکھی ہیں، ان کی آنکھوں میں آپ کی وجہ سے آنسو ہیں، تو یاد رکھیے! آپ کی یہ عبادتیں آپ کے منہ پر مار دی جائیں گی۔ جنت کا راستہ آپ کے گھر سے گزرتا ہے، اسے باہر تلاش نہ کریں۔
*تیسری بددعا: درود و سلام سے غافل*
تیسری سیڑھی پر جبرائیلؑ نے عرض کیا:

"ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے آپ (ﷺ) کا ذکر مبارک ہو اور وہ آپ پر درود نہ پڑھے!"
آپ ﷺ نے فرمایا: آمین!

جس نبی ﷺ کی ہم امت ہیں، جنہوں نے تڑپ تڑپ کر ہمارے لیے دعائیں کیں، اگر ان کا نام سن کر ہمارا دل نہیں پگھلتا اور ہماری زبان پر درود نہیں آتا، تو یہ ہماری سنگدلی کی انتہا ہے۔
*آخری پیغام*
اے ایمان والو! رمضان ابھی باقی ہے۔ مغفرت کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔ اللہ کی رحمت پکار پکار کر کہہ رہی ہے: "ہے کوئی بخشش مانگنے والا جسے میں بخش دوں؟"

آج اس جمعہ کے مبارک دن یہ عہد کر کے اٹھیں:
ہم رمضان کی ہر گھڑی کی قدر کریں گے، گناہوں سے توبہ کریں گے اور اپنی بخشش کروا کر اٹھیں گے۔
ہم اپنے والدین کے قدموں میں جنت تلاش کریں گے، انہیں راضی کریں گے۔

جب بھی آقا ﷺ کا نام آئے گا، محبت اور تڑپ کے ساتھ درود و سلام پڑھیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان محروم لوگوں میں شامل نہ فرمائے جن کے لیے جبرائیلؑ نے بددعا فرمائی، بلکہ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو رمضان کی برکتوں سے اپنے دامن بھر لیتے ہیں۔
*آمین یا رب العالمین*
  اگر ہم اس مبارک مہینے میں بھی نماز نہیں پڑھتے ہیں، روزہ نہیں رکھتے ہیں تراویح کی نماز نہیں پڑھتے ہیں قران کریم کی تلاوت نہیں کرتے ہیں ذکر و اذکار نہیں کرتے ہیں اور گناہوں کو نہیں چھوڑتے ہیں تو پھر ہمارے لیے کون سا  ایسا مبارک مہینہ ہوگا جس میں ہم نمازوں کی پابندی کریں گے قران کریم کی تلاوت کریں گے  ذکر و اذکار کریں گے اور گناہوں کو چھوڑیں گے ،
بڑے افسوس کی بات ہے کہ رمضان کا ایک مبارک مہینہ چل رہا ہے، لیکن اس کے باوجود ہماری مسجد خالی ہے تراویح میں نماز پڑھنے والے لوگ نہیں ہیں قران سننے والے نہیں ہیں قران پڑھنے والے نہیں ہیں


Post a Comment

0 Comments