شادی پر مضمون

                بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم

      الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضللہ ومن یضلل فلا ھادی لہ ونشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان سیدنا ومولٰنا محمدا عبدہ ورسولہ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ

     قرآن کریم اور حدیث مبارکہ میں شریعت کے ایک حکم کو نہایت ہی تاکید کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے، اس حکم کو آدھا ایمان قرار دیا گیا ہے، اور اللہ کے رسول نے اس کو اپنا طریقہ بتایا ہے،  شریعت کا وہ حکم نکاح کرنے کا ہے، نکاح انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے ہے، جب تک انسان نکاح نہیں کرتا اس کی زندگی ادھوری رہتی ہے،اورجب  نکاح کر لیتا ہے اس کی زندگی میں مکمل ہو جاتی ہے یہ بڑا پاکیزہ اور مقدس رشتہ ہے، یہ رشتہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہواتھا، الله تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو بنایا، اور انہیں سے ان کا جوڑا حضرت حوا کو بنایااور بنانے بعد کے ان دونوں کا آپس میں نکاح کروادیا گیا اور اس طریقے سے میاں بیوی کا سب سے پہلا رشتہ وجود میں آیا ۔۔۔

   قرآن مجید میں نکاح کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا وَاَنۡكِحُوا الۡاَيَامٰى مِنۡكُمۡ وَالصّٰلِحِيۡنَ مِنۡ عِبَادِكُمۡ وَاِمَآئِكُمۡ‌ ؕ اِنۡ يَّكُوۡنُوۡا فُقَرَآءَ يُغۡنِهِمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۞ ترجمہ: اور تم اپنے بےنکاح مردوں اور عورتوں کا نکاح کردو اور اپنے نیک غلاموں اور باندیوں کا اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا، اور اللہ وسعت والا بہت جاننے والا ہے

     الله تعالٰیٰ نے اس آیت کریمہ میں نکاح کرنے کی تاکید کررہے ہیں، ذمہ داروں اور مالکوں کو مخاطب کر کے کہ رہے ہیں جو بغیر شادی شدہ ہیں اور شادی کے قابل ہوچکے ہیں تو ان کی شادی کرادو ، اور اسی طرح تمہارے ما تحت میں رہنے والے جو نیک غلام اور باندیاں ہیں ان کا بھی نکاح کرادو۔۔ اگر وہ غریب ہیں تنگ دست ہیں تو الله تعالٰی ان کو اپنے فضل و کرم سے مالدار بنا دیگا ، کیونکہ الله تعالٰی بہت وسعت والا ہے ، الله تعالٰی نے ساری مخلوق کی روزی کا ذمہ لیا ہوا ہے ، قران کریم کی ان آیت کے ذریعے سے نکاح کی ترغیب دی جا رہی ہے، 

     يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ.۔۔۔ ترجمہ۔  اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں سے نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے کیونکہ نکاح نظر کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو برائی سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے اور اگر کسی میں نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیے کیونکہ وہ اس کی شہوت کو ختم کر دیتا ہے“    اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کی پورے جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے نوجوانوں کی جماعت اگر تم نکاح کرنے کی طاقت رکھتے ہو تو نکاح کر لو اس میں دیر مت کرو ، اس سے تمہیں دو فائدہ ہوگا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ بد نظری سے محفوظ ہو جاؤ گے ، اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ تم زنا سے بدکاری سے محفوظ ہو جاؤ گے اور تمہاری عزت محفوظ ہو جائے گی،،،۔ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ اور اگر شادی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہو تو روزے رکھو اس لیے کہ اس سے مردانہ طاقت کچھ کم ہو جائے گی اور تم گناہوں سے بچ جاؤ گے، 

   تو میں یہاں پر بیٹھے ہوئے نوجوانوں سے کہنا چاہوں گا کہ اگر تم نکاح کرنے کی طاقت رکھتے ہو تمہارے پاس مال و دولت ہے روپیہ پیسہ ہے گھر بار ہے تم اپنے ساتھ اپنی بیوی کا بھی خرچہ برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہو تو نکاح کر لو، لیکن اگر ابھی اتنی طاقت نہیں ہے اپنی بیوی کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے،تو روزے رکھو  اگر روزے بھی نہیں رکھ سکتے تو کھانے میں کمی کرو،کم کھانے سے مرو گے نہیں،اس سے شہوت کم ابھرے گی تم گناہوں سے بچے رہو گے اور تمہاری عزت محفوظ رہے گی ،

   نکاح کے وقت کیسی لڑکی کا انتخاب کرنا ہے اور کیسے لڑکے کا انتخاب کرنا ہے تو شریعت نے اس کے بارے میں بھی بتایا ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، 

    تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ . ترجمہ: چار چیزوں کی بنیاد پر عورت سے نکاح کیا جاتا ہے، مال  کی وجہ سے، حسب و نسب کی وجہ سے، حسن کی  وجہ سے، اور دینداری کی وجہ سے، تو دین دار عورت کے ساتھ نکاح کر کے کامیابی حاصل کر،،،۔   عام طور پر چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے، 1 مال و دولت کی وجہ سے، 2 حسب و نسب اور خاندان کی وجہ سے، 3 حسن و جمال اور خوبصورتی کی وجہ سے، 4 پرہیزگاری اور  دینداری کی وجہ سے، لہذا ان چاروں چیزوں میں ہمیں دینداری کو ترجیح دینا چاہیئے اور یہی ہمارے لئے بہتر ہے ، نیک سیرت نیک سورت  تقوی طہارت پرہیزگاری اور دینداری میں لا مثال اور بے مثال ہیں، 

   الدنيا کلھا متاع، وخير متاع الدنيا المرأة الصالحة." دنیا سارا ساز و سامان ہے، دنیا کا بہترین سامان نیک بیوی ہے، ان احادیث کے ذریعے سے ہمیں نیک عورت سے نکاح کی ترغیب دی جا رہی ہے،

   اس حدیث سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ لڑکیوں کے انتخاب میں اور لڑکوں کے انتخاب میں دینداری کو ترجیح دینا چاہیے، 

  آپ نے فرمایا اگر کوئی شخص نکاح کا پیغام لے کر کے آتا ہے،اور وہ نوجوان ایسا ہے جس کے اخلاق سے تم راضی ہو،اور اس کی دینداری سے بھی راضی ہو، تو نکاح کر دو،

   اس لئے جب بھی اچھا رشتہ مل جائے یا مناسب رشتہ مل جائے تو اپنے بچوں کا نکاح کرا دو،، آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اس کا بینک بیلنس کتنا ہے، اس کی جائیداد کتنی ہے،اس کے پاس کتنے مکانات ہیں ، اس کی گاڑیاں کتنی ہیں، اس کے پاس نقد روپے کتنا ہے، سونا اور چاندی کتنا ہے،  بلکہ یہ کہا کہ اگر اس کے اخلاق اچھے ہیں اور وہ دین دار ہیں تو اس سے نکاح کرا دو ، گویا کہ آپ نے لڑکے کے انتخاب میں دینداری کو ترجیح دینے کا حکم دیا،اور اسی طرح لڑکی کے انتخاب میں بھی دینداری کو ترجیح دینے کا حکم دیا، 

                 واقعہ 

   خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں گلی کا گشت کر رہے تھے ، ایک گھر کے پاس سے گزرتے ہوئے آواز اتی ہے، ایک ماں اپنی بیٹی سے کہہ رہی تھی کہ بیٹی دودھ میں پانی ملا دو ، بیٹی جواب دیتی ہے کہ حضرت عمر نے منع کیا ہے، ماں کہتی ہے کہ رات کا اندھیرا ہے دور دور تک کوئی نظر نہیں آتا ہے ، یہاں حضرت عمر نہیں ہیں ،کسی کو کچھ معلوم نہیں چلے گا،لہذا دودھ میں پانی ملا دو، بیٹی جواب دیتی ہے اگر حضرت عمر نہیں دیکھ رہے ہیں تو عمر کا خدا تو دیکھ رہا ہے، حضرت عمر نے اس کے گھر پر نشان لگایا اور چلے گئے، صبح غلام کو بھیج کر ماں اور بیٹی دونوں کو بلوایا، حضرت عمر نے کہا کہ رات میں نے تمہاری دودھ میں پانی ملانے والی گفتگو سنی ہے ، مجھے تمہاری بیٹی کا تقوی بہت اچھا لگا، کہ عمر نہیں دیکھ رہے ہیں مگر عمر کا رب دیکھ رہا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام بیٹوں کو بلوایا اور فرمایا کہ اگر مجھے نکاح کی ضرورت ہوتی تو میں خود اس لڑکے سے نکاح کر لیتا، کیونکہ اس کی زندگی میں تقوی ہے اللہ کا ڈر اور خوف ہے، ان کے ایک بیٹے تھے عاصم ان کا نکاح نہیں ہوا تھا، انہوں نے کہا کہ ابا جان اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں اس کے لئے تیار ہوں،

   ذرا سوچیے لڑکا لڑکی کو جانتا نہیں،  لڑکی لڑکے کوجانتی نہیں انہوں نے لڑکی کو دیکھا نہیں،اور لڑکی نے بھی لڑکے کو دیکھا نہیں، والد صاحب نے رشتے کا انتخاب کیا ہے تو بیٹا راضی ہو گیا ، لیکن آج ہمارے زمانے میں ، ہمارے معاشرے اور ہماری سوسائٹی میں ، لڑکے اور لڑکیاں خود ہی رشتہ تلاش کرتے ہیں، گوگل کے ذریعے سے، فیس بک کے ذریعے سے، واٹسپ کے ذریعے سے، اور دوسرے سوشل میڈیا کے ذریعے سے، میرے نوجوانوں جن رشتوں کا ماں باپ انتخاب کرتے ہیں، ان میں پاسداری اور پختگی ہوتی ہے،وہ بڑے دور اندیش ہوتے ہیں  زمانے کے حالات سے واقف ہوتے ہیں ان کے بال دھوپ میں سفید نہیں ہوتے انہوں نے تجربات کی روشنی میں سب کچھ دیکھا ہوتا ہے، اس لئے ماں باپ جس رشتے کا انتخاب کریں اس کو پسند کرنا چاہئیے، لیکن جو رشتے عشق و  معشوق کے ذریعے کئے جاتے ہیں، جو رشتے پیارو محبت کے ذریعے سے کئے جاتے ہیں، ایسے رشتے مضبوط نہیں ہوتے ایسے رشتے زیادہ دن تک نہیں چلتے ، جب عشق کا بھوت اترتا ہے اور پیار کا نشہ ختم ہوتا ہے ،تو لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ طلاق کی نوبت آ جاتی ہے، میرے نوجوانو جس رشتے کو آپ کے ماں اپنے پسند کیا ہے آپ بھی اس کو پسند کیجئے، 

بہرحال میں یہ عرض کر رہا تھا کہ حضرت عمر کے ایک بیٹے عاصم نے کہا کہ ابا جان میں اس لڑکی سے نکاح کرنے کے لئے تیار ہوں، آپ نے لڑکی سے پوچھا تم راضی ہو لڑکی نے کہا میں راضی ہوں،اس کی ماں بھی راضی تھی تو آپ نے اپنے بیٹے کا نکاح اس لڑکی سے کرا دیا،،،،✓ ذرا آپ سوچیئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ 22 لاکھ مربع میل کے مالک ہیں، خلیفۃ المسلمین ہیں اپنے وقت کے بادشاہ ہیں، اگر آپ چاہتے تو لکھ پتی اور کروڑ پتی کی بیٹی کا انتخاب کرتے ، کوئی حسین و جمیل اور خوبصورت لڑکی کا انتخاب کرتے ہیں، مگر نارمل فیملی کی لڑکی کا انتخاب کیا، کیونکہ وہ دین دار اور پرہیزگار تھی اس کے دل میں اللہ کا ڈر اور خوف تھا، 

  دونوں کی شادی ہونے کے بعد ایک لڑکی پیدا ہوئی اور اس لڑکی سے ایک لڑکا پیدا ہوا،  جو اپنے وقت کے نیک حکمران بنے وہ ہیں عمر بن عبدالعزیز رحمت اللہ علیہ ،۔ عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ایسا عدل و انصاف قائم کیا کہ لوگوں کو خلفائے راشدین کا زمانہ یاد آنے لگا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پر نانا ہوئے ، جب ماں باپ نیک ہوتے ہیں تو بچے بھی نیک ہوتے ہیں، جب ماں باپ ہی نیک نہ ہو توبچوں سے نیک ہونے کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے،۔✓ ہمارے اسلاف دینداری کو دیکھ کر شادی کیا کرتے تھے مال کو دیکھ کر کے نہیں، اج تو لڑکے والے دیکھتے ہیں کہ لڑکے والے کتنا جائز دیں گے، اور سامان کا ایک لمبا لسٹ پکڑا دیا جاتا ہے کہ ہمیں یہ یہ سامان چاہئے ، آج انسان کی قدر و قیمت نہیں ہے، ایک باپ نے اپنی بیٹی کو پال پوس کر کرکے بڑا کیا، اس کو پڑھا لکھا کر کے اچھا انسان بنایا، پھر اس نے اپنی لخت جگر کو آپ کے حوالے کر دیا، اور اس سے بڑھ کر آپ کو کیا چاہئے ، لیکن آج انسان کی قدر نہیں ہے مال کی قدر ہے،،،  جو کام اللہ اس کے رسول کے فرمان کے مطابق ہو اس میں رحمتیں اور برکتیں ہوتی ہیں،  اور جو کام اللہ اس کے رسول کی نافرمانی پر ہوتے ہیں اس میں برکتیں نہیں ہوتی، آج ہم سنتوں سے دور ہیں اس لئے ہم پریشان ہیں،

    وآخر دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین 

     

بہت سے والدین اپنے بچوں پر اعتماد کر کے بیٹھے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے بچے بغیر شادی کے شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں۔ اور اس سب کچھ کا وبال والدین کے اوپر ہے کہ مناسب رشتہ ہونے کے باوجود مین میخ نکال کر شادیاں نہیں کرتے اور بچوں کو گناہ کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ پڑھائی کے نام پر پندرہ بیس لاکھ لگا دیں گے لیکن اس کو بدکاری سے بچانے کے لیے ان کے پاس شادی کرنے کے پیسے نہیں ہیں۔ ایسی حرام کی زندگی سے تو بہتر ہے کہ اس کا صرف نکاح ہی کر دیں۔ وہ بچی جسے گھر م

                                  

  
                          دوسرا مضمون

«إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً»
  وہ نکاح سب سے زیادہ بابرکت ہے جس میں اخراجات کم ہوں،
  اللہ کے نزدیک وہ نکاح پسندیدہ ہے جس میں خرچہ کم ہو، شریعت کے نزدیک وہ نکاح کامیاب ہے جس میں دکھاوا اور فضول خرچی نہ ہو ، اللہ کے نزدیک نکاح کی کامیابی کا معیار عالیشان شادی ہال ، بہترین سجاوٹ ، ہزاروں قسم کے کھانے ، یا لاکھوں روپے کے قیمتی کپڑے نہیں ہیں، بلکہ وہ سادگی ہے جو سنت کے مطابق ہو۔ وہ آسان شادی ہے جسمیں فضول خرچی نہ ہو اور وہ شادی ہے جو رسم و رواج سے پاک ہو ،  ہم جتنا زیادہ سنت کے مطابق شادی کریں گے، ہم جتنا زیادہ سادگی اختیار کریں گے، ہماری ازدواجی زندگی اتنی ہی خوشحال، پرسکون اور برکت والی ہوگی۔ 
 جیساکہ جنابِ محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا:    «إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً»۔ وہ نکاح سب سے زیادہ بابرکت ہے، جس میں اخراجات سب سے کم ہوں، مگر افسوس کہ آج ہم نے اس حدیث کو بھلا دیا ، 
  آج ہم نے نکاح کو برکت کا ذریعہ نہیں بلکہ نمائش کا ذریعہ بنا لیا ہے، 
آج ہم نے نکاح کو عبادت نہیں بلکہ تجارت بنا لیا ہے ، 
  آج ہم نے نکاح کو آسانی کا راستہ نہیں بلکہ مشکلات کا بوجھ بنا دیا ہے۔
آج ہم نے نکاح کو سکون اور محبت کا ذریعہ نہیں بلکہ ٹینشن بنادیا ہے ، 
آج ہم نے نکاح کو رحمت کا سایہ نہیں بلکہ قرض اور بوجھ کا سبب بنا لیا ہے۔
جس نکاح کی بنیاد  اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی پر ہو،
جہاں اسراف ہو،
جہاں دکھاوا ہو،
وہاں برکت کہاں سے آئے گی؟
وہاں سکون کیسے نازل ہوگا؟
وہاں رحمت کیسے اترے گی؟
وہاں میاں بیوی کے درمیان محبت کیسے قائم ہوگی،

        آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ہم نے نکاح کو مشکل اور زنا کو آسان بنا دیا ہے۔ لاکھوں روپے کے اخراجات، جہیز کی فرمائشیں اور بے جا رسموں نے غریب کی بیٹی کو گھر میں بٹھا دیا اور نوجوانوں کے لیے حلال راستہ دشوار کر دیا۔
صحابہ کرامؓ کے دور میں معاملہ اس کے برعکس تھا؛ وہاں نکاح آسان تھا اور زنا مشکل۔

ذرا غور تو کیجیے! مدینہ کی ریاست ہے، اللہ کے نبی ﷺ موجود ہیں، اور آپ ﷺ کے جلیل القدر صحابی حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نکاح کر لیتے ہیں۔ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ کائنات کے سردار ﷺ کو بھی اطلاع نہیں دی جاتی۔ جب اللہ کے رسول ﷺ نے ان کے کپڑوں پر مہندی کا نشان دیکھا تو پوچھا: "عبدالرحمن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں نے نکاح کر لیا ہے۔
اللہ اکبر! قربان جائیے اس نبی پر ، اللہ کے رسول ﷺ نے ان سے کو ئی شکایت نہیں کی، آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ "عبدالرحمن! میں تمہارا نبی ہوں، میں تمہارا لیڈر ہوں، میں تمہارا سردار ہوں، تم نے مجھے کیوں نہیں بلایا؟" میرے ہو تے ہوئے تم نے شادی کر لی اور مجھے نہیں بلایا، آپ نے کوئی بھی شکایت نہیں کی، بلکہ آپ ﷺ نے برکت کی دعا دی اور فرمایا: "ولیمہ کرو، چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو۔
 آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اج ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں، 
اگر ہمیں شادی میں نہ بلایا جائے تو ہم دشمنی پر اتر آتے ہیں، 
اگر ہمیں دعوت نہ دی جائے سب محبت نفرتوں میں بدل جاتی ہے ،
اگر فون پر دعوت دے دی مگر کارڈ گھر تک نہ پہنچا تو ہم اسے اپنی توہین سمجھ لیتے ہیں، اور دعوت قبول نہیں کرتے، اور طرح طرح کے شکوے شکایت کرتے پھرتے ہیں ۔

اختتامی چیلنج
آئیے! آج اس محفل سے یہ عہد کر کے اٹھیں:

ہم اپنے بچوں کے نکاح میں سادگی لائیں گے!

ہم نمائش اور دکھاوے کا بائیکاٹ کریں گے!
ہم شکوے شکایت کرنے والوں کی پرواہ نہیں کریں گے، ہم صرف اپنے رب کو راضی کریں گے!



میرے بھائیو اور بہنو! ذرا سوچئے… نکاح جسے اللہ نے سکون بنایا، ہم نے اسے بوجھ بنا دیا۔ نکاح جسے نبی کریم ﷺ نے آسان کیا، ہم نے اسے مشکل بنا دیا۔ جس بندھن کو رحمت اور برکت ہونا تھا، ہم نے اسے رسم و رواج، نمود و نمائش اور قرض کے طوق میں جکڑ دیا۔ اگر ہم نے اپنے طریقے نہ بدلے تو معاشرہ بے سکونی، بے حیائی اور تاخیرِ نکاح کی آگ میں جلتا رہے گا۔ آئیے عہد کریں کہ نکاح کو پھر سے سنت کی سادگی، عبادت کی نیت اور تقویٰ کی بنیاد پر قائم کریں گے۔ سادگی اپنائیں گے، آسانی پھیلائیں گے، اور اپنے گھروں کو رحمتوں کا گہوارہ بنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نکاح کو حقیقی معنوں میں برکت، عبادت اور سکون کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


واقعہ 
ایک کتاب ہے انمول واقعہ 
اس کتاب میں حضرت مولانا لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی یہ شادی کا واقعہ بیان کیا گیا ہے ،
حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اپنے وقت کے عظیم عالم اور شیخ الحدیث گزرے ہیں، اپ سکھ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، آپ کے ماں باپ غیر مرسلم تھے ، اللہ نے ان کو ہدایت دی اور یہ مسلمان ہو گئے، جب یہ ایمان لائے تو سب کچھ چھوڑ کر علم کی پیاس بجھانے کے لیے دیوبند آگئے ،نہ کوئی بینک بیلنس تھا، نہ زمین و جائیداد تھی ، صرف اخلاص اور تقویٰ تھا ۔
اپنے نکاح کا واقعہ ہو خود بیان کرتے ہیں، فرماتے ہیں کہ جب میں دارالعلوم دیول میں پڑھ رہا تھا، تو ایک ادمی اپنی بیٹی کا رشتہ تلاش کرتے کرتے دیو بند اگیا ، میں کلاس میں پڑھ رہا تھا انہوں نے مجھے کلاس میں دیکھا، اور بعد میں مجھ سے کہا کہ میں اپنی بیٹی کے نکاح تمہارے ساتھ کرانا چاہتا ہوں، 
سوچیے!اس وقت مولانا لاہوری ایک طالب علم تھے، اس وقت نہ کوئی بینک بیلنس تھا نہ زمین و جائیداد تھی ،اور نہ دولت کا انبارتھا ۔ سکھ گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایمان کی دولت عطا فرمائی تھی اور علمِ دین حاصل کرنے کے لیے دیوبند اگئے تھے، 
اس شخص نے مال نہیں دیکھا، منصب نہیں دیکھا، گھر کی چمک دمک نہیں دیکھی — اس نے اخلاص دیکھا، دیانت دیکھی، تقویٰ دیکھا… اور فیصلہ کر لیا کہ اپنی بیٹی ایسے شخص کے سپرد کرنی ہے۔
یہ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے ان کے پاس علم حاصل کرتے تھے، جب حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے اگلے دن عصر کے بعد نکاح کا وقت مقرر فرما دیا۔ 
ساتھیوں نے کہا:
“کل تمہارا نکاح ہے، کوئی نیا کپڑا خرید لو!”
عرض کیا:
“میرے پاس نئے کپڑے خریدنے کے پیسے نہیں ہیں۔”
جو کپڑے موجود تھے، وہی دھو لیے۔
مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا — اگلے دن بارش ہو گئی، کپڑے نہ سوکھ سکے… اور نکاح کا وقت آ گیا۔
حضرت مولانا احمد لاہوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں وہی گیلے کپڑے پہن کر نکاح کی مجلس میں حاضر ہو گیا۔ سسر صاحب دیکھ رہے تھے — کل بھی یہی کپڑے تھے، آج بھی یہی گیلے کپڑے ہیں… لیکن نہ کوئی طعنہ، نہ کوئی اعتراض، نہ کوئی حقارت بھری نگاہ۔۔۔۔ 
انہوں نے کپڑوں کو نہیں دیکھا، کردار کو دیکھا۔
انہوں نے غربت کو نہیں دیکھا، غیرت کو دیکھا۔
انہوں نے جیب نہیں دیکھی، دل دیکھا۔
نکاح ہو گیا۔
چند دن بعد رخصتی ہوئی۔
باپ نے بیٹی سے پوچھا:
“بیٹی! اپنے شوہر کو کیسا پایا؟”
بیٹی نے جواب دیا:
“میں سنا کرتی تھی کہ انسان مرنے کے بعد جنت میں جائے گا،
لیکن آج معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو دنیا ہی میں جنت عطا فرما دیتا ہے۔
وہ گھر میرے لیے جنت کی مانند ہے۔ وہاں ایسا سکون ہے جیسے جنت میں ہو۔”
حالانکہ فقر و فاقہ کی زندگی تھی — طالب علم تھے، وسائل محدود تھے —
لیکن تقویٰ تھا، پرہیزگاری تھی، اللہ کا خوف تھا، حقوق کی پہچان تھی، رشتوں کو نبھانے کا سلیقہ تھا۔
یہ واقعہ ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
یہ سکھاتا ہے کہ جب نکاح سادگی کے ساتھ ہو، سنت کے طریقے پر ہو، اورجب نکاح کی بنیاد دولت نہیں بلکہ دینداری ہو،
تو گھر آباد ہوتے ہیں،
دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے،
اور زندگیوں میں سکون اترتا ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں سادگی اپنانے اور نکاح کو واقعی برکت کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
     بہت عظیم ہیں وہ میاں بیوی
 جو ایک دوسرے کے عیب چھپاتے ہیں اور کسی کے سامنے اپنے شریک سفر کی برائی نہیں کرتے ۔
اسلامی تعلیمات میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا "لباس" قرار دیا گیا ہے۔ لباس کا کام صرف جسم کو ڈھانپنا ہی نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسان کے عیبوں کو چھپاتا ہے، اسے موسم کی سختیوں سے بچاتا ہے اور اسے زینت بخشتا ہے۔ بالکل اسی طرح، ایک عظیم میاں بیوی وہ ہیں جو دنیا کے سامنے ایک دوسرے کی ڈھال بن کر کھڑے ہوں۔
انسانی فطرت ہے کہ کوئی بھی شخص مکمل نہیں ہوتا۔ ہر انسان میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور خامیاں بھی۔ لیکن ایک کامیاب ازدواجی زندگی کا راز اس میں ہے کہ:
خامیوں کو تنہائی میں درست کیا جائے اگر شریکِ سفر میں کوئی کمی ہے، تو اسے پیار اور اخلاص کے ساتھ اکیلے میں سمجھایا جائے۔
خوبیوں کا چرچا کیا جائے دوسروں کے سامنے ہمیشہ اپنے ساتھی کی عزت بڑھائی جائے تاکہ لوگ بھی ان کا احترام کریں۔
جب کوئی شخص اپنے جیون ساتھی کی برائی دوسروں کے سامنے کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنی ہی شخصیت کا ایک کمزور پہلو ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔ لوگوں کے سامنے کی گئی برائی عارضی ہمدردی تو دلا سکتی ہے، لیکن وہ آپ کے گھر کی دیواروں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ یاد رکھیے، لوگ باتیں بھول جاتے ہیں، لیکن رویے زخم بن کر رہ جاتے ہیں۔
وہ میاں بیوی واقعی عظیم ہیں جو ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرتے ہیں۔  اپنے گھر کی باتیں کمرے کی دہلیز سے باہر نہیں جانے دیتے۔ مشکل وقت میں ایک دوسرے کی کمزوری بننے کے بجائے طاقت بنتے ہیں۔

گھر اینٹ پتھر سے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے مان اور بھرم سے بنتا ہے۔ جو میاں بیوی ایک دوسرے کے رازدار ہوتے ہیں، ان کا رشتہ وقت کی ہر دھوپ اور چھاؤں میں سلامت رہتا ہے۔ پردہ پوشی کرنا بزدلی نہیں، بلکہ ایک اعلیٰ ظرف انسان ہونے کی دلیل ہے۔

ماخوذ از تراشے






Post a Comment

0 Comments