محرم الحرام

     

                            بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم

    الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضللہ ومن یضلل فلا ھادی لہ ونشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان سیدنا ومولٰنا محمدا عبدہ ورسولہ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ

        تمہید:

   ہر سال جب نیا سال آتا ہے تو دنیا بھر میں خوشیاں منائی جاتی ہیں، جشن منائے جاتے ہیں، اور پارٹی کی جاتی ہیں، اور نئے سال کے نام پر طرح طرح کے خرافات کیے جاتے ہیں،  لیکن جب مسلمانوں کا نیا سال شروع ہوتا ہے تو ہمارے سر جھکے ہوتے ہیں، آنکھیں نم ہوتی ہیں اور دل فکر و عبرت میں ڈوبا ہوتا ہے۔ کیونکہ ہماری زندگی کا ایک سال کم ہو چکا ہوتا ہے، ہم موت کے قریب جا رہے ہوتے ہیں،  اور ہم اپنے بیوی بچو کو اور  رشتہ داروں کو چھوڑ نے کے قریب  ہوتے جا رہے ہیں ، یہ مہینہ ہمیں صرف وقت کے گزرنے کا نہیں بلکہ قربانی، صبر، وفا اور حق کی راہ میں استقامت کا پیغام دیتا ہے۔

  مضمون:

  میرے محترم دوستو اور نوجوان ساتھیو!

  یہ مہینہ محرم الحرام کا مہینہ شروع ہو چکا ہے، اور یہ مہینہ اسلامی مہینوں کے اعتبار سے پہلا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ نہایت مبارک، بابرکت اور عبرت آموز مہینہ ہے، جس کی عظمت خود قرآن و حدیث سے ثابت ہے 

       اللہ جل شانہ نے اس کائنات کے نظام میں سورج اور چاند دونوں کو تاریخ معلوم کرنے اور حساب رکھنے کا ذریعہ بنایاہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ :

    ترجمہ: وہی ہے جس نے سورج کو روشنی اور چاند کونور بنایا اور چاندکے لیے منزلیں مقرر کردیں تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان لو ۔ 

  ۔۔ہمارے یہاں دوطرح کی تاریخوں کا استعمال ہوتاہے ، ہم دو طرح کی تاریخوں کو جانتے ہیں، 1 شمشی  2 اور قمری، 

   ،  اور ان تاریخوں کو انگریزی،اور اردو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔  ہمیں انگریزی تاریخ تو یاد رہتی ہیں مگر اردو تاریخ یاد نہیں رہتی۔۔ حالانکہ ہمیں اردو کی تاریخ یاد رکھنی چاہئے کیونکہ ہماری تمام عبادتیں اس سے جڑی ہوئی ہیں۔ 

                  تاریخ قمری کی ابتدا

    شروع اسلام میں مسلمانوں میں تاریخ لکھنے کا رواج نہیں تھا ، حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کے دور میں، چنانچہ بصرہ کے گورنر، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے خلیفہِ وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے عرض کیا:

"امیر المؤمنین! آپ کی جانب سے ہمارے پاس سرکاری خطوط اور احکامات آتے ہیں، جن پر (مہینے کا نام تو ہوتا ہے مگر) سال یا تاریخ درج نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے یہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا خط پہلے کا ہے اور کون سا بعد کا۔ حالانکہ تاریخ لکھنے کے بے شمار انتظامی اور دستاویزی فائدے ہیں۔"


  حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس مسئلے کی اہمیت کو محسوس کیا  اور اس میں غور و فکر کیا تو معلوم ہوا کہ جب دنیا کی تمام قوموں کے پاس اپنی تاریخ ہے اپنا کیلنڈر ہے،تو  ہماری بھی تاریخ ہونی چاہیے ہمارا بھی اپنا کیلنڈر ہونا چاہیے، لہاذا بڑے بڑے، صحابہ کرام کی ایک مٹنگ بلائ ، اور میٹنگ میں یہ بات رکھی گئی کہ ہمارا بھی ایک کیلنڈر ہونا چاہیے ہماری بھی تاریخ ہونی چاہیے تو ہمارے کیلنڈر کی ہماری تاریخی شروعات کہاں سے ہونی چاہیے کیا بہتر رہے گا، تو صحابہ کرام کی جانب سے چار طرح کے مشورے سامنے آئے ، ایک راۓ یہ تھی کہ آپ ﷺ کی والادت سے اسلامی سال کا آغاز کیا جائےکہ۔ دوسری رائے یہ تھی کہ نبوت کے سال سے اسلامی سال کا آغاز کیا جاۓ۔ تیسری رائے یہ تھی کہ ہجرت کے سال سے اسلامی سال کا آغاز کیاجائے ۔ اور چوتھی رائے یہ تھی کہ آپ ﷺ کی وفات سے اسلامی سال کا آغاز کیا جائے، ان تمام راؤ پر ریسرچ کر نے کے بعد یہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسلامی سال کا آغاز ہجرت سے کیا جائے۔۔ کیونکہ اسی سال سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام امن وسکون کے ساتھ بلاخوف وخطر پروردگار کی عبادت کرنے لگے، اسی سال مسجدِ نبوی کی بنیاد رکھی گئی جو دراصل دینِ اسلام کی نشرواشاعت کا مرکز تھی۔۔۔ 

       ہماری شریعت میں جو احکام وقت سے متعلق ہیں، مہینوں سے متعلق ہیں، اس میں اردو،  تاریخ کا اعتبار ہوتا ہے،  ۔ انگریزی تاریخ  کا اعتبار نہیں ہوتا ہے، ہماری بہت ساری ایسی  عباتیں ہیں جو  وقت سے متعلق ہیں، مہینوں سے متعلق ہیں، ، جیسے رمضان کا مہینہ ، حج کا مہینہ ، شبِ معراج، شبِ قدر،  شب برات، عید، بقرعید، یہ تمام کی تمام عبادتیں چاند کی تاریخ سے متعلق ہیں  اس لئے ہمیں چاند کی تاریخ کو بھی یاد رکھنا  چاہئے،  29 اور 30  تاریخ کو چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ 

    آج ہماری زندگی کے تمام معملات ،  ہر قسم کا کاروبار، ہر قسم کا لین دین،  شادی، بیاہ ، عقیقہ  اور جو دوسرے پروگرام متعین کئے جاتے ہیں ، وہ شمشی تاریخ کے اعتبار سے متعین کئے جاتے ہیں ، اس لئے ہمیں انگریزی تاریخ تو یاد رہتی ہے ،  مگر قمری تاریخ یاد نہیں رہتی اور نہ مہینے یاد رہتا ہے۔

    بہر حال  یہ محرم کا مہینہ چل رہا ہے اور  محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے ۔  الله تعالٰی قرآن مجید میں فرماتے ہیں ، إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُم [ پارہ 10 :  سورۃ توبہ: 36]

   ترجمہ: بیشک مہینوں کی تعداد اللہ تعالی کے نزدیک بارہ ہیں  ،جس دن سے آسمان و زمین کو بنایا گیا ہے ، ان میں سے چار حرمت والے ہیں، یہی مضبوط دین ہے، اس لیے ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم مت کرو۔  [سورۃ توبہ: 36]

     قرآن کریم کے مطابق جس دن الله تعالٰی نے  زمین و آسمان کو بنایا اسی دن بارہ مہینوں کو بھی بنایا تھا  ، اور ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو قابلِ احترام بنایا ہے  الله تعالٰی فرماتے ہیں    مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ  وہ چار  مہینے کون کون سے ہیں  آپﷺنے اس کی وضاحت فرماتے ہوۓ بتایا ہیکہ وہ چار مہینے , ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم، اور رجب ہے،  یہ چار مہینے ہیں جو قابل احترام ہیں ، اور ان مہینوں کا مقام و مرتبہ دوسرے مہینوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔۔۔ ظلم کی بہت ساری شکلیں ہوسکتی ہیں ، الله تعالٰی کہ نافرمانی کرنا بھی ظلم ہے، انسانوں کو ستانا بھی ظلم ہے۔ الله کے بندوں کے حقوق کو چھیننا، ان کو مارنا پیٹنا، چوروں، ڈکیتی، اور چغل خوری کرنا یہ بھی ظلم ہے۔ لہاذا ان مہینوں خاص طورپر گناہوں سے بچنا چاہئے، سال کے تمام دنوں میں گناہ گناہ ہے، کبھی بھی الله تعالٰی کی نافرمانی غلط ہے۔لیکن ان مہینوں میں گناہ کی قباحت بڑھ جاتی ہے، گناہوں کی سختی بڑھ جاتی ہے ، اور اس کا گناہ بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ الله تعالٰی نے خاص طور پر اس مہینے میں گناہ سے بچنے کیلئے کہا ہے۔

    میرے بھائیو اور بزرگوں! محرم الحرام کا مہینہ کوئی عام مہینہ نہیں ہے۔ یہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں "حرمت والے (مقدس) مہینے" قرار دیا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نفل روزوں کی فضیلت رمضان کے بعد سب سے زیادہ ہے، جیسا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:

"رمضان کے بعد سب سے بہترین روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں" (صحیح مسلم)۔

​یہ مہینہ توبہ کا تھا، یہ مہینہ الٰہی قربت کا تھا، یہ مہینہ نواسہٴ رسول، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں سے سبق سیکھنے کا تھا کہ جان چلی جائے مگر حق کا ساتھ نہ چھوٹے اور نماز قضا نہ ہو۔

    ان چار مہینوں کا ہر زمانے میں احترام  میں ہوتا رہا ہے ، یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں کفاروں مشرکین بھی ان چار مہینوں کا احترام کرتے تھے ، اور ان کے یہاں احترام کا طریقہ یہ تھا کہ ان مہینوں میں لڑائی جھگڑا، قتل و قتال، چوری ڈکیتی،  لوٹ مار اور اس جیسے گناہوں کو چھوڑ دیتے تھے۔   حالانکہ ان کا محبوب عمل  لڑائی جھگڑا تھا، قتل و قتال تھا  اور چوری ڈکیتی  اورلوٹ مار تھا ، ایک دوسرے کے قبیلہ پر حملہ کرنا، ان کے مال و دولت کو لوٹ لینا ان کے جانوروں کو ہکا کر لے جانا  ان کے  بیوی بچوں کو غلام اور باندی بنا لینا یہی ان کا ذریعہ معاش تھا  ، یہی ان کی روزی روٹی کا طریقہ تھا۔۔۔ 

     زمانہ جاہلیت میں ان مہینوں کا احترام ہوتا تھا ، وہ لڑائی جھگڑا اور قتل و قتال کرتے تھے  مگر جب حرمت والا مہینہ شروع ہوتا تو رک جاتے تھے ،اور آج ہم مسلمان ہوکر ان مہینوں کی عظمت کو جانتے بھی نہیں ہیں کہ سال میں کچھ عظمت اور احترام والے مہینے بھی ہوتے ہیں ، ہمارے اندر اتنی تڑپ اور فکر بھی نہیں ہے کہ ہم شریعت کے احکامات کو جاننے کی کوشش کریں ۔ 

     وہ لوگ ان چار مہینوں میں اپنے کاروبار کو ترقی دیتے تھے  ، انہیں مہینوں میں تجارت کیلئے جاتے تھے،  اور بزنس کیلئے دور دور کا سفر کرتے تھے  ،اپنے شہر کا  سامان لے جاکر دوسری سٹی میں بیچتے اور دوسری سٹی سے سامان  لاکر اپنے یہا بیچتے تھے، کیونکہ ان مہینوں میں چوری ٹکیتی ، اور لوٹ مار کا خطرہ نہیں تھا ،  کیونکہ سارے راستے محفوظ رہتے تھے  پھر جب یہ چار مہینے ختم ہوجاتے تو دوبارہ  لڑائی جھگڑا، قتل و قتال، چوری ڈکیتی، اور لوٹ مار شروع کر دیتے تھے۔۔ 

     اسی وجہ سے ان کے یہا ایسے لوگوں کی ضرورت تھی جو میدان میں لڑائی کرسکے، تلوار اٹھا سکے ، یہ کام مرد کر سکتے ہیں اور،عورتیں نہیں کرسکتی   ۔ اس لئے ان کے یہاں لڑکیوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی،  اگر ان کے یہاں لڑکا پیدا ہوتا تو گھر میں خاندان میں جشن کا ماحول ہوتا تھا ،  خوشی کا ماحول ہوتا تھا لڑکا پیدا ہونے کی وجہ  گھر کی طاقت مضبوط ہوتی تھی، اور خاندان کی گردن اونچی ہوتی تھی ۔۔ اور اگر لڑکی پیدا ہو جاتی تو چہرے سیاہ ہوجاتے تھے ،لوگوں سے بتا تے ہوۓ شرم آتی تھی، لوگوں سے اپنے منہ کو چھپاتے پھر تے تھے  کہ لوگوں کو معلوم نہ ہو جائے کہ میرے گھر میں بچی پیدا ہوئ ہے۔ الله تعالٰی قرآن مجید میں ایسے لوگوں میں فرمایا ہے   واِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ  سور نحل 58

   ترجمہ : اور جب ان میں سے کسی کو  بیٹی کی خوشخبری دی جائے تو اس کا منہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غمگین ہوتا ہے  ۔ اور کچھ بد قسمت تو ایسے ہوتے تھے جو اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے ۔۔۔ 

   وہ زمانہ جاہلیت کا زمانہ تھا، وہ دور اندھیروں کا دور تھا۔ لیکن  آج کا ہمارا زمانہ ترقی کا زمانہ ہے، تعلیم کا زمانہ ہے، اندھیروں کا دور ختم ہوچکا ہے۔آج ہر طرف روشنی ہے، بجلی سے ساری دنیا روشن ہوچکی ہے،  سڑکوں پر لائٹ لگنے کی وجہ سے روشنی پھیل گئی ہے، آج ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے۔ لیکن جہالت کی وہ تاریکی جو زمانہ قدیم میں تھی  اس کے  اثر  آج بھی ہمارے معاشرے میں پا جاتا ہے  ، آج بھی ہمارے معاشرے کا حال یہ کہ لڑکے کی پیدائش پر خوشی منائی جاتی ہے ،  جشن کا ماحول ہوتا ہے،اس کے فوٹو کوہر جگہ  شیئر کیا جاتا، وہاٹ سپ پر اسٹیٹش رکھا جاتا ہے،دوستوں کو پارٹی دی جاتی ہے، اور خاندان والوں کو دعوت دی جاتی ہے،،   اور اگر  لڑکی پیدا ہوتی تو خوشی ختم ہوجاتی ہے  ، جشن غائب ہوجاتا ہے۔ پریشانی اور الجھن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو اپنی بیوی کو مارتے ہیں، ایسے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ اولاد دینے کا حق الله تعالٰی کو ہے، وہ جسے چاہتا ہے بیٹا عطا کرتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بیٹی عطا کرتا ہے۔۔ میرے بھائیوں ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کیا ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ہے، ہماری زندگی میں ایسا نہیں ہے۔ اگر لڑکا پیدا ہوتا ہے تو ہمیں خوشی ہوتی اور لڑکی پیدا ہونے پر غم ہونے لگتا ہے، لڑکا پیدا ہونے پر خوشی منانا اور لڑکی پیدا ہونے پر غم منانا یہ کافروں کا طریقہ ہے، مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہے،  میرے بھائیوں ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے، اپنا معاشرہ اور سو سائٹی بدلنے کی ضرورت ہے،  کسی گھر میں بیٹا یا بیٹی کا پیدا ہونا یہ الله تعالٰی کا فیصلہ ہے اور الله تعالٰی کے فیصلے پر ہر حال میں  خوش رہنا ہے۔۔۔ 

       شھادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ 

      بہرحال بات یہ چل رہی تھی کہ میرے محترم بزرگوں، بھائیوں اور پیارے بچو!

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، یہ محرم الحرام کا مہینہ چل رہا ہے اور آج اس مبارک مہینے کی چار تاریخ ہے۔ یہ مہینہ اسلامی کیلنڈر کے اعتبار سے سال کا پہلا مہینہ ہے، جو اپنے اندر عظمت، برکت اور فضیلت کے سمندر سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جسے اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں "چار حرمت والے (مقدس) مہینوں" میں شمار فرمایا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نفل روزوں کی فضیلت رمضان کے بعد سب سے زیادہ ہے، جیسا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:

"رمضان کے بعد سب سے بہترین روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں" (صحیح مسلم)۔

        میرے بھائیو! محرم الحرام کا یہ مہینہ جہاں سے ہمارے اسلامی سال کی شروعات ہوتی ہے، تو وہیں یہ مہینہ تاریخِ اسلام کے ان عظیم اور نامور شہدا کی بھی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے دینِ اسلام کی بقا، اس کی سربلندی اور حق کے پرچم کو بلند رکھنے کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیا تھا،  

بلاشبہ، جب بھی محرم الحرام کا چاند نظر آتا ہے اور یہ مہینہ شروع ہوتا ہے، تو ہم سب کا ذہن، ہمارے دل اور ہماری سوچیں سیدھی میدانِ کربلا کی طرف چلی جاتی ہیں۔ جہاں نواسہٴ رسول، جگر گوشہٴ فاطمہ، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی مظلومانہ شہادت کا دلدوز واقعہ پیش آیا تھا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے ہم سب واقف ہیں اور جس کا غم ہر کلمہ گو کے دل میں موجود ہے۔اور اس مہینے میں اسلامی تاریخ کا بترین واقعہ پیش آیا تھا، وہ کربلا کا واقعہ ہے،  وہ  حضرت حسین رضی الله عنہ کی شھادت کا  واقعہ ہے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کون نہیں جانتا؟  لیکن جو لوگ نہیں جانتے میں ان کو بتاتا چلوں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے نواسے ہیں  ،  آپ ﷺ کی چار بیٹیاں تھی ان میں سے ایک بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں،  ان کے دو بیٹے تھے، حسن اور حسین رضی اللہ عنھما اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو محرم کے مہینے میں دس تاریخ کو میدان کربلا میں شہید کردیا گیا تھا۔

     وجہ یہ ہوئ کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  انتقال ہوا  تو ان کا بیٹا یزید خلیفہ بن گیا اور بہت سارے لوگ یہ چاہتے تھےکہ وہ خلیفہ بنے ان لوگوں نے اس کے ہاتھ پر کی اور اسکو اپنا خلیفہ بھی مان لیا۔ لیکن بڑے بڑے صحابہ کرام نہیں چاہتے تھے کہ وہ امت مسلمہ کا خلیفہ بنے  کیونکہ یزید فاسق فاجر اور گنہگار آدمی تھا، اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بھی اس کی خلافت کو تسلیم نہیں، یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر بھیجا لوگو نے میرے ہاتھ پر بیعت کرکے مجھے خلیفہ مان لیا ہے، اور میں یہ چاہتا ہو آپ بھی میرے ہوتھ پر بیعت کرکے مجھے خلیفہ مانو، تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اس کی خلافت ماننے سے انکار کردیا۔۔۔  ادھر کوفہ والوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر بھیجا ہم آپ کو خلیفہ بنانا چاہتے، ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتے ہیں ، آپ ہمارے یہا کوفہ آجایئے ، کو فہ والوں نے پچاس سے زائد خط حضرت حسین کو بھیجے ، جب ان کا اصرار زیادہ ہونے لگا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے مسلم بن عقیل کو کو کے حالات کا جائزہ لینے کیلئے بھیجا مسلم بن عقیل نےکوفہ پہونچ کر حالات کا جائزہ لینے کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر بھیجا کہ یہا کے حالات اچھے ہیں اور لوگ آپ کو خلیفہ بنانے کیلئے تیار ہیں۔۔۔۔ 

    حضرت حسین رضی اللہ عنہ اہل بیت کو لیکر اور اپنے ساتھیوں کو لیکر کوفہ کی جانب روانہ ہوۓ ، تقریباً 20 اہل میں تھے اور باقی ان کے اصحاب تھے ۔ راستے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو معلوم ہواکہ کوفہ کی حکومت نے مسلم بن عقیل کو قتل کر دیا۔۔ اس وقت کوفہ میں یزید کی حکومت تھی اور کوفہ گورنر ابنِ زیاد تھا جو یزید کا آدمی تھا ، اور یہ بہت بڑا ظالم آدمی تھا اور اسی نے مسلم بن عقیل کو قتل کروایا تھا۔۔۔ 

   ادھر ابنِ زیاد کو معلوم ہواکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کوفہ  آ رہے ہیں تو اس نے اپنی فوج کو حکم دیاکہ جاؤ حسین کو پکڑ کر لاؤ  ، لہاذا ان کے لشکر نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اور ان کے ساتھیوں کو میدان کربلا میں چاروں طرف سے گھیر لیا ۔ اور ان سے کہا کہ تمہارے پاس دو راستے ہیں 1 تم  ہمارے ساتھ کوفہ چلوں اور ہماری حکومت کو تسلیم کرو۔  2 یا پھر لڑائی کرنے کیلئے تیار ہو جاؤ ۔۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ان کو سمجھایا کہ میں لڑائی کرنے نہیں آیا ہو، اور میرا لڑائی کا کوئی ارادہ نہیں، یہ میرا اور یزید کا معاملہ ہے لہذا میں شام یزید کے پاس چلا جاتا ہو تاکہ اس ملکر کوئی راستہ نکال لیا جائے ان لوگوں نے ان کو شام جانے نہیں دیا، یا پھر میں اپنے وطن واپس چلا جاتا ہو ان لوگوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو مدینہ بھی جانے نہیں دیا، ان لوگوں کا کہنا تھا کہ تم ہمارے ساتھ کوفہ چلو یا پھر لڑائی کرنے کیلئے تیار ہوجاؤں ۔۔ آخر کار جب وہ لوگ نہیں مانے تو لڑائی شروع ہوئی ، ایک طرف بہت بڑا لشکر ہے۔ اور دوسرے 72 سے 80 آدمی ہیں۔۔ ایک طرف ایک بڑی جماعت ہے جسمیں ہزاروں آدمی ہیں۔۔ اور دوسری طرف چھوٹی سی جماعت ہے، جسمیں 72 سے 80 آدمی ہیں۔۔ اور یہ لڑائی چلتی رہی دشمن کے بہت سارے لوگ مارے گئے، لیکن یہ چھوٹی سی جماعت تھی ایک ایک کرکے تمام لوگ شہید ہوگئے۔ آخر میں اکیلے حسین رضی اللہ عنہ بچے کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ ان حملہ کرے۔ لہذا ان لوگوں نے مشورہ کیا تمام لوگ ایک ساتھ حملہ کرتے ہیں ، ان سب نے ملکر ایک ساتھ حملہ کیا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی شہید کردیا ۔ اور ایک بدبخت انسان حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر کو تن سے جدا کردیا۔۔ تو اسطرح سے محرم کے مہینے میں دس تاریخ کو میدان کربلا میں اسلام کا بدترین واقعہ پیش آیا 😤😤😤😤😤😤😤😤 جسمیں بغیر کسی گناہ کے، بغیر کسی غلطی کے، بغیر کسی جرم کے آپ ﷺ کے نواسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا۔۔ 

اس کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کو اور تمام اہلِ بیت کی عورتوں کو کو کوفہ لے جایا گیا ۔ اس کے بعد شام یزید کے پاس بھیج دیا گیا، یزید نے جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر کو دیکھا تو افسوس کا اظہار کیا اور کہا میرا یہ مقصد نہیں میرا مقصد اتنا تھا کہ ان کو زندہ پکڑ کر لاؤ ، اللہ تعالیٰ زیادہ جانتے ہیں کہ اس نے افسوس کا اظہار حقیقت میں کیا تھا یا لوگو دکھا نے کیلۓ کیا تھا، اسکے بعد یزید نے تما عورتوں کو عزت کے ساتھ مدینہ منورہ بھج دیا ۔۔۔۔ 

   نوٹ حضرت حسین کے ساتھ  80 آدمی تھے مرد اور عورت دونو ملا کر  20 اہل بہت میں اور باقی ان کے اصحاب تھے۔ لڑائی دس محرم کو صبح وقت شروع ہوئی تھی 

یہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ ہے جو چوہدہ سو سال پہلے گزر چکا ہے ، اور جن لوگوں نے ان کو شہید کیا تھا وہ لوگ بھی مر چکے ہیں ، یہ معاملہ الله ہاتھ میں ہے، اللہ تعالی ان کو ان کے گناہوں کی سزا دیگا۔۔ لیکن ان کے غم میں نوحہ کرنا، کپڑوں کو پھاڑ نا، تلوار، چاقو، اور بلیڈ سے بدن کو تکلیف دینا، انگاروں سے کھیلنا، اور شراب پیکر ناچ گانے اور ڈانس کرنا یہ ہماری شریعت میں نہیں ہے، یہ ہمارے دین کا حصہ نہیں ہیں۔۔ 

ہمیں وہ کام کرنا جو آپ ﷺ کرتے تھے صحابہ کرام کرتے تھے


                  محر کے نام پر بدعات

     ماہِ محرّم اسلامی سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے،اوران چار حرمت والے مہینے میں سے ایک ہے جنہیں آسمان وزمین کی تخلیق کے وقت سے ہی محترم قراردیا گیا ہے۔اس ماہ کے روزے کو رمضان کے بعد سب سے بہتر نفلی روزہ قراردیا گیا ہے،اوراس کی دسویں تاریخ کے روزہ کو گذشتہ ایک سال کے صغیرہ گناہ کی بخشش کا سبب بتایا گیا ہے، البتہ یہود کی مخالفت میں دسویں محرّم کے ساتھ نویں محرّم کو بھی روزہ رکھنے کا استحبابی حکم دیا گیا ہے۔

    مگرافسوس! کہ مسلمان اس ماہ کے سلسلے میں افراط وتفریط اوربے راہ روی کےشکار ہیں۔چناں چہ بعض توایسے ہیں جنہوں نے اس ماہ کو ماتم وعزاداری اورنالہ وشیون کا مہینہ بنارکھاہے اور شہادت حسین ؓ کے نام پر اس ماہ کی دسویں تاریخ کو شرک وبدعات اورغیرشرعی رسومات کا ایسا طوفان برپا کرتے ہیں کہ الأمان!والحفیظ!

   جبکہ بعض نے اس ماہ اورخاص کرکے اس کی دسویں تاریخ کو جشن اورگانے کا دن بنا لیا ہے، وہ اس دن پارٹیاں کرتے ہیں ،اورمخصوص قسم کے کھانے اورمٹھائیاں تیار کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ ساری چیزیں بدعات کی قبیل سے ہیں، اوراس میں یہود ونصاریٰ کی مشابہت پائی جاتی ہے۔۔ 

   اس مہینے میں ڈھول تاشے بجانا۔ ناچ، گانے، اور ڈانس کرنا۔ تعزئے،اور لسان کو اٹھاکر کے چکر لگانا ، اس مہینے میں شادی بیاہ کو چھوڑ کر ماتم کرنا، بلیڈ،چاکو ، چھری اور تلوار سے اپنے جسموں کو تکلیف دینا، انگاروں میں کودنا اور اس جیسے دوسروں گناہوں کو ثواب سمجھ کر کرنا شریعت سے ان چیزوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ اسلام کو بدنام کرنے والی چیزیں ہیں جو شیعوں سے لی گئی ہیں ، اور آج ہمارے لوگ بھی گناہ والے ان اعمال کو ثواب سمجھ کر کررہے ہیں ، اور لوگ بڑے شوق سے اس کو دیکھنے جاتے ہیں ، ہزاروں نو جوان، مرد اور عورت اپنے کاموں کو چھوڑ کر اس کو دیکھنے جاتے ہیں ۔ جتنے گناہ گار اس کام کو کرنے والے ہونگے، اتنے ہی گنہگار اس میں شرکت کرنے والے ہونگے ، آپ کی شرکت ان کے حوصلوں کوبڑھا رہی ہے، آپ کی شرکت ان کیلئے مدد گار ثابت ہو رہی ہے۔ لہذا ان گناہوں کو انجام دینے والے، اور دیکھنے والے دونو گناہ میں برانر کے شریک ہیں، ایسی جگہوں میں اور ایسے میلوں میں جانے سے اپنے آپ کو بچائیں اور اپنے گھر والوں کو بھی بچائیں میرے بھائیوں دین کو سمجھو اور ہمارے نبی نے ہمارے صحابہ نے اس مہینے میں جو کیا تھا ہمیں بھی وہی کرنا چاہئے۔





      *ماہِ محرم سے متعلق چند غیر شرعی اور غلط نظریات و اعمال کا اجمالی تذکرہ*


*ماہِ محرم سے متعلق اُمت میں متعدد غیر شرعی اور غلط نظریات و اعمال رائج ہیں۔ ذیل میں اُن میں سے بنیادی باتوں کا اجمالی تذکرہ کیا جاتا ہے:*


بہت سے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ماہِ محرم یا دس محرم کو جو فضیلت حاصل ہے، وہ سیدنا حضرت حسین اور اُن کے دیگر شہدائے کربلا رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالیٰ عَنْہُم کی شہادت کی وجہ سے ہے، حالاں کہ یہ بات ہرگز درست نہیں۔


 بہت سے لوگ سیدنا حضرت حسین اور اُن کے دیگر احباب رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالیٰ عَنْہُم کی شہادت کی وجہ سے اِس مہینے کو غم کا مہینہ سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اِس مہینے کو غم کے طور پر ہی مناتے ہیں۔ اِسی بنیاد پر اِس مہینے میں شادی بیاہ نہیں کرتے، مکان کی تعمیر نہیں کرتے، خوشی کی کوئی تقریب منعقد نہیں کرتے، جائز زیب و زینت اختیار نہیں کرتے، نئے کپڑے نہیں خریدتے اور نہ ہی پہنتے ہیں۔ عورتیں مہندی نہیں لگاتیں، بعض لوگ غم کی وجہ سے اِس مہینے میں سیاہ لباس پہنتے ہیں اور سوگ مناتے ہیں۔ یہ تمام باتیں غیر شرعی ہیں۔

 بہت سے لوگ ماہِ محرم میں نکاح کرنے کو معیوب اور غلط سمجھتے ہیں، بلکہ اِس مہینے میں نکاح کرنے کو نحوست کا باعث قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نکاح کی تاریخ طے کرنے سے پہلے باقاعدہ اِس مہینے پر نظر رکھی جاتی ہے کہ اگر کہیں اِس مہینے میں نکاح کی تاریخ آ رہی ہو تو بدفالی اور بدشگونی لیتے ہوئے اُسے تبدیل کیا جاتا ہے، تاکہ ”نحوست“ سے حفاظت ہو سکے اور شادی کامیاب رہے۔ یہ بھی ایک غیر شرعی نظریہ ہے۔

 بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ حضرت حسین رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالیٰ عَنْہُ کا غم منانا حضورِ اقدس ﷺ کی سنت ہے، اِس لیے ماہِ محرم میں غم منانا درست ہے۔ یہ بھی واضح غلط فہمی ہے۔

 ماہِ محرم، خصوصاً عاشورا کے دن سیدنا حضرت حسین اور دیگر اہلِ بیت رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالیٰ عَنْہُم کی شہادت کے غم میں نوحہ اور ماتم کرنے، مرثیے پڑھنے، مجالس منعقد کرنے اور بیانات کرنے کا عام رواج ہو چکا ہے۔ یہ تمام کام شریعت کے خلاف ہیں۔

 بہت سے لوگ ماہِ محرم، خصوصاً نویں اور دسویں محرم کو سبیلیں لگا کر دودھ یا شربت پلاتے ہیں، حلیم، چاول یا دیگر کھانے پکا کر تقسیم کرتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں بدعات اور غیر شرعی امور کے زمرے میں آتی ہیں، جن سے اجتناب کرنا ضروری ہے

بہت سے لوگ ماہِ محرم کی بدعات پر مشتمل کھانوں اور سبیلوں کی مجالس و مقامات میں شریک ہوتے ہیں اور تعاون کرتے ہیں، جس کا ناجائز اور گناہ ہونا واضح ہے

بعض خطیب حضرات اپنے بیانات میں ماہِ محرم سے متعلق من گھڑت اور غیر معتبر روایات، واقعات اور عملیات بیان کرتے رہتے ہیں۔ اِسی طرح سیدنا حضرت حسین، شہدائے کربلا رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالیٰ عَنْہُم اور واقعۂِ کربلا سے متعلق بھی خود ساختہ واقعات اور روایات بیان کرتے رہتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایسی باتیں شریعت کی نظر میں غلط، ناپسندیدہ اور واجبُ الاصلاح ہیں

مزید معلومات کیلئے علم و حکمت گروپ کو جوائن کریں 






     

Post a Comment

0 Comments