بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تمہید ، اور نیچے بیان
نکاح میں دو فرض ہیں,1 ایجاب و قبول ، 2 دو مسلمان گواہ ، ایک واجب، حق مہر ، اور تین سنت ہیں 1 خطبہ نکاح ، 2 چھوارے تقسیم کرنا ، 3 دعوتِ ولیمہ۔۔۔ نکاح میں ایک وکیل اور دو گوہ ہوتے ہیں ایک لڑکی طرف سے اور ایک لڑکے کی طرف سے،،، لڑکی کی جانب سے ایک وکیل ہوگا جو لڑکی سے اسطرح اجازت لیگا۔۔ تمہارا نکاح پچاس ہزار مہرکے بدلے میں ، زید ابن خالد کے ساتھ ہورہا ہے، کیا تمہیں منظور ہے ، یہ سارے کام گھر والے کریں گے ،،
امام صاحب کو سب سے پہلے مجلس میں تمام لوگوں کے سامنے خطبہ پڑھنا ہے۔ خطبہ پڑھنے کے بعد ،، لڑ کے کو مخاطب کرتے ہوئے اسطرح بولنا ہے۔ وکیل کی وکالت سے دو گواہوں کی گواہی سے اور تمام حضرات کی موجود گی میں، زید ابن خالد میں نے آپ کا نکاح پچاسی ہزار مہرکے کے بدلے رمضانہ بنت محبوب کے ساتھ کیا، کیا آپ نے ان کو قبول کیا ؟؟
بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ
اردو:
اللہ تم دونوں کو برکت دے، تم پر برکت نازل کرے، اور تمہیں بھلائی میں جمع رکھے
دعا کریں کہ الله تعالٰی اس نکاح میں برکت عطا فرمائے
الحمدللہ رب ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، یا اللہ اس نکاح کو اپنے دربار میں قبول فرما ،یااللہ اس نکاح کو اپنے فضل و کرم سے قبول فرما ، یا اللہ اس نکاح کی برکت میاں بیوی کے درمیان عطا فرما، یا اللہ! آج کی اس بابرکت محفل میں جب دو دل تیرے نام پر، تیرے حکم سے ایک پاکیزہ بندھن میں بندھ چکے ہیں، اے ہمارے رب! ان دونوں کیلئے اس نکاح کو اپنی خاص رحمت سے بھر دے۔ یا اللّٰہ اس نکاح کو محبت، سکون، وفا اور برکت کا ذریعہ بنا ،
یا اللہ! ان کے دلوں کو آپس میں یوں جوڑ دے جیسے تو نے حضرت آدمؑ اور حضرت حوّا کو جوڑا، حضرت محمد ﷺ اور حضرت خدیجہؓ کو جوڑا، حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کو جوڑا۔
اے مہربان رب! اس جوڑے کو ایک دوسرے کا لباس بنا، ان کے درمیان باہمی محبت، اعتماد اور سمجھ بوجھ عطا فرما۔ یا اللہ زندگی بھر محبت اور الفت ساتھ کے زندگی کزار نے کی توفیق عطا فرما
رب العالمین! ان کے رزق میں کشادگی عطا فرما، ان کے گھر کو محبت اور رحمت کا گہوارہ بنا، اور ان کی زندگی میں خیر و برکت، عافیت اور سعادتیں بھر دے۔
یا ارحم الراحمین! ہم سب حاضرین کے گھروں میں بھی امن، محبت، برکت اور دین داری قائم فرما۔
ہم سب کی دعائیں قبول فرما، اور ہمیں بھی ایسے پاکیزہ رشتوں کی قدر کرنے والا بنا۔
ربنا ہب لنا من أزواجنا وذریاتنا قرة أعينٍ واجعلنا للمتقين إماماً (اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔)
یا الله ان دونوں کی حاسدین کی حسد سے حفاظت فرما ، جادو گرو کے جادو سے ان کی حفاظت فرما ، یا الله ان دونوں کی نظر بد سے ان کی حفاظت فرما ، آپس کے اختلاف و انتشار سے ان کی حفاظت فرما، لڑائی اور جھگڑے سے ان کی حفاظت فرما ، یااللہ اس نکاح کو دونوں خاندانوں کے درمیان پیاروں محبت کا ذریعہ بنا ا اتحاد و اتفاق کا ذریعہ بنا
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِیْنُه وَنَسْتَغْفِرُه وَنُؤْمِنُ بِه وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئاٰتِ اَعْمَالِنَا مَن یَّهْدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ یُّضْلِلْهُ فَلاَ هَادِیَ لَهُ۞ونشْهَدُ أَنْ لَآ اِلٰهَ اِلاَّ اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ۞وَنشْهَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُه، أَمَّا بَعْدُ فأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم ۞ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِِْ۞ { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] {يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} [النساء: 1] {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (71)} [الأحزاب: 70، 71] قال النبيﷺ : «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ». و قال عليه الصلاة والسلام : " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَات الدّين تربت يداك". وقالﷺ : «الدُّنْيَا كُلُّهَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَة الصَّالِحَة». وقال عليه الصلاة والسلام : ’’ النكاح من سنتي ‘‘. و في رواية : ’’ فمن رغب عن سنتي فليس مني ‘‘ أو كما قال عليه الصلاة والسلام".
الله تعالٰی قرآن مجید میں فرماتے ہیں یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءًۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا
اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلادئیے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے
اس آیتِ مبارکہ میں تمام بنی آدم کو خطاب کیا گیا ہے اور سب کو تقویٰ کا حکم دیا ہے۔ کافروں کیلئے تقویٰ یہ ہے کہ وہ ایمان لائیں اور اعمالِ صالحہ کریں اور مسلمانوں کیلئے تقویٰ یہ ہے کہ ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اعمالِ صالحہ بجالائیں۔ ہر ایک کو اس کے مطابق تقویٰ کا حکم ہوگا۔اس کے بعدیہاں چند چیزیں بیان فرمائیں :
(1)…اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک جان یعنی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پیدا کیا
(2)… حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وجود سے ان کا جوڑا یعنی حضرت حوا رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا کو پیدا کیا
چونکہ نسلِ انسانی کے پھیلنے سے باہم ظلم اور حق تَلفی کا سلسلہ بھی شروع ہوا لہٰذا خوف ِ خدا کا حکم دیا گیا تاکہ ظلم سے بچیں اور چونکہ ظلم کی ایک صورت اور بدتر صورت رشتے داروں سے قطع تَعَلُّقی ہے لہٰذا اس سے بچنے کا حکم دیا۔
عثمان بن مظعونؓ کی بیوی خولہ بنت حکیمؓ کے ذریعے سے جب یہ بات نبی کریمﷺ کے علم میں آئی کہ ان کے شوہردن بھر روزہ رکھتے ہیں اور رات کو جاگ جاگ کر نمازپڑھتے ہیں اور ان کا اپنی بیوی سے کوئی تعلق نہیں ہے تو نبی کریمﷺ نے انھیں بلابھیجا اور فرمایا: عثمان! کیا تم میرے طریقے کو چھوڑرہے ہو؟ عثمانؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیﷺاللہ گواہ ہے کہ میں تو آپ ہی کے طریقے کی تلاش میں ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: میں سوتاہوں رات کے ایک حصّے میں اور نماز تہجد پڑھتاہوںرات کے ایک حصّے میں، روزے ﴿نفل﴾ رکھتاہوں اور نہیں بھی رکھتا، میں عورتوں سے نکاح بھی کرتاہوں ۔ اے عثمان! اللہ سے ڈر، تیرے بیوی بچوں کا تجھ پر حق ہے۔ تیرے مہمان کاتجھ پر حق ہے، تیرے جسم کاتجھ پر حق ہے پس تو روزے رکھ اور افطار بھی کر ، رات کو نفل پڑھ اور سو بھی
۔

0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇