بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم
الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضللہ ومن یضلل فلا ھادی لہ ونشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان سیدنا ومولٰنا محمدا عبدہ ورسولہ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ
قرآن کریم اور حدیث مبارکہ میں شریعت کے ایک حکم کو نہایت ہی تاکید کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے، اس حکم کو آدھا ایمان قرار دیا گیا ہے، اور اللہ کے رسول نے اس کو اپنا طریقہ بتایا ہے، شریعت کا وہ حکم نکاح کرنے کا ہے، نکاح انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے ہے، جب تک انسان نکاح نہیں کرتا اس کی زندگی ادھوری رہتی ہے،اورجب نکاح کر لیتا ہے اس کی زندگی میں مکمل ہو جاتی ہے یہ بڑا پاکیزہ اور مقدس رشتہ ہے، یہ رشتہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہواتھا، الله تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو بنایا، اور انہیں سے ان کا جوڑا حضرت حوا کو بنایااور بنانے بعد کے ان دونوں کا آپس میں نکاح کروادیا گیا اور اس طریقے سے میاں بیوی کا سب سے پہلا رشتہ وجود میں آیا ۔۔۔
يا عليُّ ثلاثٌ لا تؤخِّرْها الصَّلاةُ إذا أتت والجنازةُ إذا حضرت والأيِّمُ إذا وجدتَ لَها كُفُؤًا»
اللہ کے نبی فرماتے ہیں کہ اے علی تین چیزوں میں تاخیر نہیں کرنا، نمبر ایک جب نماز کا وقت ہو جائے تو اس میں تاخیر نہیں کرنا، نمبر دو جب کسی کے انتقال ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ میں تجہیز و تکفیر میں تاخیر نہیں کرنا، نمبر تین جب کوئی غیر شادی شدہ ہو اور اس کا جوڑا مل جائے تو اس کے نکاح کرنے میں دیر نہیں کرنا تاخیر نہیں کرنا
اللہ ربّ العزت نے قرآن مجید میں جہاں انبیائے کرام، اقوامِ سابقہ اور قیامت کے حالات کا ذکر کیا ہے، وہیں ایمان والوں کے اوصاف بھی بڑی وضاحت سے بیان فرمائے ہیں تاکہ ایک مومن اپنی زندگی کو ان خوبیوں سے آراستہ کر سکے اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکے۔ ان کامیاب مسلمانوں کا اور کامیاب ایمان والوں کا ایک وصف یہ ہے کہ، وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِین
اور کامیاب ایمان والے وہ ہیں جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔مگر اپنی بیویوں یا اپنی کنیزوں سے تو بیشک ان پر کچھ ملامت نہیں ،، کامیابی ایمان والوں کی بہت ساری صفات ہیں ان صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنے شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں،
فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۚ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً
تمہیں جو عورتیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو ‘ دو ، دو سے تین تین سے اور چار چار سے ‘ پس اگر تمہیں یہ خدشہ ہو کہ تم (ان میں) عدل نہ کرسکو گے تو (صرف) ایک سے نکاح کرو
اس ایت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے چار شادی کی اجازت دی ہے، ایک شادی ہونے کے بعد کوئی دوسری عورت پسند ائی، تو ادھر ادھر منہ مارنے کے بجائے حرام خوری اور زنا کاری کرنے کے بجائے تواس سے بھی نکاح کر لو، اگر دو سے ضرورت پوری نہیں ہو رہی ہے تو تیسرا نکاح کر لو، اگر تین سے بھی ضرورت پوری نہیں ہو رہی ہے،تو چوتھا نکاح کر لو، تو اس طریقے سے اشاریہ نے چار شادیوں کی اجازت دی ہے، آگے اللہ تعالی فرماتے ہیں ان چاروں کے درمیان برابری کرنا ہے، چاروں کو برابر کا حق دینا ہے، چاروں کے درمیان عدل و انصاف قائم کرنا ہے، اگر ایسا نہیں کر سکتے تو صرف ایک ہی شادی کرو، بہرحال اس ایت کریمہ کا مقصد لوگوں کو گناہوں سے بچانا ہے،
يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ.۔۔۔ ترجمہ۔ اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں سے نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے کیونکہ نکاح نظر کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو برائی سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے اور اگر کسی میں نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیے کیونکہ وہ اس کی شہوت کو ختم کر دیتا ہے“ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کی پورے جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے نوجوانوں کی جماعت اگر تم نکاح کرنے کی طاقت رکھتے ہو تو نکاح کر لو اس میں دیر مت کرو ، اس سے تمہیں دو فائدہ ہوگا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ بد نظری سے محفوظ ہو جاؤ گے ، اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ تم زنا سے بدکاری سے محفوظ ہو جاؤ گے اور تمہاری عزت محفوظ ہو جائے گی،،،۔ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ اور اگر شادی کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہو تو روزے رکھو اس لیے کہ اس سے مردانہ طاقت کچھ کم ہو جائے گی اور تم گناہوں سے بچ جاؤ گے،
نکاح کے وقت کیسی لڑکی کا انتخاب کرنا ہے اور کیسے لڑکے کا انتخاب کرنا ہے تو شریعت نے اس کے بارے میں بھی بتایا ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں،
تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ . ترجمہ: چار چیزوں کی بنیاد پر عورت سے نکاح کیا جاتا ہے، مال کی وجہ سے، حسب و نسب کی وجہ سے، حسن کی وجہ سے، اور دینداری کی وجہ سے، تو دین دار عورت کے ساتھ نکاح کر کے کامیابی حاصل کر،،،۔ عام طور پر چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے، 1 مال و دولت کی وجہ سے، 2 حسب و نسب اور خاندان کی وجہ سے، 3 حسن و جمال اور خوبصورتی کی وجہ سے، 4 پرہیزگاری اور دینداری کی وجہ سے، لہذا ان چاروں چیزوں میں ہمیں دینداری کو ترجیح دینا چاہیئے اور یہی ہمارے لئے بہتر ہے ،
اس حدیث سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ لڑکیوں کے انتخاب میں اور لڑکوں کے انتخاب میں دینداری کو ترجیح دینا چاہیے،
قرآن مجید میں نکاح کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا وَاَنۡكِحُوا الۡاَيَامٰى مِنۡكُمۡ وَالصّٰلِحِيۡنَ مِنۡ عِبَادِكُمۡ وَاِمَآئِكُمۡ ؕ اِنۡ يَّكُوۡنُوۡا فُقَرَآءَ يُغۡنِهِمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۞ ترجمہ: اور تم اپنے بےنکاح مردوں اور عورتوں کا نکاح کردو اور اپنے نیک غلاموں اور باندیوں کا اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا، اور اللہ وسعت والا بہت جاننے والا ہے
الله تعالٰیٰ نے اس آیت کریمہ میں نکاح کرنے کی تاکید کرتے ہوئے، ذمہ داروں اور مالکوں کو مخاطب کر کے کہ رہے ہیں جو بغیر شادی شدہ ہیں اور شادی کے قابل ہوچکے ہیں تو ان کی شادی کرادو ، اور اسی طرح تمہارے ما تحت میں رہنے والے جو نیک غلام اور باندیاں ہیں ان کا بھی نکاح کرادو۔۔ اگر وہ غریب ہیں تنگ دست ہیں تو الله تعالٰی ان کو اپنے فضل و کرم سے مالدار بنا دیگا ، کیونکہ الله تعالٰی بہت وسعت والا ہے ، الله تعالٰی نے ساری مخلوق کی روزی کا ذمہ لیا ہوا ہے ، قران کریم کی ان آیت کے ذریعے سے نکاح کی ترغیب دی جا رہی ہے،
اللہ کے رسول کی زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے، آپ نے اپنی بیٹیوں کا نکاح کرایا تو دینداری کو ترجیح دی، اور بڑے ہی سادگی کے ساتھ نکاح کرایا ، اپ کی لاڈلی بیٹی جنت میں عورتوں کی سردار،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کروادیا ، جس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نکاح ہوا اس وقت بہت زیادہ تنگ دست تھے،حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی سرا بیچنے کے لیے گئے،راستے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ملے ان سے پوچھا کہ اپ کہاں جا رہے ہو انہوں نے بتایا کہ مجھے نکاح کرنا ہے اور اس کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں اس لیے میں یہ ذرا فروخت کرنے جا رہا ہوں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اس کو رکھو نکاح تمہارا ہوگا اور خرچہ عثمان کا ہوگا،
اب ذرا یہاں پر غور فرمائیے، اللہ کے رسول نے یہاں پر دین داری کو ترجیح دی ہے، ورنہ تو مدینہ کے اندر بڑے بڑے مالدار لوگ تھے پیسے والے لوگ تھے، اور بڑے بڑے تاجر تھے، اگر اللہ کے رسول چاہتے تو کسی مالدار لڑکے کا انتخاب کرتے،اگر اللہ کے رسول چاہتے ہیں تو کسی پیسے والے کے لڑکے کا انتخاب کرتے، اگر اللہ کے رسول چاہتے ہیں تو بزنس مین کے بیٹے کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود دینداری کو ترجیح دیتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نکاح کرایا،
ہم مسلمان ہیں ایمان والے ہیں ہمارا یقین اللہ اور اس کے رسول پر 100 فیصد ہونا چاہیے، اللہ تعالی قران مجید میں فرماتے ہیں، تم نکاح کرو اگر تم فقیر ہو غریب ہو تنگدست ہو، تو اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے تمہیں غنی کر دے گا تمہیں مالدار بنا دے گا، اللہ سے بڑا بادشاہ تو کوئی نہیں ہے،اللہ سے زیادہ مستقبل کی باتیں جاننے والا کوئی نہیں ہے، اللہ تعالی کے پاس تو ہر چیز کا خزانہ ہے اس کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے، 10 15 ہزار کی فیکٹری کی تنخواہ پر بھروسہ کر کے نکاح کر دیتے ہیں، 15 ب ہزار کی جاب پر بھروسہ کر کے نکاح کر لیتے ہیں، ۔ اللہ تعالی وعدہ کر رہا ہے کہ تم نکاح کرو میں اپنے فضل و کرم سے تمہیں مالدار کر دوں گا، آج ہمارا ایمان اتنا کمزور ہو گیا ہے، فیکٹری کمپنی اور جاب کی تنخواہوں پر بھروسہ ہے ،لیکن خدا کے وعدے پر ہمیں بھروسہ نہیں،
ہم اپنی زندگی میں غور و فکر کریں کہ جب تک شادی نہیں ہوتی پھر اس کے میں تنگی رہتی ہے جب شادی ہو جاتی ہے تو رزق کے دروازے کھل جاتے ہیں ، بچہ دنیا میں اتا ہے رشک بڑھ جاتا ہے،ہر بچہ اپنے ساتھ اپنے مقدر کا رزق لے کر کے آتا ہے، اللہ تعالی قران مجید میں فرماتے ہیں وَ لَا تَقْتُلُـوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْؕ-اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا۔ اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے ڈر سے ہم تمھیں بھی اورانہیں بھی روزی دیں گے بےشک ان کا قتل بڑی خطا ہے
آج انسان جب دعوت کرتا ہے 10 آدمیوں کی دعوت کرتا ہے اور 15 آدمیوں کا کھانا بناتا ہے، کہ کہیں کھانا کم نہ پڑ جائے، جب انسان اتنا انتظام کرتا ہے تو کیا اللہ تعالی اپنے بندوں کے لیے انتظام نہیں کریں گے اللہ تعالی بھی اپنے بندوں کے لیے ان کے دنیا میں انے سے پہلے ہی ان کے رزق کا انتظام فرما دیتے ہیں،
وَعَن عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً»
حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ وہ نکاح سب سے زیادہ بابرکت ہے ، جس میں اخراجات کم ہوں ۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نکاح بابرکت ہوتا ہے جو نکاح سادگی کے ساتھ کیا جائے،جس میں اخراجات کم ہوں ، جو اللہ کے حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر کیا جائے،
واقعہ۔ حلیۃ الاولیاء یہ ایک کتاب ہے ، اس میں ایک واقعہ لکھا گیا ہے، کہ ہمارے اسلاف رشتے کے انتخاب میں دینداری کو ترجیح دیتے تھے، سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم گزرے ہیں، یہ تابعین میں سے ہیں، یہ بچوں کو حدیث کا درس دیا کرتے تھے ، ان کے درس میں ایک شاگرد تھے عبداللہ بن ودا عہ ، یہ استاد کے سامنے بیٹھتے تھے ، غور سے سبق سنتے تھے، ہر بات کو اچھی طریقے سے نوٹ کرتے تھے، بڑے ذہین صلاحیت مند اور متقی پرہیزگار تھے، ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ پڑھنے نہیں آئے ایک دن گزر گیا دو دن گزر گئے تین دن گزر گئے لیکن پڑھنے نہیں آئے استاد کو فکر ہونے لگی وہ پڑھنے کیوں نہیں آ رہے ہیں، وہ چوتھے دن پڑھنے کے لئے آئے ، استاد نے معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ میری بیوی کا انتقال ہو گیا تھا، لوگ تعزیت کے لئے آ رہے تھے اس لئے میں تین دن تک پڑھنے کے لئے نہیں آسکا ، استاد نے کہا کہ اگئے تمہارا نکاح کرنے کا ارادہ ہے یا نہیں، انہوں نے کہا کہ نکاح کرنے کا ارادہ تو ہے، لیکن مدینے میں مجھ سے زیادہ کوئی غریب نہیں ہے، میرے پاس مال و دولت نہیں ہے روپیہ پیسہ نہیں ہے،میرے پاس ذاتی مکان اور ذاتی گاڑی بھی نہیں ہے، تو مجھے ایسے میں کون ہے رشتہ دے گا ، استاد نے کہا کہ اگر تم راضی ہو تو میں اپنی بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کرانا چاہتا ہوں،
اس وقت کے بادشاہ تھے عبدالمالک بن مروان، بادشاہ نے ان عالم صاحب سے کہا تھا کہ تم اپنی بیٹی کے نکاح میرے بیٹے کے ساتھ کرا دو، میرا بیٹا میرے بعد بادشاہ بن جائے گا اور تمہاری بیٹی ملکہ بن جائے گی، مگر ان عالم صاحب نے بادشاہ کو اپنی لڑکی کا رشتہ دینے سے انکار کر دیا ، بادشاہ کو غصہ ایا اس نے 100 کوڑے لگوائے ہیں، بادشاہ نے بہت کوشش کی ہے لیکن انہوں نے اپنی بیٹی کا رشتہ نہ دیا، اور سعید بن مسیب نے کہا کہ میں اپنی بیٹی کا نکاح نیک صالح متقی پرہیزگار انسان سے کروں گا، اس طریقے سے انہوں نے بادشاہ کے رشتے کو ٹھکرا دیا، ، اگر ان کی جگہ ئئ ہم ہوتے تو کتنا خوش ہوتے ہیں پوری بستی میں ڈھنڈورا پیٹ دیتے ، واٹسپ فیس بک انسٹاگرام ٹویٹر اور دوسرے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے اپنی خوشی کا اظہار کرتے، ہم یہ نہیں دیکھتے کہ وہ نیک ہے یا نہیں، اس کی کمائی حلال ہے یا حرام، اس کے عادت و اخلاق اور کردار اچھے ہیں یا برے، مگر اس دور کے لوگ تھے ان کی نظر مادیت پر نہیں تھی، ان کی نظر دنیا پر نہیں ہوتی تھی، ان کی نظریں مال و دولت پر نہیں تھی بلکہ ان کی نظریں دینداری پر ہوا کرتی تھی،
بہرحال میں یہ کہہ رہا تھا کہ استاد نے کہا کہ میں اپنی بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کرانا چاہتا ہوں، شاگرد نے کہا کہ میرے پاس مہر ادا کرنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں، استاد نے کہا کہ کوئی بات نہیں مہر ادہ کرنے کے لئے میں ہی پیسے دوں گا ، لہذا اسی مجلس میں نکاح ہو گیا، عبداللہ بن وداعہ کہتے ہیں کہ نکاح ہونے کے بعد میں اپنے گھر چلا گیا، اس دن میں نے روزہ رکھا تھا مغرب کا وقت ہو چکا تھا، میں افطار کے لیے تیار بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی، میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ میرے استاد محترم ہیں جو اپنی لڑکی کو لے کر کے کھڑے ہیں، استاد نے مجھ سے کہا کہ صبح میں نکاح ہو چکا تھا، اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ رات تم دونوں ایک دوسرے کے بغیر گزارو، لہذا میرے استاد نے کہا کہ تم اپنی امانت رکھو اور ساتھ میں ایک لاٹھی دی اور کہا کہ اگر کوئی کمی ہو تو اس لاٹھی سے اس کو ٹھیک کر دینا،، اس دور کے ماں باپ اپنی بیٹی سے کہتے تھے کہ شوہر کی خدمت کرنا، ساس کی بات ماننا، اگر کوئی حالات آجائیں تو اس پر صبر کرنا، اس دور میں ماں باپ لاٹھی دیا کرتے تھے، اور اج کے ہمارے دور میں ماں باپ موبائل دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ بیٹی اگر کوئی بھی بات ہو جائے تو فورا فون کرنا، بات ایک ہوتی ہے بیٹی چار بات لگا کر اپنی ماں کو سناتی ہے، اورپھر ماں پانچ بات بڑھا کر کے دوسری بیٹیوں کو سناتی ہے، چار باتیں بیٹی نے لگا دی،پانچ باتیں ماں نے جھوڑ دی، اور دو تین باتیں بہن نے ملا دی، پھر سب کے روتی ہوئی باپ کے پاس آتی ہیں ، اور پھر باپ غصے میں آکر کر کے غلط فیصلہ لے لیتا ہے اور اس طریقے سے گھر اجڑ جاتا ہے
بہرحال میں یہ کہہ رہا تھا کہ باپ نے اپنی بیٹی کو لے جا کر شوہر کے حوالے کر دیا، کوئی بارات نہیں گئی، دس سے 20 گاڑیاں نہیں گئیں، پٹاخے اور فائرنگ نہیں ہوئی، ناچ گانے ڈی جے اور ڈانس کا انتظام نہیں کیا گیا، سو دو سو آدمیوں کے کھانے کا انتظام نہیں کیا گیا، دکھاوا ریاکاری اور شہرت حاصل کرنے کے لئے دس طرح کے کھانے تیار نہیں کئے گئے ، بلکہ بہت ہی سادگی کے ساتھ نکاح کیا گیا، اور پھر لڑکی کے باپ نے اپنے داماد کو بیس ہزار درہم دیے اور کہا کہ ان کے ذریعے سے اپنا کوئی کاروبار شروع کرو تاکہ تم کسی کے محتاج نہ بنو، آج کھانا کھلانے میں ڈی جی بجانے میں ناچ گانے اور ڈانس کروانے میں پٹاخے پھوڑنے میں اور بیکار کے خرافات کرنے میں کئی کئی لاکھ روپے برباد کر دیئے جاتے ہیں، اگر انہی پیسوں سے کوئی دکان یا مکان خرید کر کے دے دیا جائے تو پوری زندگی بھر آرام سے رہ سکتے ہیں،
بہرحال ہم شریعت سے دور ہیں، اللہ کے حکم اور نبی کے طریقے سے دور ہیں، اس لیے ہم پریشان ہیں، جن شادیوں میں ناچ گانے شراب نوشی اور اللہ کے حکم کی نافرمانی ہوتی ہے او پائیدار نہیں ہوتے اس میں برکتیں نہیں ہوتی، لیکن جو شادیاں سنت کے مطابق ہوتی ہے وہ پائدار ہوتے ہیں اس میں برکتیں ہوتی ہیں، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو سنت کے مطابق شادی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، وآخر دعوانا ان الحمد للّہ رب العالمین

0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇