اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی دونوں زندگیوں کی اصلاح کرتا ہے۔ جس طرح عبادات انسان کو اپنے رب سے جوڑتی ہیں، اسی طرح دینی اجتماعات اور جماعتی نظام مسلمانوں کے دلوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ آج کے دور میں جب لوگ دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں، ایسے میں گھروں میں دینی جماعت اور اجتماع کا ہونا اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے، جو ایمان کو تازہ کرتا اور زندگی کو سنوارتا ہے۔
ہمارے گھروں میں ہر مہینے جو دینی جماعت کا اجتماع ہوتا ہے، وہ دراصل دین سیکھنے، سکھانے اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں قرآن و حدیث کی باتیں بیان کی جاتی ہیں، نیکی کی دعوت دی جاتی ہے اور برائیوں سے بچنے کی تلقین کی جاتی ہے۔
تبلیغی جماعت ایک عالمی تحریک ہے جس کی بنیاد مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے1920میں رکھی تھی، اور اس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو کلمہ اور نماز کی طرف دعوت دینا اور انفرادی اصلاح ہے
۔ آج دنیا بھر میں جتنی بھی اجتماعی محنتیں ہو رہیی ہیں وہ انفرادیت کو سنوارنے اور اس کو بہتر کرنے کے لیے ، سال کی جماعت ہو ، چار مہینے کی جماعت ہو ، چالیس دن کی جماعت ہو ، تین دن کی جماعت ہو ، مقامی گشت ہو ، یا جوڑ ہو ، ان تمام محنتوں کا اصل مقصد ، انفرادیت میں ، اپنی ذاتی زندگی دین آجائے ، جب وہ گھر واپس آئے تو اس کی زندگی میں اللّٰہ کا حکم ، اور نبی کی سنتیں قائم ہو جائے
لیکن ہمارا مسئلہ ہی بگڑ گیا ہمارا مسئلہ ہی الٹا ہو گیا، ہم نے اجتماعیت کو اصل سمجھ لیا اور انفرادیت کو فراموش کردیا ، انفرادی زندگی میں ہم دین پر کتنے عمل کر رہے ہیں، ہم اللہ کے کتنے احکامات پر عمل کر رہے ہیں، نبی کی کتنی سنتوں پر عمل کررہے ہیں، وہ کسی کو معلوم ہی نہیں ، دعوت کی محنت اصل میں زندگیوں میں دین کو لانے کے لئے ہے لیکن ہم نے اسی کو سائیڈ میں کر دیا۔
جیسے ایک موبائل کی کمپنی ہے، اس کمپنی میں بہترین کام کرنے والے اور بڑے بڑے انجینیئر ہیں، اور ایک سے ایک پڑھ کر مشین موجود ہے، لیکن موبائل میں استعمال ہونے والی چیزیں بیکار اور گھٹیا قسم کی ہے، تو موبائل تھوڑے دن چلے گا اور پھر خراب ہو جائے گا،، بالکل اسی طرح اگر جماعت مضبوط ہو ، اجتماعات شاندار ہوں، اور مسجدیں بھری ہوئی ہو، مگر لوگوں کے ایمان اور عمل کمزور ہو، تو امت مضبوط نہیں ہو سکتی،
میرے بھائیو!
ہم نے سمجھا تھا کہ اگر مسجدیں بھر جائیں گی تو دین آ جائے گا،،،۔ اگر جماعتیں نکل جائیں گی تو دین آ جائے گا،،، اگر حج کے قافلے چلیں گے تو دین آ جائے گا،،، اگر جوڑوں میں محفلیں بھر جائیں گی تو زندگی بدل جائے گی۔
! یہ سب بہت اچھا ہے… بہت ضروری بھی ہے…لیکن یہ سب وسیلے ہیں مقصد نہیں ہے،
اصل مقصد یہ ہے کہ نماز مسجد تک نہیں، زندگی تک پہنچے،، قرآن حلقے تک نہیں، دل تک پہنچے،، دعوت زبان تک نہیں، کردار تک پہنچے۔
ایک کمپنی ہزاروں قسم کی دوائیاں بناتی ہے، اگر وہ دوائیاں دکانوں میں سجی رہیں ،اور بوتلوں میں رکھی رہے ، تو ان دوائیوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا،وہ دوائیاں اسی وقت فائدہ مند ہوں گی جب جسم کے اندر جائیں گی۔ اسی طرح دعوت کی محنت سے اسی وقت فائدہ ہوگا جب دین ہماری انفرادی زندگی میں آئے ، جب تک دین صرف زبان پر یا محفل میں رہے گا ، تو وہ مکمل فائدہ نہیں دے گا۔ اس سے ماحول تو بدلے گا لیکن انسان نہیں بدلیں گے،
۔ حضرت عمرؓ راتوں کو گشت کیا کرتے تھے۔ایک رات ایک گھر سے آواز آئی:ماں بیٹی سے کہہ رہی تھی:"دودھ میں پانی ملا دو تاکہ زیادہ منافع ہو۔"بیٹی نے کہا:"اماں! عمرؓ نے ملاوٹ سے منع کیا ہے!"ماں نے کہا:"عمر یہاں نہیں دیکھ رہا۔"بیٹی نے تاریخ کا جملہ کہا: "اگر عمر نہیں دیکھ رہا، تو عمر کا رب تو دیکھ رہا ہے!" اگر وہ پانی ملانا چاہتی تو ملا سکتی تھی کوئی دیکھ بھی نہیں رہا تھا اور کسی کو معلوم بھی نہیں چلتا، لیکن پانی ملایا نہیں، صرف اور صرف اللہ کے خوف کی وجہ سے، تو یہ ہے اصل تقوی اور انفرادیت میں دین، یہی وہ چیز ہے جس سے امت بدلے گی۔۔
اج ہمارے اندر سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ ہماری ذاتی زندگی میں دن نہیں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اثر بھی ویسا نہیں آ رہا جو آنا چاہیے تھا،۔ ورنہ تو دعوت کے کام کا یہ اثر ہوتا ہے کہ اس سے حالات بدل جاتے ہیں، اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو مدینہ کے حالات بدل گئے، حالانکہ اللہ کے رسول مدینے کے حالات کے بدلنے کے لیے ہجرت نہیں کی تھی، مگر دعوت کے کام کا اثر یہ تھا کہ وہاں لیکن دعوت کا اثر یہ ہوا کہ، قتل امن میں بدل گیا،، بدامنی بھائی چارے میں بدل گئی، جہالت علم میں بدل گئی، ااور ںرے اخلاق اخلاق حسنہ میں بدل گئے ، کیوں؟ کیونکہ وہاں فرد بدلا تھا۔ جیسے سورج نکلے تو اندھیرا خود بخود ختم ہو جاتا ہے، ویسے ہی جب دلوں میں دین داخل ہوتا ہے، تو گناہوں کی تاریکی خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
دوا بدن میں جائے تو دوا فائدہ دے گی،
ایک دوا کھانا سو بیماروں کا علاج کرتا ہے،
ایک مدرسہ ہزاروں بچوں کی زندگی کو بہتر بناتا ہے
ہمارے یہاں سے جماعتیں نکل گئیں یہ بہت اچھا ہوا،
اجتماعیت میں دین اگیا لوگ اللہ کے راستے میں نکل گئے حج کے لیے چلے گئے نماز کے لیے مسجدوں میں چلے گئے، جوڑوں میں جا کر کے محفلیں بھر دی،
لیکن انفرادیت میں کتنا دن ایا، ہم انفرادی زندگی میں اللہ کے کتنے احکامات پر عمل کرتے ہیں، نبی کی کون کون سی سنتوں کو زندہ کرتے ہیں،
دعوت کی محنت اصل میں زندگیوں میں دین کو لانے کے لئے ہے لیکن ہم نے اسی کو سائیڈ میں کر دیا۔
دوا بدن میں جائے تو دوا فائدہ دے گی، اسی طریقے سے دین ہماری زندگی میں آئے تو دعوت کی محنت کامیاب ہوگی،
اس لیے ہماری زندگی میں جو کمی ہے وہ انفرادیت میں دین کی کمی ہے،
اس لیے اس کے اثرات جتنے نظر انے چاہیے تھے اتنے نظر نہیں ارہے ہیں
ورنہ تو دعوت کے کام کا یہ اثر ہوتا ہے کہ اس سے حالات بدل جاتے ہیں،
صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو مدینہ کے حالات بدل گئے، حالانکہ اللہ کے رسول نے مدینے کے حالات کے بدلنے کے لیے ہجرت نہیں کی تھی، مگر دعوت کے کام کا اثر یہ تھا کہ وہاں کے حالات بدل گئے،
جب سورج نکلے گا تو یقینی طور پر اندھیرا ختم ہو جائے گا،
اس لیے ہمیں اپنی زندگی میں غور و فکر کرنا ہے کہ ہمارے اندر انفرادیت میں کتنا دین ہے ہم انفرادیت میں اللہ کے کتنے حکموں کو مانتے ہیں اور ان
فرادیت میں ہم سنت رسول کو کتنا زندہ کرتے ہیں
۔

0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇