آخری بات ✍🏻

                                        


  

     محترم بزرگو اور بھائیو!

ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتِ عالی پر کامل یقین اور اس کی بے پاں رحمت کا استحضار پیدا کرنا ہے۔ اللہ رب العزت اپنے بندوں سے کتنی محبت فرماتا ہے، اس کا اندازہ ہم اپنی چھوٹی سی عقل سے نہیں لگا سکتے۔ اس بات کو سمجھانے کے لیے ہمارے آقا، جنابِ محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک بڑی ہی عجیب اور دل کو رلا دینے والی مثال سے بات سمجھائی ہے۔

  جیسا کہ حدیثِ پاک میں آتا ہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ قیدی لائے گئے۔ ان قیدیوں میں ایک ماں بھی تھی جس کا چھوٹا بچہ کہیں گم ہو گیا تھا۔ وہ ماں اپنے بچے کی جدائی میں پاگلوں کی طرح تڑپ رہی تھی، اس کا دودھ اتر آیا تھا اور وہ شدتِ جذبات سے یہاں وہاں دوڑ رہی تھی۔ جیسے ہی اس تڑپتی ہوئی ماں کی نظر اپنے معصوم بچے پر پڑی، اس نے تڑپ کر جھپٹا مارا، بچے کو اٹھایا، فوراً اپنے سینے اور پیٹ سے چمٹا لیا اور ممتا کے اسی جوش میں اسے دودھ پلانے لگی۔

     میرے بھائیو! رحمتِ عالم ﷺ اور صحابہ کرامؓ یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کی طرف رخِ انور کیا اور پوچھا: "تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا یہ ماں اپنے اس جگر گوشے کو، اپنے اس پیارے بچے کو اپنے ہاتھوں سے جلتی ہوئی آگ میں ڈال سکتی ہے؟"

   صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تڑپ کر عرض کیا: *"یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! یہ عورت اپنے بچے کو کبھی آگ میں نہیں ڈالے گی، جبکہ اسے نہ ڈالنے کی قدرت اور اختیار بھی حاصل ہو (یعنی کوئی مجبوری نہ ہو تو ماں کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتی)"۔*

تب سرکارِ دو عالم ﷺ نے امت کو وہ خوشخبری سنائی جو مایوس دلوں کو زندگی بخش دیتی ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

   اللہ کی قسم! یہ عورت اپنے بچے پر جتنا رحم اور پیار کرتی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ رحم اور پیار کرتے ہیں۔ (صحیح مسلم)

>  تبلیغی جوڑ اور پکار (دعوتِ فکر):

میرے عزیز دوستو! ذرا غور کیجیے، ایک ماں کی محبت تو کائنات کی سب سے بڑی محبت سمجھی جاتی ہے، لیکن اللہ پاک کی اپنے بندے سے محبت اس ماں سے بھی کروڑوں گنا زیادہ ہے۔ ایک ماں اپنے گندے بچے کو دیکھ کر دور نہیں پھینکتی، بلکہ اسے گلے سے لگا کر صاف کرتی ہے۔ اسی طرح جب اللہ کا بندہ گناہوں کے دلدل میں لت پت ہو کر، دنیا سے ٹھکرا کر، اپنے مالک کے حضور توبہ کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے، تو اللہ پاک اس ماں سے بھی زیادہ پیار سے اپنے بندے کو گلے لگا لیتا ہے اور اس کے سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔

ہمیں اسی شفیق اور مہربان رب کی معرفت حاصل کرنی ہے۔ اسی ذات کا یقین دلوں میں پیدا کرنا ہے اور اس کی رحمت کا پیغام لے کر پوری دنیا کے انسانوں تک پہنچنا ہے۔ جب ہمارا رب ہم سے اتنا پیار کرتا ہے، تو کیا ہمارا حق نہیں بنتا کہ ہم اس کے احکامات کو اپنائیں، پانچ وقت کی نمازوں کو زندہ کریں، اور اس کے دین کو پھیلانے کے لیے جان و مال اور وقت کی قربانی دے کر نکلیں؟

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی سچی محبت اور معرفت نصیب فرمائے، اور ہمیں اپنے دین کی محنت کے لیے قبول فرمائے۔ آمین۔

    

    محترم بزرگو اور عزیز بھائیو!

اس دنیا کی محبت اور مال کا لالچ انسان کو اندھا کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی موت اور آخرت کو بھی بھول جاتا ہے۔ اسی حوالے سے بزرگ ایک سبق آموز واقعہ نقل کرتے ہیں:

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لکڑہارا جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔ اچانک اسے درختوں کے جھنڈ میں ایک پرانا بت نظر آیا۔ جب اس نے اس بت کو ہٹایا، تو نیچے ایک سوراخ ملا، جہاں مٹی کے نیچے ایک بہت بڑا دنیاوی خزانہ چھپا ہوا تھا۔ لکڑہارا اکیلا اتنا مال نہیں اٹھا سکتا تھا، اس لیے اس نے اسے چھپا دیا اور گھر کی طرف چل پڑا۔

راستے میں اسے ایک سوداگر ملا جس کے پاس چھ اونٹ تھے۔ لکڑہارے نے اس سے کہا: "مجھے جنگل میں ایک خزانہ ملا ہے، اگر تم اپنے اونٹ لے کر چلو تو ہم آدھا آدھا بانٹ لیں گے۔" سوداگر مال کی محبت میں فوراً تیار ہو گیا۔ دونوں جنگل پہنچے، اونٹوں کو خزانے سے بھر دیا، اور لکڑہارے کو وہاں سے ایک قیمتی لعل بھی ملا جو اس نے جیب میں رکھ لیا۔ وعدے کے مطابق تین اونٹ لکڑہارے کو مل گئے اور تین سوداگر کو۔

میرے بھائیو! اب یہاں سے انسان کے نفس اور لالچ کا امتحان شروع ہوتا ہے۔

تھوڑی دور جا کر سوداگر کے دل میں شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ "یہ مال تو میرا ہونا چاہیے تھا"۔ اس نے لکڑہارے سے کہا: "بابا! آپ درویش آدمی ہیں، آپ کے لیے دو اونٹ کافی ہیں، ایک مجھے واپس کر دیں۔" لکڑہارے نے سادگی سے دے دیا۔ پھر سوداگر نے کہا: "آپ باقی دو بھی مجھے دے دیں، میں آپ کو کچھ رقم دے دوں گا۔" لکڑہارے نے وہ بھی دے دیے۔

لیکن میرے عزیزوں! جس کے دل میں دنیا کی محبت بیٹھ جائے، اس کا پیٹ قبر کی مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ سوداگر کا لالچ یہیں ختم نہیں ہوا؛ اس نے سوچا کہ کیوں نہ جنگل میں بچا ہوا باقی خزانہ بھی اکیلے ہی سمیٹ لوں۔ وہ اونٹ اپنے نوکر کے حوالے کر کے دوبارہ اندھیری دنیا (جنگل) کی طرف بھاگا۔ خزانہ تو نہ ملا، لیکن وہاں موت کی شکل میں ایک شیر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ سوداگر نے بھاگنے کی کوشش کی، مگر شیر نے اسے دبوچ کر چیر پھاڑ دیا۔ مال و اسباب سب یہیں رہ گیا اور وہ خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہو گیا۔

  دعوت و تبلیغ کے اعتبار سے جوڑ (حکمت و سبق):

     میرے محترم بزرگو اور بھائیو!

اس واقعے میں ہمارے لیے ایمان اور یقین کا ایک بہت بڑا سبق چھپا ہے۔

 1. دنیا کی حقیقت: یہ دنیا اس جنگل کی طرح ہے اور اس کا مال اس خزانے کی طرح ہے، جس کا لالچ انسان کو ہلاکت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ سوداگر نے مال کی خاطر اپنی جان گنوا دی، بالکل اسی طرح آج کا انسان دنیا کمانے کی فکر میں اپنی نمازیں، اپنے اخلاق اور اپنی آخرت کو برباد کر رہا ہے۔

 2. قناعت اور درویشی:دوسری طرف وہ لکڑہارا تھا، جس کے دل میں مال کی حرص نہیں تھی۔ اس نے سادگی سے مال چھوڑ دیا تو وہ سکون میں رہا اور اس کی جان بھی بچ گئی۔

 3. اصل خزانہ کیا ہے؟اصل خزانہ دنیا کا سونا چاندی نہیں ہے، بلکہ اصل خزانہ ایمان اور اعمالِ صالحہ کا خزانہ ہے، جو مرنے کے بعد قبر میں ہمارے کام آئے گا۔ وہ قیمتی لعل جو لکڑہارے نے جیب میں رکھ لیا تھا، وہ ایمان کی مثال ہے؛ جس کے پاس ایمان کا لعل سلامت ہے، دنیا کا مال نہ بھی ہو تو وہ کامیاب ہے۔

عزیز دوستو!  ہمیں اس غفلت کی زندگی سے نکلنا ہے۔ دنیا اتنی ہی کمانی ہے جتنی ضرورت ہے، لیکن اصل محنت اور وقت اللہ کے دین کے لیے، نمازوں کو زندہ کرنے کے لیے اور اپنی آخرت کو بنانے کے لیے لگانا ہے۔ جب تک ہم اس لالچ اور نفسانی خواہشات کو ذبح نہیں کریں گے، ہم حقیقی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔

اللہ پاک ہمیں دنیا کے فتنوں سے بچائے اور دینِ اسلام پر استقامت ع

طا فرمائے۔ آمین۔




Post a Comment

0 Comments