درمیانی بات ✍🏻

  

                                   




    من ‌رأى ‌منكم ‌منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك اضعف الایمان 

    آج ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے، ہر انسان یہ چاہتا ہے ، میں کامیاب کیسے ہو جاؤں، میری زندگی کیسے بہتر ہو جائے،اس کامیابی کو حاصل کرنے کیلئے انسان صبح سے شام تک، رات سے دن تک  محنت کرتا ہے۔ پسینہ بہاتا ہے، پریشانی برداشت کرتا ہے، لوگوں کے طعنے سنتا ہے ،  اس دوڑ میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ناکام ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو واقعی دنیا میں نام، پیسہ اور مقام کما لیتے ہیں، یعنی کامیاب ہو جاتے ہیں۔

  ، لیکن میرے بھائیو یہ ایسی کامیابی ہے جو موت پر ختم ہو جائے گی، اور جو کامیابی موت پر ختم ہو جائے وہ اصل کامیابی نہیں ہوسکتی، اگر آپ نے اربوں روپے کما لیے، بہت بڑا نام بنا لیا اور عالی شان محل کھڑے کر لیے، لیکن موت آتے ہی وہ سب کچھ آپ سے چھن گیا—تو کیا یہ واقعی کامیابی ہے؟ میرے بھائیو! جو کامیابی قبر کی پہلی دیوار سے ٹکرا کر ختم ہو جائے، وہ کامیابی نہیں بلکہ ایک دھوکہ ہے۔

  اصل کامیابی وہ ہے جو کبھی ختم نہ ہو، اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں: فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ "پس جو شخص آگ (جہنم) سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی اصل میں کامیاب ہوا۔" (سورہ آلِ عمران: 185)۔  اصل کامیابی  آخرت کی کامیابی ہے، اصل ناکامی اخرت کی ناکامی ہے، اصل عزت اخرت کی عزت ہے، اور اصل ذلت اخرت کی ذلت ہے،  ہمارے پاس چھوٹی سی زندگی ہے اسے زندگی کو اللہ کے حکم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر گزار کر اپنی اخرت کہ زندگی کو کامیاب بنانا ہے، 

  اگر ہم اللہ کے حکموں کے مطابق زندگی گزاریں گے تو اللہ تعالی ہماری دنیا اور آخرت دونوں کو بنا دے گا، اللہ کا وعدہ سچا ہے؛ جب بندہ اللہ کے لیے جیتا ہے، تو اللہ پوری دنیا کو اس کے قدموں میں جھکا دیتا ہے۔ صحابہ کرامؓ کی زندگی ہمارے لیے سب سے بڑی دلیل ہے۔ انہوں نے جب اپنے آپ کو اللہ کے حکموں کے سانچے میں ڈھالا، تو اللہ نے ان کے لیے صرف جنت کے دروازے ہی نہیں کھولے، بلکہ دنیا کی بڑی بڑی سلطنتوں کے خزانوں کی چابیاں بھی ان کے ہاتھ میں دے دیں۔ وہ جو کل تک ریگستانوں میں بکریاں چراتے تھے، وہ دنیا کے امام اور حکمران بن گئے۔ 

   حضرت ابو ہریرہ آپؓ فرماتے ہیں"مجھ پر ایک وقت ایسا گزرا جب میں بھوک کی شدت سے (مسجدِ نبوی کے ستونوں کے پاس) گر جایا کرتا تھا، لوگ مجھے دیکھتے تو سمجھتے کہ شاید اسے مرگی کا دورہ پڑا ہے اور وہ (علاج کے طور پر) میری گردن پر پاؤں رکھتے تھے، حالانکہ مجھے بیماری نہیں بلکہ صرف شدید بھوک ہوتی تھی۔"۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں جان لڑا دی، تو وہی ابوہریرہؓ ایک وقت میں بحرین کے گورنر بنے۔ وہ فرماتے ہیں:"آج میرا یہ حال ہے کہ میں کتان (عمدہ ریشمی یا کپڑے) سے اپنی ناک صاف کرتا ہوں۔" یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس نے اللہ کو پا لیا، اس نے سب کچھ پا لیا۔  اللہ تعالیٰ کا یہ اصول ہے کہ جب ہم اس کی رضا کو ترجیح دیتے ہیں، تو وہ ہماری دو چیزیں بناتا ہے: پہلے دنیا: اللہ ہمارے رزق میں برکت دیتا ہے، ہمارے کاموں میں آسانی پیدا کرتا ہے اور ہمیں عزت و وقار عطا فرماتا ہے۔ پھر آخرت: ابدی زندگی میں وہ انعامات عطا کرتا ہے جن کا کسی آنکھ نے مشاہدہ نہیں کیا۔

     

   یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارً،، اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں،،  

  

تشریح اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کے عذاب سے بچاؤ اللہ تعالی نے اس ایت کے اندر اے انسانوں نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ اے ایمان والو اللہ تعالی نے خاص طور سے مسلمانوں کو اور ایمان والوں کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم سے بچاؤ،  اگر تم ایمان والے ہو تو سب سے پہلے خود کو سنبھالو اور اپنے آپ کو جہنم کے عذاب سے بچاؤ،  پھر فرمایاوَأَهْلِيكُمْ اپنے گھر والوں کو بھی جہنم کے عذاب سے بچاؤ، یعنی اپنی بیوی کو،اپنے بچوں کو، اپنے بہن بھائیوں کو اور ان تمام لوگوں کو جس پر تمہاری ذمہ داری ہے، جہنم کے عذاب سے بچاؤ، 

    حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:تم میں  سے ہرشخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں  کے بارے میں  سوال کیا جائے گا،چنانچہ حاکم نگہبان ہے،اس سے اس کی رعایا کے بارے میں  پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے اہلِ خانہ پر نگہبان ہے،اس سے اس کے اہلِ خانہ کے بارے سوال کیا جائے گا۔عورت اپنے شوہر کے گھر میں  نگہبان ہے ،اس سے ا س کے بارے میں  پوچھا جائے گا،خادم اپنے مالک کے مال میں  نگہبان ہے ،اس سے اس کے بارے میں  سوال ہو گا،آدمی اپنے والد کے مال میں  نگہبان ہے ،اس سے اس کے بارے میں  پوچھا جائے گا،الغرض تم میں  سے ہر شخص نگہبان ہے اس سے اس کے ماتحتوں  کے بارے میں  سوال ہوگا

    

میرے عزیز بھائیو! آج ہمارے گھروں کا نقشہ بدل چکا ہے۔ ہم نے اپنی پوری توانائی صرف اس بات پر لگا دی ہے کہ ہمارے بچے دنیا میں کسی سے پیچھے نہ رہ جائیں۔

ہم اعلیٰ تعلیم کے لیے لاکھوں کی فیسیں بھرتے ہیں۔

ہم بہترین لباس اور عمدہ خوراک کا انتظام کرتے ہیں۔

ہم نے گھروں کو آسائشوں اور سجاوٹ سے بھر دیا ہے۔

لیکن ذرا رک کر سوچیں! کیا ہم نے ان کی آخرت کی حفاظت کا بھی کوئی انتظام کیا ہے؟ کیا جتنا فکر ہمیں ان کے "کیریئر" کا ہے، اتنا ہی فکر ان کے "ایمان" کا بھی ہے؟

افسوس کا مقام ہے کہ آج گھر کی ہر دیوار میں وائی فائی (Wi-Fi) کے سگنل تو موجود ہیں، لیکن اللہ سے رابطے کی وہ لہریں مفقود ہو چکی ہیں۔

گھر کے ہر کمرے میں موبائل کی گھنٹیاں تو بجتی ہیں، لیکن قرآن کی تلاوت کی گونج سنائی نہیں دیتی۔

بچوں کے ہاتھوں میں قیمتی ٹیبلٹس  تو ہیں، لیکن ان کی زبانیں ذکرِ الٰہی سے ناواقف ہیں۔

ان کی انگلیوں کو اسکرین اسکرول  کرنے کی عادت تو ہے، لیکن تسبیح کے دانوں سے ان کا کوئی رشتہ نہیں رہا۔

     اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں فرمارہا ہے ’’ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے ‘‘ ، دنیا کی حقیقت انسان کیلئے ایک امتحان گاہ کی سی ہے ، ہر انسان کو اپنے اعمال کے مطابق اس کا نتیجہ اچھا یا بُرا ملے گا، پھر انسان اپنی موت کو کیوں بُھلا بیٹھا ہے ؟ دنیا کے عیش و عشرت میں اتنا مشغول ہوگیا کہ اس کو موت کی ذرا بھی فکر ہی نہیں رہی ۔ یاد رکھیں موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے وہ کہیں بھی کبھی بھی آسکتی ہے۔ ،  الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا. . . . . سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے 3روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد والی زندگی کے لیے تیاری کرے اور بے وقوف وہ ہے جو خود کو خواہشات کے پیچھے لگا لے اور پھر بھی اللہ تعالیٰ سے امید رکھے۔

   موت کی تیاری کیا ہے  

   لا تزول قدما ابن آدم يوم القيامة من عند ربه حتى يسال عن خمس: عن عمره فيم افناه، وعن شبابه فيم ابلاه، وماله من اين اكتسبه، وفيم انفقه، وماذا عمل فيما علم " , قال ابو عيسى: هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث ابن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم إلا من حديث الحسين بن قيس، وحسين بن قيس يضعف في الحديث من قبل حفظه، وفي الباب عن ابي برزة , وابي سعيد.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا پاؤں قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا اور اس کے علم کے سلسلے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا“ ۱؎۔

امام ترمذی کہتے ہیں:




Post a Comment

0 Comments