بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم
وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ
بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے
آزادی کے بعد سے لیکر اب تک شاید یہ پہلی بار ہورہا ہے کہ اتر پردیش کے مسلمان ووٹنگ کے سلسلے میں عجیب کشمکش میں مبتلا ہیں کیوں کہ 75 سالوں سے اب تک ہم سیکولر ہونے کا دعوہ رکھنے والی پارٹیوں کا ساتھ دیتے آئے تھے، یہ خیال کرتے ہوئے کہ امن و سلامتی قائم رہے گی لیکن ہمیں کیا ملا ہمنے کیا حاصل کیا آج سے 75 سال پہلے ہماری کیا حیثیت تھی اور اب کیا ہے اور ان 75 سالوں میں ہمنے کتنے مظالم برداشت کئے کتنی نا انصافیاں جھیلیں یہ ایک ایسی حقیقت ہے، جو کسی سے بھی مخفی نہیں۔
بہر حال اس وقت مسلمانوں کا سیکولر پارٹیوں کا ساتھ دینا مجبوری کے درجے میں تھا کیوں کہ اس کے علاوہ مسلمانوں کے پاس کوئی آپشن نہیں تھا لیکن اب جب کہ قسمت نے ہمیں ایک اچھا موقع فراہم کیا ہے اپنے سیاسی شعور کو بیدار کرنے کا اور ایک ایسے قائد کا ساتھ دینے کا جو افضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر کا مصداق ہے
تو ہم کیوں ہچکچا رہے ہیں کیوں کشمکش میں مبتلا ہیں ہمارے قدم کیوں ڈگمگا رہے ہیں ہم اسے کیوں قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں جو گلی کوچوں میں رات و دن ہماری خاطر مارا مارا پھر رہا ہے اور ہم کیوں اس کا ساتھ دینے کو تیار نہیں جو ظالم حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بلا خوف و خطر ہمارے حقوق کی بات کرتا ہے کیا تم ہمیشہ دوسروں کے محتاج رہنے کو پسند کرتے رہوگے کیا تمہیں سیاست میں اپنا حصہ نہیں چاہیے جو کہ تمہارا حق ہے۔
کہا جاتا ہیکہ وہ بی جے پی کا ایجنٹ ہے دلال ہے قوم کو فروخت کرنے والا ہے۔
تو میں معلوم کرنا چاہوں گا کہ ان باتوں کے لئے تمہارے پاس کوئی واضح ثبوت ہے اور اگر نہیں ہے تو تمہیں آقاﷺ کا یہ فرمان یاد ہونا چاہئے، جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی (الزام لگایا) جو حقیقت میں اس میں تھی ہی نہیں تو اللہ اسے دوزخ کی پیب میں ڈالے گا یہاں تک کہ وہ اپنی اس حرکت سے (دنیا میں) باز آجائے (توبہ کر لے تو پھر نجات ممکن ہے) (مسند احمد و سنن ابی داؤد) ۔
کہا جاتا ہیکہ اس کے آنے سے بی جے پی جیت جائے گی جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی۔
تو میں مسلمانوں سے کہنا چاہوں گا کیا بی جے پی کو ہرانا ہماری ہی ذمہ داری ہے اور کیا جمہوریت کا ٹھیکہ ہم نے ہی لے رکھا ہے جبکہ دوسری قومیں ان چیزوں کو نظر انداز کرکے اپنی سیاسی قوت کو بڑھانے میں لگی ہوئی ہیں اور کافی حد تک کامیاب بھی ہوئ ہیں ۔۔
اور مسلمان 1990 تک آنکھ بند کر کے کانگریس کے پیچھے چلتے رہے سانحہ بابری مسجد کے بعد تھوڑے بہت بیدار ہوۓ مگر پھر غلط راہ کی طرف نکل پڑے کبھی چھ پر سینٹ اور کبھی ایک پرسینٹ کو سی ایم بنایا لیکن بدلے میں صرف مظفر نگر جیسے فسادات علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا ،
یہ سب اس وجہ سے ہوا کیونکہ مسلمانوں کی کوئ طاقت و حیثیت نہیں ہے، نہ تعلیم کے اعتبار سے اور نہ سیاست کے اعتبار سے، مسلمان اب تک جن پر بھروسہ کرتے آئے ہیں انہوں نے سواۓ اپنا الو سیدھا کرنے کے کچھ نہیں کیا اور بارہا مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ ان کے پاس ہمارے علاوہ کوئی آپشن نہیں انکی کوئی سیاسی پارٹی نہیں یہ کہاں جائیں گے بلآخر یہ ہمارے ہی قدموں میں آئینگے یہی وجہ ہے کہ یہ پارٹیاں مسلمانوں کی کوئ قیادت نہ ابھرے اسکی ہر ممکن کوشش کرتی آئی ہیں اور کر رہی ہیں ۔۔
اگر مسلمان پہلے ہی بیدار ہوکر میدان سیاست میں آجاتے تو شاید اتنے نقصان نہ اٹھانے پڑتے جیسا کہ مولانا سجاد نعمانی نے اپنے ایک خط میں کہا تھا کاش کہ مسلمانوں کی کوئ سیاسی جماعت آج سے پچاس سال پہلے ہی میدان عمل میں آجاتی!!!
اور ابھی کچھ دن پہلے ہی حضرت مولانا محمود مدنی نے کہا تھا مسلمانوں کو کسی پارٹی کو ہرانے کیلئے وؤٹ نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ اس صورت میں جسے ہرانا چاہتے ہو وہ اگر جیت گیا تو تمہارے ووٹ کی اہمیت نہیں رہے گی اور نہ ہی وہ تمہاری ترقی بارے میں سوچے گا اور وہ اگر وہ ہار گیا جسے تم ہرانا چاہتے ہو تو وہ جیتنے والا بھی تمہاری طرف توجہ نہیں دے گا کیونکہ اس کو آپ نے ووٹ جتانے کے لئے نہیں دیا بلکہ کسی کو ہرانے کے لئے دیا ہے۔
اور آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ جب ہم 75 سالوں سے غیروں کو طرح طرح کے ظلم و ستم اور نا انصافیاں سہنے کے باوجود بار بار موقع دیتے آرہیں ہیں تو اس بار ہمیں اپنے آپ کو موقع دینے میں کیا حرج ہے اتر پردیش کے اندر تقریباً 140 سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمان کسی کو بھی جتا سکتے ہیں اگر ہم مجلس اتحاد المسلمین کے 50 امیدواروں کو بھی جیت دلادیں تو تو مسلمانوں کے اندر ہمت و حوصلہ پیدا ہوگا وہ ایوانوں میں مسلمانوں کیلئے بول سکتے ہیں ، اور ظلم کا جو نگا ناچ کھیلا جارہا ہے، اس میں کمی ہو گی۔ اگر مسلمان دوسری پارٹی کے ساتھ ملکر جیت بھی جاتی ہیں تو وہ ان کے حساب سے کام کریں گے ، اور وہ مسلمانوں کیلۓ کبھی آواز بلند نہیں کر نے دیں گے۔
ہمارے ملک میں ہر صوبہ میں ہر قوم کیلئے آواز اٹھانے والی سیاسی پارٹیاں ہیں، مگر مسلمانوں کے حق میں بولنے کیلئے کو ئی سیاسی پارٹی نہیں ہے، ہمیں مجبوراً اسی کے پیروں میں گرنا پڑتا ہے جو ہمارے حق کو چھین لیتے ہیں ۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ مسلمانوں کی سیاسی پارٹی ہونی چاہئے جو مسلمانوں کے حق میں بو سکے ؟؟؟ ذرا سوچئے اور خوب سوچئے!!!
آج مسلمانوں کیلۓ کوئی بولنے کیلۓ تیار نہیں ہے۔ مسلمانوں کے گھروں کو جلایا جارہا ہے، مسجدوں پر بھگوا جھنڈا لہرایا جارہا ہے، ان کو توڑ پھوڑ کر آگ کے حوالے کیا جارہا ہے۔مسلمانوں نے جن لوگو یکطرفہ وؤٹ دیکر جتایا تھا کہاں وہ کہاں ہیں کاش کہ مسلمانوں کے پاس بھی سیاسی طاقت ہوتی تو آج ہم اسطرح اپنے آپ کو بے سہارا محسوس نہیں کرتے ۔
ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ظلم کی عمرزیادہ لمبی نہیں ہو تی۔ اس ظلم کی عمر کو کم کرنے کیلئے ہمیں وؤٹ کا صحیح استعمال کرنا پڑیگا۔۔
یہ چہرہ ضروری نہیں ہے آپ کو جوبھی پسند ہو ! مگر اپنا ہو
آپ نیچےاپنی رائے کا اظہار کرکے ہماری حصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔۔ یا ہماری غلطیوں کو اجاگر کرکے ہمیں صحیح راہ دکھا سکتے ہیں۔
0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇