چاند رات

                   بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم

          آج کی رات انعام کی رات ہے 

       آج کی رات جسے ھم چاندرات کہتے ہیں، احادیث مبارکہ میں اسے لیلة الجاٸزہ کہا گیا ہے، یعنی انعام کی رات ۔ یہ رات خوشی کی ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خوشی کے چکر میں پوری رات لہوو لعب میں گزار دیں۔ اگر پوری رات عبادت نہیں کرسکتے تو کم از کم رات کا کچھ حصہ تو ضرور عبادت میں گزاریۓ، اسے ضاٸع نہ کیجۓ۔ عید الفطر کی رات انعام والی رات ہے ، رمضان المُبارک کے اختتام پر آنے والی شب یعنی عید الفطر کی رات ایک بہت ہی بابرکت اور اہم ترین رات ہے،جسے حدیث میں”لیلۃ الجائزہ“کہا گیا ہےیعنی انعام ملنے والی رات کیونکہ اِس شب میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں کو پورے رمضان کی مشقتوں اور قربانیوں کا بہترین صلہ ملتا ہے۔(شعب الایمان : ٣٤٢١) 

             عیدالفطرکی رات کےفضاٸل 

      عید الفطر کی شب جسے چاندرات بھی کہا جاتا ہےعُموماً لوگ اِسے عید کی تیاریوں، خوشیوں، موبائل، اور ٹیوی میں ضائع کردیتے ہیں حالانکہ یہ ایک عظیم المرتبت رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے بندوں کو اُن کی رمضان بھر کی محنتوں کا صلہ دیا جارہا ہوتا ہے۔ اِس شب میں عبادت کرنا اور اللہ کے سامنے کھڑا ہونا احادیثِ طیّبہ کی روشنی میں بڑا فضیلت والا عمل ہے ، اِس کی برکت سے قیامت کی ہولناکی سے حفاظت ہوتی ہے۔ اِس سلسلے کی احادیث ملاحظہ فرمائیں:   حضرت ابوامامہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے اِرشاد فرمایا : مَنْ قَامَ لَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ مُحْتَسِبًا لِلَّهِ لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ“ جس نے عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ)کی دونوں راتوں میں اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئے عبادت میں قیام کیا اُس کا دل اُس دن مردہ نہیں ہوگا جس دن سب کے دل مُردہ ہوجائیں گے۔

(ابن ماجہ:١٧٨٢)(طبرانی اوسط:١٥٩)

      اِس رات عبادت کرنے والے کا دل قیامت کے دن مردہ نہیں ہوگا : عید الفطر کی شب کی ایک بڑی فضیلت یہ ذکر کی گئی ہے کہ اس میں عبادت کرنے والے کا دل قیامت کے دن مُردہ اور خوفزدہ نہیں ہوگا۔۔ 

   حضرت معاذ بن جبل ؓ سے مَروی ہے کہ نبی کریمﷺ اِرشاد فرماتے ہیں :   مَنْ أَحْيَا اللَّيَالِيَ الْخَمْسَ وَجَبتْ لَهُ الْجنَّة لَيْلَةَ التَّرويَة وَلَيْلَةَ عَرَفَة وَلَيْلَةَ النَّحْر وَلَيْلَةَ الْفِطْرِ وَلَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَان“

   جو پانچ راتوں میں عبادت کا اہتمام کرےاُس کیلئے جنّت واجب ہوجاتی ہے : لیلۃ الترویۃ یعنی ٨ ذی الحجہ کی رات، لیلۃ العرفہ یعنی٩ ذی الحجہ کی رات ، لیلۃ النّحر یعنی١٠ ذی الحجہ کی رات ، لیلۃ الفطر یعنی عید الفطر کی شب اورلیلۃ النّصف من شعبان یعنی شعبان کی پندرہویں شب۔

(الترغیب و الترھیب: ١٦٥٦)

    خَمْسُ لَيَالٍ لَا تُرَدُّ فِيهِنَّ الدُّعَاءَ: لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ، وَأَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَلَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ۔

ترجمہ:

پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں کی جانے والی دعا کو رد نہیں کیا جاتا:

ا... جمعہ کی رات

۲... رجب کی پہلی رات

٣... شعبان کی پندرہویں رات

٤... عید الفطر اور عید اور عیدالاضحیٰ کی دو را تیں


اس رات کی اہمیت کے پیش نظر عبادات کو بجالایا جائے اور اگر عبادات بجانہ لاسکیں تو فسق فجور اور لایعنی کاموں میں پڑنے سے بہتر ہے کہ عشاء کی نماز مسجد میں جماعت سے ساتھ ادا کریں اور آرام کریں۔ صبح اٹھ کر تہجد کی نماز ادا کریں اور فجر کی نماز بھی باجماعت ادا کریں۔ اللہ تعالی سے امید ہے کہ پوری رات کی عبادت کا ثواب عنایت فرمائیں گے ۔ اس طریقے سے گناہوں سے حفاظت بھی رہے گی اور ثواب بھی ملے گا ان شاء اللہ ۔

🔹اس رات یہ کام کریں:

عید کی رات کو درج ذیل چند کام سر انجام دینے کی کو شش کرنی چاہیے:

1. نوافل پڑھنا

2. قرآن مجید کی تلاوت کرنا

3. صدقہ دینا

4.دعاؤں کا اہتمام کرنا

5.ذکر اللہ کرنا

6اپنے گناہوں کی معافی مانگنا

7امت مسلمہ کی بھلائی اور عافیت کی دعا کرنا*

8.رشتہ داروں سے نیک سلوک کرنا

9.اگر کسی کی حق تلفی ہو گئی ہو تو اس سے معافی مانگنا

10.کسی نے ظلم زیادتی کی ہو تو اسے معاف کرنا*


اللہ تعالیٰ ہم سب کو قارئین کو عمل کی توفیق نصیب فرمائے ، آمین

یاد رکھیں





   








Post a Comment

0 Comments