زکوۃ فصل

           بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم

  الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضللہ ومن یضلل فلا ھادی لہ ونشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان سیدنا ومولٰنا محمدا عبدہ ورسولہ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ، وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَقۡرِضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗاۚ وَمَا تُقَدِّمُواْ لِأَنفُسِكُم مِّنۡ خَيۡرٖ تَجِدُوهُ عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيۡرٗا وَأَعۡظَمَ أَجۡرٗاۚ سورہ مزمل 20 نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو اچھا قرض دو اور اپنے لیئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور بڑے ثواب میں پاؤ گے،، 

      آج میں آپ حضرات کے سامنے زکوۃ کے متعلق کچھ باتیں بیان کرنے کی کوشش کروں گا اللہ تعالی سے دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے صحیح صحیح کہنے اور ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، زکوۃ ایک ایسی عبادت ہے جس پر اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے، رسول اللّٰہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بنی الاسلام علیٰ خمس :شھادۃ ان لاّ ا لٰہ الّا اللّٰہ وانّ محمّدا رسول اللّٰہ ،واقام الصّلٰوۃ،وایتاء الزّکوٰۃ،وحجّ البیت ،وصوم رمضان))[رواہ البخاری ومسلم]

’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے :گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ،نماز قائم کرنا ،زکوٰۃ ادا کرنا،بیت اللہ کا حج کرنا،اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔

  وَأَقۡرِضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا   اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کو قرض حسنہ دو اور جو بھی تم اپنے لئے اگے بھیجو گی تم اللہ تعالی کے پاس اس کا بہترین بدلہ پاؤ گے،۔  اللہ تعالی کو قرض حسنہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم میرے غریب اور مسکین بندوں پر اپنا مال خرچ کرو اور ان کی مدد کرو ان کو دینا گویا کہ مجھے دینا ہے ، ان کی خدمت کرنا مجھے خوش کرنا ہے، ان پر رحم کرنا میری رحمت لوٹنا ہے،، حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی ایک انسان کو بلائیں گے اور اس سے کہیں گے کہ میں بیمار تھا تو نے میری عیادت نہیں کی، میں بھوکا تھا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا،  میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا، تو بندہ کہے گا اے میرے پروردگار تو تو ان تمام عیبوں سے پاک ہے ، نہ تجھے بھوک لگتی ہے نہ پیاس لگتی ہے اور نہ ہی کوئی بیماری لگتی ہے، تو میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا کیسے پانی پلاتا اور کیسے میں تیری مدد کرتا ، تو اللہ تعالی کہیں گے میرا فلاں بندہ بیمار تھا، میرا فلاں بندہ بھوکا تھا، میرا فلاں بندہ پیاسا تھا، اگر تو اس کو کھانا کھلاتا اس کو پانی پلاتا اور اس کی عیادت کرتا تو تو مجھے وہاں پاتا، 

   تو میرے بھائیو ہمارے مال میں صرف ہمارا ہی حق نہیں ہے بلکہ ہمارے مال میں غریبوں کا بھی حق ہے، غریبوں کے حق ادا کرنے کا ایک طریقہ ہے زکوۃ  ہم اپنی زکوۃ کے ذریعے سے غریبوں کی مدد کر سکتے ہیں،  زکوٰۃ اسلام کا اہم رکن ہے،  قرآن کریم میں ایمان کے بعد نماز اور اور زکوٰۃ کا باربار ذکر کیا گیا ہے ۔ زکوٰۃ کے لفظی معنی ہیں پاک ہونا، زکوٰۃ مال کا وہ حصہ ہے جس کا ادا کرنا فرض ہے اور آج مسلمان زکوٰۃ ادا کرنا ہی نہیں چاہتے، بہت سے مسلمان زکوٰۃ کی فرضیت سے غافل ہیں ، بہت سے لوگ حیلوں اور بہانوں کی تلاش میں رہتے ہیں جس کی بدولت زکوٰۃ سے بچ جائیں، بعض مسلمانوں کو اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنا بھی دشوار ہوتا ہے جو مال ان کا ہے ہی نہیں، فضول اور بے کار کاموں میں پیسے برباد کر کے اپنے آپ کو حاتم طائی سمجھتے ہیں ، ناچ گانوں اور پارٹیوں میں دسیوں ہزار برباد کر کے اپنے ایمان و عمل کا خون کر دیتے ہیں مگر زکوۃ نہیں نکال سکتے  کچھ مسلمان زکوٰۃ ادا کرتے ہیں مگر پورا حساب کتاب کئے بغیر محض اندازے سے یا ذوق کے مطابق کچھ مال زکوٰۃ کے نام سے نکال دیتے ہیں، حالانکہ یہ بھی بڑی کوتاہی ہے ، زکوٰۃ نکالنے کے لئے پہلے پورا حساب کتاب کیا جائے تاکہ زکوٰۃ کی اصل رقم معلوم ہو جائے اور پھر اس کو حقدار تک پہنچا دیا جائے، 

  ہر قسم کے مال پر زکات واجب نہیں ہوتی، بلکہ صرف ان مالوں میں زکات واجب ہوتی ہے جن میں بڑھنے کی صلاحیت ہو اور یہ چھ قسم کے اَموال ہیں:  سونا، چاندی، نقد روپیے، مال تجارت،  مویشی، اور زراعت

   زمین سے جو چیز پیدا ہوتی ہیں ان میں سے بہت سی چیزوں میں زکوۃ واجب ہوتی ہے ان میں بھی غریبوں کا حق ہوتا ہے، زمین سے دو طرح کی چیزیں پیدا ہوتی ہیں، نمبر ایک ایسی چیزیں جن کو جمع کر کے ذخیرہ کر کے اور اسٹور کر کے رکھا جا سکتا ہوں جیسے چاول گو ہوں مکہ باجرہ کھجور اور اس جیسی دوسری چیزیں، تو ان میں زکوۃ فرض ہوگی، نمبر دو ایسی چیزیں جن کو جمع کر کے ذخیرہ کر کے رکھنا ممکن نہ ہو جیسے سبزی اور پھل و غیرہ تو ان میں کوئی زکوۃ نہیں ہے اگر کوئی اپنی مرضی سے دینا چاہے تو دے سکتا ہے باقی ان میں کوئی زکوۃ نہیں ہے،،، 

    فصلوں کی زکوۃ کا نصاب 612 کلو ہے،  اگر اس سے کم ہے تو کوئی زکوۃ نہیں ہے، جس کو 612 کلو یا اس سے زیادہ مقدار میں اناج ہوا ہے اس پر زکوۃ واجب ہے،، زکوۃ نکالنے کی مقدار کیا ہوگی کس طریقے سے اور کتنا زکوۃ نکالا جائے گا، اگر فصل تیار ہوئی ہے بارش کے پانی سے ندی نہر اور پہاڑ کے پانی سے ، تو اس میں دسواں حصہ نکالا جائے گا یعنی 10 کلو میں ایک کلو 100 کلو میں 10 کلو، اور اگر فصل تیار ہوئی ہے موٹر کے پانی سے یا کسی ایسے پانی سے جس میں پیسے خرچ کرنے پڑے ہوں، تو اس میں پیسواں حصہ نکالا جائے گا یعنی 20 کلو میں ایک کلو اور 100 کلو میں پانچ کلو ۔

    فصلوں کی زکوۃ میں سال کا اعتبار نہیں ہوتا ہے جس طریقے سے سونا چاندی اور مال تجارت میں سال کا اعتبار ہوتا ہے اس طریقے سے فصلوں میں سال کے اعتبار نہیں ہوتا ہے بلکہ جب بھی فصل تیار ہو جائے گی چاہے تین مہینے میں ہو یا چھ مہینے میں تو اس میں سے زکوۃ نکالنی پڑے گی، 

   یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ زکوۃ ایسی زمین سے نکالی جائے گی جو باپ دادا سے چلتی ہوئی  آرہی ہے یا بنجر زمین کو قابل کاشت بنا لیا ہے ان زمینوں میں زکوۃ نکالی جائے گی،،، اور اگر کوئی ایسی زمین ہے جس کو آپ نے آپ کے والد صاحب نے یا آپ کے دادا اور پردادا نے خریدی ہوں اور آپ کو یقینی طور پر معلوم ہے کہ زمین خریدی ہوئی ہے تو خریدی ہوئی زمین میں کوئی زکوۃ نہیں ہے چاہے اس میں کتنی بھی پیداوار ہو باقی اگر کوئی اپنی مرضی سے اپنی خوشی سے نکالنا چاہے تو اس کی مرضی ہے ، 

   آخری بات یہ ہے کہ ہمیں زکوۃ نکالنے کے لئے تین باتیں یاد رکھنی ہے،  نمبر ایک اناج کی مقدار 612 کلو ہو یا اس سے زیادہ،،  نمبر دو وہ فصل فری کے پانی سے تیار کی گئی ہے یا یقیمت کے پانی سے تیار کی گئی ہے،۔  اور نمبر تین وہ زمین خریدی ہوئی ہے یا نہیں 

     ہمارے مال میں غریبوں کا بھی حق رکھا گیا ہے لہذا زکوۃ نکال کر کے آپ غریبوں کے حق کو ادا کر سکتے ہیں اگر آپ زکوۃ نہیں نکالتے ہیں تو غریبوں کے حق کو مارتے ہیں اور غریبوں کے حق کو مار کر کے آپ خوش نہیں رہ سکتے آپ پریشانیوں سے چھٹکارا نہیں پا سکتے، اس لئے جس کو جتنا اناج ہوا ہے وہ ایمانداری کے ساتھ اپنے اناج میں سے زکوۃ نکال دے،،۔  اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،، 

         وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ


  پانچ اونٹوں کی زکوٰۃ ایک بکری اور دس اونٹوں کی زکوٰۃ دو بکریاں ہیں۔پانچ سے کم اونٹوں پر زکوٰۃ واجب نہیں۔(صحیح بخاری کتاب الزکوۃ)

   *🐃بھینسوں اور گایوں کی زکوٰۃ🐂*

💠30گائیوں پر ایک بکری زکوٰۃہے۔
💠40گائیوں پردوسال سے بڑا بچھڑا زکوۃ دیں۔(ترمذی1/509)


 



Post a Comment

0 Comments