ماہ شعبان



      «أَحْصُوا هِلَالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ»

(شعبان کے چاند کا خاص اہتمام کرو، رمضان کے لیے)

شَعْبَانُ شَہْرِیْ وَرَمَضَانُ شَہْرُ اللّٰہِ


   اللہ رب العزت کا بے انتہا احسان ہے کہ اس نے ہمیں زندگی میں ایک بار پھر ماہِ شعبان کی بہاریں نصیب فرمائیں۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جو اپنے سینے میں بے پناہ فضیلتیں سمیٹے ہوئے ہے اور ہمیں کائنات کے سب سے مقدس مہینے، رمضان المبارک کی آمد کی نوید سناتا ہے۔

   آج شعبان کی چوہدہ تاریخ ہے ، اسلامی مہینوں کے اعتبار سے شعبان کا مہینہ ، آ ٹھواں مہینہ ہے، شعبان کو فضیلت والے مہینے میں شمار کیا جاتا ہے، مسند روایات، اور تاریخی واقعات کے تناظر میں، اس مہینے کی بڑی فضیلت اور اہمیت ہے، یہ ہمارے ایمان کو مضبوط کرنے ، استغفار کرنے ، اور رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی تیاری کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، 

       أحْصوا هِلالَ شَعبانَ لرمضانَ

  اس حدیث کے ذریعے سے اللہ کے رسول نے اپنی امت کو ایک اہم بات کی ترغیب دی ہے،  کہ شعبان کے میں نے کا چاند دیکھنے کا اہتمام کرو، اسلامی مہینوں میں سے ہر مہینے کا چاند دیکھنا سنت ہے، 

اللہ کے رسول ﷺ نے امت کو اپنی الگ پہچان عطا فرمائی۔ آپ ﷺ کے دور میں بھی عیسائی کا اپنا کلینڈر تھا، یہودیوں کی اپنی تاریخ تھی،  لیکن آپ ﷺ نے اپنی عبادات کے لیے انہیں نہیں اپنایا۔ 

 اسلامی مہینوں کے اعتبار سے امت کو سکھایا کہ چاند دیکھ کر مہینہ شروع کرو، چاند دیکھ کر روزے رکھو، چاند دیکھ کر عید مناؤ بکرا عید کی خوشی مناؤ، ہمارے تمام عبادتیں, اور تمام تہوار  اردو تاریخ کے حساب سے ہوتی ہیں، اس لیے ہمیں اردو تاریخ بھی معلوم ہونی چاہیے، افسوس کی بات ہیکہ ہم صرف دو مہینوں کے چاند دیکھنے کا اہتمام کرتے ہیں، ایک رمضان کا، اور دوسرا عید کا، اس کے علاوہ باقی بہنوں کے چاند دیکھنے کا مسلمان اہتمام نہیں کرتے، جبکہ ہر مہینے کا چاند اللہ کے رسول اہتمام کے ساتھ دیکھتے تھے،اور ہر مہینے کا چاند دیکھنا یہ سنت بھی ہے،

  اللہ کے رسول اس مہینے میں کثرت سے روزہ رکھتے تھے، اور کثرت سے روزہ رکھنے کی دو وجہ تھی، ایک رمضان کے مہینے کی عظمت اور اس کا احترام، 

 ایک انسانی فطرت ہے کہ ہم جس کی بھی عزت کرتے ہیں، اس کے مرتبے اور اس کے کام کی مناسبت سے کرتے ہیں۔ اس بات کو ہم روزمرہ کی مثالوں سے سمجھ سکتے ہیں:

سیاسی لیڈر کا استقبال: اگر ہمارے علاقے میں کوئی بڑا "نیتا" یا لیڈر آتا ہے، تو ہم اس کی نسبت کے حساب سے اس کا استقبال کرتے ہیں۔ ریلیاں نکالی جاتی ہیں، نعرے لگتے ہیں، پھول برسائے جاتے ہیں اور بڑے بڑے جلسے سجا کر ان کی باتوں کو سنا جاتا ہے۔ اور تالیاں بجائیں جاتی ہیں ، یہ اس کے مرتبے کا احترام ہے۔

  عزیز رشتہ دار کا استقبال: اس کے برعکس، جب ہمارے گھر میں کوئی پیارا رشتہ دار جیسے "ماموں یا خالو" آتے ہیں، تو ان کا احترام بدل جاتا ہے۔ وہاں نعرے نہیں لگتے، بلکہ ان کے لیے نرم بستر کا انتظام ہوتا ہے، بہترین کھانوں کی میز سجائی جاتی ہے اور ان کی خدمت کر کے ان کی آمد کی خوشی منائی جاتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ: ہر انسان کا احترام اس کی نسبت اور اس کے شعبے کے اعتبار سے الگ ہوتا ہے۔

دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ

رمضان کے روزے ہم پر بوجھ نہ بن جائیں۔

یہ بھی انسانی فطرت ہے کہ

اگر کوئی کام اچانک شروع کر دیا جائے

تو جسم اور طبیعت کو دشواری محسوس ہوتی ہے۔

اگر ہم پورا سال روزہ نہ رکھیں

اور اچانک رمضان کا پہلا روزہ رکھ لیں،

تو جسم تھکن، کمزوری اور بوجھ محسوس کرتا ہے۔


لیکن اگر ہم شعبان میں چند نفلی روزے رکھ لیں، تو ہماری طبیعت روزے کی عادی ہو جائے گی۔

پھر جب رمضان کا چاند نظر آئے گا، تو ہم نڈھال ہونے کے بجائے چاک و چوبند ہوں گے اور پہلے ہی دن سے پوری یکسوئی کے ساتھ تلاوت اور تراویح کا حق ادا کر سکیں

 گے۔


اور جاؤ شعبان کی 15 تاریخ ہوتی ہے، تو اللہ تبارک و تعالی بے انتہا  اور لا تعداد لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں، حدیث میں اتا ہے کہ قبیلہ بنو قلب کی بکریوں کے برابر لوگوں کی اس رات میں مغفرت کی جاتی ہے، 

   جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے نام اعمال کو بند کر دیا جاتا ہے، اب اس کے نام اعمال میں نہ برائی یا لکھی جاتی ہیں اور نہ ہی گناہ لکھے جاتے ہیں، 

      اگر کسی کے ماں باپ دنیا میں نہیں رہے،یا ہمارے دادا دادی نانا نانی نہیں رہے اور ہم ان کے ساتھ احسان کرنا چاہتے ہیں،  اور اب ہم ان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، ان کے ساتھ احسان کرنا چاہتے ہیں، ان کو خوش کرنا چاہتے ہیں، تو اللہ کے رسول نے فرمایا کہ ایک چار کام کرو، اگر ہم یہ چار کام کریں گے تو اس سے ہمارے والدین کو خوشی ہوگی، 



Post a Comment

0 Comments