روزے کی تیاری

                     بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

    ماہ رمضان کی آمد ہے ہو چکی ہے، ہر طرف رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہے۔ گلی، محلوں، چوراہوں، اور مسجدوں میں خوشیوں کا ایک ایسا ماحول ہے۔ جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا، اس خوشی کو دیکھ کر صرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔  یقیناً رمضان المبارک کا مہینہ خدا کی جانب سے مسلمانوں کیلۓ ایک انعام ہے ۔ مگر یہ انعام ہمارے لئے اسی وقت فائدے مند ثابت ہوگا جب اس انعام کی قدر کی جائے۔ 

   یہ مہینہ نیکی کمانے کا مہینہ ہے، ایک ہے نیکی کرنا، دوسرا ہے نیکی جمع کرنا، اور تیسرا ہے نیکی کو محفوظ کرنا، جیسے پیسے کمانا،پیسے جمع کرنا، اور پیسے کو محفوظ رکھنا، نیکیوں کو محفوظ رکھنے کے لئے گناہوں سے توبہ کرنا ضروری ہے،کیونکہ گناہوں کے ساتھ نیکیاں باقی نہیں رہتی ،گناہ نیکی کو ایسے ختم کر دیتی ہے جیسا کہ آگ لکڑی کو ختم کر دیتی ہے، اس لئے سب سے پہلا کام یہ ہے کہ گناہوں سے پکی سچی توبہ کرنا ، گناہوں سے توبہ کرنے کا مطلب یہ ہے ، میں جس گناہ میں مبتلا ہوں اس گناہ کو چھوڑنے کا پکا ارادہ کریں،اس گناہ پر شرمندہ ہو ، اور آئندہ نہ کرنے کا پکا عزم کریں، اور اگر وہ گناہ حقوق العباد میں سے ہے، یعنی اس گناہ کا تعلق کسی بندے سے ہے تو اس کا حق ادا کردیں ، یہ گناہوں سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے، توبہ کے بغیر  رمضان کی نیکیاں نہ بچیں گی اور نہ ہی محفوظ رہیں گی، 

  اس کو دو طرح کی مثالوں سے سمجھئے، نمبر ایک آپ کا بچہ گلی کوچے یا میدان میں کھیل رہا ہوں ، اور کھیلنے کی وجہ سے اس کے جسم پر گرد و غبار اور مٹی لگ گئی ہو، وہ گھر آکر کے کھانا مانگتا ہے، تو اس سے کہا جائے گا پہلے منہ ہاتھ دھو کر کے پاک صاف ہو جاؤں اس کے بعد کھانا کھا لینا ،۔  پتہ یہ چلا کہ جب ظاہری جسم گندا ہوتا ہے تو اس کو کھانا بھی نہیں دیا جاتا،تو اسی طریقے سے جب باطنی جسم، جسم کے اندر کا حصہ گندا ہوتا ہے ، تو اللہ کی معرفت اس کو حاصل نہیں ہوتی ہے، پچھلے 11 مہینے سے گناہ کرتے کرتے ہماری آنکھیں گندی ہو چکی ہیں ہمارے کان گندے ہو چکے ہیں ہمارے دل سیاہ ہو چکے ہیں، تو اپنی آنکھوں میں معرفت پیدا کرنے کے لئے، اپنے دل میں نورانیت پیدا کرنے کے لئے گناہوں سے توبہ کرنا ضروری ہے،،،

  دوسری مثال آپ کے گھر کی ٹنکی میں چوہا یا بلی مر گئی ہے ، اور پانی میں بدبو آنے لگی ہے ، آپ نے مفتی صاحب سے مسئلہ معلوم کیا ، مفتی صاحب نے بتایا کہ اگر چوہا مر گیا ہے تو 20 سے 30 ڈول نکال دیں ،اور اگر بلی مر گئی ہیں تو 40 سے 60 ڈول نکال دیں تو کنواں پاک ہو جائے گا ، تو آپ نے 20 سے 30 ڈول پانی نکال دیا لیکن اس کے باوجود پانی کے بدبو ختم نہیں ہوئی، تو آپ مفتی صاحب کے پاس گئے اور بتایا کہ ہم نے 20 سے 30 ڈور نکال دیا ہے لیکن بدبو ختم نہیں ہو رہی ہے ، تو مفتی صاحب نے پوچھا کیا آپ نے پانی سے اس جانور کو نکال دیا ہے تو آپ نے کہا کہ جانور کو تو نہیں نکالا لیکن پانی کو نکال دیا ہے، تو ایسے انسان کو نمبر ون بے وقوف کہا جائے گا،کیونکہ جس کی وجہ سے کنواں ناپاک ہوا ہے، اور پانی گندا ہوا ہے، جب تک اس کو نہیں نکالا جائے گا تب تک پانی پاک نہیں ہوگا ،، تو اسی کی طریقے جس گناہ کی وجہ سے ہم ناپاک ہوئے ہیں پہلے اس گناہ کو چھوڑیں ، اس کے بعد ہمارا دل پاک ہوگا، نگاہ پاک ہوگی،اور خیالات صاف ہوں گے، 

   ہمارے دل میں کئی چوہے مرے ہوئے ہیں، مال کی محبت کے ،جگہ کی محبت کے ، حرام خوری کے، رشوت خوری کے، شراب کھوری کے، دوسروں کے مال ہڑپ کھانے کے ، زمین و جائیداد ہڑپ کھانے کے، اور دوسروں کے قرضے اپنا مال سمجھ کر کے کھا جانے کے، جب تک یہ سب چیزیں پاک نہیں ہوں گی، تو جب تک روزے کی عبادت سے تقوی پیدا نہیں ہوسکتا ،تراویح کی عبادت سے عشق الہی پیدا نہیں ہو سکتا، اور تہجد کی عبادت سے اللہ کی معرفت پیدا نہیں ہوسکتی، تو پہلی چیز ہے رمضان کی تیاری میں کہ بندہ اپنے گناہوں سے پکی سچی توبہ کریں اور گناہوں کو نہ کرنے کا پکا عزم کرے ، 

   دوسرا کام جو رمضان المبارک کے مہینے میں کرنا ہے وہ یہ ہیکہ زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی تلاوت کرنی ہے ، کیونکہ قرآن کریم اسی مہینے میں نازل ہوا ہے اللہ تعالی نے قرآن کریم کو نازل کرنے کے لئے رمضان کے مہینے کا انتخاب کیا ہے، 

ہم پلان بنائیں کہ رمضان المبارک کے مہینے میں کتنے قرآن کریم پڑھیں گے، قرآن کریم کی کتنی سورتیں یاد کر لیں گے، 11 مہینے میں قرآن کریم کی تلاوت نہیں کر سکا قرآن کریم کو یاد نہیں کر سکا، بچپن میں جو ہم نے تھوڑا بہت قرآن پڑھنا سیکھا تھا،اور تھوڑی بہت کچھ صورتیں یاد کر لی تھی، یا جماعت میں جا کر کے کچھ صورتیں یاد کر لی تھی ، بس وہی یاد ہیں اس کے علاوہ زیادہ یاد نہیں ہے، ہماری گاڑی وہیں پر اٹکی ہوئی ہے، دنیاوی ایک گھر تھا اب دوسرے کی فکر ہے،پہلے کرائے کے مکان پر رہتے تھے اب ذاتی مکان بنانے کی فکر میں ہے، پہلے ایک دکان تھی اب دو دکان بنانے کی فکرے میں ہیں ، دنیاوی اعتبار سے جس طریقے سے ہم فکر کرتے ہیں اسی طریقے سے قرآن کریم میں بھی اضافے کا ہمیں فکر کرنا چاہیئے،،،

         واقعہ 

    مشہور واقعہ ہے آپ نے سنا ہوگا،اللہ کے کچھ ایسے نیک بندے بھی ہیں جنہیں قرآن سے بہت زیادہ محبت اور لگاؤ رہتا ہے ،قرآن کے بغیر ان کی زندگی بے چین رہتی ہے، حضرت ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ یہ اپنے زمانے کے بڑے بزرگ گزرے ہیں، قرآن کریم سے ان کو بہت زیادہ محبت تھی اس کو پڑھنا زندگی کا مقصد تھا، اور قران کریم کی تلاوت کثرت سے کیا کرتے تھے، جب ان کی وفات کا وقت آیا تو ان کی بہن ان کے سرہانے بیٹھ کر کے رو رہی ہیں، وہ اپنی بہن سے کہنے لگے کہ میری بہن رو مت مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ اللہ تعالی میرے اوپر رحم و کرم کا معاملہ فرمائے گا، پھر اپنے بیٹے کو بلا کر کے وصیت کی کہ بیٹے میں جس روم میں رہتا تھا اس روم میں خدا کے واسطے کبھی گناہ نہیں کرنا ، کیونکہ میں نے وہاں پر 24 ہزار مرتبہ قرآن کریم کو مکمل کیا ہے، سو دوسو مرتبہ نہیں ہزارد دو ہزار مرتبہ  نہیں ،بلکہ 24 ہزار مرتبہ قرآن کریم کو مکمل کیا، تو ایسے بزرگوں کے نیکیوں کا عالم کیا ہوگا، 

 اور ہم اپنی زندگی کو دیکھیں 50 60 سال کی عمر ہوجانے جانے کے باوجود بھی، ایک مرتبہ بھی قرآن کریم مکمل نہیں کر پاتے اور نہ ہی تراویح میں کبھی قرآن کریم سنتے ہیں ، 50 سال کی زندگی گزر جاتی ہے مگر پانچ صورتیں اچھے سے یاد نہیں ہو پاتی ،  تو ایسے لوگوں کی نیکیوں کا کیا ہوگا، اس لئے رمضان کے مہینے کو قرآن کا مہینہ بنائیے ، اور زیادہ سے زیادہ قران کریم کی تلاوت کیجیئے،

    تین چیزوں سے بچے رہنے کا نام روزہ ہے، کھانے سے پینے سے اور جمع کرنے سے، یعنی بیوی سے صحبت کرنے سے ، 

کھانے پینے سے رکے رہنا کونسے کھانے پینے سے رکے رہنا ہے ، ہم نے جو محنت سے کمایا ہے، خون کو پسینہ بناکر اور پسینہ کو بہا کر جو ہم نے محنت اور مشقت سے کمایا ہے، اور جو ہمارے پاس حلال روزی ہے اس روزی کو کھانے پینے سے رکے رہنا، ورنہ تو ایرے غیرے کے کھانے سے ہمیشہ ہی رکے رہنا ہے، کسی کی زمین پر قبضہ کر لیا کسی کے پلوٹ پر قبضہ کر لیا کسی کے پیسے مار لئے کسی کا قرضہ دبا لیا، کہیں رشوت لے کر کے کام کر دیا تو ایسے حرام کی کمائی سے تو ہمیشہ ہی بچنا ہے چاہئے روزے دار ہو یا غیر روزے دار ہو، یہاں پر روزے دار کے لئے جو کھانے کے لئے منع کیا جا رہا ہے وہ حلال روزی کو کھانے کے لئے منع کیا جا رہا ہے، 

تو اس سے پتہ چلا کہ رمضان کے مہینے میں حلال روزی کا اہتمام کرنا چاہیئے، افطار کے کھانے میں سحری کے کھانے میں اور عید کے کپڑے لینے میں حلال پیسوں کے استعمال کریں،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پورے سال حلال پیسوں کا استعمال کریں, لیکن اگر ایسا نہیں ہو پا رہا ہے، تو اللہ تعالی سے توبہ اور استغفار کرے حرام کمائی سے بچنے کی کوشش کریں، تو کم سے کم ایک مہینہ حلال روزی کی کوشش کریں،

     یہ دنیا ہے یہاں تھوڑی مکاری ضروری ہے, یہ دنیا ہے یہاں تھوڑی مکاری ضروری ہے، بھلے روزانہ رکھو مگر افطاری ضروری ہے

 وآخر دعوانا الحمدللہ رب العالمین 


          روزے کی تیاری 2

     اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ احسان اور اس کا کرم ہے کہ اس نے ایک مرتبہ پھر ہمیں رحمت و برکتوں والے مہینے یعنی رمضان المبارک کے قریب کر دیا ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی، ایمان کے سلامتی، اور صحت و تندرستی کے ساتھ رمضان کا مہینہ نصیب فرمائے، اور رمضان میں مقبول اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین 

  اس مبارک مہینے سے پورا پورا فائدہ وہی اٹھا سکتا ہے، جو اس مہینے کے انے سے پہلے اس مہینے کی تیاری کر لی ، اکثر ہماری زندگی میں رمضان کا مہینہ اتا ہے اور چلا جاتا ہے، ہماری زندگی میں رمضان کا مہینہ نہ جانے کتنی مرتبہ آیا ہوگا اور گیا ہوگا، لیکن رمضان کے مبارک مہینے کی وجہ سے جو تبدیلی ہماری زندگی میں انی چاہیے تھی وہ نہیں ائی، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اس مہینے کی تیاری پہلے سے نہیں کرتے، 

   دنیا کے کامیاب بزنس مین اور تاجروں کا یہ طریقہ ہے، سیزن کے انے سے پہلے اس کی تیاری کر لیتا ہے، جب کسی دکاندار یا بزنس مین کو پتہ چلتا ہے کہ عید، بقر عید، ہولی،چ دیوالی، یا کوئی دوسرا سیزن آنے والا ہے ، تو کئی مہینے پہلے سے حالات کا جائزہ لیتا ہے، ہیں اور اس کی تیاری شروع کر دیتا ہے، اپنا گودام مال سے بھر دیتا ہے، اپنی دکان سجا لیتا ہے، اور اپنے وقت کو فارغ کر لیتا ہے، تاکہ سیزن" آنے پر وہ اپنا ایک ایک لمحہ "نفع" کمانے میں صرف کر سکے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر تیاری میں ذرا سی بھی کمی رہ گئی، تو لاکھوں کا نقصان ہو جائے گا۔۔۔۔۔

اگر دنیا کے چند ٹکوں اور عارضی نفع کے لئے اتنی بڑی تیاری ہو سکتی ہے، تو ذرا سوچیے! وہ مہینہ جو "نیکیوں کا سیزن" ہے، وہ مہینہ جو "آخرت کی کمائی کا موسمِ بہار" ہے، وہ مہینہ جس میں اللہ اپنی رحمتوں کے خزانے لٹانے کے لئے تیار بیٹھا ہے—تو اس سیزن کے لئے ہماری کتنی تیای ہونی چاہئے ، رمضان المبارک محض ایک مہینہ نہیں، بلکہ یہ نیکیوں کی منڈی کا وہ "گولڈن سیزن" ہے جہاں ہر نیکی کا بھاؤ ستر گنا (70x) سے بھی زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے ، نفل کا ثواب فرض کے برابر ، فرض کا ثواب ستر فرائض کے برابر کردیا جاتا ہے ، لیکن اس کے باوجود ہم اس مہینے کو غفلت میں گزار دیتے ہیں ۔

   ہماری اور صحابہ کرامؓ کی سوچ میں یہی فرق ہے کہ وہ اس مہینے کی قدر جانتے تھے۔ حدیث بتاتی ہے کہ اللہ کے رسول اور صحابہ رام ، اس مہینے کا دو مہینے پہلے سے انتظار کرتے تھے، اور اس مہینے کو پانے کے لیے دعائیں کرتے تھے، یا اللہ رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا ، 

جب وہ ہستیاں جن کے تقوٰی کا کوئی مقابلہ نہیں، جن کی زندگی کا ہر لمحہ عبادت تھا ، اور جن کے تقویٰ کا عالم یہ تھا کہ وہ پہلے سے جنتی تھے ، لیکن وہ لوگ رمضان کا دو مہینے پہلے سے انتظار کرتے تھے، تو ہم جیسے گنہگاروں کو اس کا انتظار اور اس کی تیاری اور بھی زیادہ کرنی چاہیے ،

 یہ ایسا بابرکت مہینہ ہے جس کا انتظار اللّٰہ کے رسول کو دو مہینے پہلے سے ہوتا تھا ، جب آپ رجب کا چاند دیکھتے تو آپ فرماتے اللہم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان ، یا اللّٰہ رجب اور شعبان کے مہینے میں برکت عطا فرما ، اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہونچا ،، 

جب ہم کسی منزل کو پانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ہم اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں  ، جیسا کہ ہم کہتے ہیں یا اللہ ہمیں حج کرا دے، یا اللہ ہمیں مکہ مدینہ دیکھنے کی توفیق عطا فرما، یہ جو ہمارے بیٹے کمانے کے لیے دلی بن جاؤ بمبئی وغیرہ جاتے ہیں تو ہمارے دلی تمنا ہوتی ہے اور ہمارے دل کی دعا ہوتی ہے کہ ہمارے بیٹا صحیح سلامت وہاں پر پہنچ جائیں، جب وہاں پہنچے گا تبھی تو وہ کمائے گا اور ہماری زندگی میں خوشحالی ائے گی، ایسے ہی اللہ کے رسول اور صحابہ کرام رمضان کے مہینے کو پانی کے لیے دو مہینے پہلے سے ہی اس کے انتظار کرتے تھے اور باقاعدہ اللہ تعالی سے اس کے لیے دعا بھی کرتے تھے، کیونکہ جب رمضان کا مہینہ پائیں گے تب ہی تو اللہ کی رحمت  برکت اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں جمع کر سکیں گے، 

  ہمیں رمضان کی تیاری کے لیے کچھ کام کرنے، اس کو دھیان سے سنیے، اور اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کیجیے، 

   1. دل کے گودام کی صفائ 

   جس طرح دکان میں نیا مال لانے سے پہلے پرانا کچرا اور دھول، کو صاف کیا جاتا ہے، اسی طرح رمضان کی رحمتیں سمیٹنے کے لیے اپنے دل کو گناہوں کی دھول سے صاف کرنا ضروری ہے۔ تو روزانہ رات کو سونے سے پہلے ۵ منٹ تنہائی میں بیٹھ کر پچھلے گناہوں پر ندامت کے ساتھ "استغفار" کریں تاکہ رمضان کا آغاز ایک پاکیزہ دل کے ساتھ ہو۔

  2 ٹائم مینجمنٹ 

   ایک کامیاب بزنس مین سیزن میں فضول کاموں کے لیے وقت نہیں نکالتا۔ ہم بھی آج سے طے کریں کہ رمضان میں ہمارے کاروبار یا ملازمت کے اوقات کیا ہوں گے۔ کون سے ایسے کام ہیں جو آپ رمضان سے پہلے نمٹا سکتے ہیں تاکہ روزے کی حالت میں آپ کا زیادہ وقت تلاوت، ذکر اور تراویح میں گزر سکے۔

   3 قرآن کریم سے دوستی۔ 

  اکثر لوگ رمضان کے پہلے دن قرآن کھولتے ہیں تو ان کی رفتار سست ہوتی ہے یا طبیعت بوجھل ہونے لگتی ہے۔ آج ہی سے روزانہ کم از کم ۱۵ سے ۲۰ منٹ قرآن کی تلاوت شروع کر دیں چاہے آدھا پارہ ہی کیوں نہ ہو تاکہ رمضان آنے تک آپ کی زبان قرآن کی تلاوت کے لیے رواں ہو جائے۔

  4 نفلی روزوں کے ذریعے مشق 

   شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھنا سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ یہ جسم کو رمضان کے لیے تیار کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اگر ہمت ہو تو پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنے کی کوشش کریں، تاکہ جب رمضان کا پہلا روزہ آئے تو آپ کا جسم نڈھال نہ ہو اور آپ پہلی ہی رات سے بھرپور عبادت کر سکیں۔

   5 حقوق العباد کا تصفیہ

    رمضان میں مغفرت کی سب سے بڑی رکاوٹ "دلوں کا کینہ اور آپس کی ناراضگی ہے ، اگر کسی بھائی، دوست یا رشتہ دار سے بول چال بند ہے، تو اللہ کی رضا کے لیے اور اپنے رمضان کو قبول کروانے کے لیے خود آگے بڑھ کر سلام کریں اور صلح کر لیں۔ جب آپ زمین والوں کو معاف کریں گے، تو آسمان والا آپ کو معاف فرمائے گا۔۔۔۔

اختتامی نصیحت:

"یاد رکھیے! جو شعبان میں بیج نہیں بوتا، وہ رمضان میں فصل نہیں کاٹ سکتا۔ آئیے آج ہی سے 'آخرت کے تاجر' بن کر میدان میں اتریں!"

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شعبان کی اخری تاریخوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت کی ، تمہارے اوپر ایک مہینہ آ رہا ہے، جو بہت بڑا مہینہ ہے،بہت مبارک مہینہ ہے،اس میں ایک رات ہے شب قدر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، ( اسے ایک رات میں عبادت کرنا ایسا ہے جیسا کہ ہزار محنت سے زیادہ عبادت کرنا، ہزار مہینے عبادت کرنے پر جتنا ثواب ملتا ہے اس ایک رات میں عبادت کرنے سے اتنا ثواب مل جائے گا) ، اور یہ بابرکت رات رمضان میں ہوتی ہے ۔

   اللہ تعالی نے اس کے روزے کو فرض فرمایا ہے ، اور اس کے رات کے قیام یعنی تراویح کو ثواب کی چیز بنایا ہے،

اور اس مہینے میں ایک فرض کا ثواب 70 فرض کے برابر کر دیا جاتا ہے، یعنی 70 فرض ادا کرنے پر جتنا ثواب ملے گا رمضان کے مبارک مہینے میں ایک فرض ادا کرنے پر اتنا ثواب مل جاتا ہے، ۔۔۔

   جو شخص کسی روزے دار کا روزہ افطار کرائے، اسے اللہ کی طرف سے یہ تین تحفے ملتے ہیں، اور تین انعام ملتے ہیں ۔    1گناہوں کی معافی: اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ 

   2 جہنم سے آزادی: اسے آگ کے عذاب سے بچا لیا جاتا ہے۔

       3 روزے دار کے برابر ثواب: اسے روزے دار جتنا ہی ثواب ملتا ہے، جبکہ روزے دار کے اپنے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں کی جاتی۔۔

    جب صحابہ کرامؓ نے یہ فضیلت سنی، تو ان کے دل تڑپ اٹھے۔ انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ! ہم میں سے ہر کوئی اتنی مالی وسعت نہیں رکھتا کہ کسی کو (پیٹ بھر کر) کھانا کھلا کر افطار کرائے۔"

  رحمتِ عالم ﷺ نے غریب اور امیر کا فرق مٹاتے ہوئے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ! پریشان نہ ہو یہ فضیلت ہر کوئی حاصل کر سکتا ہے، چاہے وہ مالدار ہو یا غریب ہو،

   روزہ افطار کرانے کا مطلب پیڈ بھر کر کے کھانا کھلانا نہیں ہے، 

     روزہ افطار کرانے کا مطلب دسترخوان کو فل فروٹ سے بھرنا نہیں، 

    روزہ افطار کرانے کا مطلب ہزاروں روپے خرچ کرنا نہیں ہے،

  اگر کوئی شخص ایک کھجور کے ذریعے سے روزے دار کا روزہ افطار کرا دے ۔ تو بھی اس کو یہ فضیلت حاصل ہو جائے گی 

    اگر کوئی شخص پانی کے ذریعے سے روزے دار کا روزہ افطار کرا دے تو بھی یہ فضیلت اس کو حاصل ہو جائے گی۔

اگر کوئی شخص لسی کے ذریعے سے کسی کا روزہ افطار قرار دے تو بھی یہ فضیلت اس کو حاصل ہو جائے گی، 

   اگر آپ کے پاس بہت مال و دولت ہے، تو ضرور خرچ کیجیے، لیکن اگر آپ کے پاس زیادہ نہیں ہے، تو صرف ایک گلاس ٹھنڈا پانی پیش کر کے بھی آپ وہی ثواب کما سکتے ہیں جو ایک امیر شخص بڑے دسترخوان سے کماتا ہے۔

   میرے پیارے بھائیو اور معزز بزرگو!

بات ختم کرتے ہوئے میں صرف اتنا کہوں گا کہ دنیا کا تاجر اگر اپنا سیزن ضائع کر دے تو وہ اگلے سال کا انتظار کر سکتا ہے، اسے امید ہوتی ہے کہ چلو اس سال گھاٹا ہوا تو اگلے سال پورا کر لوں گا۔ لیکن میرے اور آپ کے پاس آخرت کے اس سیزن کے لیے کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ کون جانتا ہے کہ یہ ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو؟ کون جانتا ہے کہ اگلے سال جب یہ سیزن دوبارہ آئے، تو ہم میں سے کتنے لوگ مسجد کی صفوں میں ہونے کے بجائے قبر کی تنہائیوں میں پڑے ہوں؟

    جس طرح ایک دکان دار گاہکوں کے آنے سے پہلے اپنی دکان چمکا لیتا ہے، آئیے ہم بھی رمضان کا چاند نظر آنے سے پہلے اپنے دلوں کو توبہ سے چمکا لیں۔ آئیے عزم کریں کہ اس بار ہمارا رمضان صرف افطاریوں اور سحریوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ یہ ہماری زندگی بدلنے کا سال ہوگا۔ آج جب آپ یہاں سے اٹھیں، تو یہ تڑپ لے کر اٹھیں کہ:

'یا اللہ! میں اس بار تیرے نیکیوں کے بازار میں خالی ہاتھ نہیں رہوں گا۔ میں تیری رحمت کا سودا کروں گا، میں اپنی مغفرت کا پروانہ لے کر رہوں گا۔'

   یاد رکھیے! رب پکار رہا ہے، سیزن لگنے والا ہے، رحمت کی سیل (Sale) شروع ہونے والی ہے۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ "خسارہ" اٹھانے والے بنتے ہیں یا "کامیاب تاجر" بن کر ابدی جنتیں خریدتے ہیں۔ 








Post a Comment

0 Comments