بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضللہ ومن یضلل فلا ھادی لہ ونشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان سیدنا ومولٰنا محمدا عبدہ ورسولہ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ: حٰمٓ ﴿ۚۛ۱﴾ وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾ اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ ﴿۳﴾ فِیۡہَا یُفۡرَقُ کُلُّ اَمۡرٍ حَکِیۡمٍ ۙ﴿۴﴾
آج شعبان کی چوہدہ تاریخ ہے ، اسلامی مہینوں کے اعتبار سے شعبان کا مہینہ ، آ ٹھواں مہینہ ہے، شعبان کو فضیلت والے مہینے میں شمار کیا جاتا ہے، مسند روایات، اور تاریخی واقعات کے تناظر میں، اس مہینے کی بڑی فضیلت اور اہمیت ہے، یہ ہمارے ایمان کو مضبوط کرنے ، استغفار کرنے ، اور رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی تیاری کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے،
شعبان کا مہینہ اس اعتبار سے بڑا مبارک مہینہ ہے،کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان کے مہینے میں رکھا کرتے تھے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں کثرت سے عبادت کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت میں روحانیت کو بڑھانے کے لئے جہاں فرض روزوں کی تعلیم دی ہے وہی نفلی روزوں کی بھی ترغیب دی ہے، خاص طور پر شعبان کے مہینے میں بکثرت روزے رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے،
حٰمٓ ﴿ۚۛ۱﴾ وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾ اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ ﴿۳﴾ فِیۡہَا یُفۡرَقُ کُلُّ اَمۡرٍ حَکِیۡمٍ ۙ﴿۴﴾ الدخان:4.3)ترجمہ،، بیشک ہم نے اس کو لوح محفوظ سے آسمانی دنیا پر ایک برکت والی رات میں میں اتارا ے ۔ بیشک ہم عذاب سے ڈرانے والے ہیں، اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ ہماری پیشی سے حکم ہوکر طے کیا جاتا ہے۔(بیان القرآن)
تشریح۔ اس آیت مبارکہ ’’لیلة مبارکة‘‘ سے مراد کون سی رات ہے؟ رئیس المفسرین حضرت عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما اور قتادہ، مجاہد، حسن رحمھم اللہ اورجمہور مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ’’لیلة مبارکة‘‘ سے مراد "شب ِقدر"ہے،یعنی وہ رات جس میں نزولِ قرآن ہوا، جس میں مخلوقات کے متعلق تمام اہم اُمور کے فیصلے طے اور مقرر کیے جاتے ہیں ، کہ کون اس سال میں پیدا ہو گا، کون اس سال میں مرے گا، کس کو کس قدر رزق اس سال میں دیا جائے گا؟ وہ "شبِ قدر " ہے ،بعض روایاتِ حدیث میں شبِ براءت، یعنی شعبان کی پندرھویں شب کے متعلق بھی آیا ہے کہ اس میں آجال وارزاق کے فیصلے لکھے جاتے ہیں، اس لیے بعض حضرات مثلاً حضرت عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ نے آیتِ مذکورہ میں ’’لیلة مبارکة‘‘ کی تفسیر لیلة البراءة" سے کی ہے، مگر یہ قول مرجوح ہے، کیوں کہ یہ قول جمہور کے قول کے خلاف اور ظاہری نصوص کے خلاف ہے، نیز مذکورہ روایت کے متعلق حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے، کہ یہ روایت مرسل ہے ،اور اس جیسی روایت صریح نصوص کا مقابلہ نہیں کرسکتی، البتہ بعض مفسرین نے قرآن اور احادیث کے درمیان اس طرح تطبیق دی ہے کہ شبِ براءت میں اجمالی فیصلے ہوتے ہیں اور شبِ قدر میں تفصیلی احکام جاری ہوتے ہیں اور ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں۔
اللہ کے رسول نے فرمایا اے عائشہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس رات میں یعنی پندرہویں شعبان کی رات میں کیا ہوتا ہے، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اللہ کے رسول کیا ہوتا ہے، اللہ کے رسول نے فرمایا کہ شعبان کی پندرھویں رات میں ، اس سال پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے نام لکھے جاتے ہیں، اس سال مرنے والے تمام انسانوں کے نام لکھے جاتے ہیں، اس رات میں نام اعمال اٹھائے جاتے ہیں، اور لوگوں کو روزی تقسیم کی جاتی ہے،
آج کی رات جو ہے وہ شب برات کی رات ہے
شب کے معنی آتے ہیں رات کے اور برات کے معنی آتے ہیں آزادی کے ، شبِ برات کے معنی ہوے آزادی کی رات ، اللہ رب العزت اس رات میں اتنے لوگوں کی مغفرت کرتے ہیں، جتنےقبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے جسم پر بال ہیں ، عرب کے قبیلوں میں بنو قلب کا جو قبیلہ تھا ان کے پاس سب سے زیادہ بکریاں تھیں، اللہ کے نبی نے بکریوں کے ساتھ تشبیہ نہیں دی بلکہ بکریوں کے بالوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے، فرمایا کہ بکریوں کے جسم پر جتنے بال ہوں گے اتنے ہی لوگوں کی مغفرت کی جائے گی، ایک بکری کے جسم پر کتنے بال ہوتے ہیں اسکو گننا مشکل اور دشوار ہے تو قبیلے کے تمام بکریوں کے جسم کے بال کو گننا شمار کرنا یہ نام محال ناممکن ہے، یعنی اس رات میں لا تعداد لوگوں کی مغفرت کی جاتی ہے،
لیکن آٹھ قسم کے ایسے لوگ ہیں جن کی اس رحمت اور برکت والی رات میں بھی مغفرت نہیں کی جاتی ہے،
نمبر ایک ،، شرک کرنے والا شرک کہتے ہیں کہ اللہ کی ذات و صفات کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، جو چیزیں اللہ تعالی سے مانگنی چاہیے تو اللہ تعالی کو چھوڑ کر کے کسی پیر و فقیر اولیاء اللہ سے مانگنا بھی شرک ہے، انسان کی زندگی کا سب سے بڑا گناہ وہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ شرک کے علاوہ تمام گناہوں کو معاف کر دوں گا لیکن شرک معافی نہیں ہے، اس لیے میرے بھائیو چھوٹا کام ہو یا بڑا کام ہو چھوٹی پریشانی ہو یا بڑی خوشی ہو کیسی بھی حالت ہو ہر حال میں ہمیں اللہ تعالی کے سامنے ہی جھکنا ہے اور اس سے ہی مانگنا ہے،
نمبر دو قتل ، شب برات میں رحمت الہی سے محروم رہنے والا قتل نا حق کرنے والا بھی ہے، وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ ، خَالِدًا فِیْھَا وَغَضَبَ اﷲُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا ۔ (نساء:۹۳)
جو جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کردے، اس کا بدلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو اور اللہ نے اس کے لئے بھیانک عذاب تیار کر رکھا ہے
نمبر تین والدین کی نافرمانی کرنے والا ، شب برات میں رحمت الہی سے محروم ہونے والا والدین کی نافرمانی کرنے والا بھی ہے ، جس نے والدین کی نافرمانی کی اور ان کو اذیت و تکلیف پہنچائی تو وہ انسان بھی اس رات میں محروم رہے گا، والدین ہمارے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہے، دنیا میں ہر نعمت انسان کو دوبارہ مل سکتی ہیں لیکن ماں باپ کی نعمت دوبارہ نہیں مل سکتی، دوسری بیوی مل سکتی ہے، دوسرے رشتہ دار مل سکتے ہیں، دوسرے دوستو احباب مل سکتے ہیں، لیکن ماں باپ کی نعمت انسان کو دوبارہ نہیں مل سکتی، اس لیے جن کے ماں باپ زندہ ہیں ان کی قدر کریں، اور جن کے والدین زندہ نہیں ہیں ان کے لیے دعائے مغفرت کریں ان کے لیے صدقات و خیرات کر کے ان کی روح کو ثواب پہنچائیں،
اللہ تعالی نے قران کریم میں جہاں کہیں بھی اپنا حق بیان کیا ہے تو اس کے بعد میں والدین کے حق کو بھی بیان کیا ہے، فرمایا کہ ان کو اف تک نہیں کہنا، زبان کھولنا تو دور کی بات ہے، ان کو ڈانٹنا ڈپٹنا ان کو جھڑکنا تو دور کی بات ہے، ان کے گریبان میں ہاتھ ڈالنا ان کو مارنا ان سے جھگڑا کرنا، ان کو گھر سے باہر بھگانا یہ بہت دور کی بات ہے فرمایا کہ اف تک بھی نہیں کہنا ہے، دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دنیا میں ہی مل جاتی ہے ، نمبر ایک ظلم ،نمبر دو والدین کی نافرمانی، یہ دو گنا ایسے ہیں جن کی سزا دنیا میں ہی مل جاتی ہے، واقعہ ۔۔۔۔۔۔۔ والدین کی اطاعت و نافرمانی واقعات کی زبانی کتاب میں ایک نوجوان نے اپنی پسند کی شادی کی تھی، پیار و محبت کی شادی تھی، چند مہینے گزر گئے، اور سنو جوان کی ماں کو مرگی کا دورہ پڑنے لگا، بیماری کی وجہ سے کبھی بے ہوش ہو جاتی کبھی نیچے گر جاتی، بہو نے کچھ دن تو خدمت کی لیکن کچھ دن گزر جانے کے بعد لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے ، اپنے شوہر سے کہنے لگی اس گھر میں یا تو میں رہوں گی یا تمہاری ماں رہے گی یہ روز روش کی خدمت کرنا روز روز کی ایک کپڑے دھونا یہ مجھ سے نہیں ہوتا، وہ نوجوان اپنی بیوی کی محبت میں پاگل تھا نئے نئے شادی ہوئی تھی، لہذا اس نے ارادہ کیا کہ اپنی ماں کو یہ گھر سے نکال دیا جائے، لہذا نوجوان نے اپنی ماں سے کہا کہ چھت پر چلتے ہیں وہاں ہوا بہت اچھی چل رہی ہے، لہذا یہ ماں کو اوپر لے گیا چھت پر اور چھت پر لے جانے کے بعد ماں کو نیچے گرا دیا، یہ ہزار ماہ کا گرتے ہی انتقال ہو گیا، پھر بعد میں یہی نوجوان حلہ کرنے لگا رونے لگا کہ میری ماں چھت سے نیچے گر کر کے مر گئی میری ماں چھت سے نیچے گر کر کے مر گئے، لوگوں کا انا جانا شروع ہو گیا لوگوں نے تجس و تدفین کر دی اس کے بعد یہ دونوں خوش ہو گئے کہ اب ماں ہمارے گھر سے چلی گئی اب کسی چیز کی ٹینشن نہیں رہے گی، بعض مرتبہ انسان اپنے اپ کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے اور وہ بھول جاتا ہے کہ میرے اوپر بھی کوئی بڑی طاقت ہے جو مجھے بھی کنٹرول کر رہے ہیں، لہذا ان دونوں کی زندگی کچھ دن اسی طریقے سے خوشی میں چلتی رہی لیکن کچھ دنوں اس نوجوان کو بھی میرکی کا دورہ پڑنے لگا، کچھ دن تو بیوی نے خدمت کی لیکن جب وہ ٹھیک نہیں ہوا تو بیوی بھی اس کو چھوڑ کر کے چلی، اب یہ روتا اور چلاتا ہر کسی کو اپنے پاس بلاتا تو اس کی خدمت کے لیے کوئی نہیں اتا اب یہ تن تنہا اکیلا گھر میں رہتا تھا اور اپنی زندگی سے بہت پریشان ہو چکا تھا، ایک دن یہ اوپر پہننے کے لیے گیا اور جس جگہ سے ماں کو اس نے دھکہ دے کر کے مارا تھا اسی جگہ سے یہ بھی نیچے گر گیا اور یہ بھی مر گیا، تو اس طریقے سے اللہ تعالی نے والدین کی نافرمانی کی سزا اس کو دنیا میں ہی دے دی ،
اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں کے ساتھ جوڑا ہے، ان میں کسی کو باپ بنایا ہے تو کسی کو ماں کا درجہ دیا ہے اور کسی کو بیٹا بنایا ہے تو کسی کو بیٹی کی نسبت عطا کی ہے، کسی کو دادی اور دادا بنایا ہے، تو کسی کو نانی اور نانا کے مقدس رشتے سے جوڑا ہے، الغرض اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں کے ساتھ جوڑا ہے،اور ان میں سے ہر ایک کے حقوق مقرر فرماتے ہیں، ان حقوق میں سے ہر ایک کا ادا کر نا ضروری ہے ، لیکن والد ین کے حق کو اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں اپنی بندگی اورا طا عت کے فوراً بعد ذکر فرمایا، یہ اس بات کی طرف اشا رہ ہے کہ رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے،
نمبر چار قطع رحمی کرنے والا، شب برات میں رحمت الہی سے محروم رہنے والا رشتوں کو توڑنے والا بھی ہے، قالَ: لا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أنْ يَهْجُرَ أخاهُ فَوْقَ ثَلاثِ لَيالٍ، ابھی اس میں اتا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ تین دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے، بات چیت اور سلام و کلام کو بند رکھیں،اگر اسے حالت میں مر گئے تو ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا،
اللہ کے رسول فرماتے ہیں لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ۔ رشتوں کو توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا، بعض مرتبہ لوگ رسم و رواج کی وجہ سے، گھر والوں کی وجہ سے، بچوں اور کاروبار کی وجہ سے ، دوسروں سے ناراض ہو جاتے ہیں، مہنا مہنا گزر جاتا ہے لیکن اپس میں بات چیت نہیں کرتے، سلام کلام نہیں کرتے، بھائی بھائی سے بات نہیں کرتا، رشتہ داروں کے پاس انا جانا بند کر دیتے ہیں، کھانا پینا لین دین سب چیز بند کر دیتے ہیں، اور اس کو معمولی گناہ سمجھتے ہیں یا کچھ لوگ اس کو گناہ ہی نہیں سمجھتے، لیکن اللہ کے رسول فرماتے ہیں کہ اگر کوئی انسان اسی حالت میں مر گیا تو اس کا ٹھکانہ جہنم اس لیے میرے بھائیو اپنے اپس کے معاملے کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھنا چاہیے
نمبر پانچ بغض و حسد رکھنے والا، شب برات میں رحمت الہی سے محروم رہنے والا بغض و عداوت رکھنے والا بھی ہے ، جو ادمی کسی کے لیے اپنے دل میں کینہ اور بغض رکھتا ہو، اپنے دل میں کسی کے لیے نفرت رکھتا ہو، عداوت و دشمنی کو دل میں چھپانے والا، اور نفرتوں کو دل میں دبا کر رکھنے والا بھی ہے، ایسے انسان کے بھی اس رات میں مغفرت نہیں ہوتی، اللہ کے نبی فرماتے ہیں إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ، فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ حسد سے بچو اس لئے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے، جس طرح سے آگ جنگل کی لکڑیوں کا صفائی کردیتی ہے ، بڑے بڑے درختوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ، اور ان کا نام و نشان تک مٹا دیتی ہے اسی طریقے سے حسد بھی انسان کی نیکیوں کو جلا کر کے راخ کر دیتی ہے،
اسی لیے ہمارے دل میں کسی کے لئے نفرت ، یا کسی کے لئے حسد نہیں ہونا چاہئے ، بعض مرتبہ انسان کے دل میں دوسرے کے لیے نفرت پیدا ہو جاتی ہے، کبھی اپنے بھائی سے ہو جاتی ہے، تو کبھی اپنے پڑوسیوں سے ہو جاتی ہے، اور کبھی اپنے رشتہ داروں سے بھی ہو جاتی ہے، تو اس نفرت کو اپنے دل میں دوا کر کے نہیں رکھنا ہے بلکہ اپنے معاملے کو صاف کر لینا ہے، کیونکہ کینہ بغض نفرت یہ بہت بڑے گناہ ہیں، حدیث میں اتا ہے اللہ کے رسول فرماتے ہیں کہ ہر پیر اور جمعرات کو، بندوں کے اعمال اللہ کے یہاں پیش ہوتے ہیں، ہر ایک کا عمل قبول ہوتا ہے، لیکن جس کے دل میں کنا ہو نفرت ہو اس کا عمل قبول نہیں ہوتا، کہا جاتا ہے کہ صبر کرو یہاں تک کہ اپس میں صلح کر لیں اور اپس کی نفرت کو ختم کر لیں، تو ان کے اعمال قبول ہو جاتے ہیں، ورنہ تو ان کے اعمال قبول نہیں ہوتے،
عام طور پر انسان کو دو طرح کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں نمبر ایک جسمانی بیماری، نمبر دو روحانی بیماری، جسمانی بیماری جیسے بخار زکام، نزلہ کھانسی، سر کا درد پیٹ کا درد، کمر کا درد جوڑوں کا درد، بلڈ پریشر شوگر کینسر اور اس جیسی دوسری مہلک بیماریاں ، اگر وقت پر ان کا علاج کیا جائے تو انسان کو شفا مل جاتی ہے، اور اگر انسان بیماری میں صبر کرتا ہے، اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ معاف ہوتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اگر کوئی انسان اسی حالت میں مر جاتا ہے، تو اس کے درجات بلند ہوتے ہیں ، اور اس کی یہ بیماری اس کے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتی ہے ،
نمبر چھ پائجامہ کو ٹخنوں سے نیچے پہننے والا ،
نمبر سات زنہ کرنے والا
نمبر آٹھ شراب پینے والا ،
شراب پینا اتنا بڑا گناہ ہے حدیث میں اتا ہے اللہ کے رسول فرماتے ہیں، لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهو مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهو مُؤْمِنٌ. شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو مسلمان نہیں رہتا، ،، ،،،،۔ دو گنا ایسے ہیں کہ جب انسان ان گناہوں کو انجام دیتا ہے تو وہ مسلمان نہیں رہتا ،،،، ایک ہے شراب، اور دوسرا ہے زنا، جب شرابی شراب پیتا ہے تو اس کے دل سے ایمان نکل جاتا ہے، اور اسی طریقے سے زانی جب زنا کرتا ہے تو اس کے دل سے ایمان نکل جاتا ہے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شب برات کی رات میں بیان
اللہ رب العزت کا بے انتہا فضل، کرم اور اس کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں زندگی کی سانسیں عطا کیں اس نے ہماری زندگی میں ایک بار پھر "شبِ برات" جیسی عظیم المرتبت اور رحمتوں بھری رات نصیب فرمائی۔ یہ وہ مبارک رات ہے جس میں اللہ کی رحمت کا دریا جوش مارتا ہے، جس میں گناہ گاروں کی بخشش کے فیصلے ہوتے ہیں اور جس میں توبہ کرنے والوں کو جہنم کی آگ سے آزادی کا پروانہ عطا کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ یہ اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ان لوگوں میں شامل نہیں کیا جو پچھلے سال ہمارے ساتھ تھے، ہمارے ساتھ کام کرتے تھے، ہمارے ساتھ بیٹھتے تھے، ہمارے ساتھ مل کر کے باتیں کرتے تھے، مگر افسوس آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہے،ان کے پاس اب توبہ کا موقع نہیں، ان کے عمل کا رجسٹر بند ہو چکا ہے۔ وہ مٹی کی چادر اوڑھ کر قبروں میں سورہے ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمیں ایک اور موقع دیا ہے کہ ہم اپنے گناہوں کی معافی مانگ سکیں اور اپنی بگڑی ہوئی تقدیر کو اللہ کے حضور گڑگڑا کر سنوار سکیں۔
میرے عزیز بھائیو! ہم زندگی کی بھاگ دوڑ میں اتنے بے فکر ہو گئے کہ ہم اپنے اصل مقصد کوہی بھول گئے ہیں۔ گناہوں کے گردو غبار نے ہمارے دلوں کو سیاہ کر دیا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ "ستار العیوب" اور "غفار الذنوب" ہے۔ وہ سال میں ایسی راتیں صرف اس لیے لاتا ہے تاکہ ہم دنیا کی رنگینیوں سے کٹ کر اس کی چوکھٹ پر آ گریں۔ یہ رات دراصل اللہ کی طرف سے ایک "دعوتِ عام" ہے۔ وہ پکارتا ہے: "ہے کوئی مغفرت مانگنے والا؟ ہے کوئی رزق مانگنے والا؟" اس پکار پر لبیک کہنا اور اپنی جھولی کو بھر لینا ہی اصل عقلمندی ہے۔
شب کے معنی آتے ہیں رات کے اور برات کے معنی آتے ہیں آزادی کے ، شبِ برات کے معنی ہوے آزادی کی رات ، اللہ رب العزت اس رات میں اتنے لوگوں کی مغفرت کرتے ہیں، جتنےقبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے جسم پر بال ہیں ، عرب کے قبیلوں میں بنو قلب کا جو قبیلہ تھا ان کے پاس سب سے زیادہ بکریاں تھیں، اللہ کے نبی نے بکریوں کے ساتھ تشبیہ نہیں دی بلکہ بکریوں کے بالوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے، فرمایا کہ بکریوں کے جسم پر جتنے بال ہوں گے اتنے ہی لوگوں کی مغفرت کی جائے گی، ایک بکری کے جسم پر کتنے بال ہوتے ہیں اسکو گننا مشکل اور دشوار ہے تو قبیلے کے تمام بکریوں کے جسم کے بالو کو گننا شمار کرنا یہ نام محال ناممکن ہے، یعنی اس رات میں لا تعداد لوگوں کی مغفرت کی جاتی ہے، .
اللہ کے رسول نے فرمایا اے عائشہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس رات میں یعنی پندرہویں شعبان کی رات میں کیا ہوتا ہے، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اللہ کے رسول کیا ہوتا ہے، اللہ کے رسول نے فرمایا کہ شعبان کی پندرھویں رات میں ، اس سال پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے نام لکھے جاتے ہیں، اس سال مرنے والے تمام انسانوں کے نام لکھے جاتے ہیں، اس رات میں نام اعمال اٹھائے جاتے ہیں، اور لوگوں کو روزی تقسیم کی جاتی ہے،
جیسے ہی رات ہوتی ہے، اللہ کی جانب سے اواز لگائی جاتی ہیں، ھل من مستغفر ، کوئی ہے بخشش مانگنے والا، کوئی ہے گنہگار، کوئی ہے خطا کار، کوئی ہے پہاڑوں جیسے گناہوں والا ، کوئی ہے سمندروں کے برابر گناہوں والا، ایک گنہگارو اپنے گناہوں سے معافی مانگو، یہ رات میں نے تمہیں اسی لیے دی ہے، یہ نجات کی رات ہے، بخشش کی رات ہے، چھٹکارے کی رات ہے، کروڑوں لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کرنے کی رات ہے ،
لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ۞- سورۃ نمبر 39 الزمر آیت نمبر 53
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا، بیشک وہی بہت بخشنے والا، بےحدرحم فرمانے والا ہے۔۔
ھل من مستدرق ،
کوئی ہے جو رزق سے پریشان ہو، کوئی ہے جو تنگدست ہو، کوئی ہے روزی مانگنے والا، کوئی ہے مال میں برکت مانگنے والا،۔ میں اس کے مال میں اضافہ کر دوں، اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ۪-وَ اِلَیْهِ اور اللہ تنگی دیتا ہے اور وسعت دیتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
زمین پر نظر نہ کر، دکان پر بھروسہ نہ کر، اپنے بزنس اپنے کاروبار پر یقین نہ کر، روزی مجھ سے مانگ، مدد مجھ سے مانگو ، میں تیرا خدا تو میرا بندہ مجھ سے زیادہ تیرے اوپر کون کریم ہوگا، کیتھرو سو رہا ہے اور میں تجھے دینے کے لیے ایا ہوں،
پورے سال میں کس کو کتنی روزی ملے گی اس کا فیصلہ اج رات ہو جاتا ہے،کس کو کتنا نفع ہوگا کہ کس کو کتنا نقصان ہوگا، پورے سال کا ایک ایک دانہ، ایک ایک گھوٹ لکھ دیا جاتا ہے،
قبرستان
شب برات کی رات میں اللہ کے رسول ایک مرتبہ قبرستان گئے تھے، پوری زندگی میں اللہ کے رسول سے شب برات کی رات میں قبرستان جانا ایک مرتبہ ثابت ہے، اور اللہ کے رسول تن تنہا گئے تھے، تو اس سنت کو زندہ کرنے کے لیے ہم بھی ایک مرتبہ اپنی زندگی میں جا سکتے ہیں، اور یہ قبرستان جانا کوئی ضروری اور فرض نہیں ہے، اگر چاہتے ہو تو اچھی بات ہے اگر نہیں جاتے ہو تو کوئی بات نہیں ہے کوئی بات نہیں،
لیکن اج ہمارے معاشرے نے اس کو ایک الگ ہی رخ دے دیا ہے، قبرستان جانا نماز پڑھنے سے بھی زیادہ لازم سمجھا جاتا ہے، اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب تک قبرستان نہیں جائیں گے تب تک شب برات مکمل نہیں ہوگی، اس لیے دیکھا گیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں،قبرستان جانے کے لیے ایک وقت مقرر کیا جاتا ہے، اور مقررہ وقت انے پر تمام لوگ جمع ہو جاتے ہیں، اور پھر تمام لوگ مل کر کے قبرستان جاتے ہیں، اور اس کے بعد لوگ اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شب برات پوری ہو گئی، تہجد کی نماز پڑھی ہے، اور نہ ہی فجر کی نماز کا پتہ ہے،،
اب ذرا سوچیے اور اپنے معاشرے اور اپنی زندگی پر غور کیجئے کہ جو چیز فرض اور واجب نہیں ہے اس کا ہم اتنا اہتمام کرتے ہیں، لیکن جو چیزیں فرض ہیں اس کو ہم نفل سے بھی کم سمجھتے ہیں اور اس کو ضائع کرنے پر تھوڑا سا بھی افسوس نہیں ہوتا ہے،
شب برات کے لیے کوئی خاص نماز نہیں ہے، اور نہ ہی شب برات کی نیت سے کوئی نیت ہے، اس رات میں کوئی خاص عبادت شامل، جیسا کہ بعض لوگوں کو ماننا ہے، چار رکعت نماز پڑھنی ہے، پہلی رکعت میں یہ سورت پڑھنی ہے دوسری رکعت میں وہ سورت پڑھنی ہے تیسری رکعت میں یہ پڑھنی ہے اور چوتھی رکعت میں اس سورت پڑھنی ہے، اس طریقے کی کوئی خاص عبادت اج کی رات میں نہیں ہے۔
مسجد میں نفلی نماز ادا کرنا اور عبادت کرنا بہت اچھی بات ہے، لیکن گھر میں بھی عبادت کرنا چاہیے کیونکہ اللہ کے رسول نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ، اس لیے ہمیں گھروں میں عبادت کر کے اپنے گھروں کو روشن کرنا چاہیے، گھروں میں عبادت کرنے کی وجہ سے بچوں کے اندر اور دوسرے لوگوں میں بھی عبادت کا شوق پیدا ہوگا،
جیسا کہ نفل پڑھنا سنت پڑھنا،
آج کی رات یہ کام کرنا چاہئے
اس رات میں یہ کام کرنا چاہئے ، نفل نماز ، صلواۃ التوبہ ، صلواۃ الحاجت ، تہجّد ، اور صلواۃ التسبیح ، وغیرہ کی نماز پڑھ سکتے ہو، قران کریم کی تلاوت اور ذکر و اذکار کر سکتے ہو، اپنے لیے اپنے بچوں کے لئے اپنے ماں باپ کے لئے اپنے رشتہ داروں و کیلئے اور اپنے دوسرے عزیزوں کے لیے دعائیں کر سکتے ہو، شب براء ت عام راتوں کے مانند نہیں ہے بلکہ بہت سی احادیث سے اس رات کا فضیلت وعبادت کی رات ہونا ثابت ہے اس لیے اس رات میں جاگ کر انفرادی طور پر عبادت کرنا: نفلیں پڑھنا، قرآن پاک کی تلاوت کرنا اور ذکر واذکار میں مشغول رہنا اور اپنے لیے اور اپنے والدین اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے مغفرت کی دعا کرنا اور دینی ودنیوی جو بھی ضرورت ہو اللہ تعالی سے اس کا سوال کرنا وغیرہ مستحب ہے۔ اس کے علاوہ اس رات میں دیگر خرافات جو عوام میں رائج ہیں جیسے: چراغاں کرنا، قسم قسم کے کھانے پکانا اور انھیں تقسیم کرنا اور نئے کپڑوں کا اہتمام کرنا وغیرہ بے اصل ہیں، شریعت سے ان کا کوئی تعلق نہیں بلکہ ناجائز وبدعت ہیں۔ اور ۱۵/ شعبان کو روزہ رکھنا یہ ایک ضعیف حدیث سے ثابت ہے، لیکن اس کا ضعف اس درجہ کا نہیں ہے کہ فضائل کے باب میں اس پر عمل جائز نہ ہو اس لیے اکثر علمائے کرام کی تحقیق کے مطابق ۱۵/ شعبان کو روزہ رکھنا مستحب ہے یعنی: رکھنے کی صورت میں ثواب ہوگا اور نہ رکھنے کی صورت میں کوئی گناہ وغیرہ نہ ہوگا
وآخر دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین
ایک دلی دعا
ہم اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کے ساتھ دعا گو ہیں:
"اے ہمارے کریم رب! جس طرح تو نے آج ہمیں یہ مبارک رات نصیب فرمائی، اسے ہماری نجات کا ذریعہ بنا دے۔ اے اللہ! ہمیں یہ بابرکت لمحات اپنی زندگی میں بار بار، صحت، تندرستی اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ دیکھنا نصیب فرما۔ ہمیں اس قابل بنا کہ ہم ہر سال اس رات کی برکتیں سمیٹ سکیں اور جب تو ہمیں اپنے پاس بلائے تو ہم گناہوں سے پاک اور تیری رضا سے مالا مال ہوں۔"
اے ہمارے پروردگار! اے زمین و آسمان کے مالک! اے ٹوٹے ہوئے دلوں کو سہارا دینے والے رحیم و کریم
یااللہ! ہم تیرے عاجز، گناہ گار اور خطاکار بند ہیں ، گناہوں کی وجہ سےہماری پیشانیاں تیرے سامنے جھکی ہوئی ہیں، ہماری آنکھیں ندامت سے نم ہیں، اور ہمارے دل گناہوں کی بوجھ سے پھٹے جا رہے ہیں۔ یا اللہ ہم سب اپنے گناہوں پر شرمندہ ہیں، یا اللہ تو ہم سب کو معاف فرما،
یااللہ تیرے سوا ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں، تیرے سوا ہمارا کوئی سہارا نہیں، تیرے سوا ہمارا کوئی مددگار نہیں، تیرے سوا ہمیں کوئی معاف کرنے والا نہیں۔ ہم تجھے چھوڑ کر کے کہاں جائیں، کس کے سامنے ہاتھ پھیلائیں، یا اللہ ہمیں تیرے سوا کوئی معاف کرنے والا نہیں، یا اللہ ہم اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں ہمیں معاف فرما، ہم سب اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ہماری توبہ کو قبول فرما،
یا اللہ اج کی یہ رات شب برات کی رات ہے، جس میں تو پکار پکار کر کہتا ہے کوئی معافی مانگنے والا ہے کہ میں اس کو معاف کروں، کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ میں اس کی توبہ قبول کروں، یا اللہ ہم معافی مانگ رہے ہیں، یا اللہ ہم توبہ کر رہے ہیں، ہم اپنے ایک ایک گناہ کا اقرار کر رہے ہیں، یا اللہ وہ گناہ جو ہم نے چھپ کر کے کیے ہیں، یا اللہ وہ گنا جو ہم نے علی اعلان کئے ہیں یا اللہ وہ گناہ جو ہمیں یاد ہیں، یا اللہ ہم ان گناہوں کا بھی اقرار کرتے ہیں جو ہمیں یاد نہیں ہے، یا اللہ تو اپنے فضل و کرم سے اپنے رحم و کرم سے ہماری تمام گناہوں کو معاف فرما،،، اگر آج تو نے ہمیں دھتکار دیا تو ہم کہاں جائیں گے؟ اگر تو نے معاف نہ کیا تو ہماری آخرت برباد ہو جائے گی۔ یا اللہ! سنا ہے کہ تو اس رات "بنو کلب" کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کو معاف کرتا ہے، یا اللہ! کیا اس لا تعداد مغفرت میں ہمارے لیے تھوڑی سی معافی نہیں؟ کیا ان بخشے جانے والوں میں ہمارا نام نہیں لکھا جا سکتا؟ یا اللہ! ہمیں محروم نہ لوٹانا، ہمیں خالی ہاتھ نہ بھیجنا۔
یا اللہ! ہمارے والدین کو معاف فرما۔ جنہوں نے بچپن سے ہمیں پالا، جنہوں نے ہماری خاطر تکلیفیں اٹھائیں، یا اللہ! آج اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں صحت و عافیت والی لمبی زندگی عطا فرما اور اگر وہ دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں تو یا اللہ! ان کی قبروں کو جنت کا باغ بنا دے۔ ان کی قبروں میں نور بھر دے۔ یا اللہ! ہمیں ان کے لیے صدقہ جاریہ بنا۔
یا اللہ! ہمارے ان پیاروں کو معاف فرما جو منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں۔ جنہیں توبہ کی مہلت نہ مل سکی۔ یا اللہ! ان کی قبروں کی تنہائی اور گھبراہٹ کو اپنے ذکر کے نور سے بدل دے۔
یا اللہ! ہمیں "روحانی بیماریوں" سے نجات دے۔ ہمارے دلوں سے حسد، بغض، کینہ اور نفرت نکال دے۔ ہمیں ایک دوسرے کا خیر خواہ بنا۔ یا اللہ! ہمیں پکا اور سچا نمازی بنا۔ ہمیں اپنی زبانوں کو قابو میں رکھنے کی توفیق دے۔ یا اللہ! ہمیں غیبت اور چغل خوری کے کینسر سے شفا عطا فرما۔
اے اللہ! امتِ مسلمہ پر رحم فرما۔ جہاں کہیں بھی مسلمان پریشان حال ہیں، فلسطین میں، کشمیر میں، برما میں یا دنیا کے کسی بھی کونے میں—یا اللہ! ان کی غیب سے مدد فرما۔ انہیں ظالموں کے ظلم سے نجات عطا فرما۔ ہمارے ملک کی حفاظت فرما، اسے امن اور خوشحالی کا گہوارہ بنا۔
یا اللہ! ہم تجھ سے مانگتے ہیں وہ خیر جو تیرے نبی ﷺ نے مانگی، اور پناہ مانگتے ہیں اس شر سے جس سے تیرے نبی ﷺ نے پناہ مانگی۔
یا اللہ! ہماری اس ٹوٹی پھوٹی دعا کو قبول فرما۔ ہمارے آنسوؤں کی لاج رکھ لے۔ ہماری ندامت کو قبول فرما۔ آج کی اس رات ہمیں جہنم کی آگ سے آزادی کا پروانہ عطا فرما دے۔ یا اللہ! ہمیں رمضان المبارک کی برکتوں تک پہنچا دے۔

0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇