🥀 🥀 عید الاضحی 🥀🥀
بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم
الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضللہ ومن یضلل فلا ھادی لہ ونشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان سیدنا ومولٰنا محمدا عبدہ ورسولہ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ ؛
فَلَمَّابَلَغَ مَعَهُ السّعَیَ قالَ یٰبنَیَّ اِنَّی ارَیٰ فِیْ المَنَامِ اَنّی اَذبَحُکَ فَنظُر مَا ذَا تریٰ قَالَ یأَبَتِ الفعل ما تؤمَر سَتَجِدُنی اِنشاءَاللہُ مِنَ الصٰبرینَ ۔ پارہ ۲۳ سورۃ الصافات آیت ۱۲۰
عن انسؓ قال قدم النبی ﷺ المدینۃ ولھم یومان یلعبون فیھما فقال ما ھذان الیومان قالوا کنا نلعب فیھما فی الجاھلیۃ فقال رسول اﷲ ﷺ قد ابدلکم اﷲ بھما خیراً منھما یوم الاضحی و یوم الفطر
تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ایک سال کے بعد ایک مرتبہ پھر ہم سب کو عید گاہ میں جمع ہونے اور عید الاضحیٰ کی نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی ،ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ خوشی مسرت امن و سلامتی پیاروں محبت کا یہ دن اللہ تعالٰیٰ ہماری زندگی میں بار بار مرحمت فرمائیں،، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے جمع ہونے کو قبول فرمائے، عید الاضحیٰ کے اس مبارک موقع پر میں آپ تمام حضرات کی خدمت میں عیدالاضحی کی مبارک باد پیش کرتا ہوں،
اللہ تعالی نے مسلمانوں کو خوشی اوہرر مسرت کے اظہار کیلئے دو دن عطا کئے ہیں اور دونوں ہی دن دو بڑی اور اہم عبادت کی تکمیل کے بعد عطا کئے ہیں مسلمانوں نے رمضان المبارک میں روزہ، نماز، تراویح، تلاوت قرآن، ذکر و اذکار درود، زکوۃ و صدقات جیسے بدنی عبادتوں کا اہتمام کیا تو الله تعالٰی نے اس کے بدلے میں عیدالفطر کا انعام دیا۔ اور جب خدا کے انہیں بندوں نے سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرکے ، اور اپنے خون پسینے کی کمائی صرف کرنے کے بعد حج بیت اللہ جیسے اہم فریضے کو ادا کیا تو اس کے بد لے میں اللہ تعالیٰ نے عیدالاضحی کا انعام دیا ۔ یہ دو خوشی کے مواقع ہیں جو الله تعالٰی کی جانب سے ہمیں عطا کئے گئے ہیں ۔۔۔ اور دونوں ہی خوشی کے مواقع کو عبادت کے ساتھ جوڑ دیا ہے ۔یعنی پہلے عبادت کرنی ہے پھر خوشی کا اظہارِ کرنا ہے ۔۔۔۔۔
________________________________________
آج مجھے جس تاریخ ساز اور عبرت ناک موضوع پر لب کشائی کرنی ہے، وہ تاریخ انسانی کا وہ حیرت ناک واقعہ ہے کہ اگر قرآن کے مقدس صفحات پر درج نہ ہوتا تو اس کی صداقت و حقانیت پر یقین کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہو جاتا وہ واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند اسماعیل علیہ السلام کا ہے۔۔ دوستوں یہ عیدالاضحی جسے ہم اور آپ بقرعید کے نام سے جانتے ہیں ، یہ انبیاء علیہم السلام میں سے دو جلیل القدر کے پیغمبر کے امتحان کا نتیجہ ہے، یہ مبارک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام اور انکے سراپا اطاعت گزار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانیوں کا ثمرہ ہے، الله تعالٰی کو ان حضرات کی اطاعت و فرما برداری امتحان خدا کی تیاری اور اس کی شاندار کامیابی اتنی پسند آئی کہ قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کو اس سنت ابراہیمی کو زندہ اور باقی رکھنے کا حکم دیا گیا۔۔
جب سے عالم کون و مکاں کو سجا یا گیا ، اور حضرت انسان کو اس دنیا میں بسایا گیا ، تب سے اس گلستان رنگ و بو میں ، تسلیم و رضا کے بیشمار واقعات رو نما ہوۓ ہیں۔ دوستی اور محبت کی انگنت داستانیں ظہور پزیر ہو ئ ہیں۔ اور ایثا ر و قربانی کی لا تعداد داستانیں وجود میں آئی ہیں۔۔
* مگر تسلیم و رضا کا ایک ایسا واقعہ، جس نے پچھلے تمام واقعات کو بے وزن کردیا۔
* محبت و دوستی کی ایک ایی حکایت، جس نے سابقہ تمام حکایات کو بے رنگ کردیا۔
* ایثار و قربانی کی ایک ایسی داستاں۔، جس نےگزشتہ تمام داستانوں کا رکاڈ توڑ دیا۔
* وہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ، اور اسماعیل ذبیح اللہ علیہما السلام کے ایثارو قربانی کا بے مثال اور لا زوال واقعہ ہے ۔
+ زمانہ کروٹ لیتا رہے گا، حالات بدلتے رہینگے -
+ اس کار گاہ عالم میں انقلاب رو نما ہوتے رہیں گے -
+ داستانیں وجود میں آتی اور مٹتی رہینگی -
+ مگر محبت کی یہ داستاں رہتی دنیا تک باقی رہے گی۔
+ ایثار و قربانی کا یہ واقعہ ہمیشہ زندہ جاوید رہے گا۔ جو رہتی دنیا تک کے انسانوں کیلئے درس عبرت رہے گا -
یوں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پوری حیات مبارکہ سر فروشانہ، مجاہدانہ، اور جرأت مندانہ واقعات سے بھری پڑی ہے جیسے بت پرستانہ ماحول میں پوری قوم کے سامنے اعلان توحید کرنا ، قوم کے عبادت خانہ میں جاکر بتوں کا توڑنا، معافی تلافی کے بجائے آتش نمرود میں کود جانا، ایک سُن سان وادی میں اپنے بیٹے کو چھوڑ جانا، پھر بڑا ہونے پر اسی لاڈلے بیٹے کو اللہ کی رضا کیلئے قربان کرنا، یہی آخری واقعہ آج کا میرا موضوع ہے، اس لئے تمام واقعات کو چھوڑ کر اسی کی تشریح پر اکتفا کرونگا ۔۔
ابرہیم علیہ السلام ایک جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں ، انہیں خلیل اللہ کہا جاتا ہے یعنی اللّٰہ کا دوست ، اللہ کی جانب سے انہیں مختلف طریقے سے آزمایاگیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑھاپے کو پہنچ چکے تھے، لیکن ابھی تک کوئی اولاد نہیں تھی، ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے دربار میں ہاتھ اٹھا کر کے دعا کی یا اللہ مجھے نیک اولاد عطا فرما ، اللہ تعالی نے ان کی دعا سن لی، اور اللہ تعالی نے ان کو ایک نیک بیٹے کی خوشخبری دی، رَبِّ ھَبلَی من الصا لحین • فبشرنا ہُ بغُلَام حلیم، پھر ان کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام اسماعیل رکھا گیا، اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَؕ- اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ ۔۔ سورہ ابراہیم (39)
ترجمہ: سب خوبیاں اللہ اللہ تعالی کے لیے ہیں جس نے مجھے بوڑھاپے میں اسماعیل و اسحٰق دئیے بےشک میرا رب دعا سننے والا ہے۔۔ اس ایت کریمہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک لمبی زمانے تک کوئی اولاد نہیں تھی جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑھاپے کو پہنچے تو اللہ تعالی نے ان کو اولاد عطا کی ، لہذا اللہ کے فضل و کرم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یہاں ایک اولاد پیدا ہوئی، جس کا نام اسماعیل رکھا گیا،
وقت آگے بڑھتا رہا اور زمانہ گزرتا رہا، اسماعیل علیہ السلام بھی اب بڑے ہو چکے تھے چلنے پھرنے لگے تھے، ماں باپ کی خدمت اور ان کی مدد کرنے لگے تھے، سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا، ایک رات حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین راتیں مسلسل خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی کا درجہ رکھتے ہیں، لہٰذا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا:
فَلَمَّابَلَغَ مَعَهُ السّعَیَ قالَ یٰبنَیَّ اِنَّی ارَیٰ فِیْ المَنَامِ اَنّی اَذبَحُکَ فَنظُر مَا ذَا تریٰ، ترجمہ! جب وہ بچہ ان کے ساتھ چلنے پھر نے کے لائق ہوگیا۔ ابراہیمؑ نے فرمایا اے میرے پیارے بیٹے ! میں نےخواب دیکھا کہ میں تمہیں ذبحہ کررہا ہوں تو تمہاری راۓ کیا ہے؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا، اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، تو سوچ کر بتا کہ تیرا کیا خیال ہے؟ بیٹے نے جواب دیا: اے ابا جان! جو آپ کو حکم دیا گیا ہے وہ کیجیے، آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔" قَالَ یأَبَتِ الفعل ما تؤمَر سَتَجِدُنی اِنشاءَاللہُ مِنَ الصٰبرینَ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا اے میرے ابا جان! جو حکم آپ کو دیا گیا ہے، وہ کیجیے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کو نہلا دھلا کر کے اور اچھے کپڑے پہنا کر قربان گاہ کی طرف لے جانے لگے ، جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل کو لے کر کے جا رہے تھے،تو شیطان حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ماں حضرت ہاجرہ کے پاس آیا اور کہا، کیا آپ کو معلوم ہے آپ کے شوہر ابراہیم، اپنے بیٹے کو کہاں لے جا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ وہ باہر گئے ہیں اس لئے ساتھ میں لے کر گئے، شاید وہ لکڑیاں کاٹنے گئے ہیں لکڑیاں کاٹنے کے بعد واپس آجائیں گے،شیطان نے کہا نہیں وہ آپ کے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیئے لے کر گئے ہیں، انہوں نے کہا کوئی باپ اپنے بیٹے کو کیسے ذبح کر سکتا ہے ایسا نہیں ہو سکتا۔شیطان نے کہا یہ اللہ کا حکم ہے، حضرت ہاجرہ نے کہا کہ اگر یہ اللہ تعالی کا حکم ہے تو میں اللہ کے حکم پر صبر کرنے والی ہوں ،اتنا سنتے ہی شیطان کا منہ کالا ہو گیا، اور وہ مایوس ہو کر لوٹ گیا ، کیا ایمان تھا حضرت اسماعیل علیہ السلام کے والدہ حضرت ہاجرہ کا، کہ بیٹے کو ذبح کیا جا رہا ہے اور یہ کہہ رہی ہیں کہ اگر اللہ تعالی کا یہ حکم ہے تو میں اس حکم پر صبر کرنے والی ہوں،
آج ہم اپنی عورتوں کا ایمان دیکھیں نماز پڑھنا قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور چھوٹی موٹی یہ بات کرنا بھی مشکل ہے چہ جائیکہ وہ اللہ کے راستے میں بیٹوں کی قربانی دیں،
اس کے بعد شیطان اسماعیل علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ ذبح کرنے کے لیئے لے جایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ اللہ تعالی کا حکم ہوگا اور میں اس پر راضی ہوں۔۔ اس کے بعد شیطان ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا اپ کو جو حکم دیا گیا ہے وہ خواب میں حکم دیا گیا ہے اور خواب کے حکم کو پورا کرنا ضروری نہیں ہے اس لیے اپ اپنے بیٹے کی قربانی کی جگہ کسی دنبے اور دوسری جانور کی قربانی کر سکتے ہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ شیطان ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شیطان کو سات کنکریاں ماری ہر وہ زمین میں دھنس گیا، اسی طرح شیطان دوبارہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا ، اور اپ کو بہکانے کی کوشش کی، پھر اپ نے سات کنکریاں ماری اور وہ زمین میں دھنس گیا، پھر تیسری مرتبہ شیطان حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا اور آپ کو بہکانے کی کوشش کی، پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سات کنکریاں ماری اور وہ زمین میں دھنس گیا،
تین مرتبہ شیطان حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تینوں مرتبہ شیطان کو کنکریاں ماری، جمرہ عقبہ پر، جمرہ وسطی، اور جمرہ کبریٰ پر۔۔اللہ تعالی کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ قیامت تک آنے والے تمام حاجیوں کو اس بات کا حکم دیا گیا کہ جو بھی حج کرنے کے لئے آئے ،وہ شیطان کو تینوں جگہوں پر کنکریاں ماریں تاکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت زندہ اور باقی رہے ، ہم جانتے ہیں کہ شیطان کو کنکریاں مارنے سے وہ نہیں مرے گا لیکن ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ رکھنے کیلئے کنکریاں مارنا ضروری ہے ، آخر کار حضرت ابراہیم علیہ السلام قربان گاہ تک پہنچ گئے ،
جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لختِ جگر کو اللہ کے حکم سے ذبح کرنے کا ارادہ کیا، حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا: "اے میرے پیارے ابا جان! میں آپ کا نورِ نظر اور اکیلا سہارا ہوں، لیکن اللہ کا حکم سب سے مقدم ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کی قربانی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے، اس لیے میری چند باتیں قبول فرما لیجیے":
1 ابا جان! جب آپ مجھے ذبح کرنے لگیں تو مجھے پیشانی کے بل (اوندھے منہ) لٹا دیجیے گا (جیسا کہ قرآن میں ہے: فَلَمَّا اَسْلَمَا وَتَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ)، کہیں ایسا نہ ہو کہ ذبح کرتے وقت اپ کی نظر میرے چہرے پر پڑ جائیں اور اپ کا دل نرم ہو جائے،
2آنکھوں پر پٹی: "دوسرا یہ کہ آپ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں، تاکہ چھری چلاتے وقت آپ کو میرا تڑپنا نظر نہ آئے اور آپ پوری قوت سے اللہ کا حکم پورا کر سکیں۔"
3 تیسرا یہ کہ میرے ہاتھ اور پاؤں رسی سے مضبوطی سے باندھ دیجیے گا، تاکہ ذبح ہوتے وقت تکلیف کی شدت سے میں ہل نہ سکوں اور میرے جسم کی جنبش سے آپ کے ارادے میں کوئی فرق نہ آئے۔"
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو زمین پر لٹا دیا اس کے ہاتھ پیر باندھ دئے ، اپنی انکھوں پر پٹی باندھ لی اور اپنے لخت جگر کو اللہ کے حکم پر ذبح کرنے کے لیے تیار ہیں۔
میرے عزیزو! بھائیوں ، یہ منظر ایسا خوفناک ہے …کہ آسمان حیران ہے. زمین پریشان ہے … فرشتے دیکھ رہے ہیں…اور کہہ رہے ہیں:
"یا اللہ! یہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں…؟
ایک باپ… اپنے ہی بیٹے کو… اپنے ہی ہاتھوں سے ذبح کرنے جا رہا ہے…!" ایسا منظر اج تک نہ اسمان نے دیکھا تھا اور نہ ہی زمین نے دیکھا تھا ، نہ فرشتوں نے دیکھا تھا اور نہ ہی جنات اور انسان نے دیکھا تھا ۔
فرشتوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں…
چرندے پرندے خاموش ہیں…
ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔
یہ کوئی عام منظر نہیں ہے…
یہ محبت اور اطاعت کا امتحان ہے…
یہ باپ اور بیٹے کے درمیان ایمان کی وہ داستان ہے…
جسے سن کر دل کانپ اٹھتا ہے…
ادھر اللہ تعالی نے چھری کو حکم دیا کہ خبردار ابراہیم میرا خلیل ہے، اس کی گردن کاٹنا تو دور کی بات ہے ایک بال بھی مت کاٹنا،
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تیز چھری لی، اللہ کا نام لیا۔پھر اپنے بیٹے کے گلے پر چھری چلاتے ہیں ،مگر وہ چھری گردن پر اثر ہی نہیں کر رہی تھی،، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دوبارہ زور لگایا اور پوری طاقت سے چھری چلائی لیکن چھری پھر بھی نہیں چلی، حضرت ابراہیم علیہ السلام پریشان تھے کہ اخر چھری کیوں نہیں چل رہی ہے، اتنے میں ہی خدا کی جانب سے ایک اواز ائی، اے ابراہیم تو نے اپنے خواب کو سچ کر کے دکھا دیا، ہم تو صرف تمہارا امتحان لے رہے تھے، اور تم امتحان میں پاس ہو گئے، لہذا اپنے بیٹے کو چھوڑو اور اس دنمبے کو ذبح کرو، فَلَمَّا اَسلَما وتَله للجَبین • ونا دیناہ ان یا ابراہیم • قد صداقت الرؤیا انا کذالک نجز المحسنین • ان ھذا لہوَ البلاء المبین • وفدیناہ بذبح عظیم۔• پارہ ۲۳ سورۃ الصافات آیت ۱۰۰ تا ۱۰۷
ترجمہ جب دونوں نے اللہ کے حکم کو مان لیا تو ابراہیمؑ نے ان کو ماتھے کے بل لٹا یا۔ ہم نے ندا دی اے ابراہیم تم نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ یہ بڑی صریح آزمائش تھی۔ اور ہم نے ایک عظیم قربانی کا فدیہ دیا
یہ قربانی کی تاریخ ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کا یہ عمل اللہ تعالی کو اتنا پسند ایا کہ قیامت تک انے والے تمام مسلمانوں کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ اس سنت ابراہیم کو زندہ اور باقی رکھے، اسی سنت ابراہیمی کو زندہ اور باقی رکھنے کے لئے ہم ہر سال قربانی کرتے ہیں،،،،،،،
موجودہ حالات میں، جبکہ امتِ مسلمہ مختلف آزمائشوں نیز دینی واسلامی اورفکری و روحانی دگر گوں حالات و ابتلاء سے گزر رہی ہے، ہمیں اس عید کے حقیقی پیغام کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں میں شرعی احکام کی پابندی' اخلاقی بلندی' دین پر استقامت اور اخلاص، قربانی، صبر، ہمدردی، اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
آئیے! اس عید پر ہم صرف جانور کی قربانی ہی نہیں بلکہ اپنی انا، نفرت، حسد اور باہمی رنجشوں کو بھی قربان کریں، غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مندوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں، اور امت و ملک میں امن، خیر اور محبت کے لیے دعا اور" خیرامت"ہونے کا فریضہ ادا کریں۔
اللہ تعالیٰ ہماری قربانیوں کو قبول فرمائے، امتِ مسلمہ کے حالات بہتر فرمائے، اور ہم سب کو اخلاص و تقویٰ کے ساتھ عید کی حقیقی روح اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو میری طرف سے عید الاضحیٰ کی دلی مبارک باد۔
آج جب ہم ہر سال عید الاضحیٰ پر جانور قربان کرتے ہیں، تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اصل قربانی حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام کی اس عظیم سنت کی یادگار ہے جس میں انہوں نے اللہ کے حکم کے سامنے ہر چیز قربان کر دی۔ ہماری قربانیوں میں بھی وہی خلوص، اطاعت اور نیت ہونی چاہیے تاکہ یہ عمل اللہ کے ہاں قبول ہو۔،،،،، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور ان نعمتوں کے بدلے ہم سے صرف شکر گزاری اور بندگی کا مطالبہ کیا ہے۔ عید الاضحیٰ کے ایام دراصل اسی بندگی اور ایثار کے امتحان کے دن ہیں۔ لیکن آج کل ایک عجیب رجحان دیکھنے کو ملتا ہے کہ بہت سے صاحبِ استطاعت لوگ، جن پر شرعی طور پر قربانی واجب ہے، محض پیسے خرچ ہونے کے ڈر سے اس عظیم عبادت سے جی چراتے ہیں۔
۱. پیسے کی کمی یا یقین کی کمی؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب معاملہ اپنی ذات پر خرچ کرنے کا ہو تو ہمارے پاس پیسے ختم نہیں ہوتے:
ہم 10 سے 50 ہزار کا موبائل بخوشی خرید لیتے ہیں۔
عید کے کپڑوں اور جوتوں پر ہزاروں روپے لٹا دیتے ہیں۔
شادیوں اور تقریبات میں نمائش کے لیے لاکھوں روپے اڑا دیے جاتے ہیں۔
تب ہمیں پیسے کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن جیسے ہی اللہ کی راہ میں قربانی کی باری آتی ہے، تو ہمیں مہنگائی یاد آ جاتی ہے اور ہم "پیسے نہیں ہیں" کا عذر پیش کرنے لگتے ہیں۔ یہ پیسے کی کمی نہیں، بلکہ اللہ کے وعدوں پر یقین کی کمی اور نیت کا فتور ہے
وہ بیٹا دینے کو تیار تھے... اور ہم چند ہزار روپے دینے کو تیار نہیں۔
قربانی کا مال ضائع نہیں ہوتا، بلکہ یہ وہ تجارت ہے جس کا منافع اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں عطا فرماتا ہے۔ اگر آپ صاحبِ حیثیت ہیں، تو حیلے بہانوں سے کام نہ لیں بلکہ خوش دلی کے ساتھ اللہ کے حضور اپنا نذرانہ پیش کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم دنیا کی آسائشوں میں تو مگن رہیں لیکن اللہ کے دربار میں "محروم" قرار پائیں۔
وہ جان قربان کرنے پر راضی تھے... اور ہم اپنا مال قربان کرنے سے کتراتے ہیں۔
یہ الله تعالٰی کی جانب سے ایک بڑا امتحان تھا جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت ہی آسانی سے کامیاب ہوگئے
دوسرا مضمون
اندھا ہو یا ایک آنکھ سے بالکل نابینا ہو
لنگڑا ہو اور چل نہ سکتا ہو
بہت زیادہ بیمار ہو
اتنا کمزور ہو کہ ہڈیوں میں گودا نہ ہو
کان یا دم کا بڑا حصہ کٹا ہو
ا ہو

0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇