ذی الحجہ کی فضیلت


 اللہ جل شانہ کا کرم ہے کہ وہ وقتا فوقتا اپنے بندوں کو خود سے جوڑنے کے مواقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔نماز، زکوۃ، حج وعمرہ، رمضان،اعتکاف،قربانی، عاشوراء ،شب براءت ، شب قدر ؛ یہ سب اسی کا اظہار ہے کہ بندہ جو دنیوی کاموں میں لگ کر اللہ تعالی سے غافل ہوجاتا ہے وہ اس کی طرف پلٹے۔ اس کے سامنے سرجھکادےاور اس کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرے۔ 
            ان عندة الشهور عند الله اثنا عشر شهرا  ،،،،،،،،،،،،،،، آخر تک ۔  پارہ ۱۰ سورہ توبہ آیت ۳۴
 قرآن کریم نے جن چار مہینوں کو اشہر حرم قرار دیا ہےان میں سے ایک ذوالحجہ ہے جس کی عظمت وتقدس دیگرمحترم مہینوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
قال رسول اللہﷺ :سَیِّدُ الشُّھُوْرِ شَھْرُ رَ مَضَانَ وَاَعْظَمُھَا حُرْمَۃً ذُوْالْحِجَّۃِ۔ ( فضائل الاوقات للبیہقی:89)

⚜ *عشرۂ ذی الحجہ کی فضیلت :*⚜

 ویسے تو ذوالحجہ کا پورا مہینہ ہی قابل ِ احترام ہے لیکن اس کے ابتدائی دس دن تو بہت ہی فضیلت اور عظمت والے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے اس کی عظمت و اہمیت کو بیان کیا ہے :
📌 قال تعالی :وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ۔ ( الفجر:1، 2، 3)
 ترجمہ : قسم ہے فجر کے وقت کی، اور دس راتوں کی، اور جفت کی اور طاق کی۔ 
اس میں اللہ تعالی نے تین چیزوں کی قسم کھائی ہے: 
 ▪پہلی قسم فجر کے وقت کی ہے، بعض مفسرین نے اس آیت میں خاص دس ذو الحجہ کی صبح مراد لی ہے۔ (توضیح القرآن:3/1922)
▪دوسری قسم دس راتوں کی کھائی ہے۔ اکثر مفسرین نے ان دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کے شروع کے دس دن لیے ہیں۔
▪تیسری قسم جفت اور طاق کی کھائی ہے۔ایک روایت میں ہے کہ جفت سے مراد دس ذوالحجہ( یعنی قربانی کا پہلا دن) اور طاق سے مراد عرفہ کا دن ہے۔ یعنی ۹ ذوالحجہ
📌 نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے :ان العشرۃ عشرۃ الاضحی ، والوتر یوم عرفۃ، والشفع یوم النحر۔ (الدرالمنثور:15/399)

نیک عمل

 حضرت عبدالله ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”الله تعالیٰ کی بارگاہ میں دوسرے ایام کا کوئی عمل عشرۂ ذوالحجہ(یکم ذوالحجہ سے دس ذوالحجہ تک) کے دوران نیک عمل سے بڑھ کر پسندیدہ نہیں،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول الله! کیا یہ جہاد فی سبیل الله سے بھی بڑھ کر ہے ؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد فی سبیل الله سے بھی بڑھ کر ہے، ہاں! جو شخص جان اور مال لے کر الله کی راہ میں نکلا، پھر ان میں سے کوئی چیز بھی واپس لے کر نہ آیا، سب کچھ الله کے راستے میں قربان کر دیا، بے شک یہ سب سے بڑھ کر ہے۔“(مشکوٰۃ المصابیح:327/1، باب فی الاضحیۃ، المکتب الاسلامی، بیروت)
*فائدہ:* اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان دس دنوں میں کوئی سا بھی نیک عمل کیاجائے اس کا اجروثواب بڑھ جاتا ہے۔نماز، روزہ، تسبیح، استغفار، صدقہ وخیرات غرض کوئی بھی عمل ان دنوں انجام دیاجائے گا اس کے اجر میں اضافہ ہوگا۔
عشرہ ذی ا لحجہ میں بال اور ناخن کا حکم
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھ لو ، اور تم میں سے کسی کا قربانی کا ارادہ ہو وہ تو جسم کے کسی حصہ کے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ (ترمذی،مسلم،ابوداؤد)

بال ناخن نہ کاٹنے کا حکم قربانی والے کے لیے ہے۔

٭... یہ مستحب ہے فرض واجب نہیں، لہٰذا کوئی اس کی رعایت نہ کر سکا تو بھی گنہگار نہ ہوگا ۔ اورعورتوں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔

تکبیر تشریق

تکبیرات تشریق یہ ہیں:” اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُلاَاِلٰہ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُوَ لِلّٰہِ الْحَمْدُ․ “
٭... 9ذالحجہ کی فجر سے لے کر 13 ذوالحجہ کی عصر تک پانچ دنوں میں تکبیر تشریق کی خاص تاکید اور فضیلت ہے۔ارشادربانی ہے: وَاذْکُرُواللّٰہَ فِيْاَیَّامٍ مَّعْدُوْدَاتٍاور یاد کرو اللہ کو گنتی کے دنوں میں۔(بقرة)
٭... ابن شہاب زہری فرماتے ہیں ،” رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سب ایام تشریق کے دنوں میں تکبیر پڑھتے تھے۔“
٭... حضرت عبیدبن عمیر سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”حضرت عمر  عرفہ (9ذوالحجہ)کی فجر سے ایام تشریق کے آخری دن عصر کی نماز تک تکبیر تشریق پڑھتے تھے۔“(کنزالعمال)
اسی وجہ سے ہمارے فقہاء کے نزدیک تکبیر تشریق 9/ذوالحجہ کی فجر سے لے کر 13/ ذوالحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے۔

تکبیر تشریق کے مسائل

٭... یہ تکبیرہر فرض اورجمعہ کی نمازکے بعدمردوعورت،مقیم ومسافر،حاجی وغیرحاجی، تنہا اور جماعت سے نماز پڑھنے والے ہر ایک پرواجب ہے، اور مسبوق ولاحق مقتدی پر بقیہ نماز سے فراغت پر تکبیر کہنا واجب ہے۔احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ عید الاضحی کی نماز کے بعد بھی تکبیرِ تشریق پڑھی جائے۔
٭... یہ تکبیر مرد درمیانی آواز سے اور عورت آہستہ پڑھے۔ بہت سی خواتین اور مرد حضرات یہ تکبیر نہیں پڑھتے، حالانکہ اس کا پڑھناواجب ہے۔ اسی طرح بعض مرد حضرات آہستہ یا بہت بلند آواز سے پڑھتے ہیں، یہ دونوں باتیں قابل اصلاح ہیں۔
٭... فرض نماز کے سلام پھیر نے کے فوراً بعد یہ تکبیر پڑھنی چاہئے۔
٭... سلام کے فوراً بعد اگر کوئی یہ تکبیر پڑھنا بھول جائے تو اگر نماز کے خلاف کوئی کام مثلا ًبات چیت نہیں ک

     

Post a Comment

0 Comments