بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم
فضائل گشت
من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك اضعف الایمان
والَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوفِ، ولَتَنْهَوُنَّ عَنِ المُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّه أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْهُ، ثُمَّ تَدْعُونَهُ فَلا يُسْتَجابُ لَكُمْ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم ضرور بضرور امر بالمعروف نہیں عن المنکر کرتے رہو،ورنہ تو عنقریب اللہ تعالی تمہارے اوپر ایک ایسا عذاب نازل کر دے گا،پھر تم دعا مانگو گے اور تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوگی ،
گشت چار عملوں کا نام ہے ، تین عمل مسجد میں ہونگے ،اور ایک عمل مسجد کے باہر ہوگا ، جو عمل مسجد کے باہر ہوگا اس میں کم سے کم تین آدمی ہونے چاہئے،اور زیادہ سے زیادہ دس آدمی ہونے چاہئے ،،، رہبر ، متکلم ۔اور امیر ، تو میرے بھائیو بتائیے رہبری کرنے کے لئے کون تیار ہے ،،،،،، اب جماعت تو بن چکی ہے، ہر کام کو کرنے کا ایک اصول اور طریقہ ہوتا ہے اگر کسی بھی کام کو اصول و طریقے پر کیا جائے تو وہ کام بخوبی انجام تک پہنچ جاتا ہے،سب سے پہلا کام ہے امیر کا مسجد سے باہر نکلتے ہی دعا کریں، راستے میں جاتے ہوئے ایک سائیڈ سے جائیں کلمہ کاورد کرتے ہوئے جائیں، نظروں کی حفاظت کرتے ہوئے جائیں، اور گھر کے دروازے سے سائیڈ میں کھڑے ہوں، دوسرا کام ہے رہبر صاحب کا اپنے بھائی کا اچھے سے اچھا نام لے کر کے بلائے ، اگر نہ آئے تو تین مرتبہ سے زیادہ نہ بلائیں ، اور اگر آ جائیں تو متکلم صاحب سے ملا دیں، متکلم صاحب اس کو جنت جہنم کی اور دنیا آخرت کی مختصر باتیں بتا کر نقد مسجد میں لانے کی کوشش کرو، اگر انے کے لیے تیار ہو تو کسی کے ساتھ مسجد تک اس کو بھیج دیں، اور اگر نہ ائے تو داعی بنا کر کے چھوڑ دے، واپس اتے ہوئے استغفار کرتے ہوئے آئیں مغرب کے بعد
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ-وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَؕ-وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(185)
ترجمہ: کنزالعرفان
ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اورقیامت کے دن تمہیں تمہارے اجر پورے پورے دئیے جائیں گے توجسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے ۔ یہ زندگی تو صرف ایک دھوکہ ہے اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے ،
الله تعالٰی نے انسانوں کو دو چیزیو سے بنایا ہے۔ ایک بدن دوسرا روح ،، بدن کے بن نے کی جگہ ماں کا پیٹ ہے، انسان کے ہاتھ پیر، آنکھ کان دلو دماغ انسان کے سارے اعضاء ماں کے پیٹ میں بنتے ہیں، اگر کسی بھی اعضاء میں کمی رہ گئی یا وہ ٹیڑھا ہو گیا تو پھر دنیا میں وہ سیدھا نہیں ہوسکتا اس کو پوری زندگی ایسے ہی گزارنی پڑے گی ۔یہی حال ہماری زندگی کا ہے، ہیاں جو اعمال ہم کرلیں گے اور آخرت کیلئے جو بھی تیاری ہم کرسکتے ہیں وہ یہی کر سکتے ہیں، موت کے بعد ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے،، قیامت کا دن ہوگا میدان محشر قائم ہوگا نفسی نفسی کا عالم ہوگا کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ہوگا جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے. یَوۡمَ یَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِیۡہِ وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیۡہِ وَ صَاحِبَتِہٖ وَ بَنِیۡہِ ۔۔ اسی میدان محشر میں ایک ایسے آدمی کو بلایا جائے گا جس نے دنیا کے اندر عیش و مستی میں زندگی گزاری تھی،بڑے ناز و نعمت میں زندگی گزاری تھی غموں سے اس کا کبھی واسطہ ہی نہیں پڑھاتھا ، ہر طرح کی نعمت ہے اس کو حاصل تھی اس کو بلایا جائے گا اور جہنم میں ایک گوتا دیا جائے گا، اور اس کے بعد اس سے پوچھا جائے گا اے بندے کیا دنیا میں تو نے کوئی خیر دیکھی ہے کوئی نعمت دیکھی ہے تو وہ کہے گا واللہ میں نے کبھی کوئی خیر نہیں رہی کوئی نعمت نہیں دیکھی، خیر کیا ہوتی ہے نعمت کیا ہوتی ہے خوشی کیا ہوتی ہے مجھے تو معلوم ہی نہیں ہے
اسی طرح ایک ایسے انسان کو بلایا جائے گا جو دنیا میں پریشان حال تھا اس نے بہت تکلیفوں میں زندگی گزاری تھی، اور بہت سخت آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا تھا،پریشانی اور مصیبت نے اس کی زندگی میں ڈیرہ ڈال رکھا تھا اس کو جنت میں غوطہ لگایا جائے گا اس کے بعد اس سے معلوم کیا جائے گا یہ بندے کیا تو نے دنیا میں کوئی پریشانی دیکھی ہے، کبھی مصیبت کا سامنا کیا تھا تو کہے گا واللہ میں نے دنیا میں کوئی پریشانی نہیں دیکھی کوئی مصیبت نہیں دیکھی
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کی نعمت کا ایک جھوکا دنیا کے تمام مصیبتوں اور پریشانیوں کو بھلا دے گا اسی طرح جہنم کے عذاب کا ایک جھوکا دنیا کی تمام خوشحالیوں اور آرام کو بھلا دے گا، اس لئے دنیا کی زندگی سے زیادہ آخرت کی زندگی کو ترجیح دینا چاہئے اور دنیا کی زندگی سے زیادہ آخرت کی زندگی کے لئے محنت اور کوشش کرنا چاہئے اس لئے ہمیں اس بات کا یقین رکھنا چاہئیے کہ اصل نعمت آخرت کی نعمت ہے اور اصل پریشانی آخرت کی پریشانی ہے، یہ مجلس ختم ہو جائے گی ہم سب یہاں سے چلے جائیں گے لیکن جانے سے پہلے اللہ کے گھر میں اللہ کے سامنے بیٹھ کر یہ عہد کریں کہ مقامی پانچ اعمال کو ہم پابندی کے ساتھ کریں گے ، مقامی پانچ اعمال بیان کیجئے
عمو می بات
میرے بھائیو۔ اللہ تعالی نے دین کی نسبت سے ہم سب کو یہاں جمع کیا ہے اللہ تعالی ہمارے جمع ہونے کو قبول فرمائے،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سات آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن کہ اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، 1 عادل بادشاہ ۔ وہ جوان جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا ہو۔ وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اَٹکا ہوا رہتا ہے۔ ایسے دو آدمی جن کی محبت محض اللہ کی خاطر تھی، اسی کے لیے جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے۔ وہ آدمی جس کو کسی صاحبِ حسب و جمال عورت نے دعوت دی تو اس نے کہا: مجھے خدا کا خوف ہے۔ وہ آدمی جس نے اس قدر چھپا کر صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی۔ اور وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو آنکھیں اُبل پڑیں۔‘‘ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہم سب کے دلوں کو بھی مسجد سے جوڑ دے،
اللہ تعالی نے ہم سب کو مسلمان بنایا ہے ایمان والا بنایا ہے،اللہ تعالی نے ہم سب کی کامیابی اور قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی کامیابی اپنے مبارک دین میں رکھی ہے، لہذا جس کی زندگی میں دین ہوگا وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہوں میں کامیاب ہوگا اور جس کی زندگی میں دین نہیں ہوگا وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہوں میں ناکام ہوگا۔
کامیابی کا دارومدار مالداری یا غربت پر نہیں ہے بلکہ کامیابی کا دارومدار دین پر ہے، اگر مالدار کی زندگی میں دین ہے تو کامیاب ہے، اسی طرح اگر غریب کی زندگی میں دین ہے تو وہ بھی کامیاب ہے،ایک مالدار انسان ہے اس کے پاس مال و دولت کی کمی نہیں ہے گھر بار کی کمی نہیں ہے گاڑیوں کی کمی نہیں ہے ،اچھا کاروبار ہے اچھی نوکری ہے اور بے انتہا پیسہ ہے مگر اس کے پاس نماز نہیں ہے روزے نہیں ہیں زکوۃ نہیں ہے،قران کریم کی تلاوت نہیں ہے، تقوی اور طہارت نہیں ہے تو یہ انسان ناکام ہے، لیکن ایک انسان غریب ہے رہنے کے لیے اس کے پاس اچھا گھر نہیں ہے کہیں انے جانے کے لیے گھر میں کوئی گاڑی نہیں ہے اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے پیسہ نہیں ہے،مگر اس کے پاس نماز ہے روزہ ہے زکوۃ ہے قران کریم کی تلاوت ہے تقوی اور و طہارت بھی ہے، تو ایسا انسان کامیاب ہے، اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ، بے شک اللہ تعالی کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز تقوی اختیار کرنے والا ہے ،،۔ کامیاب ہونے کے لئے دین کا ہونا شرط ہے،،، کامیاب وہ انسان ہے جو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا،
ہماری زندگی میں دین کیسے آئے گا۔ تو ہماری زندگی میں دین اللہ کے حکموں کو پورا کرنے سے، نبی کی سنت کو زندہ کرنے سے، اور صحابہ کرام کے طریقے پر چلنے سے آئے گا، اور اس کے لئے محنت کرنی پڑے گی، مجاہدے کرنے پڑیں گے، اور قربانیاں دینی پڑے گی، اپنی زندگی کو کلمے کے تقاضے پر لانے کے لئے، اللہ تعالی کے ساتھ یقین کو مضبوط کرنا پڑے گا۔جب تک ہمارا بھروسہ اور یقین اللہ تعالی پر مضبوط نہیں ہوگا تب تک ہمارے لئے دین پر چلنا آسان نہیں ہوگا، یقین کے بغیر انسان دین پر نہیں چل سکتا ، کبھی چلے گا کبھی نہیں چلے گا ، کبھی نماز پڑھیگا کبھی چھوڑے گا ، لہٰذا سب سے پہلے یقین ہماری زندگی میں آنا ضروری ہے ،
یقین بنانے
یقین بنانے کا جو سب سے بڑا ذریعہ ہے ،وہ کلمہ کی دعوت ہے ،سب کچھ اللہ سے ہوتا ہے اللہ کے علاوہ کسی سے کچھ نہیں ہوتا ، ساتو آسمانوں کو اور ساتو زمینوں اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے پیدا کیا ہے، اور آسمانوں زمین کے درمیان جو بھی چیزیں ہیں ان تمام چیزوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے،مشرق سے لے کر کے مغرب تک، شمال سے لے کر کے جنوب تک، زمین سے لے کر کے آسمان تک، تحت سرا سے لے کر کے عرش اعظم تک،چوٹی سے لے کر کے ہاتھی تک، انسان سے لیکر فرشتے تک ، سارے کائنات کے خالق و مالک ایک اللہ ہے،،،
کائنات کی تمام چیزوں پر اللہ تعالی کا قبضہ ہے ،یہ زمین اللہ تعالی کے قبضے میں ہے ، آ سمان چاند سورج ستارے، ہوائیں ، جنات انسان فرشتے ، چرندے پرندے درندے ، اس کے علاوہ اور جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ تمام کے تمام اللہ تعالی کے قبضے قدرت میں ہے،،،،
وہی عزت اور ذلت کا مالک ہے، وہی کامیابی اور ناکامی کا مالک ہے، وہی نفع اور نقصان کا مالک ہے، وہی صحت اور تندرستی کا مالک ہے، وہی موت و حیات کا مالک ہے، پیروں میں چلنے کی طاقت، ہاتھوں میں کام کرنے کی طاقت، زبان میں بولنے کی طاقت، کانوں میں سننے کی طاقت، دماغ میں سوچنے سمجھنے اور صحیح غلط کا فیصلہ کرنے کی طاقت،اور آنکھوں میں دیکھنے کی طاقت، یہ سب اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمت ہے،اللہ تعالی جس طریقے سے آنکھوں میں روشنی دینے پر قادر ہے، اسی طریقے سے وہ آنکھوں کی روشنی ختم کرنے پر بھی قادر ہے،
واقعہ
ایک مرتبہ کفارہ مکہ کے نے آپ کے قتل مشورہ کیا تھا، مشورے میں یہ طے ہوا کہ آپ کو قتل کرنے میں ہر قبیلے کا ایک آدمی شریک رہے گا، اور رات کے اندھیرے میں جب آپ بیت اللہ تشریف لے جائیں گے تو تمام لوگ بیک وقت آپ پر حملہ کریں گے اور اس طریقے سے آپ کو شہید کر دیا جائے گا ، لہذا جب رات کا اندھیرا چھا گیا تو بار قبیلوں کے بارے آدمیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ تھی کہ عشاء کی نماز پڑھ کر سو جایا کرتے تھے اور پھر دوبارہ تہجد کی نماز پڑھنے کے لئے مسجد حرام تشریف لے جائے کرتے تھے یعنی بیت اللہ، کفار مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکلنے کا انتظار کرنے لگے، بذریعہ وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار مکہ کے تدبیروں کے بارے میں بتا دیا گیا، وہ لوگ آپ کو قتل کرنے کے ارادے سے آپ کے گھر کے باہر کھڑے ہوئے ہیں، اور ساتھ میں یہ بھی حکم دیا کہ آج بھی آپ کو نکلنا ہے ایسا نہیں ہے کہ ان کی وجہ سے گھر میں ہی نماز پڑھ لیں گے، ان کو اپنی تدبیریں کرنے دو ان کی تدبیریں بھی ہماری حکم کے تابع ہے، اللہ تعالی کا حکم آجانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں میں مٹی اٹھائی اور یاسین شریف کی تلاوت کرتے ہوئے وجعلنا ان کے سروں پر مٹی پھینکتے ہوئے ان کے بیچ سے گزر گئے، اور یہ لوگ دیکھ ہی نہیں پائے ، یہ لوگ ننگی تلوار لے کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں کھڑے ہیں، جب کافی دیر گزر گئی تو شیطان انسانی شکل میں ان کے پاس آیا اور پوچھا کہ تم لوگ یہاں کیوں کھڑے ہو ، آج ہم محمد کا قصہ پاک کرنے آئے ہیں جیسے وہ باہر نکلیں گے ان کا کام تمام کر دیا جائے گا، اور یہ ٹینشن ہمیشہ ہمیش کے لئے ختم ہو جائے گی، شیطان کہنے لگا تم سے کوئی قصہ پاک نہیں ہوگا، اور تم سے کام تمام نہیں ہو گا ، وہ تو نکل بھی گئی ، وہ کہنے لگے بوڑھے میاں جاؤ اپنا کام کرو، تو ہمیں بہکانے آیا ہے،ہماری آنکھیں کھلی ہوئی ہیں، تلوار تنی ہوئی ہے، اور ہم سب نوجوان ہیں وہ آج ہم سے بچ کر نکل ہی نہیں سکتے، شیطان نے کہا کہ وہ نکل گئے اور تمہاری کھوپڑیوں پر مٹی پھینک کر بھی چلے گئے تم اپنی کھوپڑیوں کو چیک کرو لہذا جب انہوں نے اپنا سر چیک کیا تو ان کے بالوں میں مٹیاں لگی ہوئی تھی ، لہذا یہ لوگ حیران ہوگئے یہ کہ کیسے ہو گیا اور ہمارے بالوں میں مٹیاں کہاں سے آگئیں ، ان کی تدبیریں ناکام ہو گئی میرے بھائیو اللہ تبارک و تعالی نے اپنی قدرت دکھائی کہ اگر ہم آنکھوں میں روشنی دینے کی طاقت رکھتے ہیں، تو اس روشنی کو ختم کرنے کی بھی قدرت رکھتے ہیں ، تم کتنا دیکھو گے کہاں تک دیکھو گے، اور کتنی دیر تک دیکھو گے، جتنا ہم چاہیں گے صرف اتنا ہی دیکھ سکو گے تمہارے پاس آ نکھیں تو ہوں گی لیکن ان میں دیکھنے کی طاقت نہیں ہوگی ،، اللہ تعالی کے حکم کے بغیر ایک پتہ نہ ہل سکتا ہے اور نہ ہی گر سکتا ہے،
اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ تعالی اپنی قدرت سے چیزوں کی شکل کو بدل دیتے ہیں ، کبھی چیزوں کو باقی رکھ کر اس کی صفت کو ہی بدل دیتے ہیں، لکڑی کو ازدہا بنا سکتے ہیں،اور ازدہے کو لکڑی بھی بنا سکتے ہیں ، وہ آگ کے انگاروں کو فولو کا باغ بنانے کی طاقت رکھتا ہے، اور پھولوں کے باغ کو آگ کے انگارے بنانے کی طاقت رکھتا ہے ، دوا کے اندر شفا رکھی ہے مگر حکم ہمارا چلے گا ، چھری کے اندر کاٹنے کی طاقت رکھی ہے مگر حکم ہمارا چلے گا،پیٹ کے اندر ہضم کرنے کی طاقت رکھی ہے مگر حکم ہمارا چلے گا، تاریخ گواہ ہے وہ سمندر تھا جس نے ڈبویا نہیں،وہ اگ تھی جس نے جلایا نہیں،وہ چھری تھی جس نے کاٹا نہیں، وہ پہاڑ تھا جس کی بلندی نے بچایا نے، وہ مچھلی تھی جو ہضم نہ کر سکی، وہ گودی میں کھیلنے والا بچہ تھا جو بولنے لگا تھا، وہ سورج تھا جو کو رک گیا، وہ چاند تھا جس کے دو ٹکڑے ہو گئے،
ہم زبان سے تو کہتے ہیں، لا الہ الا اللہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ تعالی کے، یعنی سب کچھ اللہ تعالی سے ہوتا ہے اور غیر اللہ سے کچھ نہیں ہوتا ہے، لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہم سب سے پیچھے نظر آتے ہیں،
واقعہ حضرت سفینہ
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کہیں جا رہا تھا راستے میں سمندر پڑ گیا ،میں سمندری سفر کرنے کے لئے کشتی میں سوار ہوا ، لیکن سمندر میں ہی کشتی ٹوٹ گئی سارے مسافر ڈوب گئے، اور میں ایک تختے پر سوار رہا، میں اس تختے کو ہلاتا رہا، یہاں تک کہ میں ایک جزیرے پر پہنچ گیا اس جزیرے میں ہر قسم کے موذی جانور رہتے تھے،جب حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ جزیرے پر ائے ،تو ایک شعر حملہ کرنے کے ارادے سے اگے بڑھا، صحابہ رسول حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے ایک جملہ کہا یا ابا الحارث انا مولا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتقطع راسہ ،، اے ابو حارث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں،اتنا سننا تھا کہ وہ شیر جو حملہ کرنے کے ارادے سے آیا تھا اس نے اپنا ارادہ بدل لیا اور اپنے سر کو جھکا لیا ،حضرت سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں چلتا رہا یہاں تک کہ شیئر بھی میرے ساتھ چلتا رہا ،یہاں تک کہ پورا جنگل پار ہو گیا ،تو شیر نے ایک اواز لگائی میں سمجھ گیا کہ الودائی یہ جملہ کہہ رہا ہے، جب اللہ تعالی کی ذات پر توکل اور بھروسہ ہوتا ہے تو اللہ تعالی ایسی جگہ سے راستے نکالتے ہیں جہاں سے راستہ نکلنے کی امید بھی نہیں ہوتی ہے،اور اللہ تعالی چیر پھاڑ کھانے والے جانوروں کو بھی ہماری خدمت پر مامور کر دیتے ہیں،
نبیوں کے آنے کا مقصد
اس دار فانی میں تقریبا ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء کرام تشریف لائے اور ہر ایک نبی نے اپنے ماننے والوں کو جنت کی خوشخبری سنائی اور نا ماننے والوں کو اللہ کے سخت عذاب سے ڈرایا، اس دنیا کے اندر جتنے بھی انبیاء علیہم السلام آئے ہیں سارے انبیاء کے محنت کے میدان انسانوں کے دل تھے، اس کے علاوہ دنیا کی کوئی چیز نہیں تھی، نہ مال تھا نہ دولت تھی نہ کھیت نہ باغات نہ بازار نہ تجارت کچھ بھی نہیں ،انبیاء علیہم السلام انسانوں کے دلوں پر محنت کرتے تھے ، اور انسانوں کے دلوں کو اللہ تعالی کے ساتھ جوڑتے تھے، اللہ تعالی نے سب سے آخر میں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تبارک و تعالی نے خاتم النبیین بنا کر کے بھیجا، رحمت اللعالمین بنا کر کے بھیجا، آپ پر نبوت کے دروازے کو بند کر دیا، لیکن کار نبوت کو بند نہیں فرمایا،کار نبوت قیامت تک جاری اور ساری رہے گا ، پہلے یہ ذمہ داری نبیوں کو دی جاتی تھی ،لیکن اب یہ ذمہ داری امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی گئی ہیں، کنتم خیر،،،۔ تم نیکی کا حکم کرتی ہو اور برائی سے تو روکتی ہو ،نماز کا روزے کا زکوۃ کا صدقے کا حکم دیتے ہو ، غریبوں مسکینوں یتیموں اور بیواؤں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو کفر شرک سے بداعاتو خرافات سے فتنہ فساد سے لڑائی جھگڑے سے روکتے ہو،
جب تک مسلمان دعوت والی محنت کو حضور کے طریقے پر کرتے رہے ، تو ہم خود پورے دین پر عمل کرتے رہے ، اور پوری دنیامیں دین پہنچتا رہا ، حضرت عمر فاروق کے زمانہ بائیس لاکھ مربع میل پر اسلام پھیل چکا تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ آنے تک 72 لاکھ مربع میل تک اسلام فیل چکا تھا ، پھر بنو امیہ کے خلیفہ آئے،اس کے بعد عباسیہ خلیفہ آئے ،ان کے زمانے میں اسلام پھیلتا رہا، اسلام پھیلتا رہا یہاں تک کہ دنیا کے تین کونوں میں اسلام پھیل گیا اور صرف دنیا کا ایک کونا اسلام سے خالی تھا اور باقی پوری دنیا میں اسلام پھیل چکا تھا،جب تک ہم اس کام کو نبی کے طریقے پر کرتے رہے تو اسلام پھیلتا رہا, اور جب سے امت نے اس کام کو چھوڑا ہے ،۔ دین کی محنت اور اس کی ذمہ داری سے منہ موڑا ہے ، تو دوسروں تک دین پہنچانا تو دور کی بات ہے خود مسلمان ہی دین سے دور ہو گئے ہیں، اور علاقوں کے علاقے دین سے خالی ہو گئے ،شہر کے شہر، گاؤں کے گاؤں محلوں کے محلے ، اور پورے کے پورے گھر دین سے خالی ہوگئے ، اور یہ ایسا اس لئے ہوا کہ امت نے اپنی ذمہ داری کو چھوڑ دیا ،،
آ ج جو پوری دنیا کے اندر دعوت و تبلیغ کے نام سے جو محنت ہو رہی ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ امت مسلمہ دین کے اعتبار سے اس سطح پر آ جائے،جس سطح پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا تھا ، اور دین کی محنت کے اعتبار سے اس سطح پر آ جائے جس سطح پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو چھوڑ رہا تھا، دین کے اعتبار سے کس سطح پر چھوڑا تھا کہ ہر مسلمان 100 فیصد اللہ تعالی کے تمام حکموں کو پورا کرتا تھا،اور دین کی محنت کے اعتبار سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس سطح پر چھوڑا تھا کہ ہر امتی اللہ کے لئے جان دینے کے لئے تیار تھا، چلا چار مہینے اور سال کی بات نہیں تھی بلکہ پوری زندگی اللہ تعالی کے راستے میں دینے کے لئے تیار تھا،
واقعہ
حضرت عبداللہ بن حذیفہ سھمی رضی اللہ عنہ روم کے فوجوں نے پکڑ لیا تھا،ان کو پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے گئے، بادشاہ نے ان کو لالچ دی کہ تم ہمارے مذہب کو قبول کر لو ہم تمہیں آدھی بادشاہت دیں گے اور اپنی لڑکی بھی دیں گے ، ورنہ تو تمہیں موت دی جائے گی، حضرت عبداللہ نے ان کی بادشاہت کو ٹھکرا دیا ، بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو پکڑ کر لے جاؤ اور کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دو،جب ان کو ہانڈے کے پاس لایا گیا تو یہ رونے لگے،بادشاہ نے کہا کہ تمہیں موت گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ابھی تمہارے پاس وقت ہے سوچ سمجھ کر صحیح فیصلہ لے سکتے ہو،حضرت عبداللہ نے کہا کہ میں موت سے گھبرا کر کے نہیں رو رہا ہوں،بادشاہ نے پوچھا تو پھر کیوں رو رہے ہو،انہوں نے جواب دیا کہ میں اس لئے رو رہا ہوں کہ میرے پاس صرف ایک جان ہے، کاش کہ میرے پاس سو جان ہوتی تو میں ایک ایک کر کے اللہ کی راہ میں قربان کر دیتا مگر اپنے ایمان کا سودا نہ کرتا ۔۔
ہر مسلمان کا یہ جذبہ تھا کہ میرا سب کچھ لگ جائے اور اللہ کا دین پوری دنیا میں زندہ ہو جائے ، یہ چلا اور چار مہینے جو آپ لوگوں سے مانگے جاتے ہیں یہ اس لیے ہے کہ ہمارا تعلق دین کے ساتھ جڑا رہے ، ورنہ تو یہ کام چلا اور چار مہینے کا نہیں ہے ،بلکہ یہ کام تو پوری زندگی کا ہے ، اس کام کو کرتے کرتے مرنا ہے ، اس کی تو ہم نیت کر لیں کہ انشاءاللہ دعوت و تبلیغ کی محنت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا کر کریں گے ، تو کریں گے بھائی؟ کرتے کرتے مریں گے؟ ، جو اس کام کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھے گا اور مرتے دم تک اس کام کو کرتا رہے گا وہ ہاتھ اٹھائیں ،اللہ تعالی کو دکھاؤ کہ ہم تیرے دین کی خاطر اپنی جانوں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں، ماشاء اللہ ماشاء اللہ یا اللہ تو ہم سب کو اس پر جمع دے اور اس کام کو مرتے وقت تک کرنے والا بنا دے، آمین
دین کی خاطر آزمائش
جب ہم لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلائیں گے ، تو اس دین کے کام کرنے پر مختلف حالات آئیں گے، کبھی بھوک کی کبھی پیاس کی، کبھی غربت ، کبھی مفلسی کی ، کبھی نفع اور نقصان کی ، کبھی بیماری کی کبھی صحت کی ،تکلیفیں مصیبتیں ،اور ازمائشوں کے حالات آئیں گے، تکلیفیں اور آزمائشیں تو انبیاء کرام پر بھی آئی ہیں، اور سب سے زیادہ تکلیفیں اور آزمائشیں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آئی ہیں ، آپ نے فرمایا دین کی خاطر جتنا مجھے ستایا گیا اتنا کسی اور کو نہیں ستایا گیا
ابو لہب کے دو بیٹے تھے عتبہ اور عتیبہ ، آپ نے اپنی دو بیٹیوں ام کلثوم اور رقیہ کا نکاح ان دونوں سے کرایا تھا ، اس وقت تک کفار کے ساتھ نکاح کرنا منع نہیں تھا ،شریعت میں یہ حکم بعد میں نازل ہوا تھا، جب سورہ لہب نازل ہوئی ، تو ابو لہب نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم محمد کی بیٹی کو طلاق دے دو لہذا انہوں نے طلاق دے دی،
جب آپ طائف کے لوگوں کے درمیان اللہ کے احکام کو لے کر گئے تو طائف کے لوگوں نے آپ کو اتنا مارا کہ فرشتوں سے دیکھا نہیں گیا فرشتے آ کر کہنے لگے یا اللہ کے رسول اگر آپ ہمیں حکم دیں تو ان کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دیں گے، آپ نے فرمایا نہیں یہ مجھے جانتے نہیں ہیں اگر میں بھی بدلہ لینے لگا تو پھر معاف کرنے والا کون رہے گا,
اسلام کی خاطر جان دینے والی سب سے پہلی خاتون حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا ہیں ، ابو جہل نے ان کے اسلام لانے کی وجہ سے ان کی شرمگاہ میں برچھا مارا اور اسی وقت یہ شہید ہو گئی،انہوں نے جان دینی تو پسند کی مگر اسلام چھوڑنا پسند نہیں کیا،
قربانیاں تو صحابہ کرام نے دی ہیں، تکلیفیں اور آزمائشیں تو صحابہ کرام نے برداشت کی ہے،ان کی تکلیفوں کے سامنے ہماری تکلیفکچھ بھی نہیں ہے،
غزوہ احزاب،، ایک مرتبہ تمام دشمنوں نے مل کر مسلمانوں پرحملہ کرنے کا ارادہ کیا, اور مسلمانوں کو دنیا سے ختم کرنے کا عزم کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دفاع کے لئےخندق کھودنے کا حکم جاری فرمایا، خندق کھودنے کے لیے سامان نہیں ہے، پھر بھی خندق کھودی جا رہی ہے،فقر و فاقہ اور تنگدستی کا یہ عالم تھا کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا, کئی کئی دن بھوکے رہنے کے بعد اپنے پیٹوں پر پتھر باندھ لئے، اور کائنات کے سردار نے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھے ہوئے تھے، ہماری زندگی میں کوئی ایسا دن نہیں آیا ہوگا کہ، کبھی ہم بھوکے سوئے ہوں دو دو تین تین ٹائم کھاتے ہیں اور اس کے باوجود نماز پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے ،، اس دین کے خاطر صحابہ کرام نے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں تب جا کر کے یہ دین ہم تک پہنچا ہے ، ایک لاکھ 44 ہزار صحابہ کرام ہیں ، 10 ہزار صحابہ کی قبر مدینہ میں ہے صرف 10 ہزار ، باقی ایک لاکھ 34 ہزار کہاں چلے گئے، چلا چار مہینے اور سال کے بعد نہیں تھی،جب یہ لوگ دین کی خاطر نکلے تو دوبارہ گھر واپس لوٹ کر نہیں آئے ،کسی کو 10 سال ہو گئے کسی کو 20 سال ہو گئے، جنگلوں میں گئے بیابانوں میں گئے صحراؤں میں گئے پہاڑوں میں گئے سمندروں میں گئے اور وہاں تک گئے جہاں جانا ناممکن تھا اور اللہ کے دین کو پہونچایا ،
اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس دن پر خود بھی آنا ہے اور اپنی اولاد کو بھی لانا ہے،
والَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوفِ، ولَتَنْهَوُنَّ عَنِ المُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّه أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْهُ، ثُمَّ تَدْعُونَهُ فَلا يُسْتَجابُ لَكُمْ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم ضرور بضرور امر بالمعروف نہیں عن المنکر کرتے رہو،ورنہ تو عنقریب اللہ تعالی تمہارے اوپر ایک ایسا عذاب نازل کر دے گا،پھر تم دعا مانگو گے اور تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوگی ،
اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کے عذاب سے بچاؤ
معلوم ہوا کہ پہلے اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہے پہلے اپنے اپ کو دین پر لانا ہے اس کے بعد اپنے گھر والوں کو دعوت دینا ہے اس کے بعد اپنے رشتہ داروں کو ہر اس کے بعد دوسرے لوگوں کو دعوت دینا ہے، جب انسان خد عمل کرے گا تو اللہ تعالی اس کے بات میں تاثیر پیدا کر دیں گے اور پھر اس کے بعد جس کو بھی دعوت دے گا لوگ اس کی بات ماننے کی کوشش کریں گے،
اللہ تعالی نے قران مجید میں بنی اسرائیل کے ایک واقعہ بیان کیا ہے جس کے ذریعے سے اس امت کو بتایا ہے کہ اگر تم دین پر چلتے رہو گے اور دوسروں کو اس کی دعوت نہیں دو گے تو جب اللہ تعالی کا عذاب ائے گا تو تم بھی اس میں شامل ہو جاؤ گے،اللہ تعالی نے قران مجید کے پارہ نمبر
اپنے ایمان کی فکر کرنا
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارً،، اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں
اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کے عذاب سے بچاؤ اللہ تعالی نے اس ایت کے اندر اے انسانوں نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ اے ایمان والو اللہ تعالی نے خاص طور سے مسلمانوں کو اور ایمان والوں کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ اپنے اپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم سے بچاؤ، جہنم سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے وہ ہے ایمان اگر ہم اپنے ایمان کو بچا کر کے لے گئے تو ہم جہنم سے بچ گئے اس لیے ہمیں اپنے ایمان کی اور ساتھ میں اپنی بیوی بچوں کے ایمان کی اور گھر والوں کے ایمان کی فکر کرنی چاہیے
صحابہ نبی علیہ السلام کے شاگرد تھے، اور نبی علیہ السلام کے دور میں بھی تھے، پھر بھی وہ اپنے ایمان کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند رہا کرتے تھے، ان کے ایمان کا درجہ یہ ہے کہ اللہ نے ان کے ایمان کو مثالی بنایا ہے، اور ساری دنیا سے کہا ہے کہ اگر تم بھی کامیاب ہونا چاہتے ہو تو ایسا ایمان بنا لو جیسا کہ صحابہ کرام کا تھا، اس کے باوجود ہر صحابی اپنے ایمان کے بارے میں ہر وقت فکر مند رہتا تھے ، لیکن ہم فتنوں کے دور میں ہیں،اپنے ایمان کو بچانا مشکل ہے لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اپنی ایمان پر بھروسہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں
واقعہ جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور وہ زخمی ہوگئے تو ان کے زخموں کا علاج کرنے کے لیے دودھ پلایا گیا۔ لیکن دودھ ان کے زخم سے باہر نکل آیا۔ اس پر طبیب نے کہا: "اے امیر المؤمنین! آپ کی زندگی کے دن محدود ہیں، وصیت کر لیجیے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور کہا: حذیفہ بن یمان کو میرے پاس لے آؤ. حذیفہ رضی اللہ عنہ وہ صحابی تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کے نام بتائے تھے، اور یہ راز صرف اللہ، رسول اللہ، اور حذیفہ ہی جانتے تھے۔ جب حذیفہ رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے، خون بہنے کے باوجود، ان سے کہا: اے حذیفہ! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا رسول اللہ نے میرا نام منافقین میں لیا تھا؟حذیفہ رضی اللہ عنہ خاموش رہے اور ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اصرار کیا: اللہ کے لیے بتاؤ، کیا میرا نام لیا تھا؟"حذیفہ رضی اللہ عنہ روتے ہوئے بولے: میں یہ راز کسی کو نہیں بتا سکتا، لیکن آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام منافقین میں نہیں لیا۔"یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا: اب دنیا میں میری صرف ایک خواہش باقی رہ گئی ہے۔"
عبداللہ نے پوچھا: وہ کیا ہے، اے ابا جان؟
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ عمر بن خطاب سلام کہتا ہے، اور یہ نہ کہنا کہ امیر المؤمنین سلام کہتا ہے، کیونکہ میں آج کے دن مؤمنین کا امیر نہیں ہوں۔ اور ان سے کہو کہ عمر درخواست کرتا ہے کہ اسے اپنے دونوں ساتھیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت دی جائے۔"عبداللہ رضی اللہ عنہ گئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت مانگی۔ وہ اس وقت رو رہی تھیں، لیکن انہوں نے فرمایا: میں یہ جگہ اپنے لیے رکھنا چاہتی تھی، لیکن آج میں اسے عمر کے لیے قربان کرتی ہوں۔عبداللہ رضی اللہ عنہ خوشی خوشی واپس آئے اور خبر دی۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ کا چہرہ زمین پر تھا۔ عبداللہ نے ان کا چہرہ اپنی ران پر رکھنا چاہا، تو عمر نے فرمایا: میرے چہرے کو زمین پر رہنے دو، تاکہ میں اپنے رب کے سامنے عاجزی کے ساتھ پیش ہو سکوں۔ افسوس ہے عمر پر، اگر اس کا رب اسے معاف نہ کرے۔"
عمر رضی اللہ عنہ نے وصیت کی:
"جب میری نماز جنازہ ہو تو حذیفہ کا خیال رکھنا۔ اگر وہ میری نماز جنازہ میں شریک ہوں، تو سمجھو کہ اللہ نے مجھے معاف کر دیا۔ پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے دروازے پر لے جانا اور کہنا: 'اے ماں! آپ کا بیٹا عمر اجازت چاہتا ہے۔' اگر انہوں نے اجازت دے دی تو مجھے وہاں دفن کرنا، ورنہ عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔"چنانچہ جب حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ ادا کی تو عمر رضی اللہ عنہ کو عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے پر لے جایا گیا اور اجازت مانگی گئی۔ انہوں نے اجازت دے دی، اور یوں عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔
اللہ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے۔ جنہیں جنت کی بشارت ملی، پھر بھی وہ اللہ کے خوف سے لرزتے رہے۔ لیکن آج ہم غفلت اور بے خوفی کی زندگی گزار رہے ہیں، نہ اپنے اعمال کا حساب کرتے ہیں، نہ اپنی آخرت کی فکر کرتے ہیں۔
حضرت حنظلہ رضی اﷲ عنہ کو نفاق کا ڈر
حضرت حنظلہ رضی اﷲ عنہ کہتے ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضور صلی الله علیہ والہ وسلم کی مجلس میں تھے۔ حضور اقدس صلی الله علیہ والہ وسلم نے وعظ فرمایا جس سے قلوب نرم ہوگئے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور اپنی حقیقت ہ میں ظاہر ہوگئی ۔حضور صلی الله علیہ والہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر میں گھر آیا۔بیو ی بچے پاس آگئے اورکچھ دنیاکا ذکرتذکرہ شروع ہوگیا اور بچوں کے ساتھ ہنسنا بولنا،بیوی کے ساتھ مذاق شروع ہوگیا اور وہ حالت جاتی رہی جو حضور صلی الله علیہ والہ وسلم کی مجلس میں تھی۔دفعۃً خیال آیا کہ میں پہلے سے کس حال میں تھا اور اب کیا ہوگیا ۔ میں نے اپنے دل میں کہاکہ تو تو منافق ہوگیا۔ کہ ظاہر میں حضور صلی الله علیہ والہ وسلم کے سامنے تو وہ حال تھا اور اب گھر میں آکر یہ حالت ہو گئی ۔ میں اس پر افسوس اور رنج کرتاہوا اوریہ کہتا ہواگھر سے نکلا کہ حنظلہ تو منافق ہوگیا۔سامنے سے ابوبکرصدیق رضی اﷲ عنہ شریف لارہے تھے ، میں نے ان سے عرض کیا کہ حنظلہؓ تو منافق ہوگیا ۔ وہ یہ سن کر فرمانے لگے کہ سبحان اﷲ کیا کہہ رہے ہو ہرگز نہیں۔ میں نے صورت بیان کی کہ ہم لوگ جب حضور صلی الله علیہ والہ وسلم ک ی خدمت میں ہوتے ہے اورحضور صلی الله علیہ والہ وسلم دوزخ اور جنت کا ذکر فرماتے ہیں تو ہم لوگ ایسے ہو جاتے ہیں گویا وہ دونوں ہمارے سامنے ہیں اور جب حضور صلی الله علیہ والہ وسلم کے پاس سے آجاتے ہیں تو بیوی بچو ں اور جائداد وغیر ہ کے دھندوں میں پھنس کر اس کو بھول جاتے ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایاکہ یہ بات تو ہم کو بھی پیش آتی ہے اسلئے دونوں حضور صلی الله علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور جاکر حنظلہ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ صلی الله علیہ والہ وسلم میں تو منافق ہوگیا۔ حضور صلی الله علیہ والہ وسلم نے فرمایا،کیابات ہوئی ۔حنظلہ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا جب ہم لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور آپ جنت دوزخ کاذکر فرماتے ہیں تب تو ہم ایسے ہوجاتے ہے کہ گویا وہ ہمارے سامنے ہیں۔لیکن جب خدمت اقدس سے چلے جاتے ہیں توجا کر بیوی بچوں اور گھر بار کے دھندوں میں لگ کر بھول جاتے ہیں۔ حضور صلی الله علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تمہارا ہر وقت وہی حال رہے جیسا میرے سامنے ہوتا ہے توفرشتے تم سے بستروں پر اور راستوں میں مصافحہ کرنے لگیں۔ لیکن حنظلہ بات یہ ہے کہ گاہے ۔گاہے۔گاہے۔گاہے۔ (احیاء علوم الدین، مسلم)
ف: یعنی آدمی کے ساتھ انسانی ضرورتیں بھی لگی ہوئی ہیں میں اس زمانہ ف:اﷲ کا خوف بڑی ضروری اور اہم چیز ہے یہی وجہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ والہ وسلم اکثر کسی گہری سوچ جن کو پورا کرنا بھی ضروری ہے۔کھانا پینا،بیوی بچے اور ان کی خیر خبر لینا یہ بھی ضروری چیزیں ہیں ۔اسلئے اس قسم کے حالات کبھی کبھی حاصل ہوتے ہیں۔ نہ ہر وقت یہ حاصل ہوتے ہیں اورنہ اُس کی امیدرکھنی چاہیے۔ یہ فرشتوں کی شان ہے کہ ان کوکوئی دوسرا دھندا ہی نہیں۔ نہ بیوی بچے نہ فکرِمعاش اور دنیوی قصے، اورانسان کے ساتھ چونکہ بشری ضروریات لگی ہوئی ہیں اس لئے وہ ہروقت ایک سی حالت پر نہیں رہ سکتا۔لیکن غور کی بات یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲعنہم کو اپنے دین کی کتنی فکر تھی کہ ذرا سی بات سے کہ حضور صلی الله علیہ والہ وسلم کے سامنے جو حالت ہماری ہوتی ہے وہ بعد میں نہیں رہتی۔ اس سے اپنے منافق ہونے کا ان کو فکر ہوگیا۔’’ عشق است وہزار بدگمانی‘‘ عشق جس سے ہوتا ہے اس کے متعلق ہزار طرح کی بدگمانی اور فکر ہوجاتا ہے۔ بیٹے سے محبت ہو اور وہ کہیں سفر میں چلا جائے پھر دیکھئے ہر وقت خیریت کی خبر کافکر رہتا ہے اور یہ جو یہ بھی معلوم ہوجائے کہ وہاں طاعون ہے یافساد ہوگیا پھر خدا جانے کتنے خطوط اور تار پہنچیں گے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جن کا جنتی ہونا یقینی ہے، خود اللہ کے رسول نے ان کے جنتی ہونے کی بشارت دی ہے، اس کے باوجود ہمشیہ اپنے ایمان کی فکر میں لگے رہتے تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے ، کہ کاش میں درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا ، کبھی فرماتے کاش کہ میں گھاس ہوتا جس کو جانور کھا لیتے، ایک مرتبہ باغ میں تشریف لے گئے وہاں پر ایک جانور کو بیٹھا ہوا دیکھا ، فرمایا کہ تو کس قدر لطف میں ہے کھاتا ہے پیتا ہے درختوں کے سائے میں بیٹھتا ہے، اور آخرت میں تجھ پر کوئی حساب و کتاب نہیں ہے
دنیا
اللہ تعالی قران مجید میں فرماتے ہیں دنیا دھوکے کا سامان ہے ،، دنیا دھوکے کا گھر ہے اگر ہمیں معلوم چل جائے کہ سامان لوکل ہے، یہ گاڑی اچھے سے نہیں چلتی ہے کبھی بھی بند ہو سکتی ہے ،تو ہم ایسے سامان کو اور ایسی گاڑیوں کو نہیں خریدیں گے، اگر کسی انسان کے بارے میں معلوم چل جائے فلاں انسان دھوکے باز ہے، تو ہم اس سے تعلق ختم کر لیتے ہیں اس کے ساتھ کاروبار نہیں کرتے اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کم کر دیتے ہیں اور اس کی باتوں پر بھروسہ نہیں کرتے ، اللہ تعالی بھی ہمیں بتا رہے ہیں کہ دنیا دھوکے کا سامان اس دنیا پر بھروسہ مت کیجئے، دنیا کی چمک دمک کو دیکھ کر، یہاں کی رنگ ریلیوں اور دلکش جگہوں کو دیکھ کر یہ ہستے مسکراتے اور خوبصورت چہروں کو دیکھ کر دھوکے میں مت پڑ جانا اور دنیا کو ہی سب کچھ مت سمجھ لینا ورنہ تو انجام بہت ہی خطرناک ہوگا، اللہ تعالی نے قران مجید میں بار بار ایسے لوگوں کے واقعات کو بیان کیا ہے جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ لیا تھا اور آخر میں ان کا انجام بہت ہی برا ہوا ہے ، قوم عاد
اس زمانے میں قران پڑھنا بھی جرم تھا،نماز پڑھنا بھی جرم تھا، نمازوں کے لیے مسجد بنانا بھی جرم تھا، اللہ کی طرف لوگوں کو بلانا بھی جرم تھا ، لیکن صحابہ کرام نے ظلم کو برداشت کیا مصائب اور مشکلات کا سامنا کیا،لیکن دین کو ہم تک پہنچا دیا، میرے بھائیو دین کی امانت ہم تک پہنچ چکی ہے، اس دین کو گلی گلی کوچے کوچے اور گھر گھر پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے،۔ جب تک ہمارے بدن میں جان ہے،جب تک ہمارے سینوں میں قران ہے، جب تک ہمارے دلوں میں ایمان ہے، انشاءاللہ جب تک ہم اپنے ایمان کی حفاظت کرتے رہیں گے، اپنی نسلوں کی اور تمام انسانوں کی فکر کرتے رہیں گے ،
آج پوری دنیا کے اندر دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے جو محنت کی جا رہی ہے وہ تذکیر اسلام ہے ، یعنی اسلام کی یاد دہانی ، کہ تم ایمان والے ہو لیکن تمہاری زندگی ایمان کے تقاضوں پر نہیں ہے ، کلمہ کے تقاضوں پر نہیں ہے، لہذا اپنی زندگی کو کلمہ کے تقاضوں پر لائے ، ہم مسلمان ہیں مگر ہمارے زندگی اللہ کے حکم سے کھالی ہے ۔ سنت رسول سے کھالی ہے ،

0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇