بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضللہ ومن یضلل فلا ھادی لہ ونشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان سیدنا ومولٰنا محمدا عبدہ ورسولہ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ: وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا۔ اسرائیل 23۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔
میں نے آپ حضرات کے سامنے قرآن کریم کی ایک آیت تلاوت کی ہے، میں اس آیت کی روشنی میں آپ حضرات کے سامنے کچھ باتیں عرض کرنے کی کوشش کروں گا اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی مجھے صحیح صحیح کہنے اور ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،
اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں کے ساتھ جوڑا ہے، ان میں کسی کو باپ بنایا ہے تو کسی کو ماں کا درجہ دیا ہے اور کسی کو بیٹا بنایا ہے تو کسی کو بیٹی کی نسبت عطا کی ہے، کسی کو دادی اور دادا بنایا ہے، تو کسی کو نانی اور نانا کے مقدس رشتے سے جوڑا ہے، الغرض اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں کے ساتھ جوڑا ہے،اور ان میں سے ہر ایک کے حقوق مقرر فرماتے ہیں، ان حقوق میں سے ہر ایک کا ادا کر نا ضروری ہے ، لیکن والد ین کے حق کو اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں اپنی بندگی اورا طا عت کے فوراً بعد ذکر فرمایا، یہ اس بات کی طرف اشا رہ ہے کہ رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے ۔۔۔ آج کے اس پرفتن دور میں جہاں انسانیت ختم ہوتی جا رہی ہے، تہذیب و تمدن کا شیرازہ بکھرتا جا رہا ہے، اخلاق نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی ہے، لوگ حسد جلن اور نفرت و عداوت جیسے گھناؤنے اعمال میں مصروف ہیں ، اخوت و بھائی چارگی ختم ہوتی جا رہی ہے، دینی تعلیم سے لوگ دور ہوتے جا رہے ہیں، جہالت کا دور دورہ ہے، بے ایمانی اور بے ایمانی کا بول بالا ہے، ایک انسان دوسرے انسان کے خون کا پیاسا ہے، ہر انسان دوسرے کے حقوق کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے، یہاں تک کہ ماں باپ کے حقوق کو بھی دبایا جا رہا ہے، اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو انسانوں کی زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرتا ہے، اور ہر ایک کے حقوق کی بات کرتا ہے، بات ہی نہیں کرتا بلکہ حقوق ادا کرنے پر انعام دینے کا بھی وعدہ کرتا ہے، اور حقوق ادا نہ کرنے پر سخت سے سخت سزا کی بھی دھمکی دیتا ہے،،، اللہ تعالی نے قران مجید میں ارشاد فرمایا، اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: ﴿وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَاناً إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُھُمَا أَوْ کِلاَھُمَا فَلاَ تَقُل لَّھُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْھَرْھُمَا وَقُل لَّھُمَا قَوْلاً کَرِیْما وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً ۔۔
ترجمہ : اور تیرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سواہ کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آو ، اگر وہ یعنی ماں باپ تیری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں ، چاہے ان میں ایک پہنچے یا دونوں (اور ن کی کوئی بات تجھے ناگوار گزرے تو ) ان سے کبھی اف بھی مت کہنا اور نہ انھیں جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے با ت کر نا ، اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کر تے رہنا :اے ہمارے پروردگار ! تو ان پر رحمت فرما، جیسا کہ انھوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے۔۔۔ تشریح اس آیت کریمہ میں اللہ جلَّ جلالُہ نے سب سے پہلے اپنی اطاعت و بندگی کا حکم دیا ہے کہ میرے علاوہ کسی اور کی بندگی ہر گز مت کرنا ، اس کے بعد فر ما یا کہ اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے رہنا ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرتے رہنا۔ اگر تیری زندگی میں ماں باپ بڑھاپے کو پہنچ جائیں یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچا ہے،تو ان کو اف تک نہیں کہنا، اگر ماں باپ کوئی بات کہیں اور تمہیں ناپسند ہو تو اس پر صبر کرنا اس کو برداشت کرنا لیکن اپنے ماں باپ کو ڈانٹنا نہیں، اور ان کے سامنے عاجز و انکساری اور جھکے رہنا، اور ان کے لئے یہ دعا کرنا کہ اللہ ان پر رحم فرما اور ان کی حفاظت فرما،جیسا کہ انہوں نے بچپنے میں ہر طرح کی پریشانی سے مجھے بچایا اورمیری حفاظت فرمائی ،
ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ ہمارا وجود ماں باپ کی وجہ سے ہے، اگر ماں باپ نہ ہوتے تو ہمارا وجود بھی نہیں ہوتا، اور آج ہم جس مقام پر ہیں اور جو کچھ بھی ہیں وہ ماں باپ کی برکت کی وجہ سے ہے اگر ماں باپ کی برکت نہ ہوتی تو ہم اس مقام و مرتبے تک نہیں پہنچ پاتے،،، اس دنیا کے اندر ماں باپ کا ہی ایک ایسا رشتہ ہے جو اپنی اولاد کی خاطر سب سے زیادہ پریشانیاں اور تکلیف برداشت کرتے ہیں ، اور بسا اوقات اپنا راحت و ارام اپنی خوشی اور خواہش کو بھی اپنی اولاد کی خاطر قربان کر دیتے ہیں، ماں کا ایک ایسا رشتہ ہے جو سب سے زیادہ محنت و مشقت اور تکلیف برداشت کرتی ہے، ماں کی تکلیف کے بارے میں اللہ تعالی نے قران مجید میں بیان فرمایا ہے، ماں نے تکلیف جھیل کر اس کو پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اس کو جنم دیا، ماں نو مہینے تک بچے کو پیٹ میں رکھتی ہے اس کی وجہ سے ماں کو بہت ساری تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اور بہت ساری چیزوں سے پرہیز کرنا پڑتا ہے،بہت ساری چیزوں کو کھانا پڑتا ہے اور بہت ساری چیزوں سے رکنا پڑتا ہے،،، اور سب سے زیادہ تکلیف اس کو جنم دیتے وقت ہوتی ہے، اس وقت کتنی تکلیف ہوتی ہے اس کو بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں، اس تکلیف کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اس تکلیف کا اندازہ تو صرف ماہی لگا سکتے ہیں، ماں تو ماں ہے ماں کا مقام بہت اونچا ہے،
واقعہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی نے پو چھا کہ میں نے خراسان سے اپنی والدہ کو اپنے کندھے پر اٹھا یا اور بیت اللہ لایا اور اسی طرح کندھے پر اٹھا کر حج کے منا سک ادا کروائے ،کیا میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کردیا ؟تو حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما نے فرما یا: ”نہیں ہر گز نہیں ، یہ سب تو ماں کے اس ایک چکر کے برابر بھی نہیں جو اس نے تجھے پیٹ میں رکھ کر لگا یا تھا ۔ ماں کا حق ادا کرنا تو بہت دور کی بات ہے،تو اس کے ایک چکر کا بھی حق ادا نہیں کر سکا ہے،
جب بچہ پیدا ہونے والا ہوتا ہے تو ماں باپ اس وقت سے اس کی فکر میں لگ جاتے ہیں اس کے لیے کپڑوں کا انتظام کرتے ہیں رہنے کا انتظام کرتے ہیں کھانے کے انتظام کرنے لگ جاتے ہیں، گرمی ہو یا سردی، صحت یا بیماری، غم ہو یا خوشی، ہر حال میں باپ کمانے کے لئے جاتا ہے،تاکہ بچے کو ہر طرح کی تکلیف سے بچایا جا سکے اور ہر طرح کی خوشی مہیا کی جا سکے، ماں گھر میں رہ کر کے بچے کی حفاظت کرتی ہے، گرمی سے سردی سے، دھوپ سے چھاؤں سے، بیماری سے پریشانی سے، ماں جاڑو کے دنوں خود گیلے بستر پر سوتی ہیں اور بچے کو سوکھے بستر پر سلاتی ہے، بچہ روتا ہے تو ما تڑپ جاتی ہے، بچہ ہستہ ہے تو ماں کا دل باغ باغ ہو جاتا ہے ،
ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ رونے لگے، کسی نے پوچھا کہ کیوں روتے ہو؟ تو انھوں نے فرمایا : کَانَ لِيْ بَابَانِ مَفْتُوْحَانِ الی الجنَّةِ وَأُغْلِقَ أحدُھما یعنی میرے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہوئے تھے، اب ایک (والدہ کی وفات پر) بند ہوگیا ہے؛ اس لیے رو رہا ہوں۔ کس قدر خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے والدین زندہ ہیں اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرتے ہیں اور ان کے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالی کی رضا و ناراضگی: حضرت عبد اللہ بن عمر ورضی اللہ عنہ فر ما تے کہ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : رضا اللہ مع رضا الوالدین و سخطُ اللہِ مع سخطِ الوالدین یعنی اللہ کی رضا مندی والدین کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے۔
حضرت اویس کرنی رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے کے بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں اتنے بڑے بزرگ گزرے ہیں کیا اللہ کے نبی نے حضرت عمر سے فرمایا تھا کہ اے عمر اگر تمہاری ملاقات ان سے ہو تو دعا کیلئے کہنا۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا اے عمر ایک شخص ہے جس کا نام اویس ہے، اور وہ قرنی ہے، اس کی کمر پر برس کا ایک داغ ہے پہلے بڑا تھا اب کم ہوتے ہوتے چھوٹا سا رہ گیا ہے، ابھی وہ موجود ہیں لیکن میرے پاس نہیں آیا مجھ سے ملاقات نہیں کی میری زیارت نہیں کی میرے ہاتھ پر بیعت نہیں کی، صرف اس وجہ سے کہ اس کی ایک بوڑھی ماں ہے دن رات اس کی خدمت کرتا ہے،اس کے سوا ماں کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں ہے، تو اس نے ماں کی خدمت کی وجہ سے صحابیت کا رتبہ چھوڑ دیا، اگر وہ میرے پاسآتا میری زیارت کرتا مجھ سے ملاقات کرتا اور میرے ہاتھ پر بیعت کرتا تو وہ صحابیت کا مقام پا لیتا ، لیکن ماں کی خدمت کی وجہ سے اس نے صحابیت کا رتبہ چھوڑ دیا، صحابیت کا رتبہ نہ پانے کے باوجود ماں کی خدمت کی وجہ سے اللہ تعالی نے اس کو وہ مقام اور مرتبہ عطا کیا ہے کہ اگر وہ ہاتھ اٹھا لے تو اللہ تعالی اس کی دعا کو رد نہیں کرتے، اے عمر اگر تمہاری اس سے ملاقات ہو تو دعا ضرور کروانا،،، حضرت عمر اس کو ڈھونڈتے رہے یہاں تک کہ اللہ کے رسول دنیا سے پردہ فرما گئے، اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دور ایا، اس میں بھی ڈھونڈتے رہے، یہاں تک کہ ان کا دور بھی ختم ہو گیا، اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور آیا ، یمن کی جانب سے جو بھی قافلہ آتا امیر المومنین ان میں پوچھتے کہ تم میں کوئی اویس ہے کوئی قرن کا رہنے والا ہے ، ایک مرتبہ کسی شخص نے بتایا یا امیر المومنین جس شخص کو آپ ایک لمبے زمانے سے تلاش کر رہے ہیں میں اس سے مل کر کے آرہا ہوں ، حج کرنے کے لئے آیا ہوا ہے منی میں ٹھہرا ہوا ہے فلاں خیمے میں موجود ہے ،اگر آپ کی اجازت ہو تو میں ان کو یہاں بلا کر کے لے کر جاؤں، حضرت عمر نے کہا کہ نہیں جس بندے کی اللہ تعالی کے یہاں اتنی قدر ہے ہم اس سے خود ہی ملاقات کے لئے جائیں گے، لہذا اس خیمے میں تشریف لے گئے وہاں پر کئی سارے لوگ موجود تھے، اپ نے فرمایا ایکم اویس تم میں سے اویس کون ہے، انہوں نے کہا کہ میں ہوں، لوگوں نے حضرت عمر کے بارے میں بتایا کہ یہ خلیفۃ المسلمین ہیں، حضرت عمر نے کہا کہ آپ ہمارے لئے دعا کیجئے ، میں آپ کے لئے دعا کروں آپ صحابی رسول ہیں خلیفۃ المسلمین ہیں امیر المومنین ہیں، میرے جیسا گنہگار آدمی آپ کے لئے کیا دعا کرے گا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ اللہ کے رسول نے تمہارے بارے میں بتایا تھا کہ ماں کی خدمت کی وجہ سے اللہ نے ان کو ایسا مقام عطا کیا ہے کہ اگر دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیں تو اللہ تعالی ان کے دعا کو رد نہیں کرتے، اے عمر اگر تمہاری ان سے ملاقات ہو جائے تو دعا کے لئے ضرور کہنا، اس لیے میں آپ سے دعا کیلئے رہا ہوں ،
میرے نوجوان دوستو ان کو اتنا بڑا مقام و مرتبہ کیسے ملا تھا کیا ان کے پاس نماز ہے بہت زیادہ تھی ، کیا ان کے پاس روزے بہت زیادہ تھے، کیا ذکر و اذکار بہت زیادہ کرتے تھے، کیا انہوں نے لاکھوں کروڑوں روپے غریبوں میں تقسیم کیے تھے اس لئے ان کو ایسا مقام و مرتبہ ملا تھا، نہیں میرے بھائیو ان کو یہ مقام و مرتبہ ماں کی خدمت کی وجہ سے ملا تھا۔۔۔ آخر میں گزارش یہ ہیکہ کہ جن کے والدین زندہ ہیں تو ان کو اللہ کی بہت بڑی نعمت سمجھ کر ان کی فرمانبرداری کرے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، جتنا ہوسکے ان کی خدمت کرے اور ان کے حقوق کو ادا کرنے کی بھرپور کوشش کریں ،، اور جن کے والدین دونوں یا ان میں سے کوئی ایک اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہوں توان کے ساتھ اب حسن سلوک یہ ہے کہ ان کی وصیت کو نافذ کرے، ان کے ذمہ کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کرے، اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتے رہیں،
ا
.png)
0 Comments
آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇