چھ صفات

  م



                     بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

    اللہ تعالی نے ہم سب کی کامیابی اور قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی کامیابی اپنے مبارک دین میں رکھی ہے، یعنی جس کی زندگی اللہ کے حکم کے مطابق اور نبی کے طریقے کی مطابق ہوگی وہ کامیاب ہوگا، اللہ تعالی نے ہم سب کو اس دنیا کے اندر آخرت کی تیاری کرنے کے لئے بھیجا ہے، ہم دین کے مطابق زندگی گزار کر آخرت کو بہتر بنا سکتے ہیں، دین پر چلنا ہمارے لئے آسان ہو جائے اس کے لئے ہمیں چند صفات پر محنت کرنا ہے، اگر ہم ان صفات پر محنت کریں گے تو ہمارے لئے دین پر چلنا آسان ہو جائے گا، وہ چھ صفات ہیں ، 

      ایمان، نماز ، علم و ذکر ، اکرم مسلم ،اخلاص نیت ،اور دعوت و تبلیغ 

    ایمان کے بغیر ا اللہ تعالی کو نہیں پہچان سکتا

     نماز کے بغیر اللہ تعالی کے حق کو ادا نہیں کر سکتا 

     علم کے بغیر اللہ تعالی کے منشا کو نہیں پہچان سکتا 

     اکرام مسلم کے بغیر دنیا سے کچھ نہیں لے جا سکتا 

     اخلاص کے بغیر اللہ تعالی سے کچھ نہیں لے سکتا 

     اور دعوت کے بغیر انسانیت کو کچھ نہیں دے سکتا 

  ان چھ صفات کو اپنے اندر لانے کے لئے ہمیں تین کام کرنے ہیں ، دعوت دینا مشق کرنا اور دعا کرنا  

  پہلی صفت ہے ایمان ایمان کا مقصد ہے کہ ہمارے دلوں کا یقین صحیح ہو جائے، ایمان کا کلمہ ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اس میں ہمیں چار باتوں کا دھیان رکھنا ہے ، کلمے کے الفاظ صحیح ہوں، کلمے کے معنی یاد ہوں، کلمے کا مطلب کا علم ہو، اور کلمے کے تقاضے کا علم ہو، کلمے کے الفاظ ہیں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کلمے کے معنی ہیں نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ تعالی کے اور محمد اللہ کے رسول ہیں، کلمے کا مطلب ہے کسی سے کچھ نہیں ہوتا سب کچھ اللہ تعالی کے حکم سے ہی ہوتا ہے، یہاں تک کہ پیڑ کا ایک پتہ بھی اللہ کے حکم کے بغیر نہیں ہل سکتا اور ریت کا ایک ذرہ بھی اللہ کے حکم کے بغیر نہیں گر سکتا کرنے دھرنے والی ذات صرف اللہ تعالی کی ہے، نفع نقصان، عزت و ذلت، بیماری تندرستی، زندگی اور موت کے مالک صرف اللہ تعالی ہیں ، اللہ تعالی کسی کے محتاج نہیں ہیں، لیکن ساری دنیا اللہ تعالی کے محتاج ہے، اگر ساری دنیا مل کر کسی کو زندگی دینا چاہیں تو نہیں دے سکتے،اور اگر کسی کو موت سے بچانا چاہیں تو نہیں بچا سکتے، اگر جنات اور انسان مل کر کسی کو نقصان پہنچانا چاہیں اور اللہ تعالی نا چاہیں تو اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتے،اور اگر کسی کو عزت دینا چاہیں اور اللہ تعالی نا چاہے تو کسی کو عزت نہیں دے سکتے، اللہ تعالی کے حکم سے سب کچھ ہوتا ہے اور اللہ تعالی کے غیر سے کچھ نہیں ہوتا اس بات کا یقین ہمارے دلوں میں آجائے ،، 

   اور کلمے کا دوسرا جز ہے محمد رسول اللہ جس کا مقصد ہے اللہ کے رسول کے طریقے میں کامیابی ہے، اس کے علاوہ جو بھی کامیابی کے طریقے ہیں ان سب میں ناکامی ہیں، اللہ تعالی کے یہاں وہی عمل مقبول ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر کیا گیا ہو ، کلمے کا تقاضہ یہ ہے کہ من چاہی زندگی کو چھوڑ کر رب چاہی زندگی گزاری نے والے بن جائے  

  یہ یقین ہمارے دلوں کے اندر آ جائے اس کے لئے ہمیں تین طرح سے محنت کرنی ہے، دعوت دینا ہے مشق کرنا ہے  اور دعا کرنی ہے،،،  پہلی محنت ہے دعوت دینا جو بھی بندہ دل کے یقین کے ساتھ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہے گا، پھر وہ ایمان کی حالت میں ہی مر گیا تو ضرور جنت میں داخل ہوگا، حدیث میں آتا ہے کہ جب تک اس دنیا کے اندر اللہ اللہ کہنے والا رہے گا تب تک قیامت نہیں آئے گی،جس دن اس دنیا کے اندر کوئی بھی اللہ کا نام لینے والا باقی نہیں رہے گا اس دن قیامت آجائے گی،،،،۔   دوسری محنت ہے مشق کرنا جہاں کہیں بھی مخلوق سے ہوتا ہوا دکھائی دے وہاں مخلوق سے ہونے کا انکار کرنا ہے اور اللہ سے ہونے کا یقین کرنا ہے،،،  تیسری محنت ہے دعا،  دعا کے ذریعے سے ایمان کی حقیقت اور ایمان کی سلامتی کی اللہ تعالی سے دعا کرنا ہے،،،  

  دوسری صفت ہے نماز۔ نماز کا مقصد ہے کہ ہماری 24 گھنٹے کی زندگی نماز والی صفت پر آجائے، جس طریقے سے ہم نماز اللہ کے حکم اور نبی کے طریقے پڑھتے ہیں،  اس کے خلاف نہیں پڑھتے ، اسی طرح ہم باہر والی زندگی بھی اللہ کے حکم اور نبی کے طریقے پر گزارنے والے بن جائیں، نماز ایک اہم عبادت ہے حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال کیا جائے گا ، اگر ہماری نماز ٹھیک نکلے گی تو باقی اعمال بھی ٹھیک نکلیں گے اگر ہماری نماز ٹھیک نہیں ہوگی تو ہمارے باقی اعمال بھی ٹھیک نہیں ہوں گے، دین میں نماز کا مقام ایسا ہے جیسا کہ بدن میں سر کا مقام ہوتا ہے، اگر بدن میں سر نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا اگر ہاتھ نہ ہو پیر نہ ہو تو زندہ رہ سکتا ہے لیکن اگر سر نہ ہو تو زندہ ہی نہیں رہ سکتا، اسی طرح نماز کے بغیر ایمان کا باقی رہنا مشکل ہے ، نماز کے  ظاہر اور اور باطن کا خیال رکھتے ہوئے نماز ادا کرنا ہے، ظاہر یہ ہے کہ وضو قیام رکوع سجدہ اور قاعدہ ٹھیک ہوں،،،  اور باطن یہ ہے کہ اس دھیان سے نماز پڑھنا کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں ، اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو سکے تو یہ سوچے کہ اللہ تعالی مجھے دیکھ رہا ہے، حدیث میں اتا ہے کہ جو شخص نماز کا اہتمام کرتا ہے اللہ تعالی پانچ طرح سے اس کے اعزاز و اکرام کرتے ہیں، اس سے زق کی تنگی کو ہٹادی جاتا ہے، دوسرے یہ کہ اس سے عذاب قبر ہٹا دیا جاتا ہے، تیسرے یہ کہ قیامت کے دن اس کے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے، چوتھے یہ کہ وہ پل صراط سے بجلی کی طرح گزر جائے گا، پانچواں یہ کہ وہ حساب سے محفوظ رہے گا، 

  تیسری صفت ہے علم و ذکر ، علم سے یہ چاہا جا رہا ہے کہ ہمارے اندر تحقیق کا مادہ پیدا ہو جائے، حلال کیا ہے حرام کیا ہے، جائز کیا ہے اور ناجائز کیا ہے ، ہر کام کو اللہ کے حکم اور نبی کہ طریقے پر کرنے والے بن جائیں،،،،  حدیث میں آتا ہے کہ ہر مسلمان مرد عورت پر علم دین کا سیکھنا فرض ہے، ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ علم کا ایک باب سیکھنا ہزار رکعت نفل پڑھنے سے بہتر ہے، 

  ذکر  ذکر کا مقصد ہے کہ ہمارے اندر اللّٰہ کا دھیان پیدا ہو جائے، ہم سے جو بھی گناہ ہوتے ہیں وہ بے دھیانی کی وجہ سے ہوتے ہیں ، حدیث میں آتا ہے کہ ذکر کرنے والے کی مثال زندہ کی ہے اور ذکر نہ کرنے والے کی مثال مردہ کی ہے ،  یعنی ذکر کرنے والے زندہ ہیں اور ذکر نہ کرنے والے مردہ ہیں، حدیث میں آتا ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کسی بھی چیز کا افسوس نہیں ہوگا مگر ایسے وقت کا افسوس ہوگا جو وقت اللہ کے ذکر کے بغیر گزر گیا ہو، ذکر کرنے کے لیے ہمیں صبح شام کی تسبیحات کو پابندی کے ساتھ کرنا چاہیے، اور زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی تلاوت کرنی چاہیئے،، 

    چوتھی صفت ہے اکرام مسلم  اکرام مسلم کا مقصد ہیکہ اپنے اخلاق کو بہتر بناتے ہوئے ہر ایک کا اکرام کرنے والے بن جائیں اور معاملات کو درست کرتے ہوئے حقوق کو ادا کرنے والے بن جائیں ، حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص بڑوں کی عزت نہ کریں  چھوٹوں پر شفقت نہ کریں  اور علماء کرام کی قدر نہ کریں وہ ہم میں سے نہیں ہے

  پانچویں صفت ہے اخلاص نیت  اخلاصِ نیت کا مقصد ہے کہ ہمارے اندر اللّٰہ کی رضا کا جذبہ پیدا ہو جائے ، ہر ایک عمل اللہ تعالی کیلئے کرنے والے بن جائیں، دکھاوا ریا کاری اور شہرت سے بچنے والے بن جائیں، ہر کام میں اپنی نیت کو دیکھنا ہے اگر ہم نے وہ اللّٰہ کیلئے کیا ہے تو اس کا شکر ادا کرنا ہے ، اور اگر دکھاوے کیلئے کیا ہے تو  استغفار کرنا ہے، 

  چھٹی صفت ہے دعوت آل اللہ ،،، اس صفت کا مقصد ہیکہ اپنی جان اور مال کا صحیح استعمال کرنا آجائے ، ہماری جان اور مال کو اللّٰہ تعالیٰ نے جنت کے بدلے خرید لیا ہے، جان اور مال کو اپنی ملکیت سمجھ کر غلط استعمال کرنا چھوڑ دیں، اور اللّٰہ کی امانت سمجھ کر صحیح استعمال کرنے والے بن جائیں ، صحیح استعمال کرنے کی جگہ اللہ کا دین ہے ، اور ضرورت مندوں پر استعمال کیا جائے، اور اپنی ذات بقدرِ ضرورت لگائے، 


 

Post a Comment

0 Comments