مقامی پانچ اعمال

           



              بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم

    اللہ کے راستے میں نکل کر دین کا کام کرنا اور دوسرے امور کو انجام دینا آسان ہوتا ہے، مگر اپنے مقام پر رہتے ہوئے دین سے جڑے ہوئے سارے امور کو انجام دینا بہت مشکل ہوتا ہے، اپنے مقام پر رہتے ہوئے دین کے سارے کاموں کو کرنا یہ اصل کامیابی ہے، ہمیں اپنے مقام پر رہتے ہوئے یہ پانچ کام کرتا ہیں اور پابندی کے ساتھ کرنا ہے ،

    1مشورہ کسی بھی نماز کے بعد اپنی مسجد میں مشورہ کرنا ہے،اور اس مشورے میں اپنی ذات سے لے کر پوری دنیا میں بسنے والے انسانوں کی زندگی میں 100 فیصد دین کیسے آئے گا اس کے بارے میں فکر کرنا ہے، گزرے ہوئے کل کی کار گزاری دینی ہے اور آئندہ کل کے لئے لائحہ عمل تیار کرنا ہے، 

   2 دوسرا کام گھر کی تعلیم ہے ،روزانہ کسی بھی وقت گھر میں تعلیم کرنا ہے،جب ہمارے گھروں میں تعلیم ہوگی تو ہماری مستورات میں دین آئے گا، اور جب ان کی زندگیوں میں دین آئے گا تو ہمارے لئے دین پر چلنا، دین کا کام کرنا اور اللہ کے راستے میں نکلنا آسان ہو جائے گا،

    3 تیسرا کام مسجد میں ڈھائی گھنٹے کا وقت دینا ہے، اگر ہم ڈھائی گھنٹے کا وقت نہیں دے سکتے تو جتنا ہو سکتا ہے اتنا وقت دیں 

      4 چوتھا کام اپنی مسجد میں گشت کرنا ہے،،، 

      5 اور پانچواں کام یہ ہے کہ ہر مہینے تین دن لگانا ہے، ہر مہینے 27 دن تک حلال روزی کمائیں اور اس کے لئے کوشش کریں، اور تین دن اللہ کے راستے میں گزارے

   یہ مقامی پانچ اعمال ہے ہم سب کو اپنے کام کو اگے پیچھے اوپر نیچے اور دائیں بائیں کر کے ان پانچ اعمال کو پابندی کے ساتھ کرنا ہے، اگر ہم نے ان پانچ کاموں کو پابندی کے ساتھ کر لیا تو ہمارے لئے دین پر چلنا آسان ہو جائے گا،،

    مشورے کا مقصد ہم سب کے دل ایک دوسرے سے مل جائیں ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے محبت پیدا ہو جائے  ، میں عورتوں کو امیر نہ بنایا جائے ، امیر صاحب کثرت رائے یا قلت رائے کے پابند نہیں ہے، مثلا پانچ ادمی کی ایک رائے ہے اور دس ادمی کی دوسری رائے ہے تو امیر صاحب 10 ادمیوں کی رائے کو ماننا ضروری اور لازم نہیں ہے، جو حق ہو جو سچ ہو اور جو بہتر معلوم ہو امر صاحب اس کا فیصلہ سنائیں، امیر صاحب جس سے رائے لیں وہی رائے دے دائیں بائیں والے رائے نہ دیں، ایسی رائے دے جس میں دین کا اور تمام لوگوں کا فائدہ ہو، اپنی رائے پر اصرار نہ کرے اگر کوئی اپنی رائے پر اصرار کرتا ہے تو یہ رائے نہیں رہے گی پھر یہ حکم ہو جائے گا، رائے دیتے ہوئے کسی کا تقابل اور کسی پر طنز نہیں ہونا چاہئے ، کون صحیح اعلان کرے گا کون فضائل گشت صحیح طریقے سے بتا سکے گا کون بعد مغرب صحیح طریقے سے بات کر سکے گا ان تمام چیزوں کو دیکھ کر کے اپنی رائے دیں

Post a Comment

0 Comments