امام صاحب کا نام اور تعلیم imam sahab ka name our talim

  _____________________________________________

 حیات امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ    صفحہ ۳  


 نام نسب 

امام صاحب کا نام ! نعمان ہے.   والد کانام ثابت ہے ۔  دادا کا نام۔ نعمان ہے . کنیت ابو حنیفہ ہے 
حضرت امام ابوحنیفہ عبد الملک بن مروان کے زمانے میں ۸۰ ہجری میں کوفہ میں پیدا ہوئے .آپ عجمی خاندان سے تعلق رکھتے تھے .آپ کے دادا ایران سے ہجرت کرکے کوفہ تشریف لائے, اور کوفہ ہی کو اپنا مسکن بنا لیا۔

امام صاحب کی تابعیت

ائمہ اربعہ میں سے صرف امام صاحب کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ نے متعدد صحابہؓ کی زیارت کی ہے۔ آپ کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔آپ کے بچپن میں متعدد صحابہؓ کوفہ میں حیات تھے۔ جنکی زیارت اور ملاقات سے مسلمان فیضیاب ہوتے تھے۔ اکثر تذکرہ نگاروں کا اتفاق ہے کہ آپ نے حضرت انس بن مالکؓ کو دیکھا ہے۔ امام ذہنی ؒ نے لکھا ہے کہ امام صاحب کی پیدائش کے وقت صحابہؓ کی ایک جماعت موجود تھی اور ان کی زیارت کی وجہ سے آپ تابعین کے زمرے میں شامل ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہےکہ امام صاحب کی تابعیت ایک مسلم حقیقت ہے۔ جس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
                                       
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ
Aon
         
                                           

تعلیم و تربیت 

امام صاحب کی تعلیم و تربیت اسی شہر کوفہ میں ہوئ .ابتدائ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ,آپ نے آبائ پیشہ تجارت کو اختیار کیا ,اپنی ذہانت اور خاندانی شرافت و دیانت کی وجہ سے آپ نے تجارت کو خوب ترقی دی۔  لیکن تقدیرالہی نے آپ کیلئے اشاعت دین کا فیصلہ کردیا تھا اچانک آپ کی ملاقات امام عامر شعبی سے ہوئی ۔ جن کو تقریباً پانچ سو صحابہ کی زیارت کا شرف حاصل تھا۔ انہوں نے آپ کی پیشانی کی چمک سے آپ کی قابلیت اور ذہانت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اور علماء کی مجلس میں بیٹھ نے کا مشورہ دیا۔  امام عامر شعبی کی بات آپ کے دل پر اثر کر گئی۔ اور آپ نےتعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔
حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ الله نے تقریباً چار ہزار اساتذہ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ خود امام ابو حنیفہ رحمہ الله کا قول ہے کہ میں نے کوفہ اور بصرہ کا کوئی ایسا محدث نہیں چھوڑا جس سے میں نے علمی  استفادہ نہ کیا ہو ۔ تفصیلات کیلئے سوانح امام ابو حنیفہ کا مطالع کریں

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے چند اساتذہ

(۱) شیخ حماد بن سلیمان  ۔ حضرت انس بن مالکؓ کے سب سے قریبی اور معتمد شاگرد ہیں۔ امام صاحب ان کی صحبت میں ۱۸ سال رہے  (۲)  شیخ حسن بصری  (۳) شیخ عطار بن ابی رباح۔ (۴)  شیخ عکرمہ بربری۔ (۵) حضرت سلیمان  )(۶) حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر (۷) حضرت امام اوزاعیؒ  (۸) حضرت امام مکحول

Post a Comment

2 Comments

  1. بہت عمدہ محنت کرتے رہو
    میں اگلے مضمون کا انتطار کرونگا

    ReplyDelete
    Replies
    1. ہماری حوصلہ افزائی کرنے کیلئے جزاک اللّہ

      Delete

آپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇