حیات امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ صفحہ ۷
_________________________________________________
واقعات
ایک رومی سے مناظرہ
بغداد میں ایک رومی آیا اور اس نے خلیفہ سے آکر عرض کیا کہ میرے تین سوال ہیں، کیا آپ کی سلطنت میں کوئی ایساہے جو میرے سوالوں کا جواب دے سکے، خلیفہ وقت نے اعلان کر دیا، سارے علماء کرام جمع ہوگئے اس میں امام صاحب بھی تھے۔ مناظرہ شروع ہوا۔
رومی نےپہلا سوال کیا ۔ خدا سے پہلے کون تھا ؟
دوسرا سوال ۔ خدا کا رخ کدھر ہے۔
تیسرا سوال ۔ خدا اس وقت کیا کررہا ہے۔
یہ سن کر تمام علماءکرام خاموش تھے۔ امام صاحب آگے بڑھے
پہلے سوال کا جواب ۔ امام صاحب نے رومی سے کہا الٹی گنتی شروع کرو ! پھر فرمایا۔ ایک سے پہلے، کیا ہے؟ رومی نے کہا ایک سے پہلے گنتی نہیں ہے، امام صاحب نے فرمایا کہ خدا سے پہلے بھی کوئی نہیں ہے۔
دوسرے سوال کا جواب ۔ امام صاحب نے ایک شمع کیاکوروشن کیا اور رومی سے معلوم کیا کہ اس کا رخ کدھر ہے۔ اس نے کہا ہر طرف ہے۔ تو امام صاحب نے فرمایا کہ خدا کا رخ بھی ہر طرف ہے۔
تیسرے سوال کاجوب . رومی ممبر پر بیٹھا ہوا تھا امام صاحب نے اس کو نیچے اتار دیا اور خود بیٹھ گئے .امام صاحب نےفرمایاخدا اس وقت یہ کررہا ہے. رومی شرمندہ ہوکر چلا گیا
رومی یہ سمجھ رہاتھامیرے سوال ایسے ہیں جس کا جواب دینا ناممکن ہے . لیکن امام صاحب نے اس کے سارے سوالوں کے جواب آسانی سے دیدئے.
سمجھانے کا کیا ہی بہتر ین انداز ہے۔
کوفہ کا ایک رافضی حضرت عثمان ؓ کو برا بھلا کہتا تھا کبھی ان کو کافر کہتا اور کبھی یہودی ۔ جب امام صاحب کو معلوم ہواتو اس سے ملنے گئے اور بڑے ادب اور نرمی سے کہا ، بھائی میں تیری لختِ جگر بیٹی کیلۓ فلاں صاحب کی طرف سے منگنی کا پیغام لایا ہوں، الله نے اس کو حافظ قرآن بنایا ہے۔ اور اس کی ساری رات عبادت میں گزر تی ہے، اور اس پر ہمہ وقت خدا کا خوف تاری رہتا ہے۔ تقوئ میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ رافضی نے کہا یہ میری بیٹی کیلئے ہی نہیں، بلکہ ہمارے پورے خاندان کیلئے باعث سعادت ہے۔ امام صاحب نے فرمایا کہ وہ مذہب کے اعتبار سےیہودی ہے۔ رافضی کا رنگ بدل گیا اور کہنے لگا کہ میں اپنی لڑکی کی شادی یہودی سے کرونگا ؟ 😠 😠 😠 ۔ امام صاحب نے فرمایا کہ آپ اپنی بیٹی کو یہودی کو دینے کیلئے تیار نہیں ہیں، تو حضور ﷺ اپنی دو بیٹیوں کو حضرت عثمانؓ کو کیسے دے سکتے ہیں جنکو تم یہودی سمجھ تے ہو۔ امام صاحب کی یہ تنبیہ رافضی کے سمجھ میں آگئی اور اس نے توبہ کرلی
قسم سے بچنے کی تدبیر
ایک شخص نے قسم کھائ کہ اگر میں انڈا کھاؤتو میری بیوی کو طلاق . اتفاق سے اس کی بیوی آستین میں رکھکر انڈے لائ تو اس نے پھر کہا جو کچھ تیرے آستین میں ہے اگر میں اس کو نہ کھاؤ تو تجھے طلاق اس کو معلوم نہی تھاکہ اس کے آستین میں انڈا ہی ہے.اب وہ پریشان ہوگیا . اس آدمی نے امام صاحب کے پاس جاکر اپنا واقعہ بیان کیا .اور بچنے کی کوئ تدبیر معلوم کی .امام صاحب نے فرمایا وہ انڈے مرغی کے نیچے رکھے جائیں پھر بچے پیدا ہونے کے بعد اس کو کھایا جائے اس طرح تم قسم سے بچ جاؤگے
جو آستین میں تھا اس کو کھا لیا اور انڈے کے چھل کےکا ، کوئ اعتبار نہیں ہے
مستفاد
حیات امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ

1 Comments
بہت ہی اچھی تدبیریں ہیں
ReplyDeleteآپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇