حیات امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ صفحہ ۹
________________________________________________
تجارت میں جلدی ترقی کا راز
پچھلے مضمون میں ہم نے امام صاحب کی معاشی حالات کو بیان کیا تھا۔ اورآج ہم جانے گے کہ انسان تجارت کے اندر جلدی ترقی کیسے کر سکتا ہے
تجارت کے کچھ اصولوں ضوابط ہیں اگر انسان ان کو اختیار کرتا ہے تو وہ بہت جلد تجارت کے اندر ترقی کر لے گا
آج ہم ایسے ہی انسان کی زندگی کو بیان کر یں گے جس نے تجارت کے اندر بہت جلد ترقی کرلی تھی
امام صاحب کے تجارتی اصولاصول
امام صاحب کی تجارت کی کامیابی تجارتی اصول کی پابندی کی بنا پر تھی ۔ امام صاحب کے نزدیک تجارت کا مقصد صرف مال کمانا نہیں تھا بلکہ وسیع پیمانہ پر تجارت کر کے صحیح اصول کو فروغ دینا تھا ، امام صاحب کی تجارت میں سچائی، امانت داری ، خوش اخلاقی ، خیر خواہی ، جیسے لازمی عناصر پائے جاتے تھے ، اس کے ساتھ دھوکہ دہی ، خیانت ، ظلم و زیادتی ،جیسے غلط اور ناجائز عناصر سے امام صاحب کی تجارت پاک تھی۔
خوش اخلاقی
اسلام نے ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں خوش اخلاقی کی تعلیم دی ہے اور خندہ پیشانی سے ملنے کو بہتر ین صدقہ قرار دیا ہے , خو ش اخلاقی انسان کا سب سے بہتر ین اور قیمتی زیور ہے، خاص طورپر تاجروں کیلئے خوش، اخلاقی ان کی تجارت کے فروغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ تاجر کی خوش اخلاقی گاہک کو نہ صرف مال خرید نے پر مجبور کرتا ہے بلکہ ہمیشہ ہمیش کیلئے اس کو اپنا ہی گاہک بنا لیتا ہے ۔ امام صاحب کی خوش اخلاقی کا کیا کہنا وہ خوش باش، شیریں گفتار تھے
آپ کے خو ش اخلاق کے واقعات سے کتا بیں بھری پڑی ہیں ۔ خطیب بغدادی نے ایک واقعہ نقل کیا ہے ، ایک مونچی امام صاحب کی پڑوس میں رہتا تھا ، پورے دن بازار میں کام کرتا اور رات کو شراب پیکر پوری رات رول مچاتا تھا۔ امام صاحب کو اس سے بہت تکلیف ہوتی تھی۔ مگر امام صاحب نے اس سے کبھی شکایت نہیں کی ، ایک دن پولس اس کو پکڑ کر لے گئی تو ۔ امام صاحب نے اس کو رہا کروا دیا۔ مونچی امام صاحب کے سامنے سر جھکا ئے کھڑا تھا اور کہنے لگا میں آج سے کوئی ایسی حرکت نہیں کرونگا جس سے آپ کو تکلیف ہو۔ یہ ہیں امام صاحب کے اخلاق
دیانت داری
اسلام نے دیانت داری اور امانت کی ادائیگی پر بہت زور دیا ہے۔ حدیت میں ہے
التا جرا لصدوق الامين مع النبيين و الصديقين والشهداء
سچا امانت دار تاجر ، قیامت کے دن نبی ، صدیق ، اور شہداء کے ساتھ ہوگا
تاجر کیلئے دیانت داری لازم ہے، اگر تاجر میں یہ صفت ہو تو تجارت آدمی کے جنت میں جانے کا سبب بن جائے گا، ۔ امام صاحب کی دیانت داری اس قدر مشہور تھی کہ لوگ اپنی قیمتی اشیاء آپ کے پاس امانت رکھتے تھے۔ امام صاحب نے اپنے تمام کام کرنے والوں کو یہ ہدایت سختی سے دی تھی کہ، کپڑے کا وہ تھان جسمیں کچھ عیب ہو اس کو الگ رکھو اور خریدار کو اس سے واقف کراؤ
ایک مرتبہ امام صاحب نے حفص بن عبدالرحمن کے پاس کپڑے کا ایک تھان بھیجا اور ہدایت کی کہ اس میں عیب ہے خریدار کو عیب بتا کر فروخت کرنا لیکن حفص بن عبد الرحمن فروخت کرتے وقت عیب بتانا بھول گئے۔ جب امام صاحب کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو انہوں نے بہت افسوس کا اظہار کیا ۔ اور کپڑے کی تمام قیمت کو خیرات کردیا

2 Comments
ماشاءاللہ بہت عمدہ
ReplyDeleteBahut achcha
ReplyDeleteآپ یہاں اپنی رائے کا اظہارکرسکتے ہیں، آپکی کی راۓ ہمارے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کو پوشیدہ رکھا جائے گا 👇👇👇👇